شہید کون ؟

قارئین کرام ! شہادت ایک بہت بڑا مقام ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہید کے بے تحاشا فضائل و مناقب بیان فرمائے ہیں ، حقیقت میں یہ منصب یقینا ان لوگوں کے لیے خاص ہے جن کو شریعت نے عطا فرمایا ہے ۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کل ہمارے معاشرے میں ہر مرنے والے شخص کو شہید کا خطاب دیا جاتا ہے جبکہ حقیقی شہید کون ہے ؟

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن لوگوں کو شہید قرار دیا ہے ؟

آئیں ملاحظہ فرمائیں ۔

میدان جہاد  میں قتل کیا گیا شخص

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

الْمَقْتُولُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ .

اللہ کے راستے ( جہاد ) میں قتل کیا گیا شخص شہید ہے۔

(سنن نسائی : 3163 صحيح)

 اللہ کی راہ میں وفات پانے والا

:سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

مَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ .

جو شخص اللہ کی راہ میں وفات پا جائے وہ شہید ہے ۔

(صحیح مسلم : 1915)

 جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ .

جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے ۔ (صحیح بخاری : 2480)

:ایک روایت میں ہے کہ

!ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول

أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي ؟ قَالَ : فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي ؟ قَالَ : قَاتِلْهُ قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي ؟ قَالَ : فَأَنْتَ شَهِيدٌ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ ؟ قَالَ : هُوَ فِي النَّارِ ۔

آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی آدمی آ کر میرا مال چھیننا چاہے ( تو میں کیا کروں؟ )

آپ نے فرمایا : اسے اپنا مال نہ دو۔

اس نے کہا : آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ میرے ساتھ لڑائی کرے تو ؟

فرمایا : تم بھی اس سے لڑو ۔

اس نے پوچھا :

آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ مجھے قتل کر دے تو ؟

آپ نے فرمایا : تم شہید ہو گے۔

اس نے پوچھا : آپ کی کیا رائے ہے اگر میں اسے قتل کر دوں ؟

فرمایا : وہ دوزخی ہوگا ۔ (صحیح مسلم : 360)

 پیٹ کی بیماری میں مرنے والا

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

الْمَبْطُونُ شَهِيد .

پیٹ کی بیماری (یعنی ہیضہ) سے مرنے والا شہید ہے ۔

(صحیح بخاری : 5733)

 طاعون کی بیماری میں مرنے والا

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اَلْمَطْعُونُ شَهِيد .

طاعون کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے ۔ (صحیح بخاری : 5733)

ایک روایت کے لفظ ہیں :

الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ .

طاعون کی موت ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے ۔

(صحیح بخاری : 2830)

و شخص  اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے

سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ   .

جو شخص  اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے ۔(سنن ترمذی : 1421 صحیح )

 جو شخص اللہ کی راہ میں اپنی سواری سے گر کر مرجائے

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ صُرِعَ عَنْ دَابَّتِهِ فِي سَبِيْلِ للهِ فَهُوَ شَهِيدٌ .

جو شخص اللہ کے راستے میں اپنی سواری سے گر کر مر جائے ، وہ شہید ہے ۔ ( سلسلة الاحاديث الصحیحة : 2152)

 نمونیہ میں مرنے والا

سیدنا جابر بن عتیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

صَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيد .

نمونیہ میں مرنے والا شہید ہے ۔(سنن ابي داؤد : 3111 صحیح)

 جو اپنی جان کی حفاظت کی خاطر مارا جائے

سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ .

جو اپنی جان کی حفاظت کی خاطر مارا جائے وہ شہید ہے  ۔

( سنن ترمذی : 1421 صحیح )

 ڈوب کر مرنے والا

سیدنا جابر بن عتیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اَلْغَرِقُ شَهِيدٌ .

ڈوب کر مرنے والا شہید ہے ۔( سنن ابي داؤد : 3111 صحيح )

 دب کر مرنے والا

سیدنا جابر بن عتیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

الَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ .

( عمارت یا کسی چیز کے نیچے آکر ) دب کر مرنے والا شہید ہے ۔

( سنن ابي داؤد : 3111 صحيح )

 جل کر مرنے والا

سیدنا جابر بن عتیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

صَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ .

جل کر مرنے والا شہید ہے ۔( سنن ابي داؤد : 3111 صحيح )

 درد زہ میں مرنے والی عورت

سیدنا جابر بن عتیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اَلْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ .

وہ عورت جو بچہ جننے کی تکلیف ( درد زہ) میں مر جائے وہ شہید ہے ۔( سنن ابی داؤد : 3111 صحيح )

جو شخص ظلم سے بچنے میں مارا جائے

سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ .

جو شخص ظلم سے بچنے میں مارا جائے وہ شہید ہے۔

( سنن نسائی : 4127 صحيح )

 عمر و عثمان رضي الله عنھما شہید ہیں

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ :  اثْبُتْ أُحُدُ  ! فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ .

( ایک مرتبہ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : احد ! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۔(صحیح بخاری : 3675)

 طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ شہید ہے

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو فرماتے ہوئے سنا :

مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ  .

جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ زمین پر چلنے والے کسی شہید کو دیکھے تو وہ طلحہ بن عبیداللہ کو دیکھ لے ۔( سنن ترمذي : 3739 صحيح )

 سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا شہیدہ ہیں

سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر میں جانے لگے تو میں نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! اپنے ساتھ مجھے بھی جہاد میں چلنے کی اجازت دیں ، میں آپ کے بیماروں کی خدمت کروں گی ، شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرمائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

قَرِّي فِي بَيْتِكِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَرْزُقُكِ الشَّهَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَكَانَتْ تُسَمَّى الشَّهِيدَةُ .

تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو ، اللہ تمہیں شہادت نصیب کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں : چنانچہ انہیں شہیدہ کہا جاتا تھا ۔

آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے ایک غلام اور ایک لونڈی کو اپنے مر جانے کے بعد آزاد کر دینے کی وصیت کر دی تھی ، چنانچہ وہ دونوں ( یعنی غلام اور لونڈی ) رات کو ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور انہی کی ایک چادر سے ان کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئیں اور وہ دونوں بھاگ نکلے، صبح ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ان دونوں کے متعلق جس کو بھی کچھ معلوم ہو، یا جس نے بھی ان دونوں کو دیکھا ہو وہ انہیں پکڑ کر لائے ، ( چنانچہ وہ پکڑ کر لائے گئے ) تو آپ نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں سولی دے دی گئی، یہی دونوں تھے جنہیں مدینہ منورہ میں سب سے پہلے سولی دی گئی۔

(سنن أبي داؤد : 591 : حسن)

ايک روایت میں ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ :

انْطَلِقُوا بِنَا نَزُورُ الشَّهِيدَةَ .

ہمارے ساتھ چلو ! ہم شہید خاتون کی زیارت کریں ۔

(صحیح ابن خزیمة : 1676 : حسن )

ایک ضروری وضاحت

قارئین کرام : میدان جہاد میں دشمن کے ہتھیار سے قتل ہونے کے علاوہ باقی سب شہادتیں کم درجے کی ہیں اور ان کے احکام بھی ان شہیدوں کے سے نہیں ، لہذا انہیں غسل اور کفن کے ساتھ دفن کیا جائے گا ۔(سنن ابی داؤد مترجم 1/178 دارالسلام )

About محمد سلیمان جمالی

Check Also

مختلف کتب کا قرآن کریم سےا ختلاف – قسط1

(۱)مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[اَمَّنْ يُّجِيْبُ …

جواب دیجئے