Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ جون » توحید کی تین قسمیں

توحید کی تین قسمیں

توحید الوہیت،توحید ربوبیت، توحید اسماء وصفات

1۔توحید الوہیت کامفہوم

اللہ کو ہی سچا الٰہ ماننا اور ہر قسم کی عبادت اسی کیلئے کرنا، مثلاً: رکوع، سجدہ، قربانی، نذرونیاز، اسی کیلئے کرنا اور دعابھی اسی سے مانگنا ،مصیبت کے وقت صرف اور صرف اس سے مدد مانگنا ۔ہرچیز اسی سے مانگنا حتی کے جوتی کا تسمہ بھی اگر ٹوٹ جائے تو وہ بھی اسی سے مانگنا اور نمک تک اسی سے مانگنا۔۔۔۔

اب اگر کوئی شخص وہ تمام کام جو اللہ کیلئے کئے جاتے ہیں ان میں سے کوئی کام غیراللہ کیلئےکرے اس کو سجدہ یارکوع کرے تو اس نے بڑا شرک کیا جب تک وہ ایسا کرتا رہے گا اس کی نیکی قبول نہیں ہوگی اور اسی حالت میں مرگیا تو ہمیشہ کا جہنمی ہے۔

توحید الوہیت کے قرآن سے دلائل

1[وَاِلٰـہُكُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۝۰ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ۝۱۶۳ۧ ](البقرۃ:۱۶۳)

ترجمہ:تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں وہ بہت رحم کرنے والااور بڑا مہربان ہے ۔

2[وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّآ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ](المائدۃ:۷۳)

ترجمہ: اس ایک معبود کے علاوہ کوئی بھی معبود نہیں۔

3[فَاِلٰـہُكُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗٓ اَسْلِمُوْا](الحج:۳۴)

ترجمہ: تمہارامعبود ایک ہی معبود ہے پس تم سب اسی کے فرمانبردار بن جاؤ۔

4[اِنَّ اِلٰہَكُمْ لَوَاحِدٌ۝۴ۭ ](الصفت:۴)

ترجمہ: بیشک تمہارا معبود ایک ہی ہے۔

5[اِنَّمَا ہُوَاِلٰہٌ وَّاحِدٌ۝۰ۚ فَاِيَّايَ فَارْہَبُوْنِ۝۵۱ ]

(النحل:۵۱)

ترجمہ: صرف اور صرف وہی ایک معبود ہے(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) پس تم مجھ ہی سے ڈرو۔

6[وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِہٖ شَـيْـــًٔـا ](النساء:۳۶)

ترجمہ: اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔

7[وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْہِ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ۝۲۵ ](الانبیاء:۲۵)

ترجمہ:اورجتنے بھی ہم نے آپ سے پہلے رسول(o)بھیجے ان کی طرف ہم نے یہی وحی کی کہ میرے علاوہ کوئی بھی معبود نہیں پس تم میری ہی عبادت کرو۔

8[فَلَا تَدْعُ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِيْنَ۝۲۱۳ۚ ](الشعراء:۲۱۳)

ترجمہ:پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود سمجھ کر مت پکار اگر (بالفرض) آپ نے بھی ایسا کیا تو آپ کو بھی عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔

نوٹ: اس آیت میںشرک کی برائی کو واضح کیاگیا ہے، ورنہ کسی نبی سے شرک کا ارتکاب ناممکن ہے یہ بتایاگیاکہ اگر بالفرض والمحال کسی نبی سے بھی شرک کا ارتکاب ہوجائے تو اس کو بھی معاف نہیں کیاجائے گا۔

توحید الوہیت کے حدیث سے دلائل

(۱) عن عثمان قال قال رسول اللہ ﷺ من مات وھو یعلم انہ لاالٰہ إلااللہ دخل الجنۃ .(مسلم)

ترجمہ: عثمانtسے روایت ہے وہ کہتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اس بات کو اچھی طرح جانتا تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی بھی الٰہ نہیں(یعنی عقیدۂ توحید کو اچھی طرح سمجھتا تھا اور اسی عقیدہ پر موت تک قائم رہا) تو وہ شخص جنت میں داخل ہوگا۔

(۲) عن جابر قال اتی النبی ﷺ رجل فقال یارسول اللہ ﷺ ما الموجبتان قال من مات لایشرک باللہ شیئا دخل الجنۃ ومن مات یشرک باللہ شیئا دخل النار.(مسلم:۹۳)

ترجمہ: جابرtسے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اس نے آکر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کون سی دوچیزیں ہیں جوواجب کردینے والی ہیں (ایک چیز جنت کو واجب کرنے والی اور ایک چیز جہنم کو واجب کردینے والی ہے) آپ ﷺنے فرمایا: جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا تھا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جوشخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا کرتا تھا تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔

(۳) عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ اسعد الناس شفاعتی یوم القیامۃ من قال من قال لاالٰہ إلااللہ خالصا من قلبہ .(بخاری)

ترجمہ:ابوھریرہ tسے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری سفارش کا لوگوں میں سب سے زیادہ حقدار قیامت کے دن وہ شخص ہوگا جس نے دل کے اخلاص کے ساتھ لاالٰہ الااللہ (یعنی  پوری زندگی عقیدہ توحید سے گزاری اور اسی عقیدہ پر دنیا سے رخصت ہوا)

(۴) عن عبادۃ بن الصامت قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول من شھد ان لاإلٰہ إالااللہ وأن محمدا رسول اللہ حرم اللہ علیہ النار.(مسلم:۴۷)

ترجمہ:عبادۃ بن صامت tکہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص نے یہ گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ)اللہ کے رسول ہیں تو اللہ نے اس پر جہنم کی آگ کو حرام کردیا۔

(۵) عن ابی ذر عن النبی ﷺ قال اتانی جبریل فبشرنی أنہ من مات لایشرک باللہ شیئا دخل الجنۃ. (بخاری:۷۴۸۷)

ترجمہ: ابوذرtسے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبرائیل آئے انہوں نے آکر یہ خوشخبری دی کہ جوشخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیاکرتا تھا وہ شخص جنت میں داخل ہوگا ۔

(۶)عن أبی مالک عن ابیہ قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول من قال لاالٰہ الااللہ وکفر بما یعبد من دون اللہ حرم مالہ ودمہ وحسابہ علی اللہ .(مسلم:۲۳۲)

ترجمہ:ابومالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرمارہے تھے کہ جس نے کہا(لاالٰہ الااللہ)اوراللہ کے علاوہ جن کی عبادت کی جاتی ہے ان سب کی عبادت کا انکار کیا اس کامال اور اس کی جان محفوظ ہے۔(یعنی اس کامال کھانا اور اس کا خون بہانا حرام ہے)اور اس کاحساب اللہ پر ہے۔

توحید ربوبیت کامفہوم

یعنی اللہ تعالیٰ کو اپنے تمام کاموں میں اکیلاماننا ۔مثلاً:رزق دینا، زندہ کرنا ،مارنا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ صرف وہی پیداکرنے والاہے ، وہی رزق دینے والا ہے وہی مارنے والا ہے،وہی زندہ کرنے والاہے۔

توحید ربوبیت کے قرآن سے دلائل

1[اَللہُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ۝۰ۭ ہَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَيْءٍ۝۰ۭ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۝۴۰ۧ ](الروم:۴۰)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کورزق دیا پھرتم کو ماریگا پھر تم کو زندہ کریگا کیا تمہارے شریکوں میں سے(وہ جون کو تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ پکارتےہو) کوئی ایسا ہے جو یہ کام (پیدا کرنا، رزق دینا،مارنا اور زندہ کرنا)کرسکتا ہو اللہ تعالیٰ پاک اوربلند ہے ان شریکوں کی شرکت سے پاک اور بلندہے جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں۔

2[وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللہِ](النحل:۵۳)

ترجمہ: اور تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اللہ کی ہی طرف سے ہیں۔

3[وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ۝۰ۚ وَہُوَبِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۝۱۰۱ ]

(الانعام:۱۰۱)

ترجمہ: اور اس(اللہ) نےہرچیز کو پیدا کیا اور ہرچیز کو جاننے ولا ہے۔

4[ھُوَالَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۝۰ۤ ]

(البقرۃ:۲۹)

ترجمہ: وہ اللہ ایسی ذات ہے جس نے ہراس چیز کوتمہارے لئے پیدا کیاجو زمین میں۔

5[وَاللہُ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ۝۱۱ۧ ](جمعہ:۱۱)

ترجمہ: اور اللہ بہتر رزق دینے والاہے۔

6[اِنَّ اللہَ ہُوَالرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِيْنُ۝۵۸ ]

(الذریات:۵۸)

ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے جو طاقتور اور مضبوط ہے۔

7[اِنَّ اللہَ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ۝۳۷ ]

(آل عمران:۳۷)

ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے بے حساب۔

8[وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَيَشْفِيْنِ۝۸۰۠ۙ ](الشعرآءـ:۸۰)

