Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اکتوبر » اربعینِ نووی حدیث نمبر:23 قسط:55

اربعینِ نووی حدیث نمبر:23 قسط:55

(۷) وَالقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَو عَلَيْكَ.
اورقرآن آپ کے حق میں یاآپ کے خلاف حجت ہے۔
قرآن پاک اللہ تعالیٰ کاکلام ہے، جسے جبریل uنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لاکر،رسول اللہ ﷺ کے قلبِ اطہر پہ اتارا،جس میں کسی قسم کے تغیروتبدل کا کوئی امکان نہیں؛کیونکہ جبریلuقوی بھی تھے اور امین بھی،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ۝۱۹ۙ ذِيْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ۝۲۰ۙ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ۝۲۱ۭ ](التکویر:۱۹تا۲۱)
ترجمہ:یقیناً یہ ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے ،جو قوت والاہے، عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے،جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے امین ہے ۔
جبریلuکے امین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کلامِ مقدس میںاپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہیں کرسکتے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں امین قراردیا ہے،اورقوت والاہونے کا معنی یہ ہے کوئی دوسرا ان پر غلبہ حاصل نہیں کرسکتاکہ وحی ٔ الٰہی میں تلاعب کے ذریعے کوئی تبدیلی پیدا کرسکے۔
واضح ہو کہ قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے کا معنی یہ ہے کہ یہ حقیقتاً اللہ تعالیٰ کاکلام ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایااور جبریل امین نے سنا اور پھر اسے سن کر رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے اور آپ کے قلبِ اطہر پہ بکمال حفاظت وامانت اُتاردیا۔
یہی وہ قول ہے جس پر سلف صالحین کا عقیدہ قائم تھا،چنانچہ قرآن حکیم لوحِ محفوظ میں مکتوب ومکنون تھا،رسول اللہ ﷺ کے اعلانِ نبوت کے بعد جس وقت، جتنا قرآن نازل کرنا مقصود ہوتا،اللہ تعالیٰ وہ حصہ جبریل امین پر بصورتِ کلام القاء فرمادیتااور جبریل uاسے رسول اللہ ﷺ تک پہنچادیتے۔
اہل بدعت اس حوالے سے بہت زیادہ تحریف اور تخلیط کا شکار ہوئے ہیں،ان کے بقول قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہے،بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی تعبیر یامدلول ہے،ان کا کہنا ہے کہ قرآن مجید کے حروف،اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں،وہ کلام اللہ کو کلام نفسی قراردیتے ہیں، حروف اور اصوات کو کلام اللہ نہیں مانتے،لہذا اللہ تعالیٰ اپنے کلام جودرحقیقت کلام نفسی ہے کی تعبیر ان حروف سےفرماتاہے،جو قرآن پاک میں موجود ہیں،جس کامعنی یہ ہوا کہ ان کے نزدیک قرآن مجید مخلوق ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نفس میں موجود کلام کی تعبیرواظہار کے لئے پیدا فرمایا،یہ اشاعرہ کے عقیدہ کا ملخص ہے۔(والعیاذباللہ)
معتزلہ قرآن مجید کو تمام مخلوقات کی طرح ایک مخلوق تصور کرتے ہیں،معتزلہ اور اشاعرہ کے قول میں فرق یہ ہے کہ معتزلہ قرآن پاک کو کلام اللہ مانتے ہیں مگر ساتھ ساتھ یہ کہتے ہیں کہ اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے،جیسےکہ تمام مخلوقات مثلاً:آسمانوں اورزمینوں وغیرہ کو پیدا فرمایا۔جبکہ اشاعرہ قرآن مجید کو کلام اللہ مانتے ہی نہیں،بلکہ کلام اللہ کی تعبیر یا مدلول مانتے ہیں، جس کا معنی یہ ہوا کہ معتزلہ کا قول ،اشاعرہ کے قول سے بہتر ہے،اگرچہ دونوں اقوال باطل ہیں،اور حق یہ ہے کہ قرآن مجید کلام اللہ ہے،مخلوق نہیں ہے،اللہ تعالیٰ نے انہی حروف کے ساتھ کلام فرمایا،جبریل امین نے اللہ تعالیٰ سے سنا اور رسول اللہ ﷺ تک پہنچا دیا،گویا یہ حروف بھی کلام اللہ ہونے میں حق ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آواز کا مسموع ہونا بھی حق ہے۔
وَالقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَو عَلَيْكَ.
قرآن پاک کے آپ کے حق میں یا آپ کے خلاف حجت ہونے کا پہلا معنی یہی ہے کہ آپ قرآن مجید کو کیاسمجھتے ہیں؟اگر اسے حقیقتاً کلام اللہ مانتے ہیں جیسا کہ سلف صالحین ائمہ اہل السنہ کا مذہب ہے تو یہ آپ کے حق میں حجت ہوگا،اور اگر اسے کلام اللہ ماننے سے انکاری ہیں تو پھر یہ آپ کے خلاف حجت ہوگا۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر قرآن مجید پر کامل اورصحیح ایمان لائے اور اس میں بیان شدہ تمام اوامرونواہی کو مانا،تمام اخباروقصص کو سچاجانا، مستقبل کی تمام اخبار وانباءکی تصدیق کی ،کسی قسم کے شک کے بغیرتو یہ قرآن آپ کے حق میں حجت ہوگا،اوراگر کسی امرونہی یا قصہ وخبر میں انکار یا شک وشبہ کا پہلوبرتاتو یہ قرآن آپ کے خلاف حجت ہوگا۔
تیسری بات یہ ہے کہ اگر قرآن مجید کی تعلیمات پر بصدجزم ویقین عمل کیا اور اس پر مستقل قائم رہے تو یہ قرآن آپ کے حق میں حجت ہوگا اور اگر اس کی تعلیمات کوا پنانے میں انکاریا شک وشبہ یا تغافل وتکاسل کا پہلواپنالیاتو یہ قرآن آپ کے خلاف حجت ہوگا۔
الغرض ہرمسلمان حامل قرآن ہے،کچھ مسلمان اس کے جملہ حقوق اداکرکے کامیاب وکامران قرارپائیں گے،جبکہ کچھ اس کے حقوق کی ادائیگی سے قاصرہوںگے،نتیجۃً تباہ وبربادہوجائیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان جو قرآن کو حجت بتلارہا ہے،آپصلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت کا ایک نشان ہے،کیونکہ اب قرآن مجید کے ساتھ عدمِ عمل کا کوئی عذرباقی نہیں بچا،یعنی کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھ تک قرآن نہیں پہنچا،یہ حجت تو پوری خلق پر قائم ہوچکی ہے،چنانچہ آج مصحف ہرمقام پر موجود ہے،مساجدومجالس میں پڑھاجارہا ہے،وسائل اعلام (میڈیا)میں اس کی تلاوت جاری وساری ہے،جو شخص قرآن پڑھنا یا سیکھنا چاہے تو اس کیلئے اسباب وسائل میسر ہیں،لہذا قرآن پاک بطورِ حجت موجود ہےاور کسی شخص کے پاس عدمِ موجودگی کا عذر نہیں ہوسکتا۔
قرآن مجید نے لوگوں کو دوقسموں میں تقسیم کردیا،تیسری کوئی قسم نہیں: یا تو یہ آپ کے حق میں حجت ہے ،یاپھر آپ کے خلاف، تیسرا کوئی راستہ نہیں۔
مثال کے طور پہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ ](البقرۃ:۴۳)
یعنی: نماز قائم کرواور زکاۃ دو۔
جس شخص نے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے نماز قائم کرلی اور زکاۃ ادا کردی تو یہ قرآن اس کے حق میں حجت ہے،لیکن جو شخص نماز اور زکاۃ سے غافل رہا تو یہ قرآن اس کے خلاف حجت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور حدیث میں دنیوی اعتبار سے بھی تعلق بالقرآن یا عدمِ تعلق بالقرآن کے دونتیجے بیان ہوئے ہیں:
«إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ».(صحیح مسلم،الرقم:۲۶۹)
یعنی: اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی وجہ سے کچھ قوموں کو رفعتیں عطا فرماتا ہے اور قرآن پاک کی وجہ ہی سے کچھ قوموں کو ذلت اور پستی میں دھکیل دیتا ہے۔
بات بالکل واضح ہے،جولوگ قرآن پاک پر عمل کرتے ہیں اور اس کی حدود کا مکمل احترام کرتےہیں،وہ بلندیوں اور رفعتوں سے مالامال ہوجاتے ہیں،اس کے برعکس جو لوگ عمل بالقرآن سے قاصر ہیںاور حدود اللہ کے احترام سے پہلوتہی برتتے ہیںتو یہ قرآن ان کیلئے ذلتوں اور پستیوں کا پیغام ثابت ہوگا۔
الغرض قرآن پاک کے ساتھ دوطرح کا تعلق ہی قائم ہوسکتا ہے، تیسری کوئی صورت نہیں،اور نتیجے بھی دوہی طرح کے برآمد ہوسکتے ہیں تیسری کوئی شکل نہیں۔
(۸)کُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَو مُوبِقُهَا.
اور تمام لوگ صبح کے وقت اپنے گھروں سے نکلتے ہیں،پس اپنے نفس کو بیچتے ہیں یاتو (اعمالِ صالحہ کے ذریعے)اسے جہنم سے آزاد کرالیتے ہیں،یاپھر (برے اعمال اختیارکرکے)اسے (جہنم کاعذاب مول لیکر)برباد کرڈالتے ہیں۔
ہر شخص کا صبح کو گھر سے نکلنا باعتبارِ اغلبیت ہے،یعنی عام طور پہ لوگ اپنے کام کاج کیلئے صبح ہی کو گھر سے نکلتے ہیں، کچھ لوگ مثلاً: مریض، بوڑھے اور عورتیں گھر سے نہیں نکل پاتیں،مگرحدیث میں عموم کا اعتبار کرکے ایک ایسا جملہ استعمال کیاگیا جو ضرب المثل کے طور پہ ہے۔
گھرسے نکلنے والاشخص یا تو ایسے اعمال اختیارکرے گا جو اس کیلئے خیر کا باعث ہوںگے،جن اعمال پر نیکی کاحکم لگایاجاتاہے،یہ شخص اپنے اعمالِ صالحہ کی برکت سے اپنے نفس کو جہنم سے آزاد کرکے لوٹےگا،جبکہ ایک دوسراشخص گناہوں اور معصیتوں کا مرتکب ہوتاہے، فتن وشرور میں گِھرارہتاہے،یقیناً یہ شخص اپنے نفس کو جہنم میں جھونک کر تباہ وبرباد ہوکر لوٹےگا۔
واضح ہو کہ ہر انسا ن کیلئے آزادی یابربادی کی کشمکش روزانہ جاری اور قائم رہتی ہے،اعمالِ صالحہ اختیار کرنے والاجنتی قرارپاتا ہے اور ذنوب ومعاصی کا مرتکب جہنمی۔(والعیاذباللہ)
واضح ہو کہ یہ حکم صرف ان لوگوں کے ساتھ مقید نہیں ہے جو گھروں سے نکلیں،بلکہ اس کااطلاق ہرروز ہر انسان پر ہوتاہے،چنانچہ جولوگ گھروں میں موجود ہیں ان کاانجام بھی انہی دو قسم کے کرداروں پر قائم ہوتاہے،جولوگ گھروںمیں رہ کر نیک اعمال پر توجہ دیتے ہیں، ذکراللہ اور تلاوتِ قرآن وغیرہ میں مشغول رہتے ہیں،وہ جہنم سے آزادی کی نعمت سے فیضیاب ہوجاتےہیں اور جولوگ گھروں میں رہتےہوئے فسق وفجور کے مرتکب بنے رہتے ہیں وہ اپنے اس دن کے کردار کی روشنی میں جہنمی قرارپاتے ہیں۔
یہ حدیث مبارک ایک بڑا ہی عظیم الشان درس دے رہی ہے،صبح کرنے والاہرشخص خواہ وہ گھر میں رہے یا کام کاج کی غرض سے باہر جائے،خوب سوچ سمجھ کر اپنا دن گزارے،چنانچہ گھر سے باہر جانے والا اپنی آنکھوں،کانوں،زبان اوردیگر تمام اعضاء کی مکمل حفاظت کرے، اپنے میل جول اور جملہ تعلقات کو الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کے عظیم قاعدے پر استواررکھےنیز رزق حلال کمانے پر اکتفاکرے،اللہ تعالیٰ کے فرائض مثلاً:پنج وقتہ نماز باجماعت کی پابندی کرے،ایسا انسان اپنے اس عظیم کردار کی بناپر اپنے نفس کو جہنم سے آزاد کرکے لوٹتاہے۔
جوشخص ان امور کا خیال نہیں رکھتا،بلکہ اس کے برعکس گناہوں اور معصیتوں کا مرتکب ہوتارہتاہے،وہ اپنے نفس کو برباد کربیٹھتاہے، گویا وہ خود ہی اپنے آپ کا دشمن ہے،اسے چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے توبۃ النصوح کا منہج اختیار کرلے اور بھرپور طریقے سے اعمالِ صالحہ اختیار کیے رکھنے کے مشن پر گامزن ہوجائے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مجلس میں پوچھاگیا:سب سے بہترین انسان کون ہے؟فرمایا:مَنْ طَالَ عُمُرُهُ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ. یعنی: جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہوں۔
پھر پوچھاگیا:سب سے بدترین انسان کون ہے؟فرمایا:مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ..یعنی:جس کی عمر لمبی ہو اور عمل بُرے ہوں۔(سنن ترمذی:۲۳۳۰)
چنانچہ لمبی عمروالاہرروز نیک عمل اختیار کیے رہتا ہے وہ اپنے آپ کو جہنم سے آزاد کرانے کے مشن پرقائم رہتا ہے،اس کی عمر کی لمبائی اس کیلئے جنت میں درجاتِ عُلیٰ کا باعث بنتی ہے۔
وہ شخص جو طویل العمر تو ہے مگر روزافزوں برائیوں پرمصرہے، روزانہ جہنم کا سوداکرنے میں مشغول ہے،اس کی عمر کی لمبائی اس کیلئے جہنم میں مزید اسفل السافلین میں دھکیلنے کا سبب بنے گی۔
(والعیاذباللہ)
(جاری ہے)

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعینِ نووی حدیث نمبر 24 قسط 56

یقول الإمام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ فی باب تحریم الظلم: حدثنا عبداللہ بن عبدالرحمن بن …

جواب دیجئے