Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اکتوبر » "اثر”فتح کوی فوق قبر الرسول صلی اللہ علیہ وسلم الی السماء

"اثر”فتح کوی فوق قبر الرسول صلی اللہ علیہ وسلم الی السماء

دنیا کےا ندرہرباطل گروہ،باطل جماعت، باطل شخص جو اگرچہ دین کا دشمن ہوتا ہےلیکن وہ اپنے آپ کو خادم اسلام ،خادم دین اور اپنے آپ کو حق پرثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے ایسے ہی آج کےد ور میں بعض لوگ جن کاطرز عمل،عبادت کے طورطریقے الغرض ہر چیزعیسائیوںکے مشابہ ہے لیکن اپنے آپ کو حق پر اور اپنے مسلک کو سچا ثابت کرنے کیلئے ضعیف ،موضوع روایات کا سہارالیکر عوام الناس کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں،جبکہ عوام الناس کا طبقہ قرآن وحدیث سے دوری کی وجہ سے ان موضوع وغیرہ روایات کو صحیح سمجھ کر ایسے بدعتی اور غلط لوگوں کے پنجے میں آجاتاہے۔
ان ہی لوگوں میں سے ایک شخص حق والوں کو چیلنج کرکے ثابت کررہا ہے کہ مُردوں سے بھی کرامت ثابت ہوتی ہے اور وہ سنتے ہیں اور نعوذباللہ سیدہ عائشہ rاورصحابہ کی جماعت کو اپنی غلط جماعت،مسلک کے ساتھ ملاتاہے اور کہتا ہے کہ ہمارا عقیدہ ہمارے امام احمدرضاخان بریلوی نے کوئی نیانہیں بنایا بلکہ وہی عقید ہ ہے جو مدینہ سے آیا ہے جس کو سیدہ عائشہ rاور صحابہyنے بیان کیا ہے۔العیاذباللہ
اب آپ کے سامنے وہ حدیث ،اثر،دلیل پیش کرتا ہوں جس سے وہ مولوی صاحب اپنی بدعت کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ملاحظہ ہو:
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُحِطَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ قَحْطًا شَدِيدًا، فَشَكَوْا إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: ” انْظُرُوا قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْعَلُوا مِنْهُ كِوًى إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى لَا يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ. قَالَ: فَفَعَلُوا، فَمُطِرْنَا مَطَرًا حَتَّى نَبَتَ الْعُشْبُ، وَسَمِنَتِ الْإِبِلُ حَتَّى تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ، فَسُمِّيَ عَامَ الْفَتْقِ.(رواہ الدارمی،الرقم:93)
ابوالجوزاء فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں قحط سالی ہوئی اور شدید قحط سالی ہوئی لوگوں نے قحط سالی کی شکایت سیدہ عائشہrسے کی سیدہ عائشہ rنے ان سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی طرف دیکھو اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی سیدھ میں چھت میں سوراخ بناؤ لوگوں نے ایسا ہی کیا،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اورآسمان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی توبادل آناشروع ہوئے اور زبردست بارش ہوئی اور اس بارش کا سبزہ ایسا تھا کہ ایسا اس سے پہلے نہیں ہوا تھا اور اس میں برکت ایسی تھی کہ اونٹ چربی سے موٹے تازے ہوگئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ اونٹ چربی کی وجہ سے پھٹ پڑتے اور اس سال کا نام ’’عام الفتق‘‘رکھ دیاگیا۔
اب ہم آپ کے سامنے اس اثر کی اسنادی حیثیت رکھتے ہیں جو دورحاضر کے جیدعلماء ومحققین نے پیش کی ہے:
1دنیا کے عظیم محقق علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ جن سے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فن حدیث میں بہت بڑا کام لیا ہے،ان کی اس اثر کے متعلق تحقیق اور حکم یہ ہے،فرماتے ہیں کہ:
قلت وہذا سند ضعیف لاتقوم بہ حجۃ لامور ثلاثۃ.
میں کہتاہوں کہ یہ سند ضعیف ہے اس سے حجت نہیں پکڑی جائیگی، تین چیزوں کی وجہ سے:
(۱) اس کی سند میں سعید بن زید ہے جوحماد بن زید کا بھائی ہے اس میں ضعف ہے، ابن حجرaنے اس راوی کے بارے میں ’’تقریب‘‘ کہا ہے کہ’’صدوق لہ اوھام‘‘ حافظ ذھبی aنے بھی یہی کہا ہے۔’’میزان‘‘ میںہے کہ اسے یحی بن سعید نے ضعیف کہا ہے اور اسی طرح سعدی،احمد بن حنبل وغیرہ نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔
(۲)دوسری وجہ: یہ حدیث موقوف علی عائشہ rہے ،مرفوع حدیث نہیں ہے ،اگرصحیح بھی ہوتی تب بھی یہ ہمارے لئے حجت نہیں ہوتی اس لئے کہ یہ آراء اور اجتہاد یہ کی قبیل سے ہے اس میں خطاء اور صواب دونوں ہوسکتی ہیں۔
(۳)تیسری وجہ: اس کی سند میں ابوالنعمان ہے جو کہ محمد بن الفضل ہے (یعرف بِعَارِمٍ)
یہ ثقہ راوی ہے مگرآخری عمر میں مختلط ہوگئے تھے۔
اس با ت کو برہان الدین الحبلی نے اس جگہ پر ذکر کیا ہے جہاں پر اس نے اپنی کتاب میں ایسے خلیطین راویوں کاتذکرہ کیا ہے ۔ یہ وجوہات ذکر کرنے کے بعد شیخ فرماتے ہیں کہ:
قلت :میں کہتا ہوں کہ اس لئے اس اثر کا علم نہیں کہ امام دارمیaنے اس کو ابوالنعمان کے اختلاط سے پہلے یا بعد میں لیا ہے، اس لئے یہ غیرمقبول ہے اور اس سے حجت لینا بھی صحیح نہیں ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب:’’الرد علی البکری‘‘ کے(ص:۷۴) پر لکھا ہے کہ :
یہ سند ثابت ہی نہیں ہے اور صحیح نصوص کے بھی خلاف ہے۔
مزیدوضاحت کیلئے دیکھئے :التوسل انواعہ واحکامہ ،ص:۱۲۷،۱۲۶ للعلامۃ ناصر الدین البانیaمکتبہ المعارف۔
2شیخ البانی aکے عظیم معاصرپاکستان کے عظیم محقق ومحدث العصر حافظ زبیرعلی زئیaنے مشکوٰۃ کی تخریج میںبڑی مختصر اور جامع تخریج وحکم صادر فرمایا ہے ،ملاحظہ ہو:
اس اثر،حدیث کوامام دارمیaنے کتاب(۱؍۹۳) میں نقل کیا ہے ،لیکن اس کی سند میں عمرو بن مالک النکری راوی ہے اور یہ روایت کرتے ہیں ،ابوالجوزاء سے اور جب بھی یہ روایت کریں ابوالجوزاء سے اس کی روایت غیرمقبول ہے اوراس پرمحدث امام الجرح والتعدیل ابن عدیaکا قول فیصل پیش کیا ہے:
وقال ابن عدی یحدث عن ابی الجوزاء ہذا ایضا عن ابن عباس قدر عشرۃ احادیث ،غیر محفوظۃ .(الکامل ۱؍۴۰،دوسرا نسخہ ۲؍۱۰۸یہ ایک خاص جرح ہے)
حافظ زبیرعلی زئیaمختصر تحقیق وتخریج کے بعد فرماتے ہیں:
سند ضعیف اور معلل ہے۔
مزید یہ کہ اگرکوئی اعتراض کرے کہ عمرو بن مالک النکری ثقہ راوی ہے اور بعض محدثین کے قول پیش کرے۔
جواب:ذخیرہ احادیث میں ائمہ نے اس کو ضعیف کہا سوائے ابن حبان اور حافظ ذھبی کے، تو ان کی تفصیل کا خلاصہ یہ ہے
(۱)قول ابن حبان :
ویعتبر حدیثہ من غیر روایۃ ابن عنہ.
(الثقات لابن حبان:۷؍۲۸۸،ترجمہ نمبر:۹۸۰۲)
ابن حبان aنے اپنے اس قول میں صرف یعتبر کہا ہے یحتج نہیں کہا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف عام سچائی والی توثیق کررہے ہیں، مزید اس کی تائید ابن حبان کی اس قول سے ثابت ہوتی ہے۔
قال ابن حبان: عمرو بن مالک النکری ابومالک والد یحی بن عمرو وقعت المناکیر فی حدیثہ من راویۃ ابنہ عنہ وھو فی نفسہ صدوق اللھجہ.
(مشاہیر علماء الامصار ۱؍۲۴۴،ترجمہ نمبر:۱۲۲۳)
یعنی اگر ابن حبان کےنزدیک بھی قابل اعتماد ہوتاضبط میں تب بھی انہوں نے فی نفسہ صدوق اللھجہ نہیں کہا۔اس لئے کہ صرف ’’فی نفسہ ثقۃ‘‘ کہاجائے تب بھی سچائی والی توثیق مراد ہوتی ہے۔
دوسری بات :ابن حبان aمتساہل بھی ہیں۔
(۲) حافظ ذھبی رحمہ اللہ کاتوثیق کرنا:
امام ذہبیaنے بعض کتب میں توثیق اور بعض کتب میں تضعیف کی ہے،ملاحظہ ہو:(اختصار کے ساتھ)
قول الذھبی: ورواہ عمرو بن مالک عن ابی الجوزاء عن ابن عباس من قولہ:وعمرو ’’لین‘‘ .
(تلخیص کتاب الموضوعات للذھبی ،ص:۱۹۱)
قول الثانی: عمر بن مالک النکری عن ابی الجوزاء وغیرہ وعنہ ابن یحی وعباد بن عباد ووجماعۃ وثق.
(الکاشف۲؍۸۷،رقم الترجمۃ:۴۲۲۳مکتبہ دار الباز)
اس بات پر امام البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولذالک اشار الذھبی فی ’’الکاشف‘‘ الی أن التوثیق المذکور غیر موثوق بہ فقال وثق.(سلسلہ ضعیفہ ۳؍۳۷۷)
علامہ البانیaکی اس تعلیق سے یہ ثابت ہوا کہ جب امام ذھبی ’’وثق‘‘ کہیں جو کہ صیغہ تعریض ہے تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس راوی کی توثیق کی گئی ہے لیکن وہ غیرمعتبر ہے اسی طرح اگرتوثیق وتضعیف میں ترجیح کی بات نہ بھی کی جائے تب بھی امام ذھبیaکے ایک اصول کے مطابق دونوں فیصلے ساقط الاعتبار قرارپائیں گے۔
امام ذھبیaکا اصول دیکھئے:میزان الاعتدال ۲؍۵۵۲ کے تحت:
اصول: ایک ہی راوی کے متعلق اگر ایک ہی ناقد کے دوطرح سے اقوال ہوں تو وہ دونوں ساقط ہوجائینگے۔
خلاصہ کلام:
یہ اثرضعیف ہے ،صرف ضعیف نہیں بلکہ صحیح نصوص کے بھی خلاف ہے، جیسا کہ اللہ کے نبیﷺ کا فرمان ہے:
اے اللہ میری قبر کو ایسا مت بنانا جیسا یہود ونصاری نے انبیاء کی قبروں کوسجدہ گاہ بنالیا۔
2ہم وسیلہ یا کرامت کے منکر نہیں ہم کرامت ،وسیلہ کو مانتے ہیں لیکن قرآن وحدیث کی روشنی میں، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کو کرامت عطا کرتاہے مگر اس کا صادر ہونا بندوں کے ہاتھ میں نہیں کہ جب بندہ چاہے اس سے کرامت صادر ہوجائے ،ایسا ہرگزنہیں ہے۔
اور وسیلہ جو جائز ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں :نیک اعمال کا، نیک زندہ بندوں سے دعائیں کروانا وغیرہ
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں قرآن وحدیث کے جمیع معاملات کو سمجھنے اور اپنانے کی توفیق عطافرمائے اور ہمیشہ عقیدہ توحید اور قرآن وسنت کی حفاظت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین

About حافظ انس کاکا

Check Also

اخبار الجمعیۃ

امیرمحترم کا دورۂ سندھ 09جنوری2018ءبروزمنگل امیر جمعیت اہل حدیث علامہ عبداللہ ناصر رحمانیdنے اپنے وفد …

جواب دیجئے