دعا

تجھ سے کرتا ہوں یا رب میں ہر اک دعا

تو ہی سنتا ہے یا رب میری ہر دعا

صدقِ دل سے تجھے جب پکارے کوئی

اپنی رحمت سے کرتا ہے اس کو عطا

نہ کرے جو دعا، تجھ سے یا رب اگر

اس پہ ہوتا ہے تو، ناراض و خفا

دعا ہے میری تجھ سے اے میرے رب

عطا کر تو مجھ کو، ہر خیر و بھلا

مانگتا ہوں میں تجھ سے ہر ضرورت ہمیشہ

میں تو ہوں تیرے در کا بے برگ و نوا

سب کے سب اے خدا تیرے محتاج ہیں

اہل حاجت کا تو ہی، ہے حاجت روا

دور کرتا ہے تو ہی، بے سکوں کا الم

وہ جب بھی پکارے، تجھے اے خدا

تو ہی سب کی ہمیشہ بناتا ہے بگڑی

تو ہی مختار کل ہے، تو ہی مشکل کشا

مبتلا ہو اگر مرض میں جب کوئی

اس کو دیتا ہے تو ہی، نجات و شفا

تجھ سے کرتا ہے یا رب اثریؔ یہ دعا

معاف کردے تو اس کی ہر ہر خطا

About حافظ عبدالکریم اثری

Check Also

نظم

(نظم) شیخ ذوالفقارعلی طاہر رحمہ اللہ داغِ مفارقت دے گئے شیخ ذوالفقار طاہر      …

جواب دیجئے