Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ اپریل » اربعینِ نووی(حدیث نمبر28 قسط نمبر 60)

اربعینِ نووی(حدیث نمبر28 قسط نمبر 60)

عَن أَبي نَجِيحٍ العربَاضِ بنِ سَاريَةَ رضي الله عنه قَالَ: وَعَظَنا رَسُولُ اللهِ مَوعِظَةً وَجِلَت مِنهَا القُلُوبُ وَذَرَفَت مِنهَا العُيون. فَقُلْنَا: يَارَسُولَ اللهِ كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَأَوصِنَا، قَالَ: (أُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ عزوجل وَالسَّمعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلافَاً كَثِيرَاً؛ فَعَلَيكُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المّهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ فإنَّ كلّ مُحدثةٍ بدعة، وكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ) (رواه أبو داود والترمذي وقال: حديث حسن صحيح.)

أخرجه أبو داود – كتاب: السنة، باب: في لزوم السنة، (4607) . والدارمي – كتاب: المقدمة، باب: اتباع السنة، (96) . والترمذي- كتاب: العلم، باب: ما جاء في الأخذ بالسنة واجتناب البدع، (2676)

ترجمہ:سیدناابونجیح العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے، فرماتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے ہمیں وعظ فرمایا،ایسا وعظ کہ جس سے دل خوف کی وجہ سے کانپ اٹھے اور آنکھوں سے آنسو   رواں ہوگئے، بس ہم نے عرض کیا،یارسول اللہ ﷺ !یہ تو الوداع کہنے والے شخص کاوعظ معلوم ہورہا ہے،ہمیں وصیت کردیجئے،تورسول اللہ ﷺنے فرمایا:میں تمہیں اللہ عزوجل سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتاہوںاور سمع واطاعت کی بھی، خواہ حبشہ کاغلام ہی تم پر امیر مقررہو،بے شک تم میں سے جو شخص (میرے بعد) زندہ رہاوہ عنقریب بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا،اس وقت تم پر فرض ہوگا کہ میری سنت کے ساتھ چمٹ جانااور خلفائے راشدین جوہدایت یافتہ ہیںکی سنت کے ساتھ بھی،میری سنت کو اپنی داڑھوںکے ساتھ مضبوطی سے دبالینا،اور نئے نئے امور سے بچنا،ہرنیاکام بدعت ہے اور ہربدعت گمراہی ہے۔

اس حدیث کے راوی عرباض بن ساریہ السلمی رضی اللہ عنہ ہیں،جن کی کنیت ابونجیح تھی،ان کا شمار اصحابِ صفہ میں ہوتا تھا،عمرکاآخری حصہ شام میں گزارا،وہیں ۷۵ہجری میں فوت ہوئے،صحابہ کرام میں سے ابورھم اور ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ نے ان سے احادیث روایت فرمائی ہیں ، بعض شامی محدثین نے بھی ان سے احادیث نقل کی ہیں۔رضی اللہ عنہ  وارضاہ.

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا وعظ فرمانا مذکورہے،وعظ ایک شرعی مطلوب ہے،اللہ رب العزت نے (وعظھم) فرماکر نبیﷺ کو وعظ کرنے کا حکم دیا ہے۔وعظ سے مراد ایسی نصیحت ہے جو دل کو نرم کردے،خواہ وہ نصیحت ترغیب کی صورت میں ہو یا ترہیب کی صورت میں۔اللہ تعالیٰ کی یاد دلانا،جنت اور جہنم کا تذکرہ،قبر، قیامت اور بعث ونشور کابیان،وعظ کے اہم عناصرہیں۔

قرآن حکیم کو( موعظۃ)کہاگیاہے،جس کامعنی یہ ہے کہ وعظ کے لئے سب سے مؤثر قرآن حکیم ہے،احادیثِ مبارکہ میںبھی وعظ کے تعلق سے انتہائی اہم ذخیرہ موجودہے،اسی لئے تمام محدثین نے اپنی اپنی کتب میں (رقائق) پر مشتمل ابواب قائم کیے ہیں ،جن میں مرتب انداز سے مواعظ پر مبنی احادیث جمع کی گئی ہیں۔

کچھ لوگ وعظ کے معاملےکو ہلکا قرار دیتے ہیں،اور ایسے خطباء اور واعظین کا مذاق اڑاتے ہیں جو اپنے خطبوں میں جنت وجہنم اور قیامت کے حشرونشر کا ذکر کرتے ہیں،ایسے عناصر کا میڈیاپرغلبہ ہے، ان کا یہ استہزاء ان کے نفاق اور قساوتِ قلبی کامظہرہے،یہ لوگ حق کو نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں،(میں نے ایک وزیر کو اپنے کانوں سے سناوہ موت کامنظر اور اہوالِ قبرنامی کتابوں کا مذاق اڑارہاتھا اور سامنے بیٹھے لوگ ہنس رہے تھے،والعیاذباللہ)

اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:[فَمَا لَہُمْ عَنِ التَّذْكِرَۃِ مُعْرِضِيْنَ۝۴۹ۙ كَاَنَّہُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَۃٌ۝۵۰ۙ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ۝۵۱ۭ بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً۝۵۲ۙ كَلَّا۝۰ۭ بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَۃَ۝۵۳ۭ كَلَّآ اِنَّہٗ تَذْكِرَۃٌ۝۵۴ۚ فَمَنْ شَاۗءَ ذَكَرَہٗ۝۵۵ۭ وَمَا يَذْكُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللہُ۝۰ۭ ہُوَاَہْلُ التَّقْوٰى وَاَہْلُ الْمَغْفِرَۃِ۝۵۶ۧ ](مدثر:۴۹تا۵۶)

ترجمہ:انہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہ نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں ،گویا کہ وہ بِدکے ہوئے گدھے ہیں ،جو شیر سے بھاگے ہوں ،بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دی جائیں ،ہرگز ایسا نہیں (ہوسکتا بلکہ) یہ قیامت سے بے خوف ہیں،سچی بات تو یہ ہے کہ یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے ،اب جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے اور وہ اس وقت نصیحت حاصل کریں گے جب اللہ تعالیٰ چاہے، وہ اسی ﻻئق ہے کہ اس سے ڈریں اور اس ﻻئق بھی کہ وہ بخشے ۔

حدیث میں نصیحت کرنے اور نصیحت سننے کا ادب ومنہج بیان ہوا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺنے انتہائی بلیغ نصیحت ارشاد فرمائی،بلیغ نصیحت سے مراد ایسی نصیحت جو ناصح کے دل سے نکلے اور منصوح کے دل میں گھر کرجائے،رسول اللہ ﷺ کا وعظ ونصیحت ہمیشہ اسی قسم کے درد سے لبریز ہوتاتھا،آپﷺ اپنی ذاتِ اقدس کو امت کا والد باور کرایا کرتے تھے،آپﷺ کی ہمیشہ یہ چاہت ہوتی کہ اپنے سننے والوں کو ان کی پشتوں سے پکڑ کر جہنم سے نکال لیں، یہی وجہ ہے کہ آپﷺ کے وعظ کو سن کر صحابہ کرام اپنے کپڑوں میں منہ چھپاکر رویاکرتے تھے، اس حدیث میں بھی رسول اللہ ﷺ کے وعظ کو سن کر صحابہ کرام کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے خوف کی شدت پیداہونے اور روروکر آنکھوں سے آنسوبہانے کاذکر ہے،یہی نصیحت کرنے اور سننے کا منہج ہے۔

کاش آج ہماری قوم کے واعظین اورسامعین ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اس منہج کا ادراک کرلیں،وعظ ونصیحت تو انبیاء ومرسلین کا مشن تھا،جو کامل سنجیدگی ،متانت ،اخلاصِ قلبی اور خشیتِ الٰہی کا متقاضی ہے۔

لیکن افسوس،صدافسوس!آج اس پاکیزہ اور سنجیدہ مشن کو مذاق اور تمسخر کی بھینٹ چڑھایاجارہاہے،یوں انبیاء ورسل کے اس مقدس طریق کو کچلااور رگیدہ جارہاہے،چوکوں،چوراہوںاور میدانوں میں بری طرح گھسیٹاجارہاہے،یہ مشن کچھ لونڈوں لپاڑوں کو سونپ دیاگیا ہےجو ہنسنے ہنسانے ہی کو اپنے وعظ کی کامیابی تصورکرتےہیں،کچھ واعظین پر ہنسنے ہنسانے کے منہج کی چھاپ لگ چکی ہے،سامعین ان سے یہی کچھ سننا چاہتے ہیں ،گویا نہ توسنانے کا صحیح ذوق موجود ہے نہ سننے کا۔(یالیت قومی یعلمون)

کاش اس قماش کے واعظین اہل حدیث نہ ہوتے،کیونکہ یہ لوگ مسلکِ اہل حدیث کی روشن پیشانی پر بدنماداغ ہیں،اہل حدیث تو ایسے نہیں ہوتے،کیاامام مالک ایسے تھے؟کیا احمد بن حنبل ایسے تھے ؟ کیا امام بخاری ومسلم ایسے تھے؟

امام شافعی رحمہ اللہ توفرمایاکرتے تھےکہ جب کسی اہل حدیث کو دیکھتاہوںتو ایسامحسوس ہوتا ہے جیسے رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیا۔

یہ قول جہاں ہمارے لئے اور مسلکِ اہل حدیث کے لئےسرمایۂ صدافتخار ہے وہاں ہم پر ایک کڑی ذمہ داری بھی عائد کرتاہے،وہ یہ کہ ہم اپنے تمام اطوار واحوال میں اتباعِ سنت کو اپنا شعار بنالیں،ہماری تمام حرکات وسکنات میں نبیﷺ کی سنت کی خوشبورچی بسی ہو،ضروری ہے کہ ایک اہل حدیث عمل بالسنۃ کے حوالے سے ہر غیر اہل حدیث سے متمیز ومتفرد ہو،حقیقت یہ ہے کہ ایک عام اہل حدیث کو بھی سنتِ رسول اللہ ﷺ کا گرویدہ ہوناچاہئے،جبکہ ایک واعظِ قوم کی ذمہ داریاں تو اس سےکہیں زیادہ ہیں؛کیونکہ وعظ وتذکیر تو انبیاء کرام کی اولین سنت قرار پاتی ہے،انبیاء کرام کی بعثت کا بنیادی مقصد وعظ وتذکیر ہی ہے،اس میں تو لازماً ان کے منہج کی اتباع ضروری ہے،اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کا عملی طریق یوں بیان فرمایاہے:[قُلْ ہٰذِہٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللہِ۝۰ۣؔ عَلٰي بَصِيْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ۝۰ۭ وَسُبْحٰنَ اللہِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۝۱۰۸ ](یوسف:۱۰۸)

ترجمہ:آپ کہہ دیجئے میری راہ یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں ۔

رسول اللہ ﷺ کااندازِ وعظ

(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ: «صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ»، وَيَقُولُ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ»، وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ، وَالْوُسْطَى)(صحیح مسلم:867)

جابربن عبداللہالانصاریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہﷺ جب بھی خطبہ ارشاد فرماتے آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آپ کی آواز بلند ہوجاتی،اور آپ کاغصہ شدید ہوجاتا،گویا آپ اپنے سننے والوں کو دشمن کے جلدحملہ آورہونے کی خبردےر ہےہیں اور یہ بتاناچاہ رہےہیں کہ دشمن صبح یا شام تک پہنچنے والاہے،اورآپﷺ فرماتے: مجھے قیامت کے ساتھ یوں ملاکربھیجاگیاہے،اپنی شہادت کی انگلی اوردرمیانی انگلی جوڑ کر دکھایاکرتے،(یعنی قیامت کے جلد وقوع کی خبر دیتے اور لوگوں کو تیاری کرنے کا حکم دیتے)

بھلااس قسم کے اندازِ خطابت میں ہنسی مذاق کا کوئی عمل دخل ممکن نظرآتاہے؟

مسند احمد کی ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ اپنے ایک وعظ کے دوران باربار فرمارہے تھے:

(أنذرتکم النار أنذرتکم النار …)

میں تمہیں آگ سے ڈرارہاہوں،میں تمہیں آگ سے ڈرارہا ہوں، حتی کہ دورانِ خطبہ آپ کے کندھے پر رکھی ہوئی چادر پاؤں کے سامنے گرگئی اور آپ ﷺ وعظ وتذکیر میں اس قدر منہمک تھے کہ گری ہوئی چادر کا ہوش نہ رہا۔(مسند احمد:۴؍۲۶۸)

دوسری طرف وعظ ونصیحت سننا بھی ایک برگزیدہ عمل ہے،جسے شریعت کی بیان کردہ حدود وقیود سے الگ نہیں کیاجاسکتا،قرآن حکیم نے نصیحت سننے کامنہج یوں بیان فرمایاہے:

[اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْہِمْ اٰيٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّہِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۝۲ۚۖ ](الانفال:۲)

بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کردیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔

[اَللہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِيَ۝۰ۤۖ تَــقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ۝۰ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللہِ۝۰ۭ ذٰلِكَ ہُدَى اللہِ يَہْدِيْ بِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ۝۲۳ ](الزمر:۲۳)

اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے، جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں آخر میں ان کے جسم اور دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں، یہ ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت جس کے ذریعہ جسے چاہے راہ راست پر لگا دیتا ہے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ ہی راہ بھلا دے اس کا ہادی کوئی نہیں ۔

[وَاِذَاسَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰٓي اَعْيُنَہُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَـقِّ۝۰ۚ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِيْنَ۝۸۳ ](المائدہ:۸۳)

اور جب وہ رسول کی طرف نازل کردہ (کلام) کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھیں آنسو سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں ۔

بخاری ومسلم کی ایک حدیث کے مطابق،ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز سے فارغ ہوکر منبرپہ کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا جس میں قیامت وعلاماتِ قیامت کا تذکرہ فرمایا،پھرلوگوں سے فرمایا: مجھ سے سوال کرلو،آج تمہارے ہر سوال کا جواب دوں گا۔

آگے حدیث کے الفاظ ہیں:(فأکثر الناس البکاء )

یعنی:اس دن لوگ بہت روئے …الحدیث۔

(صحیح بخاری:93،صحیح مسلم:2359)

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ وعظ فرمارہے ہوتےتو صحابہ کرام کی کیفیت یوں ہوتی گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں،ذراسی حرکت پر اُڑجائیں گے۔

مقصدِ بیان یہ ہے کہ وعظ ونصیحت یا تقریر کا عمل کوئی آسان کام نہیں، یہ تو ہر نبی کا اولین اسوہ ہے،امام الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ نمازی بنائے جانے سے قبل داعی بنائے گئے تھے،نماز،روزہ،زکاۃ،حج اور جہاد وغیرہ کی فرضیت بعثت سے بہت بعد میں نازل ہوئی ،دعوت الی اللہ کو جہادِ کبیر قراردیاگیا ہے،دعوت کے عمل سے ایک شخص کا راہِ راست پر آجانا،دنیابھر سے قیمتی خزانہ ہے،قرآن مجید نے دعوت الی اللہ کو سب سے عمدہ اور بہترین قول قرار دیاہے۔

اگرہم نماز،روزے اور حج وغیرہ میں نبیﷺ کی اتباع ضروری خیال کرتے ہیں تو دعوت الی اللہ میں منہجِ نبوی سے انحراف کی گنجائش کہاں سے پیداکرلیتے ہیں؟جبکہ یہ آپﷺ کا وہ وظیفۂ حیات تھا جسے آپ نے لیلاً ونھاراًانجام دیا،حتی کہ اپنے سفرِ آخرت سے چندگھڑیاں قبل امت کو یہ دعوت دی :

(الصلاۃ الصلاۃ  وماملکت ایمانکم)

میری امت کے لوگو!نمازکاخیال کرنا ،نماز کاخیال کرنا، نیز اپنے غلاموں کے حقوق پورےکرنا۔

 بہرحال دعوت کا عمل انتہائی سنجیدگی،وقار اور متانت کا متقاضی ہے، نیز علمی تمکن اور بصیرت کا پایاجانا بھی ضروری ہے،تاکہ اس بابرکت عمل سےدوررس نتائج وثمرات حاصل ہوتے رہیں اور یہ امت جو فتنوں میں گِھر جانے کی وجہ سے تباہی کے دھانےپر کھڑی ہے ،اپنی عافیت وسعادت کی اصل منزل کا تعین کرسکے۔والتوفیق بیداللہ تعالیٰ۔

 (جاری ہے۔)

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعینِ نووی(حدیث نمبر28)

                              …

جواب دیجئے