ترجمہ: اور جب میںبیمار ہوتا ہوں وہی مجھے شفادیتا ہے(یہ بات کہ سیدنا ابراھیمuنے )

توحید ربوبیت کے حدیث سے دلائل

(۱)  اللھم انت ربی لاالٰہ إلاانت خلقتنی.(بخاری)

ترجمہ:اے اللہ! توہی میر ارب ہے تیرے علاوہ کوئی بھی الٰہ نہیں تو نے ہی مجھےپیداکیا۔

(۲)اللھم لامانع لما اعطیت ولامعطی لما منعت. (متفق علیہ)

ترجمہ:اے اللہ! جسے تو کوئی چیز دے اس سے وہ چیز کوئی روکنے والانہیں اور جس سے تو کوئی چیز روک لے اس کو وہ چیز کوئی اور دینے والانہیں۔

(۳) اللھم انت خلقت نفسی وانت توفاھا لک مماتھا ومحیاھا.(مسلم:۲۰۸۳)

ترجمہ: اے اللہ! بیشک تو نے ہی میری جان کو پیدا کیا اور تو ہی اسے فوت کرے گا تیرے ہی اختیار میں ہے میرے نفس کی موت اور میرے نفس کی زندگی۔

(۴) الحمدللہ الذـی اطعمنا وسقانا وکفانا وأوانا فکم ممن لاکافی لہ ولامؤوی لہ.(مسلم:۲۰۸۵)

ترجمہ: سب تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں کافی ہوگیا اور ہمیں جگہ دی پس کتنے ہی لوگ ہیں جنہیں کوئی کفایت کرنے والانہیں اور نہ جگہ دینے ولاہے۔

توحید اسماء وصفات کامفہوم

توحید اسماء وصفات پر ایمان لانا تین بنیادوں پر قائم ہے۔

اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی صفات ہیں تمام کی تمام صفات نقص’’عیب‘‘ اورمخلوق کی مشابہت سے بالکل پاک ہیں۔

صرف اور صرف ان اسماء وصفات پر ایمان لانا جوقرآن اور حدیث میںبیان ہوئی ہیں نہ ان میں کمی کرنا اور نہ ہی زیادتی۔

3تمام کی تمام صفات کے بارہ میں یہ عقیدہ رکھنا کہ ان کی کیفیت وہی جانتا ہے ،کیسے سنتا ہے؟کیسے جانتاہے؟ یا کیسے دیکھتاہے؟ہمیں کچھ پتہ نہیںاللہ تعالیٰ ہی کوپتاہے۔

اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی صفات ہیں تمام کی تمام ہمیشہ سے ہیں ہمیشہ رہیں گی اور نام بھی جتنے ہیں ہمیشہ سے ہیں ہمیشہ تک رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ کی صفات کی دوقسمیں ہیں:

صفات ذاتی: وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہمیشہ قائم اور لازم ہیں کوئی ایک بھی لمحہ بھی ایسا نہیںجس میں یہ صفات اللہ تعالیٰ کی ذات سے الگ ہو،جیسے :العلم،جاننا۔ الحیاۃ،زندہ رہنا۔

صفات فعلی: وہ ہیں جن کاتعلق اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور مشیت سے ہے جسے الخلق،پیداکرنا۔الرزق ،رزق دینا۔

وہ صفات فعلی کوبجالانے کی قدرت اورطاقت ہمیشہ رکھتا ہے۔

نوٹ: اللہ تعالیٰ کے بعض ناموں کا اطلاق غیراللہ پر بھی جائز ہے۔جیسے سمیع ،بصیر، بعض کانہیں جیسے الخالق ،القیوم ۔جونام خالق اور مخلوق میں مشترک ہیں ان میں اشتراک لفظی حد تک ہے ،ان ناموں کے الفاظ کے معنی میں خالق اورمخلوق میں اشتراک نہیں ،اورجونام صرف اللہ تعالیٰ کے ہیں ان کااطلاق مخلوق پر قطعاً جائز نہیں۔اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی صفات ہیں ان صفات میں سے کسی صفت میں کوئی بھی شریک نہیں نہ کوئی ولی اور نہ کوئی فرشتہ

About حافظ صہیب ثاقب

Check Also

زکوٰۃ کی فرضیت، فضیلت، اہمیت اوراحکام

لفظ’’زکوٰۃ‘‘ کالغوی مفہوم پاکیزگی اوراضافہ ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پہلے …

جواب دیجئے