Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ اکتوبر » اربعینِ نووی حدیث نمبر 28 ،قسط نمبر 63

اربعینِ نووی حدیث نمبر 28 ،قسط نمبر 63

تیسری وصیت:

فرمایا:فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلافَاً كَثِيرَاً؛ فَعَلَيكُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المّهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ .

بے شک تم میں سے جو شخص (میرے بعد) زندہ رہاوہ عنقریب بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا،اس وقت تم پر فرض ہوگا کہ میری سنت کے ساتھ چمٹ جانااور خلفائے راشدین جوہدایت یافتہ ہیںکی سنت کے ساتھ بھی،میری سنت کو اپنی داڑھوںکے ساتھ مضبوطی سے دبالینا۔

یہ اس حدیث میں وارد تیسری وصیت ہے،جورسول اللہ ﷺ کی دلائلِ نبوت میں سے ہے؛کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے امت میں اختلاف کے وقوع کی خبردی اور ایسے دور میں خبر دی کہ صحابۂ کرام کے  پاکیزہ معاشرہ جو’’رحمآء بینھم‘‘ کی تصویرتھا میں اختلاف کے ظہور کا تصور نہیں کیاجاسکتاتھا،بلکہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں تک فرمادیاکہ صحابہ کرام میں سے لمبی عمرپانے والے صحابہ،اس اختلاف کو اپنی نگاہوں سے دیکھیں گے۔

آپﷺ کی پیش گوئی کےمطابق صحابہ کے آخری دور میں اختلاف رونماہوا،جس کا اس وقت موجود صحابہ نے مشاہدہ کیا،یہ اختلاف اصولِ دین میں بھی تھا اور فروع میں بھی،اعتقادی ،عملی اور منہجی ایسے تمام مسائل اس کی لپیٹ میں آئے،بلکہ بہت سے گمراہ فرقےتک وجود میں آگئے،جیسے:قدریہ،روافض اور خوارج وغیرہ۔

یہ اختلاف بہت سے فتنوں اور شرور کے جنم دینے کا باعث بنا، والعیاذ باللہ تعالیٰ.

رسول اللہ ﷺ نے ایک دوسری حدیث میں امت میں وقوعِ اختلاف اور مختلف فرقوں میں بٹ جانے کی خبر دی ہے،بلکہ آپﷺ نے تہترفرقوں کی تحدید بھی فرمادی،اور یہ بات بھی واضح فرمادی کہ ان میں سے ایک کے علاوہ سب جہنم میں جائیں گے۔

یہ دونوں حدیثیں جہاں امت میں اختلاف پیداہونے کی خبر دے رہی ہیں وہاں اس اختلاف کی سنگینی کا بھی ذکرکررہی ہیں۔

واضح ہو کہ اختلاف کا وقوع باعث مذمت نہیں ہے،لیکن اختلاف کا دوام اور بقاء باعث مذمت بھی ہے اور تشویشناک بھی۔جس قوم میں کتاب وسنت کی عظیم الشان دولت موجود ہے، جوتاقیامِ قیامت نہ صرف یہ کہ موجود رہے گی بلکہ اپنی اصلی صورت میں محفوظ بھی رہے گی،اس قوم میں اختلاف کا باقی رہنا چہ معنی دارد؟

یہی وجہ ہے کہ دشمن کے مقابلے میں مسلم  امہ کے فشل اور ناکامی کا واحد سبب آپس کے اختلافات اور تنازعات کوقراردیاگیا ہے ،یعنی دشمن کا ہم پر غلبہ نہ تو ہماری قلتِ تعداد کی بناء پر ہے نہ قلتِ وسائل پر ،بلکہ باہمی اختلافات و افتراقات پر ہے:

[وَاَطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْہَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۝۴۶ۚ ]

(الانفال:۴۶)

ترجمہ:اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو، آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر و سہارہ رکھو، یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔

جنگِ احد میں فتح وکامرانی کے بعد اچانک شکست(خواہ عارضی ہی سہی)کا سبب بھی یہی تفرق تھا،یہ تفرق اطاعتِ رسول کے مقابلے میں تھا:

[وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللہُ وَعْدَہٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِـاِذْنِہٖ۝۰ۚ حَتّٰٓي اِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَآ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ۝۰ۭ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الْاٰخِرَۃَ۝۰ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْھُمْ لِـيَبْتَلِيَكُمْ۝۰ۚ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ۝۱۵۲ ]

(آل عمران:۱۵۲)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا جبکہ تم اس کے حکم سے انہیں کاٹ رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب تم نے پست ہمتی اختیار کی اور کام میں جھگڑنے لگے اور نافرمانی کی، اس کے بعد کہ اس نے تمہاری چاہت کی چیز تمہیں دکھا دی، تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور بعض کا ارادہ آخرت کا تھا تو پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تم کو آزمائے اور یقیناً اس نے تمہاری لغزش سے درگزر فرما دیا اور ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ بڑے فضل والاہے ۔

اس کے برعکس اگرمسلمان مجموعی حیثیت سے رسول اللہ ﷺ کی سنتِ مبارکہ پر متحد ہوجائیں اور اپنی صفوں میں موجود فرقہ بندی کی روش یکسر ترک کردیں تواللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہر میدان میں فتح وکامرانی کے جھنڈے گاڑتے جائیں گے۔

[وَلَوْ اَنَّھُمْ فَعَلُوْا مَا يُوْعَظُوْنَ بِہٖ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ وَاَشَدَّ تَثْبِيْتًا۝۶۶ۙ وَّاِذًا لَّاٰتَيْنٰھُمْ مِّنْ لَّدُنَّآ اَجْرًا عَظِيْمًا۝۶۷ۙ وَّلَہَدَيْنٰھُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا۝۶۸ وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ۝۰ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا۝۶۹ۭ ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللہِ۝۰ۭ وَكَفٰى بِاللہِ عَلِــيْمًا۝۷۰ۧ ](النساء:۶۶تا۷۰)

ترجمہ: اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یقیناً یہی ان کے لئے بہتر اور بہت زیادہ مضبوطی والا ہے اور تب تو انہیں ہم اپنے پاس سے بڑا ﺛثواب دیں اور یقیناً انہیں راہ راست دکھا دیں اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فرمانبرداری کرےگا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں یہ فضل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور کافی ہے اللہ تعالیٰ جاننے والاہے ۔

یہ آیاتِ کریمہ مسلمانوں کو دنیا میں دشمن کے مقابلے میں فتح ونصرت کی بشارت دیتی ہیں ،نیز اس کے مقابلے میں ثابت قدمی جیسی نعمت کی خوشخبری دیتی ہیں،اس کے علاوہ دنیا کی خیرمطلق اور ہدایت پر دوام وثبات کی نوید سناتی ہیںاور سب سے بڑھ کرقیامت کے دن انبیاء کرام ،صدیقین ،شہداء اور صالحین کی رفاقت کا عظیم الشان وعدہ کرتی ہیں،اور ان تمام بشارتوں کے حصول کی ایک ہی بنیاد ہے اور وہ ہر اس نصیحت کو قبول کرلینا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے ہم تک پہنچی ہیں۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہمارے تمام تر بگاڑ کا سبب سنت سے دوری اختیار کرکے باہمی افتراقات وتنازعات میں ملوث ہوجاناہے اور ہر قسم کی بھلائی خواہ اس کا تعلق دنیا سے ہو یاآخرت سے،اس وحدت پر ہے جو رسول اللہ ﷺ کی سنت کی بنیاد پر قائم ہوجائے۔

رسول اللہ ﷺ نے امت میں اختلافات کی موجودگی کی خبر دینےکےبعد،اختلافات سے نجات اورسلامتی کے راستے کی بھی نشاندہی فرمادی،جسے حتمی اور قطعی طورپر اختیار کرنے کا حکم بھی ارشاد فرمادیا،چنانچہ فرمایا:

فَعَلَيكُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المّهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ .

اس وقت تم پر فرض ہوگا کہ میری سنت کے ساتھ چمٹ جانااور خلفائے راشدین جوہدایت یافتہ ہیںکی سنت کے ساتھ بھی،میری سنت کو اپنی داڑھوںکے ساتھ مضبوطی سے دبالینا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اختلافات سے محفوظ رہنے کے لئے دوچیزیں اختیار کرنا ضروری ہیں:1رسول اللہ ﷺ کی سنت کے ساتھ تمسک.2خلفائے راشدین کی سنت کو اختیار کرنا۔

ان دونوں کو شدت کے ساتھ تھامے رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس پر ایک تو صیغہ (علیکم) دلالت کررہا ہے ،جو اسمِ فعل ہے اور امر کا معنی دیتا ہے، جو وجوب پردلالت کرتا ہے،دوسرا آپﷺ کا فرمانا:( عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ )یعنی:اس سنت کو داڑھوں میں دبالو،تاکہ گرفت انتہائی مضبو ط ہوجائےاور گمراہی پر مبنی کوئی فکر یا تحریک اس گرفت کو کمزور نہ کرسکے۔

واضح ہو کہ سنت سے مراد وہ راستہ ہے جس پر چلاجاچکاہو،چنانچہ رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین جو رسول اللہ ﷺ کی اتباع کے حریص تھے کا طریقہ ہی مکمل سنت کا مظہر ہے۔

خلفائے راشدین سے مراد:ابوبکرصدیق،عمربن خطاب ،عثمان بن عفان اور علی بن ابی طالب رضوان اللہ علیھم اجمعین ہیں،جن کی خلافت کو رسول اللہ ﷺ نے خلافتِ نبوت قراردیاہے،چنانچہ آپﷺ کا فرمان ہے:(خلافۃ النبوۃ ثلاثون سنۃ ، ثم یؤتی اللہ الملک ( ملکہ) من یشاء)یعنی:خلافتِ نبوت تیس سال تک رہے گی،پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہت عطافرمادے گا۔

(سنن ابی داؤد:(4646)یہ حدیث صحیح ہے اسے شیخ البانیaنے سلسلۃ صحیحۃ :(460)میں ذکر فرمایا ہے۔)

واضح ہوکہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی کے ساتھ ساتھ خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی اس لئے ضروری قرار دی گئی کہ بعض امور جیسے امورِ سلطنت خلفاء راشدین کے دور میں ہی متعین ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ کے دور میں اسلامی ریاست مدینہ منورہ تک محدود تھی لہذا ایک محدود نظام قائم تھا،لیکن خلفاء راشدین کے دور میں ریاست کو بڑی وسعت حاصل ہوئی،شرق وغرب اور اطراف واکناف میں ریاست کی عمل داری پھیل گئی،چنانچہ خلفاء راشدین نے حکومتی ڈھانچہ تشکیل دیا،مختلف مناصب تجویز کیے،ان سب کا مبنیٰ شریعت مطہرہ ہی تھا،لہذا اس سارے نظام کو اپنانے میں ہی سلامتی اور عافیت کی راہیں موجود ہیں۔

یہاں ایک اور نکتہ قابل غور ہے کہ حدیث میں خلفاءِاربعہ کو دو صفات کے ساتھ مقید کیاگیا ہے 1راشدین 2مہدیین۔

گویا ان کے لئے ناطق وحی رسول اللہ ﷺکی طرف سے یہ دو منفرد اعزاز بصورتِ تزکیہ موجود ہیں،ان کا کسی مسئلہ پر اکٹھاہوجانا کبھی گمراہی نہیں ہوسکتا،وہ راشد بھی ہیں اور ہدایت یافتہ بھی۔

اس نکتہ کو حافظ ابن رجب الحنبلی البغدادی aنے بڑے دلکش الفاظ میں واضح فرمایا ہے۔

وَإِنَّمَا وُصِفَ الْخُلَفَاءُ بِالرَّاشِدِينَ، لِأَنَّهُمْ عَرَفُوا الْحَقَّ، وَقَضَوْا بِهِ، فَالرَّاشِدُ ضِدُّ الْغَاوِي، وَالْغَاوِي مَنْ عَرَفَ الْحَقَّ وَعَمِلَ بِخِلَافِهِ.

وَفِي رِوَايَةٍ: ” الْمَهْدِيِّينَ ” يَعْنِي: أَنَّ اللَّهَ يَهْدِيهِمْ لِلْحَقِّ، وَلَا يُضِلُّهُمْ عَنْهُ، فَالْأَقْسَامُ ثَلَاثَةٌ: رَاشِدٌ وَغَاوٍ وَضَالٌّ، فَالرَّاشِدُ عَرَفَ الْحَقَّ وَاتَّبَعَهُ، وَالْغَاوِي: عَرَفَهُ وَلَمْ يَتْبَعْهُ، وَالضَّالُّ: لَمْ يَعْرِفْهُ بِالْكُلِّيَّةِ، فَكُلُّ رَاشِدٍ فَهُوَ مُهْتَدٍ، وَكُلُّ مُهْتَدٍ هِدَايَةً تَامَّةً فَهُوَ رَاشِدٌ، لِأَنَّ الْهِدَايَةَ إِنَّمَا تَتِمُّ بِمَعْرِفَةِ الْحَقِّ وَالْعَمَلِ بِهِ أَيْضًا.

یعنی:خلفاء کو راشدین کی صفت کے ساتھ موصوف کیاگیا ہے ؛ کیونکہ وہ حق کو پہچاننے والے اور اسی کے مطابق فیصلے صادر کرنے والے تھے،(الراشد) کی ضد (الغاوی) ہے،اور غاوی وہ شخص کہلاتا ہے جو حق تو پہچان لیتا ہے لیکن عمل وفیصلہ اس کے خلاف کرتا ہے،ایک روایت میں خلفاء کو (المھدیین) کی صفت کے ساتھ بھی موصوف کیا گیا ہے،جس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں حق کی ہدایت سے سرفراز فرمائے گا اور کبھی گمراہ نہیں ہونے دیگا۔

اس تعلق سے تین قسمیں سامنے آتی ہیں: 1راشد 2غاوی 3ضال،راشد وہ ہے جو حق پہچاننے والااور اس کی اتباع کرنے والاہو، غاوی وہ ہے جو حق توپہچان لے لیکن اس کی اتباع نہ کرے جبکہ ضال وہ شخص ہے جو یکسر حق نہ پہچان پائے۔

ہر راشد، مھتدی یعنی ہدایت یافتہ ہے،اور ہر ہدایت یافتہ راشد ہے؛کیونکہ ہدایت کی تکمیل معرفتِ حق اور عمل بالحق سے ہی ہوتی ہے۔(جامع العلوم والحکم:89/2)

خلفائے راشدین کی پیروی کے تعلق سے اس حدیث کو بعض لوگ تقلیدِ شخصی جیسی جامد    شیٔ کے اثبات کے لئے پیش کرتے ہیں،لیکن کہاں تقلیدِ شخصی کا جمود اور کہاں ان خلفاء کی پیروی جن کے لئے رسول اللہ ﷺ نے راشدین اور مھدیین ہونے کی ضمانت دی ہے۔

کیا یہ ضمانت کسی اور شخصیت کے لئے موجود ہے؟

واضح ہو کہ حدیث زیربحث کا تیسرا نکتہ یا یوں کہہ لیجئے کہ رسول کریم ﷺ کی تیسری وصیت جس پر ہماری گفتگوجاری ہے کی اساس یہ ہے کہ بالخصوص اختلافات اور تنازعات کے حل کی طرف جانا ضروری ہے اور اس کا راستہ ایک ہی ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے،بالفرض کسی مسئلہ کا حل اگر رسول اللہ ﷺ کی سنت سے نہ مل سکے توپھر ان خلفاء کی سنت کی طرف رجوع کرلیاجائے،جنہیں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے راشدین اور مھدیین جیسے القاب سے نوازاہے۔

اختلافات کے ازالہ کے لئے دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے،لہذا وہ لوگ جو باہمی اختلافات کے حل کے لئے اپنے اپنے خودساختہ ائمہ کرام سے چمٹے ہوئے ہیں اور اس دائرہ سے باہر نکلنے کے لئے بالکل تیار نہیں ہیں،انہیں اپنی اس غلط روش سے توبہ کرکے باہرآجاناچاہئے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۝۵۹ۧ ](النساء:۵۹)

ترجمہ:اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔

غور کیجئے !اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ہر تنازعہ کو خواہ وہ اعتقادی ہویاعملی ،سیاسی ہویا اخلاقی ،تجارتی ہو یا معاملاتی ،انہیںاللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ پر پیش کرنے کاحکم دیا ہے،تیسری کوئی صورت بیان نہیں فرمائی۔

بلکہ ( اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ) فرماکر اسی صورت کو علامتِ ایمان قرار دیا ہے،نیز یہ بھی فرمادیا کہ (ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۝۵۹)یعنی:یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔

ایک اور مقام پر فرمایا:[وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيْہِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُہٗٓ اِلَى اللہِ۝۰ۭ ](الشوریٰ:۱۰)

یعنی:اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے۔

یہ آیت کریمہ بھی بڑی صراحت سے یہ حقیقت متعین فرمارہی ہے کہ اختلافات کے حل کے لئے صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہی رجوع کیاجائے گا۔

افسوس ہم نے اس جادۂ حق سے صرفِ نظر برتاہواہے،اپنے اپنے ائمہ ومشائخ سے فیصلے کروانے پر مصرہیںاور اس خول سے باہر آنے پر آمادہ نہیں ہیں ،جس کانتیجہ یہ ہے کہ اختلافات قائم ہیں اور چاروں طرف بے برکتی کا راج ہے،اس سسکتی اور تڑپتی امت کے لئے مخرج صرف کتاب وسنت ہے،واللہ تعالیٰ ولی التوفیق.

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعینِ نووی(حدیث نمبر28)

                              …

جواب دیجئے