Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ اپریل » اہل حدیث وشیعیت میں توافق کااتہام اورحقیقت (قسط نمبر4)

اہل حدیث وشیعیت میں توافق کااتہام اورحقیقت (قسط نمبر4)

ترتیبِ افضلیت صحابہ رضی اللہ عنہم اورغیرمقلدینق

اس عنوان کے تحت غازی پوری صاحب فرماتے ہیں:

’’اہل سنت وجماعت متفق ہیں کہ صحابہ میں سب سے افضل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ان کے بعد سیدنا عمر ان کے بعد سیدناعثمان اور ان کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہم چنانچہ عقیدہ طحاویہ میں مذکور ہے:’’ہم رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے پہلے ابوبکر صدیقtکےلئے خلافت ثابت کرتے ہیں اس لئے کہ وہی پوری امت میں افضیلت اور تقدم رکھتے ہیں۔‘‘

اور شرح عقیدہ طحاویہ میں مذکور ہے:

’’فضیلت میں خلفاءِ راشدین خلافت کی ترتیب پر ہیں‘‘….. جماعت سلفیہ بھی اس مسئلہ میں اہل سنت وجماعت کے ساتھ ہے بلکہ رفض وتشیع کی مخالفت میں یہ مشائخ نجد اوروں سے پیش پیش ہیں، لیکن غیرمقلدین نے بہت سارے دیگرمسائل کی طرح اس مسئلہ میں بھی اہل سنت وجماعت سے الگ اپنی راہ بنائی ہے، نواب وحید الزمان حیدرآبادی لکھتے ہیں۔

(کچھ دیر، ص:269،آئینہ ،ص:218،وقفہ، ص:190)

جواب: الحمدللہ پاک وہند کے اہل حدیث کا بھی یہی عقید ہ ہے، انہوں نے اس معاملہ میں سرے سے کوئی علیحدہ راہ نہیں بنائی، پھر جس شرح عقیدہ طحاویہ کا غازی پوری صاحب حوالہ دے رہے ہیں،الحمدللہ وہ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ کی تالیف ہے جو کہ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کی جانب سے مدارس میں داخل نصاب ہے،البتہ دیوبندیوں کے ’’وفاق المدارس العربیہ‘‘ پاکستان کا اس کے بارے میں جو منفی رویہ ہے اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔اہل حدیث کا عقیدہ ملاحظہ کیجئے:

1شیخ الکل فی الکل سیدنذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’یہ جو کتب عقائد میں مندرج ہے کہ افضل اس امت کے بعد رسول اللہ کے ابوبکر پھر عمر پھرعثمان پھر علی رضی اللہ عنہم  ،یہ امرشرعی ہے اور دلیل اس پر حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہ ہے:’قال کنا نخیر بین الناس فی زمان رسول اللہ ﷺ فخیر ابابکر ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان‘‘(فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگوں کے درمیان فضیلت دیتے تو پہلے ابوبکر کوفضیلت دیتے پھر عمر کو پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کو)(رواہ البخاری :3455)یہ حدیث حکما مرفوع ہے،کما لایخفی علی من لہ ادنی المام العلم الاصول (جیسا کہ علم اصول سےا دنی سی معرفت وفہم رکھنے والے پر بھی مخفی نہیں)(فتاویٰ نذیریہ، مطبوعہ دہلی پرنٹنگ ورکس دہلی ۲؍۶۰۵)

اور غازی پوری صاحب کی کتاب ’’آئینہ ص:۷۱کے مطابق اہل حدیث عقیدہ جاننے کے لیے میاں صاحب کی شہادت کافی ہے، تو یہ انہی کی شہادت ہے۔

2اسی طرح کا فتویٰ حافظ محمدعبداللہ محدث غازی پوری رحمہ اللہ نے بھی دیا ۔(دیکھئے مجموعہ فتاویٰ ص:۴۹تا۵۰مطبوعہ دار ابی الطیب گوجرانوالہ)

3اسی طرح علامہ صدیق حسن خان رحمہ اللہ نے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان فرماتے ہوئے لکھا:

’’وعن عائشۃ قالت: قال رسول اللہ ﷺ :لاینبغی لقوم فیھم ابوبکر أن یؤمھم غیرہ‘‘(رواہ الترمذی) وقال ہذا حدیث حسن غریب، والغریب من أقسام الصحیح وفیہ دلیل علی فضلہ رضی اللہ عنہ فی الدین علی جمیع الصحابۃ ،فکان تقدیمہ فی الخلافۃ ایضا اولی وافضل‘‘

’’سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی قوم کے لئے یہ مناسب نہیں کہ ان کے درمیان ابوبکرtہوں اور ان کی امامت ان کے علاوہ کوئی اور کرے‘‘

اسے ترمذی نے روایت کیا ہے، یہ حدیث حسن غریب اور غریب اقسام صحیح میں سے ہے، اور اس حدیث میں دلیل ہے دین میں تمام صحابہ پر سیدنا ابوبکرصدیق کی فضیلت کیy۔اسی طرح خلافت میں ان کو مقدم کرنا بھی اولیٰ وافضل ہے۔‘‘(الدین الخالص ۳؍۲۷۳،مطبوع دار الکتب العربیہ ،بیروت)

اسی طرح اردوترجمہ کردہ اپنے رسالہ میں فرماتے ہیں:

’’خلفائے اربعہ کی ترتیب وارفضیلت

رسول اللہ ﷺ کےبعد ساری امت سے افضل واکمل آپﷺ کے خاص دوست ،ایمانی بھائی، ہجرت کے ساتھی اور یارغار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  ہیںجو سرورکائنات کی زندگی میں وزیر اورآپﷺ کی وفات کے بعد جانشین اور خلیفہ باتدبیر ہوئے۔ ان کے بعد ابوحفص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مرتبہ ہے جن کے ذریعے اللہ نے ملت اسلام کو عزت اور دینِ حق کو قوت بخشی، پھر عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ  کی فضیلت کادرجہ ہے جنہوں نے قرآن مجید کے متعدد نسخے لکھواکر اطراف واکناف زمین میں بھجوائے اور انصاف واحسان کےساتھ حکومت کی ان کے بعد رسول اللہ ﷺ کے چچازاد بھائی اور داماد ابوالحسن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سارے لوگوں پر فوقیت اور شرف حاصل ہے۔‘‘(سائق العباد الی صحۃ الاعتقاد ،مجموعہ رسائل توحید ۲؍۲۷۱)

ایسے ہی دیگرعلمائے حدیث نے یہی ترتیبِ فضیلت بیان فرمائی ہے لہذا غازی پوری صاحب کا اہل حدیث پر یہ الزام کہ وہ اس کے قائل نہیں اور اپنی الگ راہ بنائی بالکل غلط ہے۔اس سلسلہ میں انہوں نے وحیدالزمان صاحب کی کتاب’’ھدیۃ المھدی‘‘ سے ان کے انفرادی موقف پر جو کچھ لکھا اور ان کے بلکہ اس پورے عنوان کے تحت بس انہی کی اس کتاب کے اقتباسات نقل فرمائے اور اس طرح انفرادی رائے کو جماعتی موقف بنانے کی کوشش کی جوغازی پوری صاحب کے ممدوح محمود عالم اوکاڑوی صاحب کے بقول یہ کام’’کسی دجال کا ہی ہوسکتا ہے‘‘ یہ سخت ترین فتویٰ ہمارا قطعا نہیں بلکہ غازی پوری صاحب کے علم سے بھرے ہوئے اوکاڑوی صاحب کا ہے۔ سچ پوچھیں تو محمود اوکاڑوی صاحب کو اتنا سخت فتوی نہیں لگاناچاہئے ،واللہ اعلم

اس کے بعد غازی پوری صاحب نے لکھا:

’’وحیدالزمان حیدرآبادی لکھتے ہیں:’’رسول اللہ ﷺ کے بعد امام برحق ابوبکرہیں ،پھر عمر، پھر عثمان پھر علی، پھر حسن بن علی (رضی اللہ عنہم) لیکن معلوم نہیںان پانچوں میں کون عنداللہ افضل وارفع رتبہ والاہے، یوں تو سبھی کے مناقب وفضائل وارد ہوئے ہیں لیکن فضائل کی کثرت ہمارے آقا اور ہمارے امام حسن بن علی کو حاصل ہیں کیونکہ ان دونوں حضرات دودوفضیلتیں حاصل ہیں، فضیلت صحابیت اور فضیلت اہل بیت، یہی محققین کا قول ہے۔‘‘   ۱ ؎

پھر اس پر حاشیہ میں تبصرہ کرتے ہوئے غازی پوری صاحب نے فرمایا:’’یہ سلفیت کا ناشربول رہا ہے یا شیعیت کا‘‘

(کچھ دیر، ص:270،آئینہ ،ص:219،وقفہ، ص:191)

جواب:مکررعرضیکہ وحیدالزمان صاحب سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کی امامت وخلافت کو برحق سمجھتے ہوئے یہ بات بیان کررہے ہیں، جس پر غازی پوری صاحب کو شکوہ ہوا، اور ان کے شاگرد رشید نے اس کی یوں ترجمانی کی کہ:’’سلفیت کا ناشربول رہا ہے یاشیعیت کا؟‘‘

حالانکہ سیدنا علیرضی اللہ عنہ کے فضائل کی کثرت ماننے کا شیعیت سے کوئی تعلق نہیں۔

1علامہ سعود بن عمر سعد الدین تفتازانی اپنی مشہور تالیف میں لکھتےہیں:

’’وکان السلف کانوا متوقفین فی تفضیل عثمان حیث جعلوا من علامات اھل السنۃ والجماعۃ تفضیل الشیخین ومحبۃ الختنین والانصاف إن ارید بالأفضلیۃ کثرۃ الثواب فللتوقف جھۃ وإن ارید کثرۃ  ما یعدہ ذؤو العقول من الفضائل ،فلا‘‘

’’اور سلف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی افضیلت میں توقف فرماتے تھے، چنانچہ انہوں نےتفضیل شیخین(ابوبکروعمر) او ردونوں داماد(عثمان وعلی)کی محبت کو اہل السنہ والجماعہ کی علامات میں سے قرار دیا، اور انصاف یہ ہے کہ اگرفضیلت سے ثواب کی کثرت مراد ہو توتوقف کی وجہ ہے اور اگر وہ امور مراد لئے جائیں جن کو اہل دانش فضائل میں شمار کرتے ہیں تو(توقف کی) کی وجہ نہیں‘‘(شرح العقائد:355)

پھر اس کی شرح’’ النبراس ،شرح شرح العقائد‘‘(ص:300، مطبوعہ :مکتبہ حقانیہ ،ملتان)میں علامہ محمد عبدالعزیز الفرھاری نے جو کچھ لکھا اس تفصیل کاخلاصہ:

دس گیارسال تک دارالعلوم دیوبند میں یہ کتاب پڑھانے کے بعد اس کی شرح لکھنے والے مجیب اللہ قاسمی گونڈی صاحب کےقلم سے ملاحظہ کیجئے،لکھتے ہیں:

قولہ: وکان السلف …

اسلاف نے اہل سنت والجماعت کی علامات میں سے دونوں دامادِ رسول سے محبت کو قرار دیا،دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے سے افضل سمجھنے کو ضروری قرار نہیں دیا، اس سے شارح رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات پر استدلال کیا کہ اس مسئلہ میں سلف توقف اور سکوت ہی کو ترجیح دیتے تھے، لیکن شارح رحمۃ اللہ علیہ کا یہ استدلال صحیح نہیں….

شارح کی عبارت پر یہ شبہ ہوتا ہے کہ اوپرکہا ہے:’’علی ہذا وجدنا السلف‘‘یعنی اس ترتیبِ مذکور پر جس میں ابوبکر کو سب سے افضل قرار دیاگیا ہے ہم نے سلف کو پایا ہے اور یہاں کہہ رہے ہیں کہ مسئلہ فضیلت میں سلف توقف اختیا ر کرتے تھے اور یہ صریح تعارض ہے جواب یہ ہے کہ اوپر سلف سے اکثر مراد ہیں اور یہاں بعض مراد ہیں۔

قولہ: والانصاف الخ یعنی اگرا فضیلت سے مراد کثرت ثواب ہے تب تو توقف کی وجہ ہے کیونکہ کثرت ثواب کا علم عقل سے ہو نہیں سکتا، اور نقل(دلیل) وارد نہیں۔ اور اگر ان چیزوں کی زیادتی مراد ہے جنہیں لوگ کمالات سے شمار کرتے ہیں تو توقف کی کوئی وجہ نہیں اس لئے کہ حضرت علی کے کمالات اور ان کی کرامات زیادہ ہیں۔ اس جملہ کی وجہ سے بعض لوگوں نے کہا کہ شارحؒ (علامہ تفتازانی) کے کلام میں شیعیت کی بو آتی ہے۔ بعض محشین نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ حضرت علی tکے فضائل اور مناقب کا اعتراف کرنا شیعت نہیں ہے‘‘(بیان الفوائد فی شرح العقائد :۲؍۲۰۷،قدیمی کتب خانہ کراچی)

غازی پوری صاحب !علامہ تفتازانی صاحب کی اس عبارت پر غور کیجئے ان کے بقول مسئلہ تفضیلِ عثمانtپر آج کل کے لوگ نہیں بلکہ ’’سلف‘‘توقف فرماتے تھے ،یہ مسلم کہ آنجناب کی مراد تمام ’’سلف‘‘ نہیں بلکہ’’بعض سلف‘‘ کا یہ موقف ہے، تو کیا آپ اور آپ کے جمیع ہم نوا ان بعض سلف کو شیعہ قراردیں گے؟یاعلامہ تفتازانی کی تکذیب فرمائیں گے، اس بات سے تو کوئی مفرنہیں کہ اہل السنہ کی اتفاقی ترتیب افضلیت خلفاء راشدین سے ان بعض سلف نے اختلاف کیا کلی نہ سہی لیکن جزوی اختلاف توکیا، اتفاقی واجماعی ترتیب کی مخالفت توکی!!!

اور یہ بھی مسلم کہ علامہ فرھاری اور فاضل دیوبندقاسمی گونڈوی صاحب، استاذدار العلوم دیوبند نے علامہ تفتازانی کے اس استدلال کو تسلیم نہیں کیا بلکہ اہل السنہ کے اجماعی موقف ومنہج کے مطابق صاف کہہ دیا کہ ’’ان کا یہ استدلال صحیح نہیں‘‘ جی ہاں بجافرمایا لیکن اس بات کو تسلیم کیے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں کہ علامہ تفتازانی کا موقف بہرحال یہی تھا جو انہو ں نے بیان کیا۔ توکیا آپ اور آپ کے ہمنوا اپنے علامہ تفتازانی کوبھی اس ترتیب سے جزوی اختلاف کے سبب اہل السنہ کے موقف سے منحرف ناشرشیعیت قراردیں گے؟؟

چال سبھی چلتے ہیں مگر بندہ پرور دیکھ کر

مزید سینئے کہ بات اتنی مختصر بھی نہیں، نہ صرف شارح العقائد النسفیہ علامہ تفتازانی بلکہ استاذ دارالعلوم دیوبند نے بھی یہ تسلیم کیا ہے اور واضح لکھا کہ افضلیت سے مراد اگر عنداللہ کثرت ثواب ہے توتوقف صحیح ہے کیونکہ اس کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی نہ وحیٔ جلی میں نہ وحیٔ خفی میں اور محض عقل سے اس کا فیصلہ ممکن نہیں۔ اوراگر توقف سے مراد وہ چیز ہےجسے کم عقل نہیں بلکہ اہل علم ودانش مناقب،فضائل اور کمالات میں شمارکرتے ہیں ؟توظلم نہیں بلکہ عدل وانصاف کی بات یہی ہے کہ پھر توقف کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں، اور وہ اس حقیقت وصداقت کی وجہ سے کہ سیدنا علیtکے مناقب وفضائل وکمالات زیادہ ہیں۔

اب شارح نے جو عدل وانصاف پر مبنی یہ بات بیان کی توغازی پوری صاحب ’’رئیس المحققین دیوبندیہ‘‘ اور ان کے ہنمواکو بلاوجہ نہ صرف یہ کہ شیعیت محسوس ہوئی بلکہ وحیدالزمان کے حق میں تو صاف صاف اس امر کو ’’نشر شیعیت‘‘ کا نام دے بیٹھے لیکن عبث بالکل عبث چونکہ ان کے اپنے ہی حلقہ کے بعض اہل علم وخدام کتابِ مذکور محشی حضرات نے صاف جواب دیا کہ’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب کا اعتراف کرنا شیعیت نہیں۔‘‘ یاد رہے کہ صرف فضائل ومناقب کے بیان کی نہیں بلکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں زیادہ فضائل ومناقب کی بات چل رہی ہے۔ فلیتنبہ

غازی پوری صاحب!یاد رکھئے گا کہ اس طرح فضائل علیtکی کثرت کے بیان کو شیعیت کا نام دینے سے باز نہیں آئے تو کل کو آپ کی طرح کا کوئی فرد اٹھ کر آپ کی باتوں سے ’’ناصبیت‘‘ کی بوبرآمد کرکے آپ کو ’’ناصبی‘‘ قرار دے بیٹھے گا،الحمدللہ کہ اہل السنہ افراط وتفریط سے یکسر پاک امت وسط ہونے کا حق اداکرتےہوئے عین انصاف واعتدال پر رہتے ہوئے حبِ صحابہ واہل بیت yکے منہج سدید پر قائم ہیں۔

غازی پوری صاحب اپنے ایک اور بزرگ علامہ ملا علی قاری صاحب کا ایک فرمان ملاحظہ کیجئے ،لکھتے ہیں:

’’ثم رأیت الکردری ذکر فی ’’المناقب‘‘ ما نصہ: من اعترف بالخلافۃ والفضیلۃ للخلفاء وقال: أحب علیا اکثر لایؤاخذ بہ ان شاء اللہ تعالیٰ، لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام :ھذا قسمی فیما املک فلاتؤاخذنی فیما لاأملک.‘‘

پھر میں نے دیکھا کہ کردری(محمد بن محمد بن عبدالساتر الحنفی شمس الائمہ) نے’’المناقب‘‘ میںبیان کیا جس کی عبارت یہ ہے:’’جس نے خلفاء کی خلافت وفضیلت کا اعتراف کیا اور کہا: میں سیدنا علیرضی اللہ عنہ سےزیادہ محبت کرتاہوں تو اس پر اللہ اس کامواخذہ نہیں فرمائے گا ان شاء اللہ، نبیuکے اس فرمان کی وجہ سے کہ انہوں نے ازواج مطہرات کی انصاف کے ساتھ باریاں مقرر فرمائیں، اور پھرفرمایا: اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے ان چیزوں میں جو میرے اختیار میںہیں پس جو چیز میرے اختیار میں نہیں(یعنی میلان ورجحانِ قلب) تو اس پر میرا مواخذہ نہ فرمانا۔(شرح الاکبر ،ص:۱۴۵)

(یہ حدیث سنن ابی داؤد:۲۱۳۴،سنن ترمذی: ۱۱۴۰، سنن نسائی: ۳۹۴۳، سنن ابن ماجہ:۱۹۷۱،سنن دارمی:۲۲۵۳، مسنداحمد: ۲۵۱۱ میں ’’فلاتلمنی‘‘ (مجھے ملامت نہ کرنے) کے الفاظ سے مروی ہے)

غازی پوری صاحب!اپنے علامہ ،شمس الائمہ کردری صاحب کی یہ بات دیکھ کر وحیدالزمان حیدرآبادی صاحب کے بیان پر غور کیجئے وہ خلفاء ثلاثہ کو برحق امام مانتے تھے اور ان کے فضائل ومناقب کا بھی اعتراف کرتے ان کوبراکہنے کی مذمت بھی کیاکرتے تھے اور ساتھ ہی یہ کہتے کہ سیدنا علی کے فضائل ومناقب زیادہ ہیں۔ یہ بات توآپ کے بزرگوں کے مطابق قابلِ مواخذہ ہی نہیں۔ لیکن آپ تو ایسی باتیں لیکر صرف انہی کو نہیں بلکہ تمام اہل حدیث کو جن سے وحیدالزمان جیسی باتیں ثابت ہی نہیں، شیعہ رافضی ثابت کرنے چلےہیں، ہم آپ کےلئے بس یہ ادھورا مصرعہ ہی کہیں گے ’’بڑی دور کی سوجھی‘‘!!!

اس کے بعد غازی پوری صاحب نے جو اگلا اقتباس منتخب فرمایا ملاحظہ کیجئے:

’’نواب صاحب عقیدہ اہل سنت کی تردید کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:اکثر اہل سنت وجماعت کہتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد افضل الناس ابوبکرہیں، ان کے بعد عمر ان کے بعد عثمان اور ان کے بعد علی شارع کی جانب سے اس پر کوئی قطعی دلیل نہیں اور نہ کوئی قطعی اجماع ہے، ہاں اجماع ظنی ضرور ہے۔‘‘

(کچھ دیر، ص:270،آئینہ ،ص:219،وقفہ، ص:191)

جواب: اہل حدیث کےہاں اس بات کے اجماع قطعی ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ صحیح بخاری کی(حدیث:۳۴۵۵) جو نذیرحسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کے فتویٰ میں مذکور ہے کہ صحابہyرسول اللہ ﷺ کے بابرکت زمانہ میں اسی ترتیب سے افضلیت دیتے جس طرح اہل السنہ میں شائع ہے۔ لیکن وحیدالزمان صاحب نے’’اجماع ظنی‘‘ قرار دے کر اس سے اختلاف درست سمجھا۔

غازی پوری صاحب! یہ صرف وحیدالزمان حیدرآبادی صاحب کی انفرادیت تو نہیں ان سے صدیوں پہلے آپ کے سعد الدین التفتازانی صاحب بھی ایسا کچھ فرماگئے ہیں ملاحظہ کیجئے:ترتیب افضیلت صحابہ yپر اہل السنہ ہی کا منہج قدیم بیان فرماتےہوئے لکھتےہیں:

’’أما نحن فقد وجدنا دلائل الجانبین متعارضۃ، ولم نجد ہذہ المسئلۃ مما یتعلق بہ شیٔ من الاعمال أو یکون التوقف فیہ مخلا بشیٔ من الواجبات‘‘

’’رہے ہم تو تحقیق ہم نے دونوں جانبوں کے دلائل کو متعارض پایا، اور اس مسئلہ کو ایسا نہیں پایا کہ اس سے کسی عمل کا تعلق ہو اور اس سے توقف(سکوت؍خاموشی) کسی واجب میں مخل ہو‘‘(شرح اعتقاد،ص:354)

اس کی تشریح کرتےہوئے قاسمی گونڈوی صاحب استاذ دار العلوم دیوبند لکھتےہیں:

’’قولہ :أما نحن فوجدنا الخ شارح یہ کہنا چاہتےہیں کہ یہ مسئلہ افضلیت کا ظنی ہے جس کی دلیل اسلاف کے ساتھ حسن ظن ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی دلیل نہ ہوتی تو فضیلت کی ترتیب نہ بیان کرتے، اگر ہم ان اسلاف کے ساتھ حسن ظن کی بنیاد پر ان کی تقلید نہ کرتے تو اس بارے میں سکوت اور توقف ہی افضل تھا، ایک تو اس لیے کہ اس بارے میں شیعہ اور اہل سنت کے دلائل متعارض ہیں اس لئے کسی کی بات کا یقین نہیں کیاجاسکتا۔ دوم اس لئے کہ یہ مسئلہ اعتقادی ہے عملی نہیں ہے۔ اور عملیات میں توظن پر اکتفاء جائز ہے اعتقادات میں ظن کافی نہیں ہے بلکہ یقین مطلوب ہے۔ سوم اس لئے کہ اس بارے میں توقف اور سکوت کسی واجب شرعی میں مخل نہیں۔ لیکن شارح کی پیش کردہ مذکورہ توجیہات ضعیف ہیں ۔(بیان الفوائد ،حصہ دوم،ص:۲۰۶،۲۰۷)

غازی پوری صاحب اب ذرا اس عبارت پر بھی غور کیجئے گا ،قاسمی صاحب کی اس تشریح کے مطابق آپ کے ہاں تو یہ مسئلہ ’’تقلیدی ٹھہرا‘‘ اور اصول مقلدین ہی کے مطابق مسائلِ منصوصہ اور عقائد تقلید جائز نہیں۔ چونکہ سرفراز صاحب شیخ الحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گجرانوالہ نے لکھا:

’’قرآن وحدیث اور اجماع کے دلائل کی موجودگی میں یا ان کے مقابلہ میں تقلید حرام ناجائز مذموم او ربدعت ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہےلیکن اگر کسی مسئلہ کی ان میں صراحت موجود نہ ہو تو ایسےموقع پر کسی مجتہد کی تقلید جائز ہے۔‘‘(الکلام المفید،ص:۲۳)

جب آپ کے عقیدہ کی اہم وبنیادی کتاب میں یہ مسئلہ ’’ترتیب افضلیت صحابہ‘‘ تقلید پرمبنی ہے تو مطلب قرآن،حدیث اور اجماع میں اس کی صراحت نہیں۔ اگر آپ کہیں کہ صراحت ہے تو اس کے باوجود آپ کے ہاں مسئلہ تقلیدی ہے تو اپنے اصول بالاکے مطابق آپ لوگ حرام،ناجائز،بدعت اور ایسے مذموم کام کے مرتکب ہوئے کہ جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

مزید سنئے آپ کے ممدوح اور وکیل احناف ماسٹرامین اوکاڑوی نےلکھا:

’’صرف مسائل اجتہادیہ میں تقلید کی جاتی ہے‘‘

(مضمون:تحقیق مسئلہ تقید ،مجموعہ رسائل ۱؍۱۹)

تو اس اصول کے مطابق آپ کےہاں یہ ایک اجتہادی مسئلہ ٹھہرا، غازی پوری صاحب خود ہی سوچئے ایک اجتہادی مسئلہ کو لے کر فریق مخالف کو شیعہ رافضی بناڈالنا کہاں کاانصاف ہے؟ اور سنئے بقول قاسمی گونڈوی،استاذِ عقیدہ دار العلوم دیوبند ،علامہ تفتازانی اشعری ماتریدی کے نزدیک ’’ترتیب افضلیتِ صحابہyکامسئلہ ایک ’’ظنی مسئلہ‘‘ ہے اور اس کی تین وجوہ انہوں نے اپنی اس شرح میں بیان کی ہیں:

پہلی وجہ:کہ اس مسئلہ میں اہل السنہ اور شیعہ کے دلائل باہم متعارض ہیں۔

دوسری وجہ:اس مسئلہ عقیدہ کا ہے اس میں ظن کافی نہیں بلکہ یقین (قطعی دلیل) مطلوب ہے۔

تیسری وجہ:اس مسئلہ میں سکوت؍خاموشی اختیار کرنا کسی واجب شرعی میں مخل نہیں۔

جی ہاں ہمیں معلوم ہے اور ہم نے نقل میں خیانت نہیں کہ بلکہ قاسمی صاحب کی یہ عبارت بھی نقل کردی کہ شارح (علامہ تفتارانی) کی بیان کردہ یہ توجیہات ضعیف مطلب کمزور ہیں۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ توجیہات واقعی کمزور ہیں لیکن اس میں تو شک وشبہ یاانکار کی کوئی ضرورت نہیں کہ تفتازانی کے خیالات کچھ ایسے ہی ہیں وہ اس مسئلہ کو ’’ظنی مسئلہ‘‘ ہی سمجھتے تھے اور یہ بھی کہ اس مسئلہ کی ان کے نزدیک کوئی قطعی دلیل نہیں تھی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ میں وحیدالزمان حیدرآبادی صاحب انہی سے متاثرہوئے۔ چونکہ انہوں نے نہ صرف کے یہ کتاب پڑھی بلکہ وہ اس کے خدمت گاروں میںبھی شامل ہیں۔ چنانچہ دیوبندیہ کے’’المحدث الکبیر‘‘ مولانا عبدالحلیم چشتی صاحب نے مولانا وحیدالزمان کی تالیفات کا تعارف کراتے ہوئے لکھا:

’’احسن الفوائد فی تخریج احادیث شرح العقائد.یہ رسالہ عربی ز بان میں ہے، اور بڑی تقطیع کے16صفحات پر مشتمل ہے،۱۲۸۷ھ میں مطبع علوی سے شائع ہوگیا ہے، اس رسالہ میں علم العقائد کی مشہور کتاب شرح العقائد النسفیہ کی حدیثوں کی تخریج کی گئی، موصوف نےیہ رسالہ تعلیم سےفراغت کےبعد۱۲۸۲ھ میں کانپور میں تالیف کیاتھا۔

(حیات وحیدالزمان،ص:۱۱۹،میر محمد کتب خانہ کراچی)

مزیدفرماتے ہیں:

’’رسالہ دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ تالیف رسالہ کے زمانہ میں ملا علی قاری (المتوفی ۱۰۱۴ھ)کی کتاب ’’فرائد القلائد وغرر الفوائد علی شرح العقائد‘‘ موصوف کے پیش نظر رہی ہے اور آپ نے اس سےپورا پورا فائدہ اٹھایا….جن حدیثوں کی تخریج ملاعلی سے رہ گئی تھی آپ نے اس قسم کی بیشتر احادیث کی نشاندہی کی اور بتایا کہ یہ حدیث، حدیث کی فلاں فلاں کتاب میں ہے….مولانا وحیدالزمان نے اس رسالہ میں احادیث کی تخریج ہی پر اکتفانہیںکیا بلکہ اگر درمیانِ سند میں کوئی متکلم فیہ رجال (راوی) آگئے تو ان پر کلام کیا ہے‘‘

(حوالہ بالا،ص:۱۲۰)

معلوم ہوتا ہے کہ خوب محنت کی اس کتا ب پر اور پھر مؤلف علامہ تفتازانی سے اس رائے پر اتفاق بھی کرگئے وحیدالزمان صاحب اور کہہ دیا کہ یہ ترتیب افضلیت کا مسئلہ ظنی ہے۔ غازی پوری صاحب اہل حدیث تو ان کی کتاب’’ھدیۃ المھدی‘‘ سے اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کرچکے اور داخل نصاب تو کیاکرتے اس کی اشاعت تک نہیں کرتے لیکن اس کے برعکس ’’شرح العقائد النسفیہ‘‘آپ کے ہاں سبقا سبقا پڑھائی جاتی ہے ،مدارس میں داخل نصاب اور آپ نے بھی اسی طرح پڑھی ہوگی لیکن لگتا ہے محنت وتوجہ سےنہیں پڑھی یاوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پڑھاپڑھایا سب بھولابسراکربیٹھے تھے ،وگرنہ توظنی کہنے والی بات خود آپ کے گھر سے بھی کی گئی۔

اپنے گھر سے بے خبر یا تجاھل عارفانہ فرماتے ہوئے غازی پوری صاحب نےلکھا:

’’ایک جگہ خالص شیعوں کی زبان میںکہتےہیں :’’تعجب کی بات یہ ہے کہ ترجیح اور فضیلت دینے والے ان لوگوں نے تو پہلے خود یہ اصول طے کیا ہے کہ عقائد کے باب میں ظنیات کااعتبار نہیں اور پھر خود اس مسئلہ میں اس اصول کوتوڑ کر ضعیف اور موقوف آثار وروایات سے استدلال کرتےہیں۔(کچھ دیر، ص:271،آئینہ ،ص:220،وقفہ، ص:192)

جواب: غازی پوری صاحب!آپ کی ’’وقفہ ‘‘ کے مطابق اگر یہ ’’تمادی،تجاوز اورخالص شیعہ کی زبان‘‘ہے،مطلب ترتیب افضلیت کے مسئلہ کو کسی غلط فہمی کی بناء پر ظنی کہہ دینا، توگزشتہ تفصیل کے مطابق آپ کے ہاں رائج وزیرتدریس کتاب’’شرح العقائد‘‘ کے مؤلف تفتازانی بھی آپ کی اس مبالغہ آمیزی کے مطابق’’تمادی،تجاوزاور خالص شیعیت کی بولی بولنے والے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر وحیدالزمان پرزیادتی کیوں؟ اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ دلائل کی رو سے ان کی یہ توجیہات ضعیف ہیں۔ جیسے قاسمی گونڈوی صاحب نے تفتازانی صاحب کی اسی رائے کے متعلق کہا۔

قطعی وظنی کی بابت وحیدالزمان صاحب کی ایک اور عبارت نقل کرنےکے بعد فرماتے ہیں:

’’یہ نواب حیدرآباداپنی تائید میں نواب بھوپال کا قول پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ہمارے اصحاب میں سے سید(نواب صدیق حسن خان) صاحب فرماتے ہیں:ان میں سے کسی کی افضلیت کا یہ معنی نہیں کہ وہ من کل الوجوہ افضلیت کاحامل ہے۔‘‘

(کچھ دیر، ص:271،آئینہ ،ص:220،وقفہ، ص:192)

جواب:غازی پوری صاحب تعصب میں اپنی سوچ سمجھ وفہم کو شاید تعطیل پر بھیج چکے تھے جب یہ سب کچھ تحریر فرمارہےتھے آخر اس میں ایسی کیا بات ہے جو نقل وعقل کے خلاف ہو یا شیعیت کے ساتھ موافقت رکھتی ہو،سفروحضر اورغار میں رسول اللہ ﷺ کی قربت وخدمت کوئی فضیلت کی بات نہیں؟یہ فضیلت سیدناعمرفاروق، سیدناعثمان، سیدناعلی yکوتوحاصل نہیں تھی۔کیا کسی کی آراء کی تائید میں وحی کانزول آپ کے نزدیک کوئی فضیلت والی بات نہیںجوسیدناعمرکوحاصل تھی لیکن سیدنا ابوبکر،سیدناعثمان وعلیyکوتوحاصل نہ ہوئی۔کیاناشرالقرآن ،اور رسول اللہﷺ کی یکے بعد دیگردوصاحبزادیوں کا شوہرہونا باعث فضیلت نہیں؟ لیکن یہ فضیلت دیگرتین خلفاء کوحاصل نہیں تھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے علاوہ،کیاحالتِ ایمان میں رسول اللہ ﷺ کاعم زاد ہونا اور یہ قرابتِ نبی کوئی فضیلت کی بات نہیں؟ یقیناً ہے لیکن دیگر تین خلفاء کے بجائےیہ فضیلت سیدناعلی رضی اللہ عنہ کو ہی حاصل تھی۔ یہ چند ایک مثالیں اس بات کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ کسی کی افضیلت کامطلب یہ نہیں کہ افضیلت من کل الوجوہ ہو۔ حیرت ہے غازی پوری صاحب پر کہنے کو تو دیوبندیہ کے’’رئیس المحققین‘‘و’’مفکراسلام‘‘ہیں پرغور وفکر وتحقیق نام کی کوئی چیز ان کی تحریروں میں نظرنہیںآتی۔ایسی بچگانہ باتیں بے سمجھے بوجھےکہہ دیتے ہیں، الغرض علامہ صدیق حسن رضی اللہ عنہ کی اس بات میں ایسی کوئی چیز نہیں جسے’’شیعہ کی موافقت‘‘ کی مثال ودعویٰ کے حق میں پیش کیاجاسکے الایہ کہ کوئی تعصب وعداوت میں حد سے بڑھ جائے اور صحیح وغلط کی تمیز بھی بھلابیٹھے۔

اس کے بعد مسئلہ زیربحث میں اجماع سے متعلق وحیدالزمان صاحب کی غلط فہمی پرمبنی ایک عبارت پیش کی (جس پر پہلے ہی کافی بحث ہوچکی) پھر غازی پوری صاحب نے فرمایا:

’’خلفاء راشدین کی افضلیت کے بارے میں یہ ہے غیرمقلدین کاعقیدہ!جوشیعوں کے عقیدہ سےکچھ زیادہ مختلف نہیں ہے، میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے سلفی بھائی،اس عقیدہ پر اپنی پسندیدگی ظاہرکرکے غیر مقلدین کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرلیںگے کیا وہ ان چالبازوں کی حقیقت جانناچاہیں گے….کب تک غیرمقلدین کے اس جھوٹے پروپیگنڈے کے زیردام رہیں گے کہ وہ اہل سنت والجماعت ہیں۔‘‘

(کچھ دیر، ص:271،آئینہ ،ص:221،وقفہ، ص:192)

جواب:غازی پوری صاحب!آپ نےصرف وحید الزمان صاحب کی عبارات پیش کی ہیں اور ان کو بھی سیاق وسباق سے ہٹاکر کتربیونت وخیانت کے مرتکب ہوتے ہوئے پیش کیا،چالبازیوں اور جھوٹے پراپیگنڈہ کاجوباطل الزام پوری جماعت اہل حدیث پر لگایا درحقیقت ان حرکاتِ شنیعہ کے مرتکب بذات خود آپ اور آپ کےہمنوا ہیں، اور آپ کے جھوٹے پراپیگنڈے پر مبنی ان تالیفات کی نشرواشاعت میں مگن ہیں، اگر یہ باتیں آپ نے پیش کی ہیں شیعوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں توپھر ایسی باتیں مطلب ظنی قراردینا توآپ کے علامہ تفتازانی سے بھی ثابت ہیں پھر ان پربھی آپ کا یہ فتوی لوٹے گا۔رہااہل حدیث کا اہل السنۃ ہونا تو آپ لاکھ انکار کریں آپ کے بزرگ اس حقیقت کو تسلیم کرچکےہیں، جن کے حوالے ہم پہلے نقل کرآئے ہیں۔

About ابوالاسجد محمد صدیق رضا

Check Also

المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ(قسط 3)

قسط نمبر: 3 صوفیاء کی باتیں پیش نہ کریں (۲۴) گھمن :’’ہم نے بہت سی …

جواب دیجئے