خشوع کیاہے؟

[قَدْاَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ۝۱ۙ الَّذِيْنَ ہُمْ فِيْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ۝۲ۙ ]

ترجمہ:تحقیق فلاح پائی ایمان والوں نے جو اپنی نمازوں میں خشوع (اورعاجزی )کرتےہیں۔

 خشوع کسےکہتے ہیں؟

کتب تفاسیر میں ’خاشعون‘ کا معنی ’خائفون،ساکنون‘ کیاگیاہے، یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور سکون اختیار کرنے والے۔

لفظ خشوع لغوی طور پر اپنے اندر سکون ،اطمینان ،ٹھہراؤ،وقار اور تواضع کا مفہوم رکھتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ ان سب کیفیات پر آمادہ کرنے والی صرف ایک ہی چیز ہےاور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ہیبت وجلال اور اس کاخوف،اور یہ تصور کہ وہ اپنے بندے کو دیکھ رہا ہے۔

(مدارج السالکین ،ابن القیم)

 خشوع

ایک ایسا منفرد علم اور ایسی عظیم عبادت ہے جسے سب سے پہلے اٹھالیاجائے گا اور شاید ہم لوگوں کازمانہ بھی آخری زمانہ ہے اوربد قسمتی سے ہم میں سیدنا حذیفہtکا یہ قول درست ثابت ہورہا ہے :

اول ما تفقدون من دینکم الخشوع وآخر ماتفقدون من دینکم الصلاۃ ورب مصل لاخیر فیہ ویوشک ان تدخل المسجد فلاتری فیہ خاشعا.

(مدارج السالکین ،ابن القیم)

تم لوگ اپنے دین میں سب سے پہلے خشوع کا فقدان پاؤگے اور سب سے آخر میں نماز بھی اٹھالی جائے گی اور کتنے ہی نمازی ایسے ہیں کہ ان میں خیر نہیں ہوتی ،عنقریب ایسے ہوگا کہ تم کسی مسجد میں جاؤگے مگر اس میں تمہیں کوئی خاشع ڈرنے والابندہ نظر نہیں آئے گا۔

یہ ایک ناقابل انکارحقیقت ہے کہ ہم اپنی ذات میں اور اپنے بہت سے احباب سے یہ شکایت سنتے ہیں نماز میں دنیاوی خیالات اور وسوسے بہت آتے ہیں ،نماز میں دل جمعی نہیں ہوتی، وغیرہ اور اس طرح کے دیگر کئی سوالات سے اس موضوع کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

الخشوع ھو قیام القلب بین یدی الرب بالخضوع والذل.

خشوع یہ ہے کہ دل اپنے رب کے سامنے انتہائی جھکاؤ ،پستی اور ذلت کا اظہار کرے ۔

امام مجاہدرحمہ اللہ[وقوموا للہ قانتین]کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بندے کا اللہ کے خوف سے اس طرح سے پرسکون ہوکرکھڑا ہونا کہ دل میں ہیبت،ڈر اور خوف ہونظریں نیچی ہوں اور پہلو بھی دبے ہوئے ،نرم پڑچکے ہوں ان سب کی ملی جلی کیفیات کو قنوت سے تعبیر کیاجاتاہے۔

 خشوع کامقام اور اس کے اثرات

خشوع کااصل مقام ومحل دل ہے اور پھر اس کے اثرات ،اعضاء پر نمایاں ہوتے ہیں،جسم کے تمام اعضاء دل کے تابع ہوتے ہیں اگر غفلت،وساوس اور انتشار خیالی سے دل کاخشوع بگڑجائے تودیگر اعضاء وجوارح کی عبادت وعبودیت بھی بگڑ جاتی ہے ،جسم کی سلطنت میں دل کی مثال بادشاہ کی سی ہے، اور اعضاء اس کا لشکر ہیں تمام اعضاء وجوارح دل کے ہی تابع ہوتے ہیں اس کےحکم کے مطابق حرکت میں آتے ہیں اگر دل کی حکومت نہ رہے اور وہ معطل ہوجائے تو اس کی رعیت اعضائے جسم بھی کس طرح متحرک ،مرتب ومنظم نہیں رہ سکتے لیکن اگر کوئی بناوٹ وتکلف سے خشوع وخشیت کااظہار کرتا ہے تو یہ ایک انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے کیونکہ اخلاص کی اہم ترین صفت یہی ہے کہ اسے ہمیشہ چھپایا ہی جاتاہے۔

 خشوع میں اخلاص پیداکیجئے

سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ اکم وخشوع النفاق

ترجمہ:اپنے آپ کو منافقانہ خشوع سے بچاؤ۔

پوچھاگیاکہ منافقانہ خشوع کیاہوتاہے؟ فرمایا یہ کہ تم جسم کو تو خاشع اور متواضع بناؤمگر دل میں یہ کیفیت نہ ہو اور وہ خاشع ڈرنے والانہ ہو۔

جناب قاضی فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کہ سلف رحمہ اللہ بات انتہائی بری سمجھتے تھے کہ آدمی دلی کیفیت کےبرخلاف بناوٹ وتکلف سے اپنے آپ کو خاشع اور متواضع دکھائے کسی بزرگ نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے کندھے بہت ہی جھکے ہوئے اور بدن بہت ڈھیلا ڈھالاتھا توانہوں نے اسے متنبہ کیا اورکہا ارے میاں! خشوع یہاں دل میں ہوتا ہے ادھرکندھوں میں نہیں۔(مدارج السالکین)

علامہ ابن قیمرحمہ اللہ خشوع ایمانی اورخشوع نفاق میں فرق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

ایمانی خشوع کی علامت یہ ہے کہ دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کاوقار اس کی ہیبت وجلال کاخوف اور حیاہو ،دل عاجزی وانکساری سے جھکاہوا ہو،شرمندگی، محبت اورحیاسے بھرپورہو،مالک کی ایک نعمت نظروں میں ہواور اپنی طرف سے اس کے حقوق کی پامالی کا بھی احساس ہو تو اس کیفیت میں دل یقیناخاشع اورڈراہواہوگا اور اعضاء وجوارح میں بھی کیفیت آئے گی اور اس کےبالمقابل منافقانہ خشوع جو محض بناوٹ اور تکلف سے اعضاء پرطاری کیاجاتاہے اس کا دل پر ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہوتا اسی لئے بعض صحابہ کرام yسے یہ منقول ہے:اعوذباللہ من خشوع النفاق .

اے اللہ!میں منافقانہ خشوع سے تیری پناہ چاہتاہوں۔

الغرض اللہ کاخاشع بندہ وہ ہے جس کے نفس امارہ سے خواہشات کی آگ بجھ چکی ہو،دل سے اس کا دھواں نکل چکاہو،ان آلائشوں سے اس کا سینہ مجلاہوچکاہو،اللہ کی عظمت کانور اس کے چہرے میں دکھتاہو اور نفس کی بے لگام خواہشات اللہ کے خوف اور وقار کی وجہ سے مردہ ہوگئی ہوں،دل میں اللہ کی عظمت کاوقار جڑپکڑ چکاہو،اعضاء وجوارح میں سکون ہو، زبان ودل اس کے ذکر سے تسلی وسکون پاتے ہوں اور رب کی طرف سے ایک طرح کی سکینت اس پر نازل ہوتی ہو اور نفس کامل طور پر اس(اللہ) کی طرف جھکنے والابن چکاہواور’’المخبت‘‘منکسر اور متواضع آدمی کو کہتے ہیں ،ایسی زمین جو دبی ہوئی اور پست ہو،عربی میں’’خبت‘‘ کہلاتی ہے کہ اس میں دباؤ ،جھکاؤاور ڈھلان کی وجہ سے پانی جمع ہوجاتا ہے اور’’قلب مخبت‘‘ بھی ایسے ہی ہوتا ہے کہ اس میں اللہ کاڈر ہوتا ہے اور ساتھ ہی اطمینان وسکون بھی جیسے کسی ڈھلان دار زمین کی طرف پانی بہہ آتا اور اس میں قرارپکڑلیتا ہے، پھراس کی علامت یہ بنتی ہے کہ بندہ اپنے اللہ کی عظمت اور اس کے جلال کے سامنے اپنی ذلت وانکساری کااظہار کرتے ہوئے سجدے میں گرپڑتا ہے،اس کا سر اس کے سامنے سجدے سے اٹھتا ہی نہیں جب تک کے اس سے ملاقات نہ کرلے، کچھ اس طرح کی صورت بنتی ہے خشوع ایمانی کی!اور نماز میں خشوع صرف ایسے آدمی کوحاصل ہوسکتا ہے جو اپنے دل کو صرف اس کے لئے خالی کردے،ادھرادھر کی مشغولیات سے منہ پھیر کے صرف اس میں مشغول ہو اپنی تمام ترمصروفیات کے مقابلے میں اپنی عبادت اور بندگی کو ترجیح دے تبھی یہ(نماز) اس کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا اطمینان بنتی ہے جیسے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

وجعلت قرۃ عینی فی الصلاۃ.(مسند احمد، مستدرک حاکم)

میری آنکھوں کی ٹھنڈک تونماز میں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے خشوع اختیار کرنے والے بندے اور بندیوں کا تذکرہ اپنےکلام پاک میں فرمایا ہے:

[اَعَدَّ اللہُ لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا۝۳۵]

ترجمہ: اللہ نے ان کے لئے بڑی مغفرت اور اجرعظیم تیار کررکھا ہے۔(الاحزاب:۳۵)

   خشوع کے فوائد

خشوع کی وجہ سے بندے کے لئے نماز جیسابھاری عمل ازحد ہلکا، خفیف اور آسان(بلکہ محبوب ومرغوب) ہوجاتا ہے فرمایا:

[وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ۝۰ۭ وَاِنَّہَا لَكَبِيْرَۃٌ اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْنَ۝۴۵ۙ ](البقرہ:۴۵)

ترجمہ:صبر اورنماز کے ساتھ مددحاصل کروبلاشبہ یہ نماز بڑا بھاری عمل ہے،مگرخاشعین ڈرنے والوں کے لئے نہیں۔

ناطق وحی رسول اکرم ﷺ کافرمان ہے:

اول شیٔ یرفع من ہذہ الامۃ الخشوع حتی لاتری فیھا خاشعا.(المعجم الکبیر لطبرانی)

اللہ تعالیٰ ہمیںخشوع اختیار کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین

About حافظ زبیر علی جمالی

جواب دیجئے