Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ ستمبر » اربعینِ نووی(حدیث نمبر28)

اربعینِ نووی(حدیث نمبر28)

                                                               قسط نمبر :62

دوسری وصیت:

فرمایا:وَالسَّمعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ.

اور(میں وصیت کرتاہوں) سمع واطاعت کی بھی، خواہ حبشہ کاغلام ہی تم پر امیر مقررہو۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولی الأمر کی سمع واطاعت ضروری ہے، بشرطیکہ امورِ معصیت میں نہ ہو،یہی رسول اللہ ﷺ کی وصیت ہے، آپﷺکایہ فرمانا:خواہ حبشہ کاغلام ہی تم پر امیرمقررہو،سے سمع واطاعت کی مبالغہ کے ساتھ تاکید وترغیب مفہوم ہوتی ہے،ورنہ شرعی ادلہ سے یہ بات معلوم ہے کہ غلام خلافت کا اہل نہیں،اس پر علماءِ امت کا اجماع بھی ثابت ہے۔

گویاغلام کی خلافت کا ذکر ایک ضربِ مثل کے طور پہ ہے،ورنہ غلام کی خلافت کا وقوع ناممکن ہے،اس کی مثال ایک دوسری حدیث سے سمجھ لیجئے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے:من بنی للہ مسجداولو کمفحص قطاۃ بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ.یعنی:جوشخص اللہ کے لئے مسجد بنائے گا،خواہ وہ پرندے کے گھونسلے کے برابرکیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کا جنت میں گھربنائے گا۔

اب بھلاپرندے کے گھونسلے کے برابر مسجد ہوسکتی ہے؟بالکل نہیں،لیکن رسول اللہ ﷺنے اجروثواب میں مبالغہ ظاہر کرنے کے لئے مذکورہ بالاتمثیل ذکرفرمائی،تاکہ امت کے لوگوں میں مساجد کی تعمیر کا شوق وجذبہ ،بڑی شدت کے ساتھ پیداہوجائے۔

اسی طرح گوغلام کی خلافت کا متحقق ہونا ممکن نہیں،لیکن پھربھی رسول اللہ ﷺ کا غلام کی سمع واطاعت کا حکم دینا ،معاملے کی اہمیت نیز حتمیت وقطعیت کا مظہرہے۔

صحیح بخاری میں سیدناانس بن مالکtسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا:(اسمعوا واطیعوا وإن استعمل علیکم عبد حبشی کأن رأسہ زبیبۃ)یعنی:تمہارا امیر حبشہ کا غلام ہی کیوں نہ ہوکہ اس کا سر منقیٰ کی مانندہو،تم پر لازم ہے کہ اس کی سمع واطاعت کرو۔

صحیح مسلم میں ابوذرغفاریtکی روایت سے مروی حدیث کے الفاظ یوں ہیں:(إن خلیلی أوصانی أن أسمع وأطیع ولوکان عبداحبشیا مجدع الأطراف)یعنی:مجھے میرے خلیلﷺ نے وصیت فرمائی ہے کہ میراامیر حبشہ کا غلام کیوں نہ ہواور اس کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے کیوں نہ ہوں،میں اس کی سمع واطاعت کرتا رہوں ۔

(صحیح مسلم:1837)

قرآن حکیم نے بھی اولی الأمر کی اطاعت کاحکم دیا ہے،لیکن ایسے اسلوب کے ساتھ کہ جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اولی الأمر کی اطاعت،اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کےتابع ہے،چنانچہ فرمایا:

[يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۝۵۹ۧ ](النساء:۵۹)

ترجمہ:اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (ﷺ) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔

اس آیت کریمہ میںاللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت  کی فرضیت بصیغہ(اَطِيْعُوا ) وارد ہے،جبکہ اولی الأمر کی کی اطاعت (اَطِيْعُوا )کے صیغہ کے بغیر آئی ہے،نیز یہ اطاعت تیسرے مرتبہ پر مذکور ہے،جس سے واضح ہوا کہ اولی الامر کی اطاعت مستقل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کےتابع ہے،اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:(علی المرء المسلم السمع والطاعۃ فیما أحب وکرہ إلاأن یؤمر بمعصیۃ فلاسمع ولاطاعۃ )

یعنی:مسلمان شخص پر امیر کی سمع واطاعت پسندیدہ وناپسندیدہ ہر امر میں فرض ہے،الایہ کہ اسے کسی نافرمانی کا حکم دیاجائے،اگر نافرمانی کاحکم دیاجائے تو کوئی سمع واطاعت نہیں۔

(صحیح بخاری:2955صحیح مسلم:1839)

ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے امیر کی اطاعت کو اپنی اطاعت،جبکہ امیر کی نافرمانی کو اپنی نافرمانی قراردیاہے،چنانچہ فرمایا:(من أطاعنی فقد أطاع اللہ ومن عصانی فقد عصی اللہ ،ومن یطع الأمیر فقد أطاعنی ومن یعص الأمیر فقدعصانی)

یعنی:جس نے میری اطاعت کی ،اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔

(صحیح بخاری:7137صحیح مسلم:1835)

واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ نے ائمہ وحکام کے ساتھ خیر خواہی کا رویہ اپنانے کی ترغیب وتلقین دی ہے:عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: «لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ»(صحیح مسلم:95)

یعنی:تمیم داریtسے مروی ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: دین تو ہے    ہی خیرخواہی کانام،ہم نے عرض کیا:کس کے لئے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لئے،اور اس کی کتاب کے لئے،اور اس کے رسول کے لئے، اور ائمہ ٔمسلمین کے لئےاور مسلمانوں کے عام افراد کے لئے۔

اس خیرخواہی کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی حکومت یا امارت جب استقرار پاجائےتو اسے تسلیم کرلیاجائے،معروف امور میں ان کی اطاعت کی جائے؛کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے:(انما الطاعۃ فی المعروف) یعنی :اطاعت تو صرف معروف کاموں میں ہے۔

نافرمانی کے کاموں میں اطاعت نہ کی جائے؛کیونکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے:لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق. یعنی:جن امور میں خالق کی نافرمانی لازم آرہی ہو،ان میں کسی مخلوق کی اطاعت جائزنہیں(خواہ وہ ولی الأمر کیوں نہ ہو)

لیکن خلافِ شریعت امور میں اطاعت نہ کرنے کا ہرگز یہ معنی نہیں کہ ان کی امارت سے خروج یا علیحدگی اختیار کرلی جائے،بلکہ ساتھ رہتے ہوئے صبر کا مظاہرہ کیاجائے اور کسی قسم کا فتنہ نہ کھڑاکیاجائے۔

عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال رسول اللہ ﷺ من رأی من أمیرہ شیئا یکرہہ فلیصبر فإنہ من فارق الجماعۃ شبرا فمات فمیتتہ جاھلیۃ.

(صحیح بخاری:7053صحیح مسلم:1849)

یعنی:عبداللہ بن عباسwسے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جوشخص اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو صبرکرلے (بغاوت یا علیحدگی کاراستہ اختیارنہ کر ے)کیونکہ جوشخص جماعت سے ایک بالشت علیحدہ ہوااور اسی حالت میں مرگیاتو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔

امیر کی شخصیت آپ کے نزدیک کتنی ہی ناپسندیدہ ہو،اس کے نظامِ حکومت میں برقرارہناضروری ہے،آپ سے ایسی کوئی حرکت صادر نہ ہو جو قیامِ فتنہ کا سبب بن جائے۔

عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺقَالَ:«خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ، وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ»، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ؟ فَقَالَ: «لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ، وَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلَاتِكُمْ شَيْئًا تَكْرَهُونَهُ، فَاكْرَهُوا عَمَلَهُ، وَلَا تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ»

یعنی:عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تمہارے بہترین ائمہ وہ ہیں جن سے تم محبت کرواوروہ تم سے محبت کریں،تم ان کے لئے دعائیں کرواور وہ تمہارے لئے دعائیں کریں، جبکہ بدترین ائمہ وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں ،تم ان پر لعنتیں برساؤوہ تم پر لعنتیں برسائیں،ہم نے عرض کیا: کیوں نہ ہم تلوار کے زور سے ان سے اقتدار چھین لیں؟فرمایا:نہیں، جب تک وہ تمہارے بیچ نماز قائم کیے ہوئے ہیں،خبردار!تم پر کوئی حکمران نامزدہوجائے اور وہ کسی معصیت کا مرتکب نظرآئے،تو اس کی معصیت کو براجانو لیکن سمع و اطاعت سے اپناہاتھ نہ کھینچو۔(صحیح مسلم:1855)

حکام سے خروج یا بغاوت کا راستہ اختیار کرنے کا صرف ایک ہی جواز ہے کہ وہ کسی کفرِ بواح کا ارتکاب کرجائیں،کفرِ بواح سے مراد کھلم کھلا کفرہے،چنانچہ سیدنا عبادہ بن صامتtسے مروی ہے ،فرماتے ہیں:ہمیں رسول اللہ ﷺنے بلایا اور ہم سے بیعت لی،جن امورپر ہم سے بیعت لی ان میں یہ امور بھی شامل تھے:

أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ»، قَالَ: «إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللهِ فِيهِ بُرْهَانٌ»(صحیح مسلم:1709)

یعنی:رسول اللہ ﷺ نے اپنے حکام کی سمع واطاعت کرتے رہنے کی ہم سے بیعت لی،ہرپسندیدہ اور ناپسندیدہ امرمیں،ہر تنگی اور آسانی میں،حتی کہ اگرچہ وہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دیتاہو،اور ہم اپنے حکام سے اقتدار کی چھینا جھپٹی نہ کریں(انہیں اقتدار سے معزول کرنے کی سازش نہ کریں)الایہ کہ وہ کسی کھلم کھلا کفر کے ارتکاب میں دکھائی دیں، جس کے کفر ہونے پر آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح برھان موجود ہو۔

واضح ہو کہ اس صورت میں بھی خروج کاراستہ تب اپنایاجائے گا جب آپ کے پاس حکام کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی طاقت ہو،اور یہ بات بھی کافی نہیں ہے،طاقت ہونے کےساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ خروج اختیار کرنے کی صورت میں خون ریزی تو نہیں ہوگی،خواہ ایک فرد ہی کی کیوں نہ ہو،ایسی صورت میں بھی خروج کا راستہ اختیار نہیں کیاجاسکتا۔

اپنے امراء وسلاطین کے بارے میں ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ وہ بھی ایک بشر ہیں،جن سے غلطی کا امکان بہرصورت موجود ہے،وہ معصوم عن الخطاتونہیں ہوتے،عصمت تو صرف رسول اللہ ﷺ کے لئے ہے، ان کی غلطیوں کو کیوں اچھالاجاتاہے؟احتجاجی مظاہرے اور دھرنے قائم کرکے فتنے کیوں کھڑے کیے جاتے ہیں؟

ان کی معصیتوں،مظالم اور جوروستم کے باوجود،ان کے ساتھ جڑے رہنا ہی شرعی مصلحت ہے،یہ مسلمانوں کی وحدت کے قائم رہنے کا راستہ ہےاور مسلم علاقوں کی حفاظت وصیانت کا انتہائی محکم طریق ہے، جبکہ اس کے برعکس ان کی برسرعام مخالفت اور ان سے اقتدار کی چھینا جھپٹی بڑے بڑے مفاسد کاپیش خیمہ ہوتاہے۔

جس طرح ہربرائی کے خاتمہ کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے کا سہارا اختیارکیاجاتاہے،اس طرح اگرحکام کے اندر کچھ منکرات ہیں تو ان کی اصلاح کے لئے دعاکرنے میں کیارکاوٹ ہے؟

امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ہم اپنے ائمہ اور ولاۃ الامور پر بغاوت وخروج کاراستہ اپنانے کو جائزقرار نہیں دیتے،خواہ وہ ظلم ہی کرتے ہوں،نہ ان پر بدعاکرتے ہیں اور نہ ان کی اطاعت سے اپنا ہاتھ کھینچتے ہیں،بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور ہم پر ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔(العقیدۃ الطحاویۃ:379)

امام بربہاری رحمہ اللہ اپنی مایہ ناز کتاب شرح السنۃ میں فرماتے ہیں:

وإذا رأيت الرجل يدعو على السلطان فاعلم أنه صاحب هوى، وإذا رأيت الرجل يدعو للسلطان بالصلاح فاعلم أنه صاحب سنة إن شاء الله.

لقول فضيل: لو كانت لي دعوة ما جعلتها الا في السلطان.

أنا أحمد بن كامل قال: نا الحسين بن محمد الطبري، نا مردويه الصائغ، قال:: سمعت فضيلا يقول: لو أن لي دعوة مستجابة ما جعلتها إلا في السلطان.

قيل له: يا أبا علي فسر لنا هذا.

قال: إذا جعلتها في نفسي لم تعدني، وإذا جعلتها في السلطان صلح، فصلح بصلاحه العباد والبلاد.

فأمرنا أن ندعو لهم [بالصلاح] ، ولم نؤمر أن ندعو عليهم وإن ظلموا، وإن جاروا؛ لأن ظلمهم وجورهم على أنفسهم، وصلاحهم لأنفسهم وللمسلمين.(الشرح السنۃ:383)

یعنی:جب تم کسی شخص کو دیکھووہ اپنے حاکم کو بددعائیں دے رہا ہےتو سمجھ لو وہ بدعتی ہے،اور جب تم کسی شخص کو دیکھو وہ اپنے حاکم کی اصلاح کی دعائیں کررہاہے تو سمجھ لو وہ ان شاء اللہ سنت کے منہج پر قائم ہے؛کیونکہ مشہورمحدث ،عالم اور زاہدفضیل بن عیاض aفرمایا کرتے تھے :اگر مجھے کوئی دعائِ مستجاب (ایسی دعا جس کی قبولیت یقینی ہو)دی جائے تو میں وہ دعا اپنے حاکم کو دے دونگا۔

ان سے کہاگیا:اے ا بوعلی!اپنے اس قول کی وضاحت کیجئے، فرمایا:اگرمیں وہ دعا اپنے آپ کو دوںتووہ مجھ تک محدود رہے گی اور اگر وہ دعا اپنے سلطان کو دے دوں اور اس کی اصلاح ہوجائے تو اس کی اصلاح سے تمام بندوں اور شہروں کی اصلاح ہوجائے گی۔

لہذا ہمیں حکام کی اصلاح کے لئے دعاکرتے رہنا کا حکم دیاگیا ہے،اور ان کے ظلم وستم کے باوجود بددعا نہ کرنے کا حکم دیاگیا ہے؛کیونکہ ان کے ظلم وستم کا وبال ان کی جانوں تک ہے،لیکن ان کی اصلاح ،ان کی اور تمام مسلمانوں کی اصلاح کا موجب ہے۔

حاکم کا سقوط خون ریزی،اختلاطِ امن اور انتشارِ فساد کا موجب ہوتا ہے،لہذا صبر کے ساتھ ان کے نظامِ کی حدود میں رہنے میں ہی تمام تر مصلحت ہے۔

واضح ہو کہ حکام وسلاطین کی خیرخواہی کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ان کے عیوب کی برسرِعام یعنی منبروں،اسٹیجوں ،چوکوں اور چوراہوں پر تشہیر نہ کی جائے،چنانچہ رسول اللہ ﷺکافرمان ہے:

من کانت عندہ نصیحۃ لذی سلطان فلایکلمہ بھا علانیۃ ،ولیأخذ بیدہ ولیخلوبہ ، فإن قبلہا قبلھا ، وإلا کان قد أدی الذی علیہ والذی لہ.

(مسنداحمد404/3السنۃلابن ابی عاصم1096مستدرک حاکم290/3)

یعنی:جس شخص کے پاس(حاکم کی کسی خرابی پر )کوئی نصیحت ہوتو اسے علی الاعلان بیان نہ کرےبلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر خلوت میں لے جائے (اورتنہائی میں بات کرے)اگر وہ قبول کرلے توبہت اچھا ،ورنہ آپ نے اپنافرض نبھادیااور اس کی خیرخواہی کا حق اداکردیا۔

صحیح مسلم میں ہے،ابووائل فرماتے ہیں:اسامہ بن زید سے کہاگیا: تم امیرالمؤمنین عثمان غنی tکی خدمت میں حاضر ہوکران سے (ولید بن عقبہ کی معزولیت کی )بات کیوں نہیں کرتے؟اسامہ نے

جواب دیا: تم کیا سمجھتے ہوکہ میں تمہیں سناکر اپنے امیر کو نصیحت کرونگا؟ میں ان سے تنہائی میں بات کرونگا،اور کسی قسم کے فتنے کا دروازہ نہیں کھولوں گا۔(صحیح بخاری:3094صحیح مسلم:2989)

امام اہل السنۃ احمد بن حنبلaکی پشت پر کوڑے مارے گئے، قید وبند کی صعوبتوں میں جھونکاگیااور بعض اوقات بری طرح گھسیٹاگیا، لیکن نہ تو کبھی اپنے امیر کےلئے اعلانیہ بددعاکی،نہ برسرِعام تنقید کی اور نہ ہی لوگوں کو خروج پر اکسانے کی کوشش کی ،بلکہ ہمیشہ صبر اور لزومِ اطاعت ہی کامشورہ دیا(رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ )

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعینِ نووی حدیث نمبر 28

قسط نمبر :61 گذشتہ قسط میں ہم نے رسول اللہ ﷺ کے وعظ ونصیحت کے …

جواب دیجئے