Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ اگست و ستمبر » مسئلہ کشمیر اور ہماراکردار

مسئلہ کشمیر اور ہماراکردار

کاوش : شیخ عبدالمالک ساہڑ

خطبہ مسنونہ کے بعد!

ہندوستان نے اپنے حالیہ اقدامات سے اور کشمیر کی جو’’امتیازی شکل‘‘ تھی اسے ختم کرکے پاکستان کے خلاف تقریبا جنگ کا طبل بجا دیا ہے، دوسری طرف وادی کشمیر سے جو سسکیاں سنی جارہی ہیں ان کا اپنا ایک تقاضا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاۗءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُھَا ۚ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّـۢا ڌ وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا    ](النساء:۷۵)

ترجمہ:تمہیں کیا ہوگیا تم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہیں کرتے جب کہ تمہارے(پڑوس میں)کمزور مرد عورتیں اور بچے بلبلارہے ہیں، سسک رہے ہیں ،اللہ تعالیٰ سےدعائیں کررہے ہیں :یااللہ ہمیں اس بستی سے نکال دے۔جس بستی میں حکومت کرنے والے ،رہنے والے انتہائی ظالم ہیں، اپنی طرف سے اپنے کسی ولی کو بھیج دے جو اس صورت حال کا تدارک کرے، اور اپنی توفیق سے اپنی طرف سے ایسے لوگ بھیج دے جو ہماری مدد کرسکیں۔

اس وقت پہلا کردارحکومت وقت کا ہے بالخصوص پاکستانی فوج کا کہ وہ اس صورتحال کا صدق دل سے اور مثبت طریقہ سے تدارک کرے۔ طبل جنگ بج چکا ہے اورہندوستان کی حکومت کے یہ سارے اقدامات جنگ کی دعوت دے رہےہیں، مذاکرات کی میز پر کچھ ہونے والانہیں۔

ایسی صورتحال میں شمع جہاد روشن ہونی چاہئے اب یہی صورتحال ہے جب جہاد کی شمع روشن کرنا ضروری ہوجاتی ہے۔

توپہلا کردار حکومت وقت کا ہے، اور پاکستانی فوج کا ہے۔

دوسرا کردار ہم عوام الناس کا ہے، اپنی حکومت اور اپنی فوج کے شانہ بشانہ جہاد کا عزم کرلیں نبی ﷺ کی ایک حدیث پر عمل کرنےکا موقعہ بن چکا ہے۔

من مات ولم یغز ولم یحدث نفسہ بہ مات علی شعبۃ من النفاق(صحیح مسلم)

جس شخص کی موت اس طرح آجائے کہ اس نے جہاد نہ کیا ہو یا جہاد کا عزم نہ کیا ہو تو وہ منافقت کی موت مرتا ہے۔

یعنی اس کی موت نفاق کی موت ہے،جس نے عملاًجہاد نہ کیا ہو یا اگر عملی جہاد کا موقعہ نہ ملا ہو تو جہاد کا عزم سچی نیت نہ کی ہو۔دعویٰ ہر کوئی کرسکتا ہے ،ہمارے اندر جذبہ جہاد ہے اور جہاد کا عزم ہے،لیکن اللہ رب العزت جو بندے کے ظاہر اور باطن کو جانتا ہے وہی فیصلہ فرمائے گا سچا عزم کس کا ہے اور کون جھوٹ بول رہا ہے کیونکہ ہر عمل میں صدق، صداقت اورسچائی ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اعلان کرے گا:

[قَالَ اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ ۭ]

(المائدۃ:۱۱۹)

کہ آج کے دن جو حساب وکتاب شروع ہونے والاہے صرف سچے لوگوں کو ان کا سچ نفع دے گا۔

اورحساب وکتاب کی جوصورتحال ہے بڑ ی مشکل ہے صرف سچے لوگ کامیاب ہونگے۔ جن کے اخلاص میں سچائی ہو اور تعلق باللہ میں سچائی ہو۔نیت اور عزم یہ بھی دین اسلام کاایک مستقل شعبہ ہے ،یہاں بھی سچائی مطلوب ہے، جو شخص مرجائے اور اس نے جہاد نہ کیا ہو اور نہ ہی جہاد کا عزم کیا ہوتو وہ منافقت کی موت ماراجاتا ہے جیسا کہ نبی ﷺ کی حدیث ہے :

من خرج فی سبیل اللہ واللہ اعلم لمن خرج فی سبیلہ

جو اللہ کی راہ میں نکلے جہاد کےلئے اور اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی راہ میں کون سچائی کےساتھ نکلا ہے۔

اور یہی الفاظ شہید کے بارے میں ہیں اور میدان جہاد میں زخمی ہونے والوں کے لئے بھی ہیںکہ وہی جانتا ہے کہ کون سچائی کے ساتھ قتل ہوا اور سچائی کے ساتھ زخمی ہوا۔

اللہ تعالیٰ جس کےصدق کو جان اور پہچان لے، وہی بندہ کامیاب ہوگا۔

تو چونکہ جنگ کا نقارہ بجا دیا گیا ہے لہذاعزم جہاد ضروری ہے یہ عزم جو ہے یہ تیاری کاتقاضا کرتا ہے اور میں یہ سمجھتاہوں تیاری کی دو قسمیں ہیں 1مادی تیاری 2دورسرا روحانی اور معنوی تیاری۔

دوسری قسم زیادہ اہم ہے اللہ تعالیٰ کی مددحاصل کرنے کے لئے قدموں کو’’ثابت‘‘ رکھنے کےلئے دشمن پرغلبہ پانے کے لئے، روحانی اور معنوی تیاری ہے،روحانی تیاری،مادی تیاری پر مقدم ہے، کیونکہ فتح ونصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ رب العزت ظاہری وسائل کامحتاج نہیں ہے، نہ کثرت تعداد کا محتاج ہے ، نہ کثرت اسلحہ کا محتاج ہے ، نہ کثرت وسائل کا محتاج ہے، وسائل تیار کرنےکا حکم موجود ہے مگر وہ تیاری کماحقہ مطلوب نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ ]

(الانفال:۶۰)

دشمن کے مقابلے میں تیاری کرو جو تم میں طاقت ہو۔

یہ ضروری نہیں کہ تمہاری تیاری دشمن کے مساوی ہو، اور اس کے برابر ہو تبھی تم کامیاب ہونگے نہیں جو تم میں طاقت ہو تیاری کرلو۔

لیکن جومعنوی اور روحانی تیاری ہے وہاں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 [يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً  ]

(البقرہ:۲۰۸)

اسلام میں پورے آجاؤ۔

عقیدہ کے ساتھ، عمل کے ساتھ، وضع قطع کے ساتھ، پورےجسم کے ساتھ ،پورے جسم پراسلام کونافذ کرلواور کوئی حصہ اسلام کے دائرہ سے باہر نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ کاایک اور فرمان :

[يُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِہ]

(آل عمران:۱۰۲)

تقویٰ اختیار کرلو جیسا کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حکم ہے۔

یہاں استطاعت کی شرط نہیں ہے ،یہاں پوری طرح اسلام میں داخل ہونے کی اورایمان کا لبادہ اوڑھنے کی قید ہے، اوریہ اللہ تعالیٰ کا امر ہے جس سے یہ ثابت ہورہا ہے جوروحانی تیاری ہو یا جو معنوی تیاری ہے وہ ظاہری اور مادی تیاری سے مقدم ہے کیونکہ

[وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰي وَلِتَطْمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ]

(الانفال:۱۰)

اور اللہ تعالیٰ نے نہیں بنایا اسے(جنگ بدر میں نزول ملائکہ کو) مگر بشارت اور یہ کہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہوجائیں۔

مدد اللہ نےکرنی ہے ۔

اوررب العزت تمہارے تقویٰ کو تمہارے دین اور ایمان کو دیکھتا ہے تمہارے وسائل کو نہیںدیکھتا ،وسائل کا محتاج بھی نہیں ہے، وقت آنے پر دنیا کی ہرشیٔ اللہ تعالیٰ کا لشکر بن جاتی ہے ،آپ کیا سمجھتے ہیں کہ سوجانا یہ بھی ایک لشکر ہوسکتا ہے ؟جہاد بیداری کا نام ہے لیکن معرکہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے اسی نیند کو اپنے لشکر کے طور پرا تارا۔

بدر میںمسلمان اور کفار صف آراءہیں، کفار مسلمانوں کو اورمسلمان کفار کودیکھ رہے ہیں صفیں بن چکی ہیں ،اللہ رب العزت نے صحابہ کرام پر نیند طاری کردی ،اونگھ آگئی ان کے سر ہل رہے ہیں باربار گررہے ہیں، بعض کے ہاتھوں سےتلواریں چھوٹ کر گر رہی ہیں ، اب یہ کونسا لشکر ہے ؟جہاد توبیدار ی کانام ہے ،یہ کیا بات ہوئی، میدان جہاد میں سوجائیں، اونگھ آرہی ہے، سستی طاری ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور قوت کاملہ سےاس نیند اوراونگھ کو اپنی فوج کے طور پے اتارا ،صحابہ کو اونگھ آگئی ،پہلے جو گھبراہٹ تھی وہ ختم ہوگئی، دل میں استقرار آگیا، بندہ پریشان ہو تھوڑی سی نیند لے لے، پریشانی زائل ہوجاتی ہے، دلوں میں استقرار آگیا، دلوں میں قوت آگئی، ایک ثبات ساہوگیا۔

دوسری طرف کفار تھے جو صحابہ کو سوتا ہوا دیکھ رہے ہیں ،تعجب بھی کررہے ہیں اور خوف بھی آرہا ہے۔ کہ؛ یہ کیسے لوگ ہیں ،میدان جہاد میں موت سامنے ہوتی ہے انہیں کوئی پروا بھی نہیں میدان جہاد میںیہ سورہے ہیں ،اونگھ رہے ہیں تویہ چیز کفار کے لئے حوصلہ شکنی کا باعث بنی۔

اللہ تعالیٰ کافرمان:

[وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ  ](المدثر:۳۱)

تیرے رب کے لشکر کیا کیا ہوسکتے ہیں،اللہ ہی جانتا ہے۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جبکہ کفار یہ منظردیکھ کر گھبراگئے اور یہ بات ان کی حوصلہ شکنی کا باعث بن گئی… تواللہ رب العزت مادی وسائل کامحتاج نہیں ہے۔

جب قوم نوح کی نافرمانیاں عروج پر پہنچیں تو پانی کے قطرات اللہ کے لشکر بن گئے، اللہ تعالیٰ کی فوج بن گئے، اور جمع ہوکر اس پانی نے پوری قوم کو غرق کردیا، دنیا بھر میں نجات پانےوالے صرف وہ تھے، جو سفینۂ نوح میں سوار ہوگئے، جس سے ثابت ہوا کہ ہر دور میں نجات کا مخرج ہوتا ہے، ہردور میں اگر عذاب الٰہی کچھ قوموں کی بربادی کا باعث ہوتا ہے توکچھ کے لئے نجات کا راستہ بھی موجود ہوتا ہے۔

نوح علیہ السلام کے دور میں روئے زمین پر تمام لوگوں کو پانی کے عذاب سےد وچار کیا گیا ،جہاں اللہ تعالیٰ کا عذاب تھا وہاں سفینہ نوح بھی موجود تھی جو اس میں سوار ہوگئے وہ کامیاب ہوگئے ،چاہے وہ جانور کیوں نہ ہو،اور جو سوار نہ ہوا و ہ ناکام اور برباد ہوئے چاہے وہ نبی کا بیٹا کیوں نہ ہو۔یعنی کامیابی اور ناکامی کے مابین ایک حد فاصل قائم کردی گئی اور وہ سفینہ نوح ہے۔

تو ہردور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاں عذاب کی صورتیں قوموں کو برباد کرتی ہیں وہاں کامیابی کامرانی کا راستہ موجود ہوتا ہے، مخرج مہیا ہوتا ہے،نکلے کا راستہ موجود ہوتا ہے۔

آج کے دور میں مخرج کیا ہے، نجات کا راستہ کیا ہے؟

امام دار الھجرۃ امام مالک رحمہ اللہ  کا ایک تاریخی قول ہے:

سنۃ رسول اللہ کسفینۃ نوح من رکبھا نجا ومن تخلف عنھا ھلک.

کہ لوگو! آج کے دور میں اس امت کے لئے رسول اللہ کی سنت کی وہ حیثیت ہے جونوح  علیہ السلام کے دور میں سفینہ نوح کی تھی۔

جس طرح سفینہ نوح میںسوار ہونے والانجات پاگیا تو آج نبیﷺ کی سنت پر سوار ہونے والانجات پاجائے گا۔

اور جس طرح سفینہ نوح سے پیچھے رہ جانے والابرباد ہوگیا تو آج نبی ﷺ کی سنت پر سواری نہ کرنے والاتباہ وبرباد ہے اور ہلاک ہے اسے اگر اللہ تعالیٰ کی مہلت حاصل ہے تو یہ اور زیادہ خطرناک ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو جو کشتی میں سوار نہ ہوئی،فوری پکڑ لیا، آج سنت رسول پر سوار نہ ہونےوالوں کو اللہ تعالیٰ اگر فوری نہیںپکڑرہا تو یہ اس کی ڈھیل ہے جو کہ زیادہ خطرناک ہے۔

[فَاَمْلَيْتُ لِلْكٰفِرِيْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ ۚ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ](الحج:۴۴)

ہم ڈھیل دیتے ہیں مگر ڈھیل دینے کے بعد جو پکڑ ہوگی وہ بڑی شدید اور ناقابل برداشت ہوگی۔

تو ہردور میں مخرج موجود ہوتا ہےیہ خالق کائنات کی وسعت رحمت کی علامت ہے ۔

 اللہ تعالیٰ کےلشکر بہت ہیں، اللہ تعالیٰ جس چیز کو جس مخلوق کو چاہے اپنا فوجی بنادے،قوم عاداورقوم ثمودکے متعلق فرمایا:

[كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ   oفَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِيَةِo  وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍo سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ ۙ حُسُوْمًا ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰى ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ  o] (الحاقۃ:۴تا۷)

قوم ثمود کی سرکشی جب کھلم کھلا ظاہر ہوچکی تو اللہ تعالیٰ نے ایک چیخ اس قوم پر مسلط کردی وہ چیخ اللہ تعالیٰ کی فوج بن گئی اور قوم ثمود کے جوانوں کے کلیجے پھاڑ دیے ،چشمے زدن میں گر کر تباہ وبرباد ہوگئے۔

او ر قوم عاد کو اللہ تعالیٰ نے ہواؤں میں جکڑ دیا اور یہ آندھیاںاور ہوائیں اللہ تعالیٰ کا لشکر بن کر اس قوم کو تباہ وبرباد کرگئیں۔

یہ لشکر گاہے بگاہے آتارہتا ہے،نبیﷺ کی حدیث بھی ہے:

 نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ(صحیح بخاری:1035)

اللہ رب العزت نے جس طرح قوم عاد کو ایک آندھی سے تباہ وبرباد کردیا میرے دور میں بھی ایک آندھی بھیجی جس سے کفار کو تتر بتر کردیا، جنگ احزاب کے موقعے پر جب کفار دس ہزارکا لشکر لیکر مدینہ پرحملہ آور ہوئے چھوٹی سی بستی مدینہ دس ہزار کی مسلح فوج خوف وہراس کی کیفیت تھی مگر صحابہ میں استقلال تھا ،استقامت تھی،جذبہ جہاد سچاتھا۔

اپنے شہر کوبچانے کے لئےخندق کھودی جارہی ہے یہ بات بظاہر کمزوری کو ظاہر کررہی ہے لیکن جذبہ جہاد بلند تھا ،سچاتھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے دیکھ لیا، ان کے الفاظ بھی اسی جذبے کی ترجمانی کررہے تھے نبی ﷺ اس جذبہ کا باقاعدہ جواب دے رہے ہیں:

صحابہ کے الفاظ :

نحن الذین بایعوا محمدا

علی الجھاد ما بقینا ابدا

ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کرلی۔

اور یہ جہاد کرتے رہیں گے جب تک زندہ ہیں جب تک یہ سانسیں باقی ہیں۔

اور اللہ کے پیارے پیغمبر اس جذبہ جہاد کا جواب دیتے ہیں:

اللھم لاعیش الاعیش الآخرۃ

فاغفر الانصار والمھاجر

الہ العالمین! عیش تو آخرت کی ہے ،دنیا کی عیش کوئی عیش نہیں ہے، لہذا ان انصار اور مہاجرین صحابہ کو بخش دے، ان کو معاف کردے۔ان کی آخرت کو روشن فرمادے ،جنہوں نے اپنی دنیا کوجہاد کے راستے میں اور اپنی آخرت کوسنوارنے میں قربان کردی،اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس موقعے پرانہیں ظاہر ان انعامات سے نواز دیا،ایک چٹان ٹوٹ نہیں رہی تھی ،اللہ کے پیارے پیغمبر آئے اس چٹان کو توڑنے کے لئے پہلاوار آپ نے کیا اور فرمایا:

ہلک قیصر

یہ وار اس چٹان پر نہیں بلکہ قیصر جوسلطنت روم کافرماںروا ہے اس کی پشت پر ہوا ہے۔

دوسری کدال کاوار کیا اور فرمایا:

ہلک کسری

کسری بھی گیا، جو سلطنت فارس کا فرماںروا ہے ان دونوں کی حکومتیں تقریبا آدھی دنیا پر تھیں ۔

اور پیارے پیغمبرﷺ جواپنی بستی کو بچانے کے لئے خندق کھود رہے ہیں نےاتنی بڑی خبر دے دی،کسری بھی گیا قیصر بھی گیا، تیسری کدال چلائی فرمایا :

مدائن اور یمن بھی فتح ہوگیا، گویا پوری دنیا پر جھنڈے گاڑ دیے،یہ اس جذبہ جہاد کا صلہ تھا جو صحابہ کےد لوں میں موجود تھا اور ان کے الفاظ اسی جذبہ کی تعبیر کررہے تھے ۔

نحن الذین بایعوا محمدا

علی الجھاد ما بقینا ابدا

ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کرلی۔

اور یہ جہاد کرتے رہیں گے جب تک زندہ ہیں جب تک یہ سانسیں باقی ہیں۔

سچا جذبہ ہوتو اللہ رب العزت ظاہری وسائل کا محتاج نہیں ہے چنانچہ جنگ احزاب کے موقعے پر اللہ تعالیٰ نے لشکر بھیج دیا،اپنی فوج بھیج دی وہ بھی آندھی کی صورت میں جس سے کفار کے خیمے اکھڑ گئے،اوران کےقدم بھی لڑکھڑا گئے اور وہ دم دباکربھاگے، بڑی مقدار میں مال غنیمت بھی مسلمانوں کو حاصل ہوا تو اللہ تعالیٰ کے لشکر ہیں، اللہ کی فوج ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنالشکر ،اپنی فوج بنادے وہ ہر طرح سے اپنے بندوں کی مدد کرنے پر قادر ہے مگر سوال یہ  ہے کہ بندے اس قابل ہوجائیں اپنےآپ کو اس قابل کرلیں ۔

کئی موقعوں پر آپ کوسنایا جب ہم ریاض میںپڑھتے تھے ہندوستان کےکچھ طلبہ ہمارے ساتھ تھے اندراگاندھی اس وقت فرماں روا تھی اس کی ایک بات تاریخی قول بن گیا جب اسے بتایاگیا کہ مسلمانوں کی تعداد ایک ارب سےبڑھ چکی ہے مسلمان ایک ارب سے تجاوز کرچکے… سوچنا چاہئے لمحہ فکریہ ہے کہ سوکروڑ سے زیادہ مسلمانوںکی تعداد ہوچکی ہے کچھ کرنا چاہئےاندرا گاندھی نے کہا:’’نہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ان کو ایک ارب ہونے دو،دو ارب ہونے دو کوئی پرواہ نہیں بس کوشش یہ کرو کہ یہ تین سو تیرہ نہ ہوجائیں‘‘ جو اہل بدر کی تعداد تھی، جنہوں نے آغاز امر میں کفار کے چھکے چھڑا دیےپھر یہ سلسلہ تھما نہیں،رکا نہیں ،شام بھی فتح ہوگیا اور فارس کے علاقے بھی فتح ہوگئے اور امیر عمر رضی اللہ عنہ   کے دور میں آدھی دنیا پر اسلام کا پرچم قائم ہوگیا ،یہ تین سو تیرہ نہ ہو جائیں۔واقعتا اگریہ معنوی اور روحانی قوت ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت ضرور حاصل ہوتی ہے۔

آج کے دور میں اگر سچا عزم جہاد کرنا ہے توظاہری سے قبل روحانی اور معنوی تیاری ضروری ہے،آپ جانتے ہیں جب معرکہ بپا ہوتا ہےتو ثبات قدم کی بنیادیں کیا ہیں…؟ثابت قدمی کیسے حاصل ہوتی ہے کیونکہ ثبات قدم ہی کامیابی کا باعث ہے اور اگر ثبات قدم نہ ہو،بلکہ قدم اکھڑ جائیں تو بڑی ذلت اور ناکامی کاسامناکرناپڑتا ہے ،ثبات قدم کےاسباب کیا ہیں؟

ظاہری وسائل کی کثرت نہیں ،قرآن پاک کے دومقامات قابل توجہ ہیں:

[يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ  ۚ](ابراھیم:۲۷)

اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثبات قدم عطا فرماتا ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔

ثبات قدم کا بڑا وسیع مفہوم ہے دنیا میں ایمان پر ثابت قدمی مرنے کے بعد قبر میں ثابت قدمی اور قبر کے مرحلہ کے بعد میدان محشر میں ثابت قدمی کبھی حساب وکتاب کے لئے رب کائنات کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور کبھی مرحلہ پل صراط ،جہاں سے گزرنا ہے ہر مقام پر ثابت قدمی کی ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ اہم اہل ایمان کو ثابت قدمی دیں گے دنیا میں دیں گے ،دشمن کے مقابلے میںدیں گے، ایمان پر ثابت قدمی دیں گے، عمل صالح پرثابت قدمی دیں گے… لیکن کیسے ؟

بالقول الثابت

قول ثابت کی برکت سے۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ قول الثابت سے مراد ’’لاالٰہ الااللہ ‘‘ہے۔

اگر یہ لوگ اس کلمہ کو پہچان لیں،اس کے معنی کو سمجھ لیں،حقیقی علم حاصل کرلیں،کلمے کے تقاضے پورے کرلیں ،کلمے کی شرائط کو مان لیں کلمے کے نواقض کو پہچان لیں اور اس پر ڈٹ جائیں تو ہم ثابت قدمی دینے کا وعدہ کرتے ہیں ،دشمن کے مقابلے  میں بھی اور مرنے کے بعد سارے مراحل میںبھی، قبر میں منکر نکیر آئیں گے سوال کریںگے توثابت قدمی ہم عطا فرمادیں گے ،میدان محشر میں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں سامنا ہوگا وہاں ہم ثابت قدمی عطا فرمادیں گے ہرمرحلہ پر یہ ثبات حاصل ہوگا لیکن عقیدہ توحید کی برکت سے ،کلمہ لاالٰہ الااللہ پر محنت ہو،اس کلمہ پر بھرپور توجہ ہو،اس کے معنی کاعلم وادارک ہو،اس کے تقاضوں کی پہچان ہو اور پوری طرح انہیںبروئے کار لانے کی کوشش کی جائے تو پھر یہ کلمہ تمہارے ثبات کا باعث بن جائے گا استقرار قدم کا ذریعہ بن جائے گا اور تمہیں کبھی ناکامی کا منہ نہیں دیکھنا پڑے گا۔

دوسرا مقام: اللہ تعالیٰ کافرمان:

[وَلَوْ اَنَّھُمْ فَعَلُوْا مَا يُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ وَاَشَدَّ تَثْبِيْتًا   ](النساء:۶۶)

اگر یہ لوگ صرف وہ کام کرتے ہیں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے ۔نصیحت کرنے والاکون ہے؟محمدرسول اللہﷺ ہیں ،یعنی یہ لوگ:

[وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ    ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا  ۚ ](الحشر:۷)

کی عملی تصویر بن جائیں جو رسول دے وہ لیتے رہیں جس سے روکیں اس سے رکتے جائیں۔

لکان خیرا لھم

تو ہم ایک ہر قسم کی خیر عطا فرمادیں گے۔

دوسرا:واشد تثبیتا

اوریہ بات ان کے لئے انتہائی ثابت قدمی کا باعث ہوگی۔

اور یہ منہج سب سے سخت ہے ،ثابت قدمی کےلئے ،دنیا کی زندگی میں ثابت قدمی، دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدمی، ایمان اورعقیدہ پر ثابت قدمی ،عمل صالح پر ثابت قدمی ،مرنے کے بعد قبر میں ثابت قدمی  اور قیامت قائم ہونے کے بعد میدان محشر میں ثابت قدمی ، ان تمام ثابت قدمیوں کی بنیادکیا ہے۔

[وَلَوْ اَنَّھُمْ فَعَلُوْا مَا يُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ وَاَشَدَّ تَثْبِيْتًا   ](النساء:۶۶)

میراپیغمبر جو نصیحت دیتا ہے جو انہیں عطافرماتا ہے اسی کو مانتے جائیں،لیتے جائیں ،قبول کرتے جائیں اور پیغمبر سے ہٹ کر کوئی چیز نہ ہو،نہ باپ دادا کا پٹا گلے میں ہو ، نہ قوم برادری کا نہ کسی شیخ یا امام کی تقلید کا پٹا گلے میں ہو، بلکہ ہر چیز کوچھوڑ کر،ہر چیز سے لاتعلق ہوکر میرے پیارے حبیب ﷺ کےساتھ تعلق جوڑ لیں ان کے سچے پیروکار بن جائیں جو وہ دے اسے قبول کرتے جائیں جس چیز سے روکے اس سے باز آتے جائیں تو اس کا نتیجہ کیا ہے ؟

ہر قسم کی خیر اور دشمن کے مقابلے میں انتہائی ثابت قدمی۔

تویہ دوچیزیں سامنے آئیں ایک سچا عقیدہ توحید اور توحید کی معرفت اور دوسرا صحیح معنی میں اللہ کے رسول ﷺ کی غلامی، سچی اطاعت واتباع اگر یہ دومنہج اختیار کرلئے جائیں تو یہ وہ روحانی قوت ہے جو مسلمانوں کے غلبہ کا باعث بنے گی اور ا ن کی کامیابی کا باعث بنے گی، اللہ کے پیارے پیغمبرنےخیبر والے دن جناب علی رضی اللہ عنہ  سے کیا کہا تھا:

اس سے قبل کیا فرمایا تھا:

لاعطین الرایۃ رجلا یحب اللہ ورسولہ ویحبہ اللہ ورسولہ

کل میں خیبر کا جھنڈا اس شخص کو دوں گا (جہاد کے لئے)جس شخص کو اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے اور اللہ تعالیٰ کو اور اس کے رسول کو اس سے محبت ہے ،صحابہ تمام رات سوئے نہیں ہر ایک کی خواہش اور دعا ہے وہ جھنڈا ہمیں حاصل ہوجائے اللہ کے پیارے پیغمبر نے اگلے دن فجر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر جب صحابہ کی طرف رخ کیا فرمایا:

این علی بن ابی طالب

علی کہاں ہے؟ امیر المؤمنین جناب علی رضی اللہ عنہ  کو آپ نے بلایا قصہ طویل ہے وہ آئے لائے گئے، آنکھوں میں تکلیف تھی آپ نے لعاب ان کی آنکھوں میںلگایا اللہ نے شفا دے دی، اور آپ نے فرمایا: لوخیبر کا جھنڈا پکڑ لو،خیبر کا جھنڈا تھام لو ،اور اپنا رخ میدان خیبر کی طرف کر لو اور چلنا شروع کردو، چلنا بھی کیسے بڑے باوقار انداز سے دین اسلام اچھل کود نہیں چاہتا یہ خالی نعرے بازی ،زندہ باد ،مردہ باد، دین یہ نہیں جانتا حتی کہ میدان جہاد میں بھی آپﷺ کا امر کہ بڑے باوقارانداز میں جانا اور بڑے باوقار انداز سےچلنا او ر ساتھ یہ کہہ دیا:

لاتلتفت یمینا ولایسارا

کہ اے علی! دائیں با ئیں جھکنا بھی نہیں ہے بس آپ کا منہ خیبر کی بستی کی طرف ہواسی طرف رکھنا ہے اسی طرف دیکھنا ہے رکنا بھی نہیں، تھمنا بھی نہیں،اور آپ چلتے ہی جانا حتی کہ خیبر بستی میں پہنچ جاؤ،اور جاکر جہاد کی شمع روشن کرنی ہے، علی چل پڑے بڑے باوقار انداز سے پرسکون انداز سے کسی اچھل کود کے بغیر اور یہ نعرے زندہ باد ،مردہ باد کے بغیر چل پڑے اور رخ ان کا خیبر کی بستی کی طرف ہے،اچانک ذہن میں سوال آیا جس کا جواب لینا ضروری تھا، اب اس سوال کا جواب لینے کے لئے واپس پلٹنے کاارادہ کیا کہ اللہ کے پیارے پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوں اور جاکر وہ سوال کردوں پھر یاد آگیا کہ اللہ کے پیارے پیغمبر کا حکم ہے دائیں بائیں جھانکنا نہیں، رکنا نہیں اور باوقار چلتے جاناہے ۔ سوال بھی ضروری ہے حکم بھی سامنے موجود ہے تورُکے نہیں، پیچھے جھانکے نہیں رخ خیبر بستی کی طرف ہے اور چلتے چلتے بلند آواز سے اللہ کے پیغمبر سے سوال پوچھا:

علی مااقاتلھم

یارسول اللہ ﷺ ان یہودیوں سےکس چیز پر قتال کرنا ہے اور کب تک لڑنا ہے ،سوال ضروری ہے یہ قتال کب تک کرتا رہوں ،چلتے جارہے ہیں ،چلتے چلتے سوال کرڈالا، قربان جایئے صحابہ کے جذبہ اطاعت پر۔

[وَلَوْ اَنَّھُمْ فَعَلُوْا مَا يُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ وَاَشَدَّ تَثْبِيْتًا   ](النساء:۶۶)

اگر تم میرے پیغمبر سے لیتے جاؤ ہر چیز میںانہی کی اطاعت کرتے جاؤ تو خیر مطلق بھی دیں گے اور ثابت قدمی بھی دیں گے ۔

رسول اللہ ﷺ نےاسی بلند آواز سے جواب دیا:

قاتلھم حتی لاتکون فتنۃ

جب تک یہودیوں کا شرک موجود ہے ایک ایک یہودی زندہ ہے اس وقت تک قتال کرتے رہو ،ہمارا قتال اقامت توحید کےلئے ہے اور شرک کےخاتمے تک ہے جب تک شرک موجود ہے ،یہودی موجود ہیں اس وقت تک آپ نے قتال کرتےرہنا ہے۔

سوال ہوگیا، جواب ہوگیا اور یہ سارا کا سارا معاملہ اللہ کے پیارے پیغمبر ﷺ کی اطاعت پر ہوا، اور اللہ رب العزت نے جنگ خیبر میں فتح عطا فرمائی ،یہودی ختم ہوگئے ،یہ قوم جو آج مکروفریب سے دنیا بھر کا اقتدار سنبھال رہی ہے جوہر فتنے کی جڑہے ،خیبر بستی میں ان کو ’’مسل‘‘ کر رکھ دیا گیا اور قرب قیامت بھی ان شاءاللہ ان کے بقایا ادھیڑ دیے جائیں گے اور ان کو نیست ونابود کردیا جائے گا۔

چنانچہ جو چیز کام آئی وہ اللہ کے پیارے پیغمبر کی اطاعت اور یہ اطاعت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی محبت کاذریعہ ہے تبھی تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ  ](آل عمران: ۳۱)

اے میرے پیغمبر کہہ دو! اگر تم اللہ کی محبت اور اس کی رضا کے طلب گار ہو تو اس کاایک ہی راستہ ہے میری اتباع کرلو، میری فرمانبرداری کرلو، اور جن لوگوں کے ہاتھ میں فرمانبرداری آگئی اللہ تعالیٰ کی محبت ان کو حاصل ہوجائے گی اور جن کو اللہ کی محبت حاصل ہوجائے وہی غالب اوروہی کامیاب ہیں۔

[يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ  ۙ ](المائدۃ:۵۴)

اے لوگو! اگرتم سارے کے سارے مرتد ہوجاؤ اس دین کو چھوڑ بیٹھو ،بغاوت اختیار کرلو ،تو پھر بھی ہم دوبارہ دین کو قائم کرنے پر قادر ہیں۔

نصرت ثانی پر قادر ہیں وہ کیسے …؟

’’بقوم‘‘ ایک جماعت کے ذریعہ ایک قوم کے ذریعے جس قوم کی نشانی کیا ہوگی، جس قوم کی علامت کیا ہوگی،کیا وہ قوم ایٹمی پاور کی حامل ہوگی،کیا اس قوم کے پاس میزائلوں کی کثرت ہوگی ،کیا اس قوم کی ایئر فورس مضبوط ہوگی… فرمایا کہ نہیں۔

یحبھم ویحبونہ

اس قوم کی پہچان یہ ہے کہ اس قوم کو اللہ سے محبت ہوگی اور اللہ تعالیٰ کو اس قوم سے محبت ہوگی۔

اگر سچا عزم جہاد ہے ،تو آیئے ان دوبنیادں پر اپنے آ پ کو قائم کریں ،اور ان چند نقوش کو اپنانے کی کوشش کریں اور اسی دعوت کو عام کریں ،توحید کی دعوت کو،اللہ کے پیارے پیغمبر کی سچی غلامی کی دعوت پر لوگوںکو جگائیں اور جو اس وقت طبل جنگ بج چکا ہے اس پر کامیابی اور ثابت قدمی کے لئے سب سے پہلے معنوی طاقت ہے اسے خریدو اسے اپناؤ اور وہ پروردگار کی توحید ہے اور اللہ کے پیارے پیغمبر کی سچی اطاعت اور غلامی ہے۔اگر یہ دوچیزیں حاصل ہوجائیں یقینا اللہ تعالیٰ کی مدد آجائے ،لیکن یہ سارا معاملہ صدق دل سے ہو، اخلاص قلب کے ساتھ ہو، اور اللہ کی رضا کے حصول کے لئے ہو، تو اللہ تعالیٰ کی مدد کے راستے کھل جائیں گے۔

دشمن کتنا طاقتور کیوں نہ ہو ،مقہور ہوگا ،مغلوب ہوگا، اور اسلام کا جھنڈا ان کے علاقوں پر غالب آئے گا جیسے کہ سنت الٰہی اس سے قبل گزر چکی اور قیامت کے قریب بھی آئیگی جب عیسیٰ  علیہ السلام صدق دل سے اس علم جہاد کو بلند کریں گے دجال کا خاتمہ کریں گے ،یاجوج وماجوج   سےلڑائی میںاس انتہائی سخت قوم کو بھی نیست ونابود کردیں گے اور پوری دنیا پر اسلام کا پرچم لہرائے گا۔

اللہ تعالیٰ کی یہ تائید ونصرت سچی توحید کے ساتھ ہےاور اللہ کے رسول کی سچی غلامی کے ساتھ ہے ۔

صدق عزم جہاد کے لئے اپنی معنوی اصلاح ضروری ہے ،توحید کی بنیاد پر اللہ کے پیارے پیغمبر کی اطاعت کی بنیاد پر اللہ پاک توفیق عطا فرمائے ،دعاؤں کی ضرورت ہے :

الدعاء سلاح المؤمن.دعامومن کاہتھیار ہے۔

الٰہ العالمین! ہندوستان کے مکروہ عزائم کاخاتمہ فرمادے، ان کے اسلحہ کو ناکارہ بنادے۔

جو ان کی تدبیریں عالم اسلام کے خلاف ہیں وہ تدبیریں ان کی اپنی بربادی کا باعث بن جائیں۔

یااللہ! جس طرح کشمیرقوم پر ظلم ڈھارہے ہیں یااللہ ان ہندوؤں کی بیویوں کو بیواہ کردے ان کے بچوں کو یتیم کردے۔

یاللہ!ان کو تباہ وبرباد کردے اور وہ وقت آجائے کہ سابق روایت کےمطابق پورے ہندوستان پر اسلام کا پرچم لہرائے ،اسلام کا نام ہو۔ اذانیں گونجیں، نمازیں قائم ہوں۔آمین

وآخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین.

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعینِ نووی (حدیث نمبر:30 ،قسط نمبر 69)

عَنْ أَبِيْ ثَعْلَبَةَ الخُشَنِيِّ جُرثُومِ بنِ نَاشِرٍ رضي الله عنه عَن رَسُولِ اللهِ صلى الله …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے