Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اکتوبر » جن سے اللہ محبت کرتاہے

جن سے اللہ محبت کرتاہے

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کیلئے بڑی سعادتیں رکھی ہیں، اس کے بندے بھی اس کی توفیق سے وہ سعادتیں سمیٹنے کی سعی کرتے رہتے ہیں، ذیل میں ایک عظیم سعادت کاتذکرہ کرتے ہیںجس کے حصول سے یقینی طور پر دنیاوآخرت کی کامیابی حاصل ہوجاتی ہے، وہ سعادت ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کی محبت، جی ہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مجید میں ایسے سعادت مند بندوں اور ان کی صفات کاتذکرہ فرمایا ہے، جن سے وہ محبت کرتا ہے، اس مضمون میں ان خوش نصیب بندوں کےذکرخیر سے مقصود یہ ہےکہ اس تذکرہ سے ہماری تذکیرہواور ہم بھی ان صفات کو اختیار کرکے اس سعادت عظمیٰ یعنی اللہ کی محبت کے مستحق بن سکیں، ملاحظہ ہو:
n[وَاَحْسِنُوْا۝۰ۚۛ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ۝۱۹۵ ] ترجمہ: اور احسان(کا طریقہ) اختیار کرو،بےشک اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔(البقرۃ:۱۹۵)
لفظ احسان کا ایک مفہوم عام ہے یعنی نیکی اور اطاعتِ الٰہی اور اس کے صلے میں ملنے والی جنت اور اس کی نعمتیں جیسا کہ سورۂ رحمٰن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:[ہَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ۝۶۰ۚ] ترجمہ: احسان کابدلہ احسان کے سوا کیا ہے؟(الرحمٰن:۶۰)
اس آیت میں پہلے احسان سے مراد عمل صالح اور اللہ کا کہابجالاناہے اور دوسرے احسان سے اس کا بدلہ یعنی جنت اوراس کی نعمتیں مراد ہیں۔
اسی طرح صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے جسے امام مسلمaنے احادیثِ ایمان کے ساتھ ذکر کیا ہے،رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیحسن الی جارہ.
(صحیح مسلم مع منۃ المنعم،ح:176)
یعنی جوشخص اللہ اور یوم آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ ہمسائے کے ساتھ احسان کرے۔
اس حدیث میں احسان بمعنی نیکی، بھلائی اور حسنِ سلوک ہے۔
احسان کا ایک خاص مفہوم بھی ہے وہ صحیح بخاری کی حدیث میں موجود ہے، جسے حدیث جبریل کہاجاتا ہے، اس حدیث میں ہے کہ جبریل صحابہ کے سامنے اجنبی صورت میں آپﷺ کے پاس آئے اور مختلف سوالات کیے،ان میں یہ سوال بھی تھا:ماالاحسان؟ کہ احسان کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:الاحسان ان تعبداللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک.یعنی احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تجھ سے یہ نہ ہوسکے توکم ازکم یہ سمجھے کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے۔
یعنی صرف نماز ہی نہیں بلکہ جو کام بھی اللہ کے احکام کی بجاآوری کیلئے اس کاحکم سمجھ کر کیاجائے وہ اس کی عبادت ہی کے ضمن میں آتاہے، خواہ اس کا تعلق حقوق العباد سے ہویاحقوق اللہ سے، معاملات سے ہو یا مناکحات سے ان میں سے ہر کام کوبن سنوار کراور شرعی احکام کی پابندی کےساتھ نیز دل کی رغبت اور محبت کے ساتھ بجالانے کا نام احسان ہے۔
پوری تفصیل سے معلوم ہوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی مخلوق سے اچھا برتاؤاور اللہ تبارک وتعالیٰ کی بہترین طریقے سے عبادت کانام احسان ہے۔ اور اس کے بدلے میں ملنے والی جنت کو بھی قرآن میں احسان کہاگیا ہے۔
احسان کو اپنانے والے بندے اللہ کے محبوب ہیں۔
n[وَاللہُ يُحِبُّ الْمُطَّہِّرِيْنَ۝۱۰۸ ](التوبہ:۱۰۸)
ترجمہ:اور اللہ خوب پاک رہنے والوں سے محبت کرتاہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ اس سے مراد اہل قباہیں، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ اللہ نے تمہاری طہارت کی تعریف فرمائی ہے، تم کیا کرتےہو؟ انہوں نے کہاکہ ہم پانی کے ساتھ استنجاکرتے ہیں۔(سنن ابی داؤد،الرقم:۴۴)
