Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ اپریل » مسجداقصیٰ بیت المقدس کی فضیلت

مسجداقصیٰ بیت المقدس کی فضیلت

زمانہ قدیم میں جس علاقے کو’’شام‘‘ کہاجاتاتھا، وہ لبنان ،فلسطین، اردن اور شام کی سرزمین پر مشتمل تھا،احادیث میں جس کی فضیلت ذکر فرمائی گئی ہے، اس سرزمین کو یہ اعزازحاصل ہے کہ یہاں کثرت سے انبیاء کرام کومبعوث فرمایاگیا،نیزدیگر کئی علاقوں سے انبیاء کرام نے ہجرت فرماکر اس علاقے کو اپنامسکن بنایا، جن میں سے چند یہ ہیں:

سیدناابراھیم، سیدنااسحاق،سیدنایعقوب، سیدنا یوشع o،سیدنا موسیٰuنے تو اس سرزمین(بیت المقدس)پر اپنی موت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعافرمائی تھی۔(صحیح بخاری:۱۳۳۹)سیدنا داؤد،سیدنا سلیمان،سیدنازکریا،سیدنالوط،سیدنا یحیٰ، سیدناعیسیٰ o ،یہودیوں نے سیدنا عیسیٰuکے قتل کی سازشیں کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھالیا،اور ان کا دوبارہ نزول اسی سرزمین پر ہوگا۔محمدرسول اللہ ﷺ کی پیدائش اور بعثت اگرچہ مکہ میں ہوئی لیکن معراج کے موقعہ پر آپﷺ کو اس مقدس سرزمین یعنی مسجداقصیٰ (بیت المقدس) کی سیر کرائی گئی جہاںآپﷺ نے تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی اور معراج کی ابتداء یہیں بیت المقدس (مسجد اقصیٰ) سےہی ہوئی۔

مندرجہ ذیل آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی بابرکت زمین کاذکر فرمایا ہے۔

بابرکت ،مقدس اور پاک سرزمین

(۱)[سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِہٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِيَہٗ مِنْ اٰيٰتِنَا۝۰ۭ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ۝۱](بنی اسرائیل:۱)

اس اللہ کی ذات پاک ہے جو اپنے بندے(محمدﷺ) کو ایک ہی رات میں مسجد حرام سےمسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس (بھی) ہم نے(بڑی) برکت رکھی ہے تاکہ ہم اپنے بندے محمدﷺ کو اپنی بعض نشانیاں دکھائیں بلاشبہ وہ اللہ سننے والا،دیکھنے والاہے۔

نوٹ:اقصیٰ کا معنی دوردراز کاہے چونکہ مسجد اقصیٰ مسجد الحرام اور (مسجد نبوی) سے کافی دور ہے اس لئے اسے یہ نام دیاگیا ۔(تفسیر قرطبی ۱۰؍۲۱۷)

(۲)[وَنَجَّيْنٰہُ وَلُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا لِلْعٰلَمِيْنَ۝۷۱ ](الانبیاء:۷۱)

اور ہم ابراھیم اور لوط(i)کو ان (ظالموں) سے نجات دے کر ایسی زمین کی طرف لے کر آئے جس میں ہم نے جہان والوں کیلئے برکتیں کی ہیں۔

امام ابن کثیررحمہ اللہ آیت کی تفسیر میں لکھتےہیں :

مھاجرا الی بلاد الشام الی الارض المقدسۃ منھا.

یعنی اللہ تعالیٰ نے ابراھیمuکو بلادشام میں مقدس سرزمین (بیت المقدس) کی طرف ہجرت کاحکم دیا۔

(۳)موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کوحکم دیا:

[يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِيْ كَتَبَ اللہُ لَكُمْ] (المائدہ:۲۱)

اےمیری قوم!اس مقدس(پاک) سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے۔

یعنی یہ مقدس سرزمین موسیٰuکو ماننے والے ایمان لانے والے، ادب واحترام کرنے والے لوگوں کیلئے ہے نہ کہ ان کیلئے جو بہت بڑے فتنہ گر،عہد شکنی کرنے والے،آسمانی کتب میں تحریف کرنے والے، حق کو چھپانے والےاور، انبیاء کی جماعت کے قاتل ہیں ۔

اسی طرح آیت:[وَاِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا ھٰذِہِ الْقَرْيَۃَ ]

(البقرہ:۵۸)

[اسْكُنُوْا ہٰذِہِ الْقَرْيَۃَ](الاعراف:۱۶۱)

میں بھی بیت المقدس کا ذکرکیاگیاہے۔(تفسیرابن کثیر)

(۴)[وَلِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ عَاصِفَۃً تَجْرِيْ بِاَمْرِہٖٓ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا۝۰ۭ ](الانبیاء:۸۱)

اورسلیمان(علیہ السلام)کیلئے ہم نے تندوتیزہوا کوبھی تابع بنادیاتھا جو ان کے حکم سے اس سرزمین(شام) کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی تھی۔

تفسیر طبری میں ہے:الارض التی بارکنا فیھا ،یعنی الی الشام.

یعنی: اس بابرکت سرزمین سے مراد شام ہے۔

اسی طرح آیت:[وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا۝۰ۭ ](الاعراف:۱۳۷)

سے مفسرین نےیہی سرزمین مراد لی ہے۔

(۶)کئی مفسرین آیت:[وَجَعَلْنَا بَيْنَہُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا قُرًى ظَاہِرَۃً ](سبا:۱۸)

میں مذکور بستیوں سےشام کی بستیاں مراد لیتے ہیں۔(ابن کثیر، طبری)

(۷)[وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّہٗٓ اٰيَۃً وَّاٰوَيْنٰہُمَآ اِلٰى رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيْنٍ۝۵۰ۧ ](المؤمنون:۵۰)

اور ہم نے مریم کے بیٹے(عیسیٰu)اور ان کی والدہ کو(اپنی قدرت کی) ایک نشانی بنادیااورا نہیں ایک ایسے ٹیلے (بلندمقام) پر جگہ دی جوپرسکون ،قابل اطمئنان اور چشمے والاتھا۔

حافظ ابن کثیررحمہ اللہ نے اس کو ترجیح دی ہےکہ اس بلند جگہ یاٹیلے سےمراد بیت المقدس ہے۔

(۸)[وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ۝۱ۙ ](التین:۱)

یہاں اللہ تعالیٰ نے انجیر اور زیتون کی قسم کھائی ہے،حافظ ابن کثیررحمہ اللہ نے’’والزیتون‘‘ کی تفسیر میں قتادہ،ابن زید اور کعب الاحبار کا یہ قول نقل کیاہے :

ھو مسجد بیت المقدس .

یعنی زیتون سے مراد بیت المقدس یعنی مسجد اقصیٰ ہے۔

(۹)اسی طرح آیت:ـ[وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَـمَا دَخَلُوْہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ](بنی اسرائیل:۷)میں جس مسجد کا ذکر فرمایاگیا ہے وہ بیت المقدس ہے۔(تفسیر ابن کثیر)

(۱۰)[وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ۝۴۱ۙ] (ق:۴۱)

میں قریبی مکان سے مراد بیت المقدس ہے۔(تفسیر ا بن کثیر)

کائنات ارضی پر دوسراگھر

سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا یارسول اللہ! کرۂ ارض پر سب سے پہلی مسجد کونسی تعمیر کی گئی؟آپﷺ نے فرمایا: مسجدالحرام، پھرعرض کیا دوسری کونسی مسجد تعمیر ہوئی؟ آپﷺ نے فرمایا:مسجدالاقصیٰ ،انہوں نے سوال کیا ان دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟آپﷺ نے فرمایا:چالیس سال۔

(صحیح بخاری:۳۳۶۶،مسلم:۵۲۰)

اللہ تعالیٰ کافرمان:[اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّۃَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ۝۹۶ۚ ](آل عمران:۹۶)

یعنی سب سے پہلاگھر جولوگوں کی عبادت کےلئے بنایاگیا وہ بابرکت گھر مکہ میں ہے۔

[وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ۝۰ۭ]

(البقرہ:۱۲۷)

یعنی ابراھیم اور اسماعیلiنےبیت اللہ کی بنیادیں اٹھائیں ۔

داؤدعلیہ السلام نے بیت المقدس کی تعمیر شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ بقیہ تعمیر سلیمانuکریں گے۔(طبرانی بحوالہ فتح الباری، تحت حدیث:۳۳۶۶)

جب سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس کی تعمیر شروع کی تواللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں۔(نسائی:۳۳۶۶)

لیکن ان نصوص سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ بیت اللہ اور بیت المقدس کی ابتدائی تعمیر کس نے فرمائی؟

بالفرض مندرجہ بالہ تعمیرات کو ابتدائی تعمیر قرار دیاجائے تو اوپرصحیح بخاری والی چالیس سال کےعرصے والی روایت کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ ابراھیم واسماعیلiاور داؤد وسلیمانiکے درمیان تو ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے، لامحالہ تسلیم کرناپڑے گا کہ ان کی یہ تعمیر ابتدائی تعمیر نہیں ہے بلکہ بعد کی کوئی تعمیر ہی ہوسکتی ہے، چنانچہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ نےایسی روایات واقوال نقل کئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں مقدس مقامات بیت اللہ اوربیت المقدس کی تعمیرآدمعلیہ السلام نے فرمائی تھی اور آدمuکی اس تعمیر کا درمیانی عرصہ چالیس سال تھا، جب بیت المقدس کی تعمیر سلیمانی پہلی تعمیر ہی نہیں ہے تویہودیوں کا ہیکل سلیمانی اور تولیت اقصیٰ کا دعویٰ پاش پاش ہوکر رہ جاتاہے مگر یہ بات توقطعی طور پرثابت ہے کہ یہ مقامات مقدسہ بیت اللہ، بیت المقدس اور مسجد نبوی انبیاء کرام کی میراث ہیں اور انبیاء کرام کے حقیقی وارث ہی ان مقامات کے وارث ومتولی ہیں ،اورانبیاء کے حقیقی وارث صرف مسلمان ہی ہیں۔

فتح کی بشارت

عوف بن مالک tکی ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

اعدد ستا بین یدی الساعۃ موتی ثم فتح بیت المقدس .(صحیح بخاری:۳۱۷۶)

قیامت کی چھ نشانیاں شمار کرلو،ایک میری موت اور پھر بیت المقدس کی فتح….

مسلمانوں کا قبلہ سابقہ

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ سولہ یاسترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نمازیں ادافرماتے رہے اس کے بعد بیت اللہ کی طرف رُخ کرنے کا حکم دیاگیا۔(صحیح بخاری:۷۲۵۲،۳۹۹،۴۴۹۲،صحیح مسلم:۵۲۵)

زیادہ ثواب کی امید سے مسجد اقصیٰ کی طرف سفرکاجواز

سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین مساجد کے علاوہ کسی جگہ کا(زیادہ ثواب اور برکت کی نیت سے خاص) قصد کر کے سفر کرناجائز نہیں ہے، (۱)مسجد الحرام(۲)مسجد الرسول(نبوی)(۳) مسجد الاقصیٰ ۔

(صحیح بخاری:۱۱۸۹،صحیح مسلم:۱۳۹۷)

سرزمین اسراء ومعراج

نبی کریم ﷺ کے عظیم الشان معجزہ اسراء ومعراج کے موقعہ پر آپﷺ کومسجد الحرام سے براق(ایک جانور) پرسوار کیا گیا جس پر آپ بیت المقدس مسجد اقصیٰ میں تشریف لائے،وہیں آپﷺ نے دودھ کے برتن کواختیار فرمایا،جبرئیل علیہ السلام نے کہا:اخترت الفطرۃ.آپ نے فطرت کو اختیار کیا وہیں بیت المقدس سے ہی آسمان کی طرف معراج کاآغاز ہوا جیسا کہ سیدناانس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مروی ہے۔

(صحیح مسلم:۱۶۲)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے(مکہ سے بیت المقدس کی طرف اسراء کے لئے لے جانے کی یہ حکمت)ذکرکی ہے کہ مکہ سے اسلام کی ابتداء،بعثت ومخرج ہے اور دین اسلام کا کمال ظہور اور اتمام مہدی(اور عیسیٰ علیہ السلام)کے ہاتھوں شام کے علاقے سے ہوگا۔

(مناقب الشام واھلھا،ص:۱،۲)

مسجد اقصیٰ میں امام الانبیاء کی امامت

بیت المقدس مسجد اقصیٰ میں امام الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ نے تمام انبیاء کرامoکی امامت فرمائی۔(صحیح مسلم:۱۷۲)میں ہے:

فحانت الصلاۃ فاممتھم.

یعنی جب نماز کا وقت ہوا تو میں نےانبیاء کی امامت کی۔

مسند احمد:۲۳۲۴میں ہے :

فاذا النبیون اجمعون یصلون معہ.

یعنی تمام انبیاء نے آپﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔

(الاسراء والمعراج للالبانی رحمہ اللہ ،ص:۱۴-۲۷)

زمین کی پشت پر مسجد اقصیٰ وہ واحد جگہ ہے جس میں ایک ہی وقت میں تمام انبیاء کرامoکا اجتماع ہوا ا ور باجماعت نماز ادا فرمائی، یہ اعزاز کسی اور جگہ کو حاصل نہیں ہے۔

بیت المقدس میں نماز کی فضیلت

سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہی مجلس میں آپس میں اس بات پر گفتگو کی کہ بیت المقدس کی مسجد(اقصیٰ) زیادہ افضل ہے یارسول اللہ ﷺ کی مسجد(نبوی)؟تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میر ی اس مسجد(نبوی) میں ایک نماز (اجروثواب کے اعتبار سے)اس (بیت المقدس ،مسجداقصیٰ) میں چار نمازوں سے زیادہ افضل ہے اور وہ( مسجداقصیٰ) نماز پڑھنے کی بہترین جگہ ہے :ولنعم المصلٰی ہو،عنقریب ایسا وقت بھی آنیوالا ہے کہ ایک آدمی کے پاس گھوڑے کی رسی کے بقدرزمین کاایک ٹکڑا ہو جہاں سے وہ بیت المقدس کی زیارت کرسکے (اس کے لئے بیت المقدس کو ایک نظر دیکھ لینا)پوری دنیا یا فرمایا دنیاومافیھا سے زیادہ افضل ہوگا۔

(مستدرک حاکم:۸۵۵۳،صححہ ووافقہ الذھبی، السلسلۃ الصحیحۃ تحت حدیث:۲۹۰۲،طبرانی اوسط:۶۹۸۳،۸۲۳۰،شعب الایمان :۳۸۴۹،صحیح الترغیب:۱۱۷۹)

نیز مسجد نبوی میں ایک نماز کاثواب ایک ہزار(۱۰۰۰) نمازوں کے برابرہے۔(بخاری:۱۱۹۰،مسلم:۱۳۹۴)

مندرجہ بالادونوں حدیثوں کاحاصل نتیجہ یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ میں ایک نماز کااجروثواب دوپچاس (۲۵۰)نمازوں کے برابرہے۔

مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کے اجروثواب کے بارے میں مندرجہ بالہ حدیث کے علاوہ اکثروبیشتر روایات غیرثابت وضعیف ہیں، تفصیل کیلئے دیکھیں:(السلسلۃ الضعیفۃ:۵۳۵۵،الارواء الغلیل:۱۱۳۰)

یاد رہے کہ مسجد الحرام میں ایک نماز ایک لاکھ نمازوںکے برابر ہے۔(ابن ماجہ :۱۴۰۶)

مستدرک حاکم کی حدیث سے بھی یہ معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے دلوں میں مسجد اقصیٰ کی محبت بھری ہوئی ہے اسے کوئی نہیں نکال سکتا، لیکن اس کی زیارت کے سلسلے میں مزیدمصائب وآلام کا شکار ہونا ممکن ہے،واللہ اعلم

مسجد اقصیٰ میں نماز گناہوں کی معافی کا سبب

سیدناعبداللہ بن عمروwبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ :جب سلیمان بن داؤد(i)بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں:(۱)یا اللہ!میرے فیصلے تیرے فیصـلے کے مطابق (درست)ہوں۔(۲)یا اللہ!مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو ایسی حکومت نہ ملے(۳)یااللہ! جو آدمی اس مسجد (بیت المقدس)میں صرف نماز پڑھنے کے ارادے سے آئے وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے جیسے وہ اس دن گناہوں سے پاک تھا جب اس کی ماں نے اسے جناتھا۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سلیمان(u)کی پہلی دودعائیں تو قبول فرمالی ہیں(کہ ان کا ذکر توقرآن مجید میں موجود ہے)مجھے امید ہے کہ ان کی تیسری دعا بھی قبول کرلی گئی ہوگی۔(سنن ابن ماجہ :۱۴۰۸،سنن نسائی:۶۹۳)

کیا مسجد اقصیٰ حرم ہے؟

کئی لوگ مسجد اقصیٰ کو ثالث الحرم یعنی مسجد الحرام،مسجد نبوی کے ساتھ تیسرا حرم کہتے ہیں جو کہ قرآن وحدیث کے دلائل سےثابت نہیں ہے، حرم کے خاص احکامات ہیں کہ وہاں شکار نہ کیاجائے،درخت نہ کاٹے جائیں وغیرہ، بلاشبہ مسجد الاقصیٰ بیت المقدس پاکیزہ گھر،انتہائی بابرکت، انبیاء کا ماوی ومسکن ہے،لیکن قرآن وحدیث میں کہیں اسے حرم قرار نہیں دیاگیا،حرم صرف مکہ ومدینہ ہی ہیں۔(دیکھئے:اقتضاء الصراط المستقیم لشیخ الاسلام ابن تیمیہ،ص:۴۳۴،مجموع الفتاویٰ ۲۷؍۱۴،۱۵۔۲۶؍۱۱۷)

سرزمین شام،فلسطین،بیت المقدس اور قرب قیامت

قیامت سے قبل فتنوں کے ادوار میں ان علاقوں خصوصاً شام (بیت المقدس) میں رہائش اختیار کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔

(جامع ترمذی:۲۲۱۷)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری والدہ نے خواب دیکھاتھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔(مستدرک حاکم:۳۵۶۶،صححہ ووافقہ الذھبی، ابن حبان:۶۴۰۴، الصحیحۃ: ۳۷۳،۱۹۲۵)

vقرب قیامت جب فتنے بکثرت ہونگے تو ایمان اور اہل ایمان (زیادہ تر) شام کے علاقوں میں ہی ہونگے۔

(مستدرک حاکم:۸۵۵۴،۸۴۱۳)

شام کیلئے خوشخبری ہے اللہ کے فرشتوں نے اس پر(حفاظت کیلئے) اپنے پرپھلارکھے ہونگے۔

(جامع ترمذی،۳۹۵۴،الصحیحۃ:۵۰۳)

فتنوں کے زمانے میں اہل اسلام کی مختلف علاقوں میں مختلف جماعتیں اور لشکرہونگے اس دور میں آپﷺ نے شام اور اہل شام کے لشکر کو اختیار کرنے کی ترغیب دلائی کیونکہ اس دور میں ان کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نےلی ہوگی۔(یہ مہدی اور عیسیٰuکا لشکرہوگا)

(ابوداؤد:۲۴۸۳)

آخری وقت زمانہ قرب قیامت میں خلافت اسلامیہ کامرکز ومحور ارض مقدسہ ہوگی۔(ابوداؤد:۲۵۳۶)

قیامت سے قبل مدینہ منورہ(غیرآباد)ویران ہوجائے گا اوربیت المقدس آباد ہوگا تو یہ زمانہ بڑی لڑائیوں اور فتنوں کا ہوگا، اس کے بعد دجال کا خروج ہوگا۔(ابوداؤد:۴۲۹۴)

دجال کا فتنہ اس امت کابہت بڑا فتنہ ہے اس سے ہر نبی نے اپنی قوم کوڈرایا۔(بخاری:۳۳۳۷)

مگردجال چارمقامات پر داخل نہیں ہوسکےگا:(۱)مکۃ المکرمہ (۲)مدینہ منورہ(۳)بیت المقدس ،مسجد الاقصیٰ(۴)طور۔

(مسند احمد:۲۳۶۸۳)

سیدناعیسیٰuکا نزول بھی ان ہی علاقوں دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے پاس ہوگا۔(سنن ابن ماجہ :۴۰۷۵)

سیدناعیسیٰuدجال کو’’باب لد‘‘ کے پاس قتل کردیں گے۔

(صحیح مسلم:۲۹۳۷)

باب لد فلسطین کے علاقے میں بیت المقدس کے قریب ہے، پر جس اسرائیل غاصب نے قبضہ کررکھاہے۔

فتنہ یاجوج وماجوج کی ہلاکت اور انتہاء بھی بیت المقدس کے قریب’’جبل الخمر‘‘ کے پا س ہوگی۔(صحیح مسلم:۲۹۳۷)

قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی کہ جب تک یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا نہ دیاجائے، قیامت سے پہلے یہ وقت ضرور آئے گاکہ مسلمان یہودیوں کو چن چن کر قتل کریں گے حتی کہ اگر کوئی یہودی کسی درخت یا پتھر کے پیچھے چھپے گا تو وہ بھی بول اٹھے گا کہ اے مسلمان! میرے پیچھے یہودی چھپاہوا ہے آکر اسے قتل کردو۔

(صحیح بخاری:۲۹۲۶،۳۵۹۳،صحیح مسلم:۲۲،۲۹۲۱)

پوری دنیا سے یہودی اپنے مقتل’’اسرائیل‘‘ میں جمع ہورہے ہیں۔

سرزمین محشرومنشر

قیامت سے پہلے ایک آگ لوگوں کودھکیلتی ہوئی میدان محشر (شام) کی طرف لے کر آئے گی،وہ آگ صبح دوپہر اور شام ہر وقت ان کے ساتھ ہوگی حتی کہ وہ انہیں میدان محشرتک پہنچادے گی۔(صحیح بخاری:۶۵۲۲)

شام محشر ومنشر کی سرزمین ہے۔(یعنی محشر سرزمین شام میں بپاہوگا۔)(جامع ترمذی :۳۹۱۸،السلسلۃ الصحیحۃ:۳۰۷۳)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ۝۴۱ۙ ]

(ق:۴۱)

اور یہ بات تم غور سے سن لو جس (قیامت) کے دن ایک پکارنے والا(فرشتہ اسرافیل صورپھونک کر) ایک قریبی جگہ (صخرہ بیت المقدس) سےپکارے گا۔

یہ پکارنے والافرشتہ اسرافیل یا جبرائیل ہوگا اور یہ پکار نفخۂ ثانیہ ہوگا جس سے لوگ میدان محشر میں جمع ہوجائیں گے ،اور قریبی جگہ جہاں سے یہ ندا ہوگی اس سے بعض نے صخرہ بیت المقدس مراد لیا ہے۔(مفہم من تفسیر ابن کثیر واحسن البیان)

About الشیخ حزب اللہ بلوچ

Check Also

رمضان اور روزے  کی فضیلت و اہمیت اور مشہور موضوع و ضعیف روایات

رمضان اور الصوم کا لغوی و شرعی معنی رمضان لفظ الرمض سے ماخوذ ہے جسکا …

جواب دیجئے