Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ اگست و ستمبر » اربعینِ نووی(حدیث نمبر :31، قسط نمبر :70)

اربعینِ نووی(حدیث نمبر :31، قسط نمبر :70)

عَنْ أَبي العَباس سَھلِ بنِ سَعدٍ السَّاعِدي رضي الله عنه قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النبي صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: يَا رَسُول الله: دُلَّني عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمَلتُهُ أَحَبَّني اللهُ، وَأَحبَّني النَاسُ؟ فَقَالَ: (ازهَد في الدُّنيَا يُحِبُّكَ اللهُ، وازهَد فيمَا عِندَ النَّاسِ يُحِبُّكَ النَّاسُ)

أخرجه ابن ماجۃ – كتاب: الزهد، باب: الزهد في الدنيا، (4102)

ترجمہ:ابوالعباس سھل بن سعدالساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ایک شخص نبیﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا،عرض کیا:یارسول اللہ ﷺ ایسے عمل کی رہنمائی فرمادیجئے جس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرنے لگے اور لوگ بھی؟آپﷺ نے فرمایا:دنیا میں زہد اختیار کرلو،اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا،اور لوگوں کے ہاتھوں میں جومال ومتاع ہے اس سے بھی زہد اختیارکرلوتولوگ بھی تم سے محبت کرنے لگیں گے۔

اس حدیث کے راوی معروف صحابی سیدناسہل بن سعد الساعدی  رضی اللہ عنہ ہیں،ان کا تعلق انصارِمدینہ سے تھا،ابوالعباس کنیت کے ساتھ معروف تھے،امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے وقت ان کی عمر ۱۵سال تھی،سن ۹۱ہجری میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے،اس وقت ان کی عمر ۱۰۰سال تھی،مدینہ منورہ میں فوت ہونے والے یہ آخری صحابی تھے۔(الاصابۃ:2/87)

اس حدیث میںایک سائل کے نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کا ذکر ہے،اس سائل کا نام معلوم نہیں،اگرکسی شخص کا نام معلوم نہ ہو، تو نام تلاش کرنے کے تکلف کی چنداں ضرورت نہیںہوتی؛کیونکہ نام کے تعین یا ابہام کا مضمونِ حدیث سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے جوامع الکلم کے مرتبہ پر فائز ہونے کی بڑی قوی دلیل ہے،کیونکہ سائل نے آپﷺ سے دوانتہائی عظیم حاجتوں کی بابت سوال کیاتھا،ان دونوں حاجتوں میں بظاہر تناقض ساپایا جاتا ہے،کیونکہ اللہ رب العزت کی محبت کے تقاضے کچھ اور ہیں اور انسانوں کی محبت کے تقاضے کچھ اور۔

آپﷺ نے ان دونوں محبتوں کے حصول کو ایک ہی جملہ میں جمع فرمادیااور اس کے لئے ایک ہی عمل کی نشاندہی فرمادی،جو آپﷺ کے فرمان:(اعطیت جوامع الکلم) کی صداقت اور حقانیت کی انتہائی واضح دلیل ہے۔

یہ عظیم نکتہ حدیثِ رسول ﷺکی عظمت،اہمیت اور ضرورت کی زبردست دلیل بھی ہے،چنانچہ آپﷺ کی زبانِ مبارک پر اللہ تعالیٰ نے جوامع الکلم جاری فرماکر آپﷺ کو یہ صلاحیت عطافرمادی کہ بعض اوقات ایک ہی جملے میں جنت کا پوراپروگرام واضح فرماسکتے تھے،لہذا جس شخص کا بھی صدقِ دل سے رسول اللہ ﷺ کی احادیثِ مبارکہ کے ساتھ تعلق جڑگیا وہ یقیناً ایسی احادیث تک رسائی حاصل کرسکے گا جن میں انتہائی جامعیت اوراختصار کے ساتھ حصولِ جنت کا پروگرام موجود ہو۔

(ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء)

اس حدیث سے صحابۂ کرام کی طلبِ خیر کی حرص ثابت ہوتی ہے،یہ نفوسِ قدسیہ کس قدر ہر خیر کے حریص ہواکرتے تھے، اور کس قدر امورِ خیر کی طرف سبقت لے جانے کا سوچاکرتے تھے،چنانچہ یہ صحابی جو آپﷺ کی خدمت میںسائل کی حیثیت سے آیااور اپنے تمام تر فقر اور تنگیٔ معیشت کے باوجود نہ تو دنیا کی حرص ظاہر کی نہ طلبِ دنیا کاسوال کیا،اسے نہ کسی عہدے کی حرص تھی نہ ہی دنیوی فخر اور ریاءکی تمناتھی۔

اس کی طلب تھی تویہ تھی کہ دنیا میں ،میں کیسے لوگوں کا محبوب بن جاؤںاور جب قیامت قائم ہو تو اللہ رب العزت کا محبوب بن چکاہوں۔

اللہ رب العزت کی محبت ہی سب سے اعلیٰ مقصد اور سب سے عمدہ غایت ہے،یہی نکتہ اس عظیم صحابی کی سوچ کا محور تھا،کتنے عرصہ سے یہ فکر اس کے دامن گیر رہی ہوگی،کتنے دن رات ان سوچوں میں گم رہاہوگا، بالآخر رسول کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضری کی سعادت حاصل ہوگئی اور اپنی یہ قیمتی خواہش آپﷺ کے سامنے رکھ دی،’’يَا رَسُول الله: دُلَّني عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمَلتُهُ أَحَبَّني اللهُ، وَأَحبَّني النَاسُ؟‘‘یارسول اللہ ﷺ ایسے عمل کی رہنمائی فرمادیجئے جس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرنے لگے اور لوگ بھی؟

رسول اللہ ﷺ نے جوجواب عنایت فرمایاوہ واقعۃً آپ ﷺ کے جوامع الکلم کی خوبی سے متصف ہونے کی واضح دلیل ہے۔

اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کے لئے ارشاد فرمایا:

ازهَد في الدُّنيَا يُحِبَّكَ اللهُ.

یعنی:دنیا میں زہد اختیار کرلو،اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا۔

فقیہ الزمان شیخ ابن عثیمین  رحمہ اللہ زہد کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:والزهد في الدنيا الرغبة عنها، وأن لا يتناول الإنسان منها إلا ما ينفعه في الآخرة، وهو أعلى من الورع، لأن الورع: ترك ما يضر من أمور الدنيا، والزهد: ترك مالا ينفع في الآخرة.یعنی:دنیا میں زہد اختیار کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس سے مکمل بے رغبتی اختیار کرلے،اور دنیا میں جتنی بھی چیزیں ہیں ان میں سے صرف وہ چیزیں لے لےجو آخرت میں نفع دیں۔(زہد)کا مقام (ورع) سے بہت اونچاہے؛کیونکہ ورع سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی ہر وہ چیز چھوڑدینا جو نقصان دہ ہو،جبکہ زہد کا معنی یہ ہے کہ دنیا کی ہر وہ شیٔ ترک کردینا جس کاآخرت میں کوئی فائدہ نہ ہو۔

ظاہر ہے کہ نفع سے خالی چیز کو چھوڑ دینےکادرجہ ،نقصان دینے والی چیز کو چھوڑ دینے سے زیادہ ارفع واعلیٰ ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کی ذکرکردہ اس تعریف کی تائیدشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام سے بھی ہوتی ہے،وہ فرماتے ہیں:

الزہد المشروع ھو ترک الرغبۃ فیما لاینفع فی الدار الآخرۃ .یعنی: زہدِ مشروع کی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی جو چیزآخرت میں نفع بخش نہ ہو اس کی رغبت و خواہش ہی دل سے نکل جائے۔

(فتاویٰ ابن تیمیہ:10/21)

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: الزہد سفر القلب من وطن الدنیا وأخذہ فی منازل الآخرۃ.یعنی:زہد یہ ہے کہ دل دنیا کے وطن سے نکلنے کا سفر اختیار کرکے ،منازلِ آخرت میں پہنچ جائے۔

(مختصرمنہاج القاصدین:324)

حافظ ابن رجب البغدادی رحمہ اللہ نے زہد کے تعلق سے معروف عالم اور زاہد ابوسلیمان الدارانی  رحمہ اللہ کا بڑا نفیس کلام نقل فرمایا ہے،وہ فرماتے ہیں:  عراق میں لوگوں نے حقیقتِ زہد کے بارے میں مختلف آراء پیش کیں،کچھ نےکہا:زہد یہ ہے کہ لوگوں سے ملناجلناچھوڑ دو، کچھ نے کہ زہد ترکِ شہوات کانام ہے،کچھ نےکہا:زہد پیٹ بھر کے کھانانہ کھانے کانام ہے،یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں ،لیکن میں کہتاہوں کہ حقیقتِ زہد یہ ہے کہ ہر وہ چیز چھوڑ دوجو آپ کو اللہ تعالیٰ سے غافل کردے۔(جامع العلوم والحکم 2/186)

امام اہل السنۃ احمد بن حنبل  رحمہ اللہ نے دنیا کے ساتھ کم سے کم امیدیں وابستہ کرنے کوزہدکہاہے،ان کے اس قول سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ زہد اس چیز کا نام نہیں کہ دنیا کو اوراس کی تمام تر لذات کو یکسر خیرباد کہہ دیاجائےاورمکمل بے رغبتی اختیارکرلی جائے،بلکہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے دنیا کے ساتھ ایک واجبی تعلق قائم رکھنااورتمام تر ربط آخرت کے ساتھ استوارکرلینا،حقیقتِ زہد کے منافی نہیں ہے،لیکن دنیا کے ساتھ ایسا اشتغال اور انہماک جو دین سے دوری اور آخرت سے غفلت کا باعث بنے ،زہد کے منافی بھی ہے اور انتہائی مذموم عمل بھی۔