معلوم ہوا کہ اچھی طرح طہارت وپاکیزگی اختیار کرنے والےبھی اللہ کے محبوب ہیں۔
n[اِنَّ اللہَ يُحِبُّ التَّـوَّابِيْنَ…الآیۃ] ترجمہ:بیشک اللہ بہت زیادہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (البقرۃ:۲۲۲)
گنہگار بندے کی توبہ سے اللہ تعالیٰ کتناخوش ہوتا ہے، اس کاتذکرہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ملتاہے،جس کامفہوم ہے کہ:
ایک شخص جنگل بیابان میں ہو اور اس کی سواری، جس پر اس کا سامانِ زیست ہو گم ہوجائے، تلاشِ بسیار کے باوجود نہ ملے اور اسے موت کایقین ہوجائے، اس عالم میں اچانک اس کی سواری اس کے سامنے آکھڑی ہو تو وہ مارے خوشی کے ایک غیردرست جملہ ادا کرے یعنی وہ کہے :أللھم أنت عبدی وأنا ربک .یعنی یا اللہ تومیرابندہ اور میں تیرا رب ہوں، فرمایا: جس قدر وہ خوش ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ خوش اللہ تعالیٰ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی بندہ توبہ کرتاہے۔
توبہ کے حوالے سے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:
[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَى اللہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا۝۰ۭ ] (التحریم:۸)
یعنی:اے ایمان والو!تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔
خالص توبہ کیاہے؟
حافظ صلاح الدین یوسفd’’احسن البیان‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ: خالص توبہ یہ ہے کہ 1جس گناہ سے وہ توبہ کررہا ہے، وہ ترک کردے 2اس پر اللہ کی بارگاہ میں ندامت کااظہارکرے3آئندہ اسے نہ کرنے کا عزم رکھے4اگرا س کاتعلق حقوق العباد سے ہے تو جس کا حق غصب کیا ہے اس کا ازالہ کرے۔ جس کے ساتھ زیادتی کی ہے اس سے معافی مانگےمحض زبان سے توبہ توبہ کرلینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
توبہ کو اس انداز سے اپنانے والے یقیناً اللہ کے محبوب ہیں۔
n[فَاِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ۝۷۶](آل عمران:۷۶)
ترجمہ:پس بے شک اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں سے محبت کرتاہے۔
تقویٰ کیاہے؟ یہی سوال ایک مرتبہ سیدنا عمربن الخطابtنے سیدنا ابی بن کعب tسے کیاتھا، انہوںنے جواباً وضاحت فرمائی تھی کہ: خاردار تنگ راستہ سے اپنے جسم ولباس کو بچاکرگذرجانا،تقویٰ ہے۔ یعنی زندگی میں قدم قدم پر گناہ،نافرمانی،سرکشی کےکانٹے ہیں، ان سے اپنے آپ کو بچاکرزندگی بسرکرنے کانام تقویٰ ہے۔
نیز ایک مرتبہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایاتھا:
قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ.
(صحیح مسلم:الرقم:۱۲۱۶)
میں تم سب سے زیادہ تقویٰ،صدق ونیکی اختیار کرنے والاہوں۔
معلوم ہوا تقویٰ نام ہے سب سے بڑے متقی(ﷺ)کی سنت کی اتباع کا۔
یقینا جولوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں، محبوبِ الٰہی ہیں۔
n[وَاللہُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيْنَ۝۱۴۶](آل عمران:۱۴۶)
ترجمہ:اور اللہ صبرکرنے والوں سے محبت کرتاہے۔
انسان کی دو ہی کیفیتیں ہوتی ہیں، وہ سکون وچین میں ہوتا ہے یا دکھ ودرد میں۔ پہلی کیفیت میں شکرکاحکم ہے اور دوسری میں صبر کا، جیسا کہ فرمانِ رسول ﷺ ہے:
’’مومن کا معاملہ بھی عجیب ہےاسے خوشی پہنچتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور تکلیف پہنچتی ہے توصبرکرتاہے، دونوں ہی حالتیں اس کیلئےخیر (کاباعث) ہیں۔(صحیح مسلم:۲۹۹۹)
نیزحافظ ابن کثیرaاپنی تفسیر میں فرماتے ہیں :صبر کی دو قسمیں ہیں:
1محرمات ومعاصی کے ترک اور اس سے بچنے پر اورلذتوں کے قربان اور عارضی فائدوں کے نقصان پر صبر
2اللہ کی پسندیدہ باتوں پر عمل کرنا،چاہے وہ نفس وبدن پر کتنی ہی گراں ہوں اور اللہ کی ناپسندیدہ باتوں سے بچنا خواہ خواہشات ولذات اس کی طرف کتنا ہی کھینچیں۔
صابرین کو نقصان ومصیبت اور تکلیف کے وقت:اناللہ وانا الیہ راجعون.اورأللھم أجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا.پڑھنے کاحکم دیاگیاہے ۔(حوالہ دعا:صحیح مسلم:۹۱۸)
ایسے صبر کا مظاہرہ کرنےو الے یقینا محبوبِ باری تعالیٰ ہیں۔
n[اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ۝۱۵۹ ](آل عمران:۱۵۹)
ترجمہ:بیشک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ جب بھی گھر سے نکلتے تواظہارِ توکل فرماتے،الفاظ ملاحظہ ہوں:
بسم اللہ توکلت علی اللہ لاحول ولاقوۃ الاباللہ.
(ابوداؤد325/4ترمذی:490.5)
یعنی:(میں اس گھر سے) اللہ کے نام کے ساتھ(نکل رہاہوں) میں نے اللہ پرتوکل(بھروسہ) کیا اور اللہ کی توفیق کےبغیرگناہ سے بچنے کی ہمت ہوتی ہےنہ نیکی کرنے کی طاقت۔
اسی طرح آپﷺ کی حدیث ہےکہ:
لوانکم کنتم تتوکلون علی اللہ حق توکلہ لرزقتم کمایرزق الطیر تغدو خماصا وتروح بطانا.
(سنن الترمذی ،ابواب الزھد،باب فی التوکل علی اللہ ،الرقم:2344ابن ماجہ:4164)
ترجمہ: اگربیشک تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جس طرح توکل کرنے کاحق ہے تووہ تمہیں اس طرح رزق عطا کرے جس طرح پرندے کوعطافرماتاہےجوصبح خالی پیٹ نکلتا ہے،شام بھرے پیٹ واپس لوٹتاہے۔
یقینا اللہ پر توکل کرنے والے، اس کے محبو ب ہیں۔
n[اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۝۴۲](المائدہ:۴۲)
ترجمہ:بیشک اللہ عدل وانصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
قیامت کے دن جن سعادتمندوں کوعرشِ الٰہی کا سایہ نصیب ہوگا ان میں سے ایک عدل وانصاف کرنے والاحکمران بھی ہوگا۔
یہی وجہ ہےکہ سلف صالحین عدل وانصاف کو بڑی اہمیت دیا کرتے، صحیح مسلم میںسیدنا ابویسرکعب بن عمرو جوبیعتِ عقبہ اور بدر میں شریک تھے اور مدینہ میں55ھجری میں اہل بدر میں سے آخری فوت ہونے والے صحابی ہیں، کے متعلق آتا ہے کہ ان پر اور ان کے غلام پر ایک ہی جیسا لباس تھا، وجہ پوچھی گئی تو فرمایا:
میں نےاپنے ان کانوں سے سنا ہے آپ ﷺفرمارہے تھے:
اطعموھم مما تاکلون ،والبسوھم مما تلبسون.
یعنی: جوخود کھاتے ہو، انہیں بھی وہی کھلاؤ، جو خود پہنتے ہوانہی بھی وہی پہناؤ۔
یقینا ایسے عدل وانصاف کرنے والے لوگ ہی محبوبِ باری تعالیٰ ہیں۔
n[اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِہٖ صَفًّا كَاَنَّہُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ۝۴ ](الصف:۴)
ترجمہ:پس بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں جیسے کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
مولانا عبدالرحمٰن کیلانیaاپنی تفسیر تیسیر القرآن ۴؍۴۳۵میں رقمطراز ہیںکہ
’’جہادکیلئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تین شرطیں بیان فرمائی ہیں: ایک یہ کہ یہ جہاد محض اللہ کاحکم بلند کرنے کیلئے ہو، کوئی دوسری غرض اس سے وابستہ نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ دشمن کے سامنے اس طرح صف بندی کی جائے کہ اس میں کوئی رخنہ باقی نہ رہے۔ تیسرے یہ کہ تمہارے پائے ثبات میں کسی طرح کی لغزش یا تزلزل نہ آنے پائےاور اپنی جگہ پر اس قدر جم کرمضبوطی سے کھڑے ہو کہ یوںمعلوم ہو،جیسے وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔‘‘
n[قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ](آل عمران:۳۱)
ترجمہ:کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو خود اللہ تم سے محبت کرے گا۔
معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع وپیروی بھی ایک ایسا عظیم عمل ہے جس سےاللہ تعالیٰ کی محبت مل جاتی ہے لہذا اس کیلئے ضروری ہے کہ علماء کی زیر نگرانی کتب احادیث کا مطالعہ کیاجائے اور امورزندگی سےمتعلق احادیث سے جوسنتیں حاصل ہوتی جائیں، علماء کرام سے سمجھتے ہوئے ان پر عمل پیراہواجائے تاکہ زندگی کے تمام امور رسول اکرم ﷺ کی اتباع وپیروی میں انجام پائیں۔
یقینا ایساطرز عمل محبت الٰہی کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔
n[يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِہٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللہُ بِقَوْمٍ يُحِبُّہُمْ وَيُحِبُّوْنَہٗٓ۝۰ۙ اَذِلَّۃٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ۝۰ۡيُجَاہِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَاۗىِٕمٍ۝۰ۭ ](المائدہ:۵۴)
ترجمہ:اےایمان والو!تم میں سے جوشخص اپنے دین سے پھرجائے تو اللہ بہت جلد ایسی قوم لائے گا جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی وہ نرم دل ہوں گے مسلمانوں پر،سخت ہوں گے کفارپر، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔
محدث دیارِ سندھ علامہ سید ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدیaاپنی تفسیر، بدیع التفاسیر ۷؍۲۶۰میں رقمطراز ہیں:
’’اس آیت میں ایک تو ابوبکر صدیقtکی فضیلت مذکور ہے کہ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ارتداد کرنے والوں یعنی مانعین زکوٰۃ کے ساتھ جہاد کیا لہذا ابوبکر بھی اللہ کے محبوب ہیں۔
اور دوسرے اس آیت میں سیدنا ابوموسیٰ اشعریt اور دیگر اہل یمن کی فضیلت بھی مذکور ہے کہ ایک حدیث میں ہے کہ
لمانزلت ’’فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ‘‘ قال رسول اللہ ﷺ :ھم قوم ہذا واشار الی ابی موسیٰ الاشعری .
یعنی جب یہ آیت نازل ہوئی:’’پس عنقریب اللہ ایسی قوم لائے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے‘‘ تو رسو ل اللہ ﷺ نے ابوموسیٰ اشعریtکی طرف اشارہ کیا اورفرمایا: اس سے مراد یہ لوگ ہیں۔
اسی طرح دوسری حدیث میں ہے کہ:
سئل رسول اللہ ﷺ عن قولہ: ’’فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ‘‘ قال ھؤلاء قوم من اہل الیمن.
یعنی رسول اللہ ﷺ سے جب اس آیت کے بارے سوال کیاگیا کہ اس سے مراد کون ہیں؟توفرمایا:اس سے مراد اہل یمن ہیں۔
بہرحال ا س آیت کریمہ میں،مرتدین کے مقابلے میں جس قوم کو اللہ تعالیٰ کھڑا کرے گا، ان کی چار نمایاں صفات بیان کی جارہی ہیں: 1اللہ سے محبت کرنا اور اس کامحبوب ہونا۔2اہل ایمان کیلئےنرم اور کفار پر سخت3اللہ کی راہ میں جہاد کرنا4اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت سے نہ ڈرنا۔
جولوگ ان صفات اورخوبیوں کے مظہر اتم بنیں گے ،اللہ تعالیٰ یقینا انہیں دنیاوآخرت کی سعادتوں سے مشرف فرمائے گا اور اپنامحبوب بنالے گا۔
bbbbbbbbbbbbbbb

About شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ

.سابق ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ ٣ جنوری ٢٠١٨ کو ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے ‏اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله داراً خيراً من داره، وأهلاً خيراً من أهله، وزوجاً خيراً من زوجه، وأدخله الجنة، وأعذه من عذاب القبر، ومن عذاب النار

Check Also

عمل پرہمیشگی پسندیدہ ہے!

الحمدللّٰہ والصلاۃ والسلام علی رسول ﷲ(ﷺ) وبعد! قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ جیسےہی …

جواب دیجئے