Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ جون » مقدمہ بدیع التفاسیر (قسط نمبر204)

مقدمہ بدیع التفاسیر (قسط نمبر204)

:سترھویں فصل

سورتوں اور آیتوں کے درمیان ربط کابیان

اللہ تعالیٰ کےکلام کی بہت ساری خوبیوںکے ساتھ یہ بھی عظیم خوبی ہے کہ اس کامضمون مسلسل اور ایک دوسرے سےمربوط ہوتا ہے، آیات کا آپس میں ربط وتعلق کہیں بھی ٹوٹا ہوانظرنہیں آتا، امام رازی کہتے ہیں کہ :قرآن مجید کی خاص خوبیوں ،عجیب مناسبت اور ربط پر غور کیا جائے۔ قاضی ابوبکر ابن العربی کہتے ہیں: قرآن مجید آپس میں ایسا مربوط ہے گویاکہ ایک کلمہ یا مسلسل مضمون ہے اور یہ انتہائی عظیم علم ہے، نیز اس فن پر امام ابوبکر نیساپوری خاص مہارت وعبور رکھتے تھے، ایک آیت کا دوسری آیت کے بعد آنا ،فلاں سورت کا فلاں سورت کے بعد اس بارے میں عجیب حکمتیں اوراسرار بیان کرتے تھے، شیخ عز الدین بن عبدالسلام فرماتے ہیں کہ یہ ایک بہترین علم ہے مگر اس کے لئے شرط یہ ہے کہ ربط کا طریق اس انداز کے ساتھ ہو کہ آیات کا شان نزول مختلف نہ ہو۔ علامہ ولی الدین الملوی فرماتےہیں آیات کا شان نزول مختلف ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ صرف باعتبار نزول کے ہے مگر اس کے احکام اور مضمون مسلسل ومربوط ہیں۔(الاتقان ۲؍۱۰۸)

ربط ومناسبت کی قسمیں بیان کرتے ہوئے امام بدرالدین زرکشی البرھان فی علوم القرآن :۱؍۴۰میں فرماتے ہیں کہ:بعض آیات کا آپس میں ربط بلکل واضح ہے ،چند مسلسل آیات ایک دوسرے کے حکم کو بیان کرتی ہیں اس سورت میں ربط واضح ہونے کی وجہ سے مزید کسی کلام کی ضرورت نہیں ہوتی، کبھی ایک آیت دوسری آیت کے مضمون کی تاکید یا اس کی تفسیر ووضاحت کرتی ہے اور کبھی تنبیہ یاوضاحت کی خاطر یا کسی شبہ واعتراض کے خدشے کو رفع کرنے کے لئے جملہ معترضہ کے طور پر آتی ہے، اس قسم کا ربط میں زیادہ بحث ومباحثہ مطلوب نہیں ہوتا بلکہ قلیل غور وفکر سے بات واضح ہوجاتی ہے ،کبھی ان کا تعلق ضد یا مقابلہ والا ہوتا ہے مثلاً:رحمت کے بعد عذاب کا ذکر یا ترغیب کے بعد تنبیہ، اس میں انتہائی خوبصورت مناسبت ہوتی ہے تاکہ قارئین صرف رحمت سن کربے خوف نہ ہوں یا صرف تنبیہ سن کر ناامید نہ ہوجائیں ،قرآن کریم کا یہ اسلوب ہے کہ احکام ومسائل ذکر کرنے کے بعد عمل کرنے والوں کے لئے ثواب کا وعدہ اور نافرمانوں کے لئے عذاب کی وعید بھی سناتا ہے تاکہ مضمون حکم دیکھنے کے ساتھ اس کی تعمیل کا باعث بنے ،پھر توحید ،اللہ تعالیٰ کی پاکی وکبریائی بھی بیان کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اظہار بھی ہو ایسی مثالیں سورہ بقرہ ،نساء اور مائدہ کابغورمطالعہ سے بکثرت مل سکتی ہیں، کبھی ایک جملہ دوسرے جملہ پر عطف ہوتا ہے وہاں بظاہر ربط مشکل نظر آتا ہے اور تشریح وتوضیح کی ضرورت ہوتی ہے ،تفسیر میں آپ کو ایسی مثالیں بکثرت ملیں گی،یہاں صرف ایک ہی مثال پیش کی جاتی ہے:

[يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَہِلَّۃِ۝۰ۭ قُلْ ہِىَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ۝۰ۭ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُہُوْرِھَا]

(البقرۃ:۱۸۹)

اس جگہ دونوں احکامات یعنی چاند کے احکامات اور گھر میں داخل ہونے کے احکامات کی مناسبت مشکل نظر آرہی ہے اس کے جواب میں علماء نے تین وجوہات    بیان کی ہیں

1جب انہوںنے چاند کے مکمل ہونےکے بعد اس میں کمی ہونے کی وجہ معلوم کی تو جواب میں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے تمام کاموں میں کوئی نہ کوئی حکمت اوربندوں کیلئے مصلحت ضرور ہے ا س لئے تم اس سوال کے بجائے ایسی چیز پرغور کرو جس میں کوئی بھی حکمت ومصلحت نہیں ہے یعنی گھروں میں دروازوں کے بجائے پچھلی طرف سے داخل ہونے میں آخر کونسی حکمت یا مصلحت ہے کہ جو تم اسے نیکی تصور کرتے ہو۔

2جب سوال کے جواب میں یہ بتایاگیا کہ چاند حج کے(مہینے ایام اور) اوقات بتانے کے لئے ہے تو ساتھ حج کے بارے میں ان کی دوسری غلطی کی نشاندہی کی گئی جومشہور تھی کہ احرام باندھنے کے بعد وہ گھر یا خیمے کے دروازے سے آنے کے بجائے پچھلی جانب سے سوراخ یاسیڑھی کے ذریعے سے داخل ہوتے تھے اس لئے ایک مسئلہ کے ساتھ دوسرے ضروری مسئلے کی بھی وضاحت کردی گئی کہ تمہارا اس عمل کو نیکی قرار دینا غلط ہے ،اسی طرح سوال سے زیادہ جواب دینے کی مثال حدیث میں بھی موجود ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سے سمندر کے پانی سے وضوء کرنے کے متعلق سوال کیاگیا توآپﷺ نے فرمایا:

ھوالطھور ماءہ والحل میتتہ .

(أخرجہ ابن ماجہ فی کتاب الطھارۃ ،باب الوضوء بماء البحر،الرقم:387,386ابوداؤد:83ترمذی:69)

اس لئے آیت میں انہیں تنبیہ کی گئی کہ چاند کے بارے میں سوال کرنا ایسی کوئی اہم ضرورت نہیں ہے بلکہ اس عمل کے بارے میں سوال کرنا ضروری ہے۔

3یہ ایک تمثیل ہے کہ جیسے گھروں کے پیچھے سے آنا کوئی نیکی نہیں ہے اسی طرح غیر ضروری سوالات کرنا بھی کوئی نیکی نہیںہے، کیونکہ چاند کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ اس کی کمی بیشی سے تاریخیں معلوم ہوتی ہیں [ولکن البر من اتقی] اس لئے ایسے سوالات کیے جائیں جن کا معلوم کرنا پرہیزگاروں اور نیکوکاروں کی لئے ضروری ہو۔ اور کبھی عطف ہوتا ہے اس صورت میں بھی درمیان میں کوئی ایسا قرینہ موجود ہوتا ہے جس سے ربط معلوم کیاجاسکتا ہومثلاً: ایک نظیر کا دوسری نظیر سے ملانا مثلاً: [كَـمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ ](الانفال:۵) اس سے پہلے یہ آیت ہے :[اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا۝۰ۭ لَہُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۝۴ۚ ]

اس پورے مضمون کی مناسبت اس انداز کے ساتھ ہے کہ بعض مسلمانوں نے مال غنیمت کی تقسیم پر اعتراض اورناپسندیدگی کا اظہار کیا، جس طرح غزوہ بدر میںان کی ناپسندیدگی کے باوجود آپ نکلے اور اس حکم پر قائم رہے اسی طرح مال غنیمت کی تقسیم ان کے ناپسند کرنے اور اعتراض کے باوجودآپ اپنے تقسیم کرنے کے فیصلے پر قائم رہیں اور اسے جاری فرمادیں اگرچہ انہیں ناپسند ہی کیوں نہ ہو، اسی طرح مؤمنوں کو بھی سمجھایا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ہربات میں پیروی کریں اور ان کا ایمان قرآن سننے سے بڑھ جاتا ہے وہ اس پر توکل کرتے ہیں، نماز اور زکوۃ کےپابند ہوتے ہیں یہی سچے اور حقیقی مؤمن ہیں۔

 کبھی دو مضمون ایک دوسرے کےمقابل ہوتے ہیں جیسے مؤمنوں کے ذکر کے بعد کافروں کا ذکرمثلاً:

[اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَوَاۗءٌ عَلَيْہِمْ](البقرۃ:۶)

اس سے پہلے قرآن مجید کے بارے میں کہ وہ متقین کےلئے ہدایت ہے اور ان کی صفات بیان کی گئی ہیں اس کے بعد کافروں کا ذکر مناسب ہے کیونکہ وہ اس قرآن سےہدایت حاصل نہیں کرتے۔

کبھی کلام میں اسطراد ہوتا ہے مثلاً:

[يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا۝۰ۭ وَلِبَاسُ التَّقْوٰى۝۰ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ۝۰ۭ ذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللہِ لَعَلَّہُمْ يَذَّكَّرُوْنَ۝۲۶ ](الاعراف:۲۶)

اس سے پہلے آدمuاور ان کی بیوی کاقصہ ہے کہ درخت چکھنے کی وجہ سے ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ درخت کے پتے اپنے جسم پر لگانے لگے، اس لئے یہاں ضروری معلوم ہوا کہ لباس کا حکم بھی بیان کردیاجائے اگرچہ یہاں مقصود بالذات سیدناآدمuکی پیدائش، اور دنیا میں نیچے اترنے کاقصہ ہے، لیکن قصے کے اس(لباس والے) حصے کی وجہ سے اس(لباس کے احکامات) قسم کے احکامات کو بھی ذکر کردیاجائے تاکہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت کا اظہار ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے لئے لباس کو پیدا کیا ہےاور بے لباسی میں کتنی بڑی ذلت اورخواری ہے، اور سب کو یہ معلوم ہوجائے کہ پرہیزگاری کےابواب میں ایک بڑا باب ہے، کبھی سامع یاقاری کے نشاط اور اس کے ذہن کو بیدار رکھنے کےلئے ایک مضمون سے دوسرے مضمون کی طرف انتقال ہوتا ہے مثلا: [ھٰذَا ذِكْرٌ۝۰ۭ وَاِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ۝۴۹ۙ ] (ص:۴۹)

اس سےپہلے مختلف انبیاء کرام کے قصے مذکور ہیں، دونوں میں مناسبت اس طرح سے ہے کہ انبیاء کرام کی بعثت ودعوت انسانوں کی بھلائی اور ہدایت کےلئے ہوتی ہے پھر جو ان کی اطاعت وفرمانبرداری کرتے ہیں وہ یقینا متقی ہیں بہترعاقبت وانجام انہی کے  لئے ہے اور جو ان کے نافرمان ہیں ان کاانجام انتہائی برا ہے اور ان کے لئے عذاب تیار ہے ،اس لئےسامع یا قاری کو پوری طرح عبرت ونصیحت حاصل ہوسکتی ہے ،نیز امام زرکشی،ج:۱ص:۳۹،۳۸میں سورتوں کے اختتام اور دوسری سورتوں کے آغاز کی مناسبت اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ سورہ مائدہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے وقضاء پر ختم ہوتی ہے اور سورہ انعام کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء سے ہوتی ہے اس لئے کہ بہترین قضاء وفیصلہ صادر فرمانے والے یقینا حمدوثناء کے لائق ہے، جیسے سورہ زمرکےآخر میں فرمایا:

[وَقُضِيَ بَيْنَہُمْ بِالْحَقِّ وَقِيْلَ الْحَـمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۷۵ۧ ](زمر:۷۵)

اسی طرح سورہ سبا کے آخر میں ظالموں اور مجرموں کی ناکامی وبربادی کا ذکر ہے اور سورہ فاطر [الحمد]سے شروع ہوتی ہے، کیونکہ بلاشبہ وہی اللہ تعالیٰ تعریف کے لائق ہے جو کہ ظالموں کو تباہ وبرباد کرکے ان کاخاتمہ کردیتا ہے جیسا کہ فرمایا

[فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۝۰ۭ وَالْحَـمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۴۵ ](الانعام:۴۵)

اسی طرح سورہ واقعہ کے آخر میں ہے:

[فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ۝۹۶ۧ ]

اور سورہ حدید کاآغاز اس طرح ہوتا ہے:

[سَبَّحَ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝۱ ]

گویا کہ حکم کی تعمیل کا سبق دیاجارہا ہے، سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی طلب کےخاطر دعا کی قبولیت کی طرف اشارہ ہے، سورہ فیل سے سورہ الایلاف کا گہرا تعلق ہے ،گویا کہ ابرھہ کے لشکر کی تباہی قریش کے لئے اللہ کی راہ میں نکلنے اور سفر کرنے کے لئے بڑی دلیل ثابت ہوئی، استاذ النحو اخفش کہتے ہیں :اس ربط کی مثال یہ آیت ہے کہ

[فَالْتَقَطَہٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا۝۰ۭ  ]

(القصص:۸)

سورہ کوثر کی سورہ ماعون کےساتھ نسبت بھی انتہائی عجیب ہے کہ سورہ ماعون میں منافقین اور ہلاک ہونے والوں کی چارصفات مذکور ہیں:1بخل2ترک نماز3ریاکاری4زکاۃ کی عدم ادائیگی اور

پڑوسیوں سے معمولی اشیاء کی ممانعت، دوسری سورت میں رسول اللہ ﷺ کو ان کے مقابلے میں دوسری چیزیں بتائی گئیں، جیسا کہ بخل کے مقابلے میں فرمایا:[اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ۝۱ۭ ]یعنی ہم نے آپ کو اتنا زیادہ عطا کیا ہے،(جس میں استغناء ونفس کی بےپرواہی بھی شامل ہے۔) کہ بخل آپ کی صفت نہیں ہوسکتی، نماز چھوڑنے کے مقابلے میں فرمایا:[فَصَلِّ ] یعنی نماز پرہمیشگی اختیارکریں،قائم ودائم رہیں۔ریاکاری کےمقابلے میں فرمایا:[ لِرَبِّكَ]یعنی تمہاری نماز اور تمام عبادات خالص اللہ تعالیٰ کی رضامندی کےلئے ہوں، چوتھی بات کے مقابلے میں فرمایا:[ وَانْحَرْ۝۲ۭ]یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے قربانی کریں یہ وہ چیز ہے جس سے پڑوسی فائدہ حاصل کرتے ہیں ،الغرض تمام سورتوں وآیات کے درمیان ربط کسی نہ کسی صوت میں موجود ہے،ان شاء اللہ تفسیر میں اپنے اپنے مقام پر بیان ہوتا رہےگا۔

(جاری ہے)

About شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

جمعیت اہل حدیث سندھ کے بانی ومئوسس شیخ العرب والعجم سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ہیں جوکہ اپنے دور کے راسخین فی العلم علماء میں سے تھے بلکہ ان کے سرخیل تھے۔ صوبہ سندھ میں موجود فتنوں ،فرقوں ،ضلالتوں،تقلیدجامد اور ان کی نشاطات کو دیکھتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس صوبہ کو اپنی دعوتی واصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بنالیاتھا۔

Check Also

بدیع التفاسیر (قسط نمبر :207)

(14)۔[اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ ] (المائدۃ:۱۰۶) کو آیت: [وَّاَشْہِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ] (الطلاق:۲) سے منسوخ …

جواب دیجئے