رسول اللہ ﷺ کے فرامین پر تدبر کرنے سے یہ نکتہ عیاں ہوتا ہے کہ فقیرانہ زندگی یا تنگیٔ معیشت ایک انتہائی پسندیدہ پہلوہے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبرِ جمیل کی توفیق ودیعت ہوجائے۔

رسول اللہﷺ کے بعض فرامین پر غورکرلیتے ہیں:

(۱)آپﷺ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے (تاکہ پوری توجہ سے آپ کی یہ بات سن لیں)فرمایا:(کن فی الدنیا کأنک غریب أو عابر سبیل)یعنی:دنیا میں اس طرح رہوگویا تم مسافرہویا کوئی راستہ عبور کرنے والے ہو)(بخاری:6416)

اس حدیث کے پیش نظر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: جب شام ہوجائے تو صبح کا انتظار نہ کرو،اورصبح کرلو توشام کا انتظار نہ کرو،اور اپنی صحت میں سے اپنے مرض کے لئے کچھ حاصل کرلو، اور اپنی حیات میں سے اپنی موت کے لئے کچھ لے لو۔

(۲) جنگِ احزاب کے موقع پر جبکہ صحابہ کرام پیٹوں پر پتھر باندھے خندق کھودنے میں مصروف تھے ،ان کی زبانوں پر یہ شعر جاری تھا:

نحن الذین بایعوا محمدا

علی الجھاد مابقینا ابدا

یعنی:ہم نے محمدکریم ﷺ کے ہاتھ پر جب تک زندہ ہیں جہاد کرتےرہنے کی بیعت کرلی ہے۔

اس کے جواب میں رسول اللہﷺ فرمارہے تھے:

اللھم لاعیش الا عیش الآخرۃ

فاغفر للأنصار والمھاجرۃ

یعنی:اے اللہ!اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے،پس تو انصار ومہاجرین کو معاف فرمادے۔(بخاری:2834،صحیح مسلم:1805)

(۳)سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺعوالیٔ مدینہ کے ایک بازار سے گزر رہے تھے،اور آپ کے دونوں جانب صحابہ  کرام بھی چل رہےتھے،ایک چھوٹے قد کی مردہ بکری کے پاس سے گزرے ،آپﷺ نے اس کاکان پکڑ کر فرمایا:کون ہے جو یہ بکری ایک درہم میں خرید لے؟صحابہ نے عرض کیا:ہم تو اسے مفت میں لینے کے لئے بھی تیار نہیں،اور آخرہم اس کا کیاکریں گے؟آپﷺ نے پھر فرمایا:کیا تم یہ چاہتے ہوکہ یہ بکری تمہاری ہوجائے ؟عرض کیا:اگر یہ زندہ ہوتی تو پھر بھی عیب دارہوتی ؛کیونکہ یہ چھوٹے قد کی کن کٹی بکری ہے،یہ تومردہ ہے،تورسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:(فواللہ للدنیا أھون علی اللہ من ہذا علیکم)یعنی:اللہ کی قسم! پوری دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس مردہ بکری سے بھی زیادہ حقیر وذلیل ہے۔

(صحیح مسلم:2957)

(۴)عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:(اطلعت فی الجنۃ فرأیت أکثر أھلھا الفقراء واطلعت فی النار فرأیت أکثر أھلھاالنساء)

(صحیح بخاری:6449صحیح مسلم:2737)

یعنی:میں نے جنت میں جھانکاتودیکھاکہ جنت میں فقراء زیادہ ہیں،اور جہنم میں جھانکاتودیکھاکہ جہنم میں عورتیں زیادہ ہیں۔

(۵)ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: دنیامیٹھی اور سرسبز ہے،اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں بھیج کر دیکھ رہا ہے کہ تم کیاکرتے ہو،پس دنیا سے بچواور عورتوں سے بچو،بنی اسرائیل کا (پہلا) فتنہ عورتوںکے تعلق سے ہی تھا۔(صحیح مسلم:2742)

(۶)عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس تین افراد آئے اور کہا:اے ابومحمد!ہمارے پاس نہ تو نان نفقہ ہے،نہ ہی سواری اور نہ دیگر سامان،فرمایا:تم جس طرح چاہوکرلو،یاتو ہمارے پاس دوبارہ آؤتو ہم تمہیں جوآسانی سے دے سکے دےدیں،یاپھر تمہارا معاملہ امیر المؤمنین سے ذکر کردیںاوریاپھر تم صبر سے کام لےلو۔

