انتخابات2018ء

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ (ﷺ) وبعد!

25جولائی 2018ء کو پاکستان میں عام انتخابات منعقد ہورہے ہیں،کیونکہ پاکستان میں جمہوریت قائم ہے، اور جمہوریت کا تقاضہ یا اصول ہے کہ ایک متعین مدت کے بعد انتخابات کے ذریعے نئی حکومت تشکیل دی جائے،ہم کتاب وسنت کی روسے جمہوریت کوغیر شرعی نظامِ حکومت سمجھتے ہیں، نیز جمہوریت میں رائج انتخابات کا طریقہ کاربھی غیر اسلامی ہے، اورجواسلامی جماعتیں جمہوریت یا انتخابات کو اسلامی انقلاب کا راستہ قرار دیتی ہیںہم ان کی اس فکر کو باطل اور فرسودہ سمجھتے ہیں۔

جمہوریت میں مقتدر اعلیٰ ایک شخص صدریاپارلیمنٹ ہوتی ہے (حالانکہ یہ بھی ایک دھوکہ وفراڈ ہے حقیقت یہ ہے کہ یہاں پر بھی مقتدر اعلیٰ حکومتی پارٹی کا سربراہ ہوتا ہے جوآمریت کی ہی ایک شکل ہے، جسے یہ جمہوری لوگ ایک گالی کہتے ہیں)

جبکہ شرعی نقطہ نظر سے مقتدر اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ،خلیفہ یا حاکم تو مجلس شوریٰ کی مشاورت سے احکامِ الٰہی کے نفاذ کی تدبیر کرتا ہے۔

جمہوریت میں دوسری خرابی یہ ہے کہ یہاں معیار ’’اکثریت‘‘ ہے جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ دلیل کےمقابلہ میں کثرت رائے کی کوئی حیثیت نہیں۔اور یہ کثرت رائے ان جمہوریت پرستوں کے ہاں ایک ایسااصل اصیل ہے کہ وہ اس کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتے۔

:بقول اقبال

جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

جبکہ اسلام میں دلیل کے مقابلہ میں کثرت رائے کی کوئی حیثیت ہی نہیں، بلکہ اسے گمراہی کا راستہ قرار دیاگیا ہے۔

[وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ۝۰ۭ ](انعام:۱۱۶)

جمہوریت میں ووٹ کو ایک مقدس امانت سمجھا جاتاہے ،اس’’ مقدس امانت‘‘کی جومٹی پلید ہوتی ہے وہ سب کو معلوم ہے ،کہ ایک شیخ الحدیث کا ووٹ اورایک چٹے ان پڑھ کا ووٹ برابر ہے۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور اسی یونیورسٹی کے گیٹ کیپرکا ووٹ برابر ہے۔

 یعنی جمہوری طرز انتخاب پر چھوٹے اوربڑے اچھے اور بُرے عالم اور جاہل ،نیک اوربدکردار کے ووٹ یا رائے کی قیمت یکساں قرار پاتی ہے۔ اس جمہوری اصول کو سامنے رکھ کر ان آیات کا بھی مطالعہ کرلیں۔

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا۝۰ۭؔ لَا يَسْـتَوٗنَ۝۱۸۬

ترجمہ:کیا وہ جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے۔(السجدۃ:۱۸)

قُلْ ہَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۝۰ۭ (الزمر:۹)

ترجمہ: بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟

قُلْ ہَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ۝۰ۥۙ (الانعام:۵۰)

ترجمہ: کہہ دیجئے کہ کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتا ہے؟

قُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَۃُ الْخَبِيْثِ۝۰ۚ(المائدہ:۱۰۰)

ترجمہ:آپ فرما دیجیئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں گو آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی ہو۔

 مغربی جمہوریت کے مفاسد

انتخاب اور اخلاقی اقدار

بددیانتی:حلقہ بندیوں میں ردوبدل تاکہ زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کئے جائیں، نیز جعلی ووٹوں کا اندراج، اصل ووٹوں کا عدم اندراج۔

حریف کی تذلیل: امیدوار ایک دوسرے کی نجی زندگی کے جملہ عیوب تلاش کرکے لوگوں میں ان کی ہر ممکن تشہیر کرتے ہیں، ایک دوسرے کی عزت پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔

جھوٹے اورناممکن دعوے:ـکوئی پارٹی اعلان کرتی ہے کہ وہ کامیاب ہوکر ہرکاشتکار کو بارہ ایکٹرزمین دے گی۔

کہیںسے اعلان ہوتا ہےہم روٹی کپڑا مکان دیں گے۔

کہیں سے اعلان ہوتا ہے کہ ہم لوڈشیڈنگ ختم کردیں گے۔

کہیں سے اعلان ہوتا ہے کہ ہم بے گھروں کو مکان بنواکردیں گے۔

ان سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کو بھی معلوم ہے کہ یہ وعدے پورے کرنا ناممکنات میں سے ہے، لیکن پھر بھی وہ جان بوجھ کر محض حصول اقتدار کیلئے یہ جھوٹے وعدے کررہے ہوتے ہیں۔

سیاسی رشوت: مخالف امیدوار کو دستبردار کرانے کیلئے سودے بازی، کہ اس کے جملہ مصارف کے علاوہ مزیدخطیر رقم بطورہدیہ پیش کی جاتی ہے اس طرح علاقہ کے وڈیروں ،زمینداروں، خاندان کے بڑوں کوعہدوں ملازمتوں اور خطیر نقدی کی صورت میں رشوت پیش کی جاتی ہے جب کہ عوام کالانعام تو اپنےوڈیرے ،چوہدری یاخاندان کے سربراہ کے حکم کے تابع ہوتے ہیں۔

الیکشن کے دوران گھناؤنے جرائم:ایک پارٹی اپنے تعلقات اور پہنچ کی بناپر حریف پارٹی پر اس قدر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ مجبورہوکر الیکشن سے دستبردار ہوجائے اگر دباؤکام نہ آئے تو مقابل حریف کو اغوا بلکہ قتل تک کرادیاجاتاہے۔ووٹروں تک کو ڈرایادھمکایاجاتا ہے، جعلی ووٹوں کی بھرمار ہوتی ہے، اگر یہ تمام حربے کامیاب نہ ہوسکیں تو آخری مرحلے پر نتائج تک بدل دیئے جاتے ہیں۔

یہ ہے’’ مقدس ووٹ‘‘ کی حقیقت اور یہ ہے انتقالِ اقتدار کا پرامن اور جمہوری ذریعہ جس پر مغربی جمہوریت اور ان جمہوریت پرستوں کو نازہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔

:معاشرہ پر اثرات

سیاسی جھگڑے بازی:اقتدار کی ہوس سے کئی سیاسی پارٹیاں وجود میں آجاتی ہیں بلکہ انتخاب کے دنوں میں تو کئی نئی سیاسی پارٹیاں یوں جنم لینے لگتی ہیں جیسے برسات میں حشرات الارض ۔اسی طرح ملک کئی سیاسی دھڑوں میں بٹ جاتا ہے جن کی ایک دوسرے سے سرد جنگ شروع ہوجاتی ہے۔

عداوت ومنافرت: اس جمہوری انتخابی دنگل کے نتیجہ میں قوموں، قبیلوں،خاندانوں یہاں تک کہ ایک گھر کے افراد تک میں عداوت ومنافرت پیدا ہوجاتی ہے اور اس انتخابی سیاست کے نتیجہ میں صوبائی، لسانی اور برادری تعصبات کو بھی خوب ہواملتی ہے۔

ملکی معیشت پراثرات: الیکشن کمیش کا قیام پھر حلقہ بندیاں بعدازاں ووٹر لسٹوں کی تیاری اور پھرطباعت اور اس کے بعد الیکشن کے دن انتظامی امورپر ملکی خزانے سے جوزرِکثیرخرچ ہوتاہے وہ یقینا اربوںمیں پہنچ چکا ہے۔اس طرح ہر پانچ سال بعد،الیکشن کا یہ تماشہ ملکی معیشت پر جو پہلے ہی تنزلی کا شکار ہے، ایک بوجھ ہے۔پھر سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں کی سیاسی سرگرمیوں مثلاً: بینرز، جھنڈے، اشتہارات ،جلسے جلوس،کنویسنگ اور دیگر اٹھنے والے اخراجات آج کے دور میں یقینا ایک کھرب سے متجاوز ہی ہونگے۔

پھر الیکشن کازمانہ کیونکہ جلسوں اور جلوسوں کا دور ہوتا ہے لہذا اس سے شہری حلقہ بہت متاثر ہوتا ہے کبھی تو یہ لوگ خود جلسوں جلوسوں میں شریک ہوتے ہیں اور کبھی جلوس وجلسوں اورریلیوں کی وجہ سے انہیں دکانیں بند کرنا پڑتی ہیں۔ اس قسم کے نقصان کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے ،تاہم یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہےکہ انتخابی نمائندوں کے اخراجات سے یہ نقصان کسی صورت کم نہیں ہوسکتا۔

پھر یہ سیاسی پارٹیاں اقتدار میں آکر دونوں ہاتھوں سے ملکی خزانے کو لوٹنے میں مصروف ہوجاتی ہیں اور پارٹی کارکنوں کو نوازنے کیلئے ملکی اداروں میٗں بے جااور بے تحاشا بھرتیاں کرکے ان اداروں کو برباد کرکے رکھ دیتی ہیں،یہی وجہ ہے کہ جو ادارے ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں وہ آج ملکی معیشت پر بوجھ ہیں۔

ان دینی وملی اور معاشرتی خرابیوں کے علی الرغم اور تواور دینی پارٹیاں بھی جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کرنے پہ تلی ہوئی ہیں۔مغربی جمہوریت میں پانچ ارکان ایسے ہیں جوشرعاً ناجائز ہیں:1حق بالغ رائے دہی بشمول خواتین (سیاسی وجنسی مساوات)2ہر ایک کے ووٹ کی یکساں قیمت3درخواست برائے نمائندگی اور اس کے جملہ لوازمات 4سیاسی پارٹیوں کاوجود 5کثرتِ رائے سے فیصلہ۔

ان ارکان خمسہ میں سے ایک بھی حذف کردیا جائے تو جمہوریت کی گاڑی ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکتی جبکہ اسلامی نظامِ خلافت میں ان ارکان میں سے کسی ایک کوبھی گوارہ نہیں کیاجاسکتا،لہذا یہ دونوں نظام ایک دوسرے کی ضد اور ایک دوسرے سے متصادم ہیں، یعنی نہ تو جمہوریت کا مشرف بہ اسلام کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی نظامِ خلافت میں جمہوریت کے مروجہ اصول شامل کرکے اس کے سادہ ،فطری اور آسان طریقہ کار کو خوامخواہ مکدر اورمبہم بنایا جاسکتا ہے۔

اس کے باوجود دینی جماعتوں کے قائدین کا جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کرنا بڑی جرأت وجسارت بلکہ ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کی’’عظیم‘‘ مثال ہے۔

اور سب سے افسوسناک پہلوان دینی جماعتوںکے قائدین کا یہ نظریہ اوردعویٰ ہے کہ وہ اس مغربی جمہوریت یا ووٹ کے ذریعے اسلامی انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں یعنی ووٹ کے ذریعے اسلام لانا چاہتےہیں۔ہمیں افسوس ہے کہ ہم اس معاملے میں تائید نہیں کرسکتے،تاریخ شاہد ہے کہ ووٹوں کے ذریعے نہ آج تک اسلام آیا ہے اور نہ آئندہ آنے کی کوئی توقع نظر آتی ہےاور نہ ہی یہ منہج انبیاء اور نہ ہی یہ منہج خیر القرون (سلف صالحین) ہے۔انبیاء کرام نے اقامتِ دین کیلئے حصولِ اقتدار کی کوشش تودور کی بات ہے کبھی خواہش تک بھی نہیں کی۔

بھلا انبیاء اور خیر القرون کے مبارک منہج کو چھوڑ کر اقامتِ دین جیسا اہم فریضہ اداکیاجاسکتاہے؟ ؟؟

بلکہ حصولِ اقتدار کے ذریعے اقامتِ دین کی بیمار سوچ تو منہج انبیاء اور خیرالقرون میں شدید ترین نقد اور عیب جوئی کے مترادف ہے۔والعیاذ باللہ من ذلک۔

سابق وزیر اعظم نوازشریف کے پہلے دورِ حکومت تقریبا تمام دینی جماعتیں آئی جے آئی کا حصہ تھیں اور اقتدار میں شریک تھیں اسی طرح سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں تمام دینی جماعتیں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کی تقریبا ساٹھ سیٹوں کے ساتھ موجود تھیں۔ ہمیں بتایا جائے ان ادوار میں ان جماعتوں نے اسلام کےلئے کیا ، کیا؟

بھلاوہ دینی جماعتیںجو سیاست میں داخل ہوجانے کی وجہ سے توحید وسنت کو کھلے لفظوں میں بیان کرنے کی جرأت نہ کرسکیں بلکہ ووٹوں کے حصول اور عوام کی ہمدریاں سمیٹنے کی خاطر مشرکین اور مبتدعین تک سے اتحاد کرلیں اور غیر شرعی امور کا کھلے عام ارتکاب کریں،کیا اقتدار ملنے کے بعد اقامتِ دین(توحید وسنت اور حدود ) کا نفاذ کرسکیں گی؟؟؟

ہم ان دینی جماعتوں اور ان کے قائدین پر واضح کرتے ہیں کہ تمہاری اس جمہوریت نوازی اور اسکے ذریعہ حصولِ اقتدار کی ہوس نے تمہیں اصل مشن (اصلاحِ معاشرہ ،تبلیغِ دین صحیح ، تزکیہ وتصفیہ) سے دور کردیا ہے، اور دین پسندوں نے جو سرمایہ تمہیں (زکوۃ ،صدقات و خیرات کی صورت میں) فراہم کیا ہے اس کا غلط استعمال کیا ہے جس کی روزِ قیامت بڑی مسئولیت ہوگی۔نیز ملت کے افرادخصوصا نوجوانوںاور ان کی صلاحیتوں کو غلط استعمال کرکے بہت بڑی خیانت اور زیادتی کی ہے۔

ہم ملت کے اہل خیر حضرات اور خصوصاً نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ ان مغربی جمہوریت پرستوں اور اقتدار کے بھوکوں کے خوش نما نعروں کاشکارہوکر سرمایہ اور اپنی جوانیاں ضائع نہ کریں بلکہ منہج انبیاء ومنہج خیر القرون کے حاملین علماء ربانیین کی سرپرستی میں خدمت دین،ترویج توحید وسنت اور ردِ شرک وبدعت، تزکیہ وتربیت اور تعلیم وتعلم کے عظیم اصلاحی پروگرام کے ساتھ وابستہ ہوجائیں۔ ہمارے اخلاص، محنت،قربانیوں اور منہج انبیاء وخیرا لقرون پر استقامت کو دیکھ کر اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت نے تقاضا کیا تویقینا وہ اپنے دین کو غالب فرمادے گا، اگر ہم غلبۂ دین کا یہ عہد نہ دیکھ پائیں توبھی اجروثواب سے محروم نہ ہونگے،ان شاء اللہ۔

آخر میں ان تمام اصحاب کی خدمت میں گزارش کرناچاہتاہوں جو کسی نہ کسی طور مسلک اہل حدیث سے منسلک ہیں کہ زمین کے کسی خطے پر شر اور فساد کا غلبہ ہوجائے تو سنتِ الٰہیہ یہ ہے کہ صالح جماعت کے ذریعہ تبدیلی پیدا کردی جائے، کما قال تعالیٰ

[وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ۝۰ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ۝۳۸ۧ]  (سورۂ محمد: 38)

اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے۔

اس وقت ہمارے ملک میں شرک ، بدعت اور ظلم وفساد کا دورِ دورہ ہے اور بعض علاقوں میں تو انتہا ہوچکی ہے، شاید تبدیلی اس لیے رونما نہیں ہورہی کہ ایسی صالح جماعت موجود نہیں کہ جس میں تمام شرائط متوفر ہوں۔ ضرورت اس امر کی نہیں کہ ہم نون لیگ، پی ٹی آئی،پی پی پی یا کسی اور اہل شرک وبدعت پارٹی کی خوشہ چینی چینی کرتے ہوئے ایک آدھ ٹکڑا خیرات حاصل کرلیں اور اس پر اتراتے پھریں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ مخلص اور صالح جماعت تیار کی جائے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ یکسر تبدیلی قائم فرمادیتا ہے۔ اور یہ صرف اہل الحدیث سے ہی ممکن ہے کسی اور سے نہیں۔

وماعلینا الاالبلاغ المبین

About شیخ داؤد شاکر

Check Also

خطبہ عیدالفطر

خطبہ مسنونہ کے بعد: تقبل اللہ منا ومنکم میں آپ تمام حضرات کو،مرد وخواتین کو، …

جواب دیجئے