Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ جون » عمل پرہمیشگی پسندیدہ ہے!

عمل پرہمیشگی پسندیدہ ہے!

الحمدللّٰہ والصلاۃ والسلام علی رسول ﷲ(ﷺ) وبعد!

قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

جیسےہی رمضان المبارک کا آغاز ہوا تو اہل اسلام کی جانب سے اطاعت ِالٰہی کی اعلی ترین مثالیں قائم ہوئیں، ان اعلی ترین مثالوں کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں:

”رمضان المبارک میں اکثر مسلمانوں کی ترتیب عبادات کایوںمشاہدہ کیا گیا کہ جیسے ہی نمازِ ظہر کا وقت ہوا تومسلمان ہرقسم کی مصروفیات ترک کرکے نماز کی طر ف لپکے ،نماز کی ادائیگی اور تلاوت کلام پاک کے بعد صبح سے اب تک کی تھکاوٹ دورکرنے کیلئے کمر سیدھی کی،ابھی تھکاوٹ باقی تھی کہ اذان عصر ہوگئی،نماز عصر کی ادائیگی کےبعد گھریلومصروفیات میں جُت گئے،یہاں تک کہ افطار کاوقت ہوگیا اورافطار کے بعد صورتحال یہ ہوگئی کہ چونکہ دن بھر جسم کی رگیں خشک رہیں تھیں،افطار کے بعد ان کے تَراورپُرہوجانےکےباعث جسم حرکت کرنےکےقابل نہ رہا۔اس کے باوجود مسلمان نماز مغرب کی ادائیگی کیلئے مساجد کی جانب رواں دواں نظرآئے، نماز مغرب کے بعد گھر پہنچے ہی تھے کہ نماز عشاء وتراویح کے طویل قیام کی تیاری کاآغاز ہوگیا ،اس طویل قیام کےبعد گھرواپسی ہوئی یوں دن بھر کے معمولات انجام دینے کے بعد تھکاوٹ سےچورانسان نیند کی آغوش میں چلاگیا،ابھی پوری طرح نیند اور تھکاوٹ دور نہیں ہوئی تھی کہ سحری کیلئے بیدار ہوناپڑا۔نیندپوری نہیں ہوئی تھی اوپرسے سحری تناول کی گئی اس بناء پر سستی اورکاہلی ہونے لگی لیکن ہرقسم کی سستی اورکاہلی اورغلبہءِ نیند کی پرواہ کئے بغیر نمازِ فجر کی باجماعت ادائیگی کیلئے مسجدکارخ کیاگیا، ادائیگی نماز کے بعد پھر دن بھر وہی معمولات کی انجام دہی اور اس کے ساتھ ساتھ پورے ماہ انفاق فی سبیل اللہ کا سلسلہ بھی جاری وساری رہا ”

یوں کہہ لیجئے کہ اکثر مسلمان ماہِ رمضان میں اطاعتِ الٰہی کے خوگرنظرآئےاب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آیا اطاعت الٰہی کا یہ جذبہ ماہِ رمضان تک محدود رہتاہے یااس کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ اگر اس جذبہ میں استقامت ہےتویہ سراسر مبنی بر خیرجذبہ ہے اور اگر یہ جذبہ رمضان المبارک کے الوداع ہوتے ہی اختتام پذیر ہوگیا تو اس جذبہ کو مبنی بر خیر بہرحال قرار نہیںد یاجاسکتا۔

تمام مسلمانوں کو،اس حیثیت سے کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ ،عالم برزخ وقبر،یوم حساب، جنت وجہنم پرایمان رکھتے ہیں ،یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیئےکہ ہمارےمہربان مولاکو وہ اعمال محبوب ہیں جن پر اس کے بندے مداومت اختیار کریں،احب الاعمال الی اللہ ادومھا وان قل

قرآن مجید میںا للہ تبارک وتعالیٰ نےاپنے ان نماز ی بندوں کی بڑی تحسین فرمائی ہے جونمازپرمحافظت وہمیشگی اختیار کرتے ہیں،فرمایا:

اِلَّا الْمُصَلِّيْنَ۝۲۲ۙ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الَّذِيْنَ ہُمْ عَلٰي صَلَاتِہِمْ دَائِمُوْنَ۝۳۴ۭ (المعارج)

ایک اورمقام پر ارشاد فرمایا:

قَدْاَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ۝۱ۙ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَالَّذِيْنَ ہُمْ عَلٰي صَلَوٰتِہِمْ يُحَافِظُوْنَ۝۹ۘ (المؤمنون)

پیارے پیغمبر بھی صحابہ کرام رضی للہ عنہم کواعمال وعبادات پرمداومت کی تلقین  فرماتے تھے ،ایک مرتبہ اللہ کے  کےنبیﷺ  کو ایک صحابی کے متعلق علم ہوا کہ اس نے قیام اللیل کے اہتمام کاآغاز کیا ہے توآپ نصیحت فرمائی کہ لاتکن مثل فلان کان یقوم فی اللیل ثم ترک۔ یعنی تم فلاں کی طرح نہ ہوجانا کہ وہ قیام اللیل کا اہتمام کرتا تھا پھراس نے قیام اللیل ترک کردیا۔

لہذا رمضان المبارک میں جس جس انداز سے اطاعت الٰہی کو اختیار کیا، رمضان کے بعد بھی اطاعت الٰہی کے اسی انداز کو جاری رکھئے مثلاً :

ماہِ رمضان میں نماز باجماعت کا اہتمام تھا ،اس کے بعد بھی یہ اہتمام جاری رہے۔

ماہ رمضان میں ذکر واذکار ،صبح وشام کی ادعیہ کی پابندی تھی، اس کےبعد بھی یہ پابندی جاری رہے۔

پردرود پڑھنے کی لگن تھی یہ لگن اس کے بعد بھی جاری رہے۔    ماہِ رمضان میں نبی پاک

ماہِ رمضان میں تلاوتِ کلا م پاک کاذوق تھا،یہ ذوق اس کےبعد بھی جاری رہے۔

ماہِ رمضان میں تروایح کی صورت میںخوب قیام اللیل کیاگیا ،اس کے بعد بھی تہجد کی صورت میں یہ قیام قائم رہے۔

ماہِ رمضان میں روزے رکھے گئے،اس کے بعد بھی شوال کے چھے روزوں ،ایام بیض (ہراسلامی ماہ کی 15,14,13ویں تاریخ کےروزے رکھنے)اورہرسومواروجمعرات کے روزے رکھنے کااہتمام کیاجائے۔

اور ساتھ ساتھ اللہ رب العزت سے دعائیں کی جائیں کہ:

اللھم ثبت قلبی علی طاعتک،یا اللہ تومیرے دل کو اپنی اطاعت پرجمادے ۔

اھدناالصراط المستقیم ،یا اللہ توہمیں صراطِ مستقیم کی ہدایت (استقامت) عطافرما۔

اللھم انی اعوذبک من الحوربعدالکور۔یااللہ میں سدھرنے(تیری اطاعت اختیار کرنے )کے بعد بگڑنے(تیری اطاعت ترک کرنے)سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔(نسائی کتاب الاستعاذہ)

یاد رکھیئے رمضان المبارک میں اطاعت ِ الٰہی کاخوب مظاہرہ کرنےکے بعد غیررمضان میں اللہ رب العزت کی نافرمانی،بغاوت وسرکشی کرکے اپنی ماہ ِ رمضان کی محنت ضایع مت کیجئے اس لئے کہ اپنی محنت ضایع کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایاہے۔

صحیح بخاری کتاب التفسیر میں ہے کہ مکہ میں ایک دیوانی عورت جس کانام خرقاء(توڑپھوڑ کرنے والی)پڑگیا تھارہتی تھی، وہ دن بھر سوت کاتتی رہتی اور شام کو اسے توڑپھوڑ کرپھینک دیتی یعنی اپنی دن بھر کی محنت ضایع کردیتی،اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کاتذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَہَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنْكَاثًا۝۰ۭ (النحل:۹۲)

یعنی تم اس عورت کی طرح نہ ہوجانا جس نے اپناکاتا ہواسوت مضبوط کرنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام اعمالِ خیر پراستقامت ومداومت عطافرمائے اور دنیوی واخروی بھلائیوں کے حصول کیلئے کی گئی ہماری محنت کوضایع ہونے سے بچاکرمحفوظ ومامون فرمائے۔(آمین)

About شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ

.سابق ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ ٣ جنوری ٢٠١٨ کو ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے ‏اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله داراً خيراً من داره، وأهلاً خيراً من أهله، وزوجاً خيراً من زوجه، وأدخله الجنة، وأعذه من عذاب القبر، ومن عذاب النار

Check Also

رمضان المبارک اور ابلیس کی چالیں

خطبہ مسنونہ کے بعد: اللہ تبارک وتعالیٰ کا اپنے بندوں پر یہ خصوصی فضل وکرم …

جواب دیجئے