Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اکتوبر » اہل حدیث وشیعیت میں توافق کااتہام اورحقیقت قسط 1

اہل حدیث وشیعیت میں توافق کااتہام اورحقیقت قسط 1

مقلدین حضرات تحریر وتقریرکی صورت میں جہاں اہل حق اہل حدیث پر بہت سے امور میں طعن وتشنیع کرتے ہیں وہاں ایک امر یہ بھی ہے کہ سادہ لوح عوام کو متنفر کرنے کیلئے یہ کہتے رہتے ہیں کہ یہ لوگ شیعہ ہیں ،رافضی ہیں، اہل السنۃ نہیں ہیں، عبدالرحمٰن پانی پتی مقلد سے لیکر امین اوکاڑوی تک یہ پراپگنڈہ جاری وساری ہے۔
ماضی قریب میں ہند کے مشہور دیوبندی عالم محمد ابوبکر غازی پوری صاحب نے عربی میں’’وقفۃ مع اللامذھبیہ‘‘ کےنام سے اہل حدیث عقائد پر جو الزامات عائد کیے پھر اس کا ترجمہ ’’آئینہ دیوبندیت‘‘ کے نام سے شائع کروایا اور پاکستان میں جامعہ فاروقیہ کراچی کے شیخ الحدیث سلیم اللہ خان صاحب نے اس کا ترجمہ اپنے مدرسہ کےاستاذ ابن الحسن عباسی صاحب سے کروایا اور بنام’’کچھ دیر غیرمقلدین کے ساتھ‘‘ شائع کروادیا۔
اس کتاب میں بھی مسموم پراپگنڈہ کے اس سلسلہ کو دہرایا۔ ہمارے ساتھی محمد صدیق رضا نے اس پوری کتاب کا جواب لکھ لیاہے جو عنقریب منظر عام پر آئے گا،ان شاء اللہ ۔ زیر نظر مضمون اسی جواب کا حصہ ہے افادہ عام کیلئے قارئین ’’دعوت اہل حدیث‘‘ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔
نوٹ: ’’وقفہ‘‘ ،’’کچھ دیر ‘‘ اور’’آئینہ ‘‘مذکورہ بالاتین کے ناموں کی مختصر صورت ہے۔(ادارہ)

شیعہ کے ساتھ غیر مقلدین کی موافقت
اس عنوان کے تحت غازی پوری صاحب نے اہل حدیث کو شیعہ روافض کے ساتھ جاملانے کی کوشش کی اور اس ضمن میں چند مزید عناوین بھی قائم کئے ،ظاہر سی بات ہے کہ یہ ایک ایسی کذب بیانی ہے جسے ثابت کرنا امر محال ہے تو اپنے شوق کی تکمیل کے لئے ان مباحث میں غازی پوری صاحب نے کئی ایک خیانتوں سے بھی کام لیا،تفصیل اپنے مقام پر ہی مناسب رہے گی۔
غازی پوری صاحب فرماتے ہیں:
َِّّ’’جن لوگوں نے غیر مقلدین کی کتابوں اور ان کے عقائد کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ غیر مقلدین میں ایک شاخ ایسی بھی ہے جو کئی مسائل میں شیعہ مذہب کے ہم آہنگ ہے،غیر مقلدین شیعہ فرقہ کے ساتھ جن جن عقائد اور مسائل میں ہم آہنگی رکھتے ہیں ،ہم آنے والے صفحات میں ان میں سے بعض کا اجمالاً ذکرکرتے ہیں ،سلفی علماء سے ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ آنے والے ان کے ان عقائد پر عدل وانصاف کے ساتھ نظر ڈالیں اور حق وانصاف کا فیصلہ کریں،جو جماعت یہ عقائد رکھتی ہے اس کے متعلق اپنی رائے صادر فرمائیں اس لئے کہ ہم انہیں شریعت اسلامیہ کے امین ،حق کے داعی ،اہل ایمان اور اہل توحید سمجھتے ہیں۔‘‘ (کچھ دیرص:264 ،آئینہ ص:211 ،وقفہ ص:185 )
جواب:جی ہاں جن لوگوں نے اہل حدیث کے عقائد کا واقعی مطالعہ کیا،ان کی گفتگوسنی ان کے قریب رہے وہ ضروریہی گواہی دیں گے کہ ان صفحات میں اہل حدیث کے بارے میں جو کچھ غازی پوری صاحب اور ان کے ہمنوائوں نے الزامات لگائے ان کی حیثیت ذاتی بغض وعداوت اور بہتانات کے علاوہ کچھ نہیں ،درحقیقت اہل حدیث اہل السنہ ہی ہیں ان کے اور روافض کے عقائد میں زمین آسمان کا فرق ہے۔حتٰی کہ اکابرعلماء دیوبند میں سے بہت سے بزرگوں نے باوجود مخالفت کے عدل وانصاف پر مبنی یہ شہادت دی اور اہل حدیث پاک و ہند کو اہل سنت قرار دیا۔
رہی غازی پوری صاحب کی عرب کے سلفی علماء کے متعلق یہ سچی گواہی کہ وہ ـ’’شریعت اسلامیہ کےامین ،حق کے داعی ،اہل ایمان اور اہل توحید ہیں۔‘‘پھر اس گواہی کے باوجود توحید اور بالخصوص توحید اسماء وصفات جیسے اہم عقید ہ میں ان ’’داعیان حق‘‘ کی دعوت ِحق کو ٹھکراکر اور رد کرکے ان کے مخالفین جیسے شیخ کوثری جرکسی وامثالہ کی راہ اپنانایقینا اپنی اس گواہی کی تکذیب ہے۔ یاپھر یہ وہی پالیسی ہے جس کا الزام غازی پوری صاحب نے بنا تھکے اس کثرت سے دہرایا کہ پڑھنے والا اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔
جی جی یہی الزام کہ عرب علماء کے سامنے الگ دین او رپاک وہند برصغیر میں الگ دین ۔اگر ان کے خیال سے ان کی یہ گواہی سچی ہے او رشہادۃالزور نہیں تو اردومیں ڈاکٹر عبدالواحد صاحب مفتی جامعہ مدنیہ لاہور کی کتاب ’’صفات متشابہات اور سلفی عقائد ‘‘اور اس قسم کی بعض دیگر کاوشیں دیگر دیوبندی علماء کی جیسے اعجازاحمد اشرفی صاحب فاضل جامعہ اشرفیہ لاہو رکی ’’عقید ہ سلف‘‘اور’’استواء علی العرش‘‘جیسی کتابیںجن میں سلفی عقائد کو غلط ثابت کرنے کی کوششیں کی گئی ہیںوہ سب لغووباطل ثابت ہوتی ہیںنیز شریعت اسلامیہ کے ا مین، اہل ایمان، اہل توحید کی تکذیب و تردید بن کر رہ جاتی ہیں۔امید ہے کہ یہ اپنے شیخ الحدیث سلیم اللہ خان صاحب اور شیخ الحدیث ابوالقاسم نعمانی صاحب نیز الیاس گھمن صاحب کی تائید و نصرت وکوشش کے ساتھ منظرعام پر آنے والی ابوبکر غازی پوری صاحب کی اس کتاب میں موجود گواہی کو رائیگاںنہیں جانے دیں گے اور اپنی ان کوششوں سے اعلانیہ رجوع فرمالیں گے اور داعیان حق کی دعوت قبول فرماکران کے حامی وناصر ہوںگے۔وباللہ التوفیق۔ ورنہ عوام کے لئے بھی یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں رہے گاکہ اہل حدیث کو جس دہرے معیار کا طعنہ دیتے نہیں تھکتے وہ درحقیقت اکابر علماء دیوبند کا وطیرہ ہے ۔اہل حدیث بفضل اللہ اس سے یکسر محفوظ ہیں۔اور سنئیے غازی پوری صاحب!وہ دور گئے جب اکابر مقلدین اردو کی بعض کتب سے عبارات سیاق وسباق سے ہٹاکر اپنی طرف سے باطل عقائد ومسائل پر مبنی عبارات بنا کراپنے جیسے مقلدعلماء سے ’’الفتح المبین‘‘اور ’’جامع الشواہد فی اخراج الوہابین عن المساجد ‘‘جیسی کتابوں پر تصدیقات و تقریظات اور اہل حدیث کے خلاف فتوے لے آتے تھے۔جس پرآپ کے ممدوح وکیل احناف امین اوکاڑی جیسے لوگ نازاں وفرحاںہوتے (دیکھئیے مجموعہ رسائل ج3 ص:51اور 54 مطبوعہ لاہور)
الحمدللہعرب وعجم کے سلفیوں میں گہرے مراسم و تعلقات ہیں۔ خیانات پر مبنی آپ کی چالاکیاں دھری رہ گئیںاور کسی ایک عرب سلفی عالم سے آپ پا ک وہند کے اہل حدیث کے خلاف فتوے نہیں لاسکے
اے بسا آرزوکہ خاک شدہ!
پھر آگے غازی پوری صاحب ایک نیا عنوان ومضمون لاتے ہیں اور فرماتے ہیں:
بارہ (12)اماموں کے بارے میں غیر مقلدین کا عقیدہ
شیعوں کادعوٰی ہے کہ نبی کریم ﷺنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کی تصریح فرمائی تھی،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن کی امامت کی۔۔۔۔۔یہ محمد ان کے ہاں امام غائب منتظرہیں جو ظاہرہو کر دنیا کو عدل وانصاف سے مالامال کریںگے ۔
(منھاج السنہ ج 2 ص 106 : )
یہ کل بارہ امام ہیں اورانہی کی طرف شیعوں کا مشہور فرقہ ’’امامیہ‘‘ منسوب ہے…اس کے نزدیک یہ لوگ کائنات میںتصرف کرتے ہیں اور انبیاء کی طرح معصوم ہیں،شیعوں کی مشہو ر کتاب’’اصول کافی‘‘ میں ہے: ’’امام مؤید او ر موفق ہوتاہے اور ہر قسم کی غلطی اور لغزش سے معصوم ہوتا ہے ‘‘ (ص :22 )۔۔۔۔۔۔شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امامت کا مقام، نبوت کے مقام سے اوپر ہے ۔۔۔۔۔۔بارہ اماموںکے بارے میںیہ شیعہ فرقہ کے بعض عقائد ہیں ،جہاں تک ان ائمہ کے بارے میں غیر مقلدین کے عقائد کا تعلق ہے تو آگے ہم اس پر روشنی ڈالتے ہیں ۔‘‘
(کچھ دیر ص: 264 – 265 آئینہ ص: 212 ،وقفہ ص186 )
جواب: قارئین کرام ! غازی پوری صاحب کے اس ’’عنوان‘‘ اور اس کے ’’معنون‘‘ پر تھوڑا سا غور کیجئے سرخی جمائی ’’بارہ اماموں کے بارے میں غیر مقلدین کا عقیدہ ‘‘لیکن صفحے کا پیٹ بھراشیعہ عقائد ذکر فرماکر ۔اب ایسا بھی نہیںکہ شیعہ تقلید کے قائل نہیں ،معمولی سے فرق کے ساتھ مقلد تو وہ بھی ہیں ،فرق اتنا ہے کہ ان کے ہاں زندہ او ر قریب دستیاب کسی مجتہد عالم کی تقلیدواجب ہے ، کسی بھی واقف کارشیعہ سے پوچھ لیجئے ۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ تو غیر مقلدین نہیںہیں،مقلدین ہی ہیں تو اپنے قائم کردہ عنوان سے وفاکا تقاضہ تویہی تھاکہ غازی پوری صاحب پاک وہند کے اہل حدیث کے ہاں ان بارہ اماموں کے بارے میں ایسے عقائد کا ثبوت دیتے ،لیکن الحمدللہ وہ ایسا نہیں کرسکے اورہر گز نہیںکرسکیںگے۔اب جب وہ اپنے وعدہ کے مطابق اس پر روشنی ڈالیں گے درحقیقت اندھیر اڈالیںگے اورخوب اندھیر مچائیںگے تو تب ہم ان کی حقیقت بتائیں گے اورتب ہی کچھ عرض کرسکیںگے۔یقین جانئیے ان کااس کے بعدوالاعنوان بھی پہلے سے کچھ مختلف نہیں آپ دیکھ کر ہماری تصدیق ہی فرمائیںگے کہ سچ کہاتھاآپ نےکہ غازی پوری صاحب اس پر روشنی نہیں مکمل اندھیراڈالیں گے اورخوب اندھیر مچائیں گے اپنی بڑبولیوںکوثابت کرناان کے توکیا ان جیسے بلکہ کسی دیوبندی مقلد کے بس کی بات نہیں’’ولوکان بعضھم لبعض ظھیراً‘‘۔تولیجئے سنئیے دیوبند کے مفکراسلام و رئیس المحققین فرماتے ہیں:
’’امام غائب منتظر‘‘ کے متعلق غیر مقلدین کا عقیدہ
امام غائب منتظر کے بارے میںاور بارہ اماموںکے بارے میںغیر مقلدین کا عقیدہ شیعوں کے فرقہ امامیہ کے عقیدہ کے قریب قریب ہے،چناچہ نواب وحید الزمان اپنی کتاب’’ھدیۃ المھدی‘‘میں کہتے ہیں:
’’اگر سید نا علیt اور معاویہ t کے درمیان ہمارے زمانے میں جنگ شروع ہوتی تو ہم حضرت علی t کے ساتھ ہوتے ،پھر ان کے بعد امام حسن بن علی کے ساتھ ہوتے…پھر اگر ہم باقی رہیںان شاء اللہ تو اپنے امام محمد بن عبداللہ مھدی فاطمی منتظر کے ساتھ ہوں گے۔‘‘
(ص: 103 )اس کے بعد فرماتے ہیں:
’’یہ بارہ امام ہیں او ر درحقیقت یہی وہ حکمران ہیںجن پر نبی ﷺ کی خلافت اور دین کی ریاست منتہی ہوتی ہے یہ آسمان ایمان ویقین کے آفتاب ہیں۔‘‘(صفحہ : 103)
آگے لکھتے ہیں:
’’بنو امیہ اور بنو عباس کے بادشاہ ائمہ دین نہیںتھے بلکہ ان میں اکثر چور اور زبردستی غلبہ حاصل کرنے والے تھے ،انہوں نے مسلمانوں کا خون بہایا اور زمین کو ظلم وستم سے بھر دیاتھا۔‘‘
(ص: 103 ) اس فصل کو ان دعائیہ کلمات کے ساتھ ختم کیا ہے:
’’…اے اللہ ان بارہ اماموں کے ساتھ ہمارا حشر فرما ،اور قیامت تک ان کی محبت پر ہمیں ثابت قدمی عطافرما۔‘‘قارئین کرام غور فرمائیںکیا مذکورہ کلام میں شیعہ عقائد کے جراثیم محسوس نہیں ہوتے؟کیا اہل سنت والجماعت کا کلام ایساہو سکتا ہے ؟کیا اس میں شیعیت کی روح نہیں جھلکتی ؟ (کچھ دیر ص :265 – 267،آئینہ ص:213 – 215، وقفہ ص:187)
جواب: قارئین کرام غور فرمائیں غاز ی پوری صاحب نے محض اپنی عداوت و بغض کی تسکین کا سامان کرنے کے لئے بڑی ہی ہوشیاری واحتیاط کے ساتھ اہل حدیث کی رد کی ہوئی کتاب(ھدیۃ المھدی از نواب وحید الزمان) سے پوری ایک فصل نقل کردی ،احتیاط اس بات میں کی کہ کہیں اسی فصل سے روافض شیعہ کی مذمت واضح نہ ہوجائے لیکن اس کے باوجود وہ کامیاب نہیں ہوئے ،اپنا دعوٰی ثابت نہیں کرسکے ’’بارہ اماموں کے بارے میں اہل حدیث اور شیعہ کے ہاں موافقت‘‘ اور اہل حدیث کے ہاں ’’امام غائب کا انتظار‘‘ثابت نہیں کرپائے۔ ’’ضل سعیھم‘‘ ان کی تمام کوشش رائیگاں گئیں ۔چونکہ وحید الزمان نے بھی اس پوری فصل میں شیعہ کے ہاں پائے جانے والے تصور کے مطابق کسی ’’امام غائب ‘‘کا ذکر کیا نہ ہی اس کے انتظارکا۔
نیز ان کےمذکور ’’امام‘‘ اورروافض کے اما م غائب میں واضح فرق ہے اور یہ فرق اس قدر واضح ہے کہ غازی پوری صاحب کی کتاب سے ہی ظاہر ہوجاتاہے ۔
غازی پوری صاحب کی سخن فہمی
یہ غازی پوری صاحب کی سخن فہمی کا سقم ہے کہ وہ اس فرق کو باوجود نقل کردینے کہ نہیں سمجھ پائے ۔انہوں نے شیعہ کے جن بارہ ائمہ کا ذکرکیا اـن میں بارہویں امام کا نام محمد بن محمد حسن عسکری ہے جبکہ وحید الزمان صاحب نے حسن بن علی عسکری کