Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اکتوبر » ٹرمپ دھمکی روشن پہلو تلاش کیجئے

ٹرمپ دھمکی روشن پہلو تلاش کیجئے

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم وبعد!
قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
امریکی قوم کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے اور خود کو کامیاب دکھانے کیلئے صدرڈونلڈ ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی کا اظہار کردیا ہے اور افغانستان میں اپنی فوج کی ناکامی کاذمے دار پاکستان کو ٹھہرایاہے اور دھمکی دی ہے کہ اگرپاکستان نے دہشت گردی کے اڈے ختم نہ کیے تو امریکہ کو پاکستان کے اندر گھس کر بھی کاروائی کرنی پڑی تو امریکہ دریغ نہیں کرے گا۔
امریکی صدر کے افغان پالیسی بیان کی مخالفت چاروں اطراف سے ہوئی ہے۔ سب سے سخت رد عمل چیئرمین سینٹ نے دیا، انہوں نے امریکی قیادت کو ویت نام اور کمبوڈیہ کاانجام یادد لاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان امریکا کاقبرستان بن جائے گا۔
جبکہ آرمی چیف نے امریکی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عسکری ومالی امدا د نہیں عزت،احترام واعتماد کی ضرورت ہے، قیام امن کیلئے تمام علاقائی ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوںگی، امریکی صدر کا اپنے دیرینہ اتحادی پرا س طرح برسنا باعث افسوس ہے۔
جبکہ امریکی صدرکا پالیسی بیان آتے ہی وزیراعظم پاکستان بغرض مشاورت ایک روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہوگئے، وہاں انہوں نے سعودی فرمان روا شاہ سلمان اور ان کے صاحبزادے ولی عہد محمد بن سلمان سے تفصیلی مشاورت کی۔ انہوں نے واپس آتے ہی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی،سیاسی وعسکری قیادت نے پانچ گھنٹے طویل غوروخوض ومشاورت کے بعد متفقہ طور پر امریکی صدر کے پاکستان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات مسترد کردیئے اور انہیں حددرجہ افسوسناک قرار دیا کہ نئی امریکی افغان پالیسی میں پاکستان کی عظیم قربانیاں نظرانداز کردی گئیں۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں امریکا سے مطالبہ کیاگیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی جو پناہ گاہیں ہیں، سب سے پہلے ان کا صفایا کیاجائے، اس کے علاوہ امریکی صدر نےاپنے بیان میں بھارت کوافغانستان میں جوکردار سونپاہے، اس کےنتائج بہت مہلک نکلیں گے، کیونکہ اس خطے میں بھارت ہی دہشت گردی پھیلانےکا سب سے بڑا ذمےدار ہے۔ اس اعلامیے میں یہ حقیقت بھی واضح کردی گئی کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ ڈالروں کے لالچ کے بجائے اپنے بہترین قومی مفاد میں لڑی ہے اور وہ افغانستان میں قیام امن کا سب سے زیادہ خواہشمند ہے۔ اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیاگیا کہ پاکستان ماضی کی طرح اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے نہیں دے گا اور وہ اپنے ہمسایوں سے بھی یہی توقع رکھتا ہے۔
ساتھ میں پاکستانی وزیرخارجہ کا دورہ امریکااحتجاجا ملتوی کردیاگیا اور امریکی صدر کےافغان پالیسی بیان کی وضاحت کرنے آنے والی پاکستانی امور کی وزیرکو پاکستان آنے سے روک دیاگیا۔
پاکستان کی جانب سے امریکا کے خلاف اس قدر شدید ردعمل پہلی بارسامنے آیا ہے اور اسے خوش آئند تبدیلی قرار دیاجاسکتاہے۔
اس موقع کو غنیمت سمجھنا چاہئے اور روشن پہلوتلاش کرنے چاہئیں، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان امریکی چھتری سے نکل آئے اور امریکہ کا مقابلہ کرنے کیلئے ہماری سول وعسکری قیادت کو عملی مثال سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ تبدیلی کیلئے تیار ہیں۔
اس موقع پر دوخطابات کو مشعل راہ بنانے کی ضرورت ہے، ایک خطاب موجودہ سپہ سالارکا جو آپ نے یوم دفاع کے موقع پر 6ستمبر کو جی ایچ کیومیں کیا،سپہ سالار کا کہناتھا:
’’آیئے ہم مل کر ایسا پاکستان بنائیں جس میں طاقت کا استعمال آئین اور قانون کے مطابق صرف ریاست کا اختیار ہو، ہمیں’’لاالٰہ الااللہ محمدرسول اللہ‘‘ کا وارث ہونے پر فخر ہے۔ اپنی روایت اور ایمان کیلئے ہمیں کسی کے سرٹیفیکٹ کی ضروررت نہیں، قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ آج ہمیں کہاجارہاہے کہ پاکستان نےکافی نہیں کیا، اگر ہم نے کافی نہیں کیا تو پھر کسی نے بھی نہیں کیا، عالمی طاقتیں اپنی ناکامیوں کا ذمے دار ہمیں نہ ٹھہرائیں، اگر ہم ناکام ہوئے توپوراخطہ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا،ہم شہداء کے خون کی حرمت کا پاس رکھیں گے، بہت نقصان اٹھالیا، اب دشمن کی پسپائی اور ہماری ترقی کا وقت ہے، دشمن جان لے کہ ہم کٹ مریں گے لیکن پاکستان کے ایک ایک انچ کا دفاع اپنے خون سے کریں گےْ‘‘(روز نامہ امت کراچی7ستمبر2017ء)
دوسراخطاب 6ستمبر1965ء کی صبح کو صدرایوب خان نے کیا تھا جب5اور 6ستمبر کی درمیانی شب ازلی دشمن بھارت نے کسی اعلان کے بغیر بین الاقوامی سرحد عبور کرتےہوئے لاہور پر حملہ کردیاتھا، صدر ایوب کا کہنا تھا:
’’دس کروڑ دلوں میں’’لاالٰہ الااللہ محمدرسول اللہ‘‘ کی صدا گونج رہی ہے اور دشمن کو یہ نہیں معلوم کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے، جس کاایمان اور ایقان، محکم ہے۔ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دشمن کی توپیں خاموش نہیں ہوجاتیں۔(اردوڈائجسٹ)
الغرض! اس موقع پر تمام اختلافات فراموش کردیںآپس میں اتحاد اتفاق اپنائیں اور ہماری سوچوں کامحور اسلام یعنی کلمہ توحید اور صرف وصرف پاکستان ہو۔
اللہ ہماراحامی وناصرہو۔
احباب جماعت متوجہ ہوں!
دفتر ماہنامہ دعوت اہل حدیث واقع المعہد السلفی کراچی میں مندرجہ ذیل کتب محدود تعداد میں موجود ہیں،احباب جماعت دفتر سے مفت وصول کرسکتے ہیں یاد رہے کہ یہ کتابیں بذریعہ ڈاک نہیں بھیجی جائیں گی۔
1حجۃ الوداع -از محدث دیار سندھ علامہ سید ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ
2نماز نبوی-از محدث دیار سندھ علامہ سید ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ
3نماز میں رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا-از فضیلۃ الشیخ ابواسماعیل یوسف حسین بن علامہ قاضی محمد حسن ہزاروی رحمہ اللہ(المتوفی 1933ء دہلی ہند)

About شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ

.سابق ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ ٣ جنوری ٢٠١٨ کو ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے ‏اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله داراً خيراً من داره، وأهلاً خيراً من أهله، وزوجاً خيراً من زوجه، وأدخله الجنة، وأعذه من عذاب القبر، ومن عذاب النار

Check Also

رمضان المبارک اور ابلیس کی چالیں

خطبہ مسنونہ کے بعد: اللہ تبارک وتعالیٰ کا اپنے بندوں پر یہ خصوصی فضل وکرم …

جواب دیجئے