میں نے رسول اللہ ﷺسے یہ سنا ہے:فقراء مہاجرین قیامت کے دن مالداروں کی بنسبت چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔یہ سن کر ان لوگوں نے کہا:ہم کچھ نہیں مانگتے اور صبرکرلیتے ہیں۔

(صحیح مسلم:2979)

(۷)ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے درہم ودینار اور کپڑے لٹے کے پجاری کو تبارہ وبرباد ہونے کی بددعا دی ہے،جس کاکردار یہ ہوتا ہے کہ دنیا کامال دیاجائے توخوش رہتا ہے اور نہ دیاجائے تو ناراض ہوجاتاہے۔(صحیح بخاری:6435)

(۸)سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:(الدنیا سجن المؤمن وجنۃ الکافر)یعنی:دنیا مؤمن کاقیدخانہ اور کافر کی جنت ہے۔(صحیح مسلم:2956)

(۹)سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:(لوکان الدنیا تعدل عنداللہ جناح بعوضۃ ماسقی کافرا منھا شربۃ ماء)یعنی:اگر یہ ساری دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیتا۔(ترمذی:2320)

(۱۰)ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے دنیا کی حقیقت واضح کرتے ہوئے قیامت کا ایک قصہ بیان فرمایا:قیامت کے دن دنیا کے سب سے بڑے نعمتوں سے پروردہ شخص کو لایاجائے گااور اسے جہنم کا ایک غوطہ دیاجائےگا،پھرپوچھاجائےگا:اے ابن آدم! کیاتو نے کبھی کوئی خیردیکھی ہے؟کیا تیرے قریب سے کوئی نعمت گزری ہے؟کہے گا: اللہ کی قسم! نہیں۔

پھر ایک دنیا کے سب سے بڑے تکلیف زدہ شخص کو لایاجائےگا، اسے جنت کا ایک غوطہ دیاجائے گا،پھر پوچھاجائےگا:اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف چکھی ہے؟کیا تیرے پاس سے کسی تکلیف کا گزر ہوا ہے؟کہے گا:اللہ کی قسم!نہیں،نہ تو میں نے کوئی مصیبت جھیلی ہے نہ ہی میرے قریب سے کسی تکلیف کاگزرہواہے۔(صحیح مسلم:2807)

رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں زہد کی جھلکیاں

(۱)نعمان بن بشیر فرمایاکرتے تھے:آج تمہیں ہرکھانا اورپینا میسر ہے ،رسول اللہ ﷺ کوتو پیٹ بھر کر ردی کھجوریں بھی نصیب نہیں ہوتی تھیں۔(صحیح مسلم:2977)

(۲)ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ ایک قوم کے پاس سے گزرے جو بھنی ہوئی بکری کا گوشت کھارہے تھے،انہوں نے ابوھریرہ کو کھانے کی دعوت دی،ابوھریرہ نے انکار کردیا اورفرمایا:رسول اللہ ﷺ دنیا سے گزرگئےاورکبھی جوکی روٹی سے پیٹ بھرکے کھانانصیب نہیں ہوا۔(صحیح بخاری:5414)

(۳)ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا کیاکرتےتھے:(اللھم اجعل رزق آل محمد قوتا)

(صحیح بخاری:2460صحیح مسلم:1055)

یعنی:اے اللہ! اے محمدﷺ کو کفایت بھر روزی عطافرما۔ (یعنی: زیادہ اور اسراف والی روزی سے بچا کر رکھنا)

(۴)سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے، پوراپورا مہینہ ایسا گزر جاتا کہ ہمارے گھروں میں چولھا نہیں جلتاتھا،کھجوروں اور پانی سے گزر بسرہوتی تھی۔(صحیح بخاری:6458صحیح مسلم:2972)

ایک حدیث میں متواتر تین تین چانداسی حالت میں گزرجانے کا ذکر ہے۔(صحیح بخاری:2567)

(۵)سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاہی سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کاتھا جس کے اندر کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے ۔

(صحیح بخاری:6456صحیح مسلم:2082)

(۶)ایک موقع پر آپﷺ نے ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کوفرمایاتھا: اگر میرے پاس احدپہاڑ کے برابر سوناہوتو مجھے کوئی خوشی نہ ہو،اگر ایسا ہوجائے تو میں تین دن کے اندر سب کچھ تقسیم کردوں الایہ کہ اگر میرے کسی صحابی پر ایک دینار قرض ہو تو اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے میں ایک دینار روک کے رکھ لوں۔(صحیح بخاری:6444)  (جاری ہے)

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعینِ نووی (حدیث نمبر:30 ،قسط نمبر 69)

عَنْ أَبِيْ ثَعْلَبَةَ الخُشَنِيِّ جُرثُومِ بنِ نَاشِرٍ رضي الله عنه عَن رَسُولِ اللهِ صلى الله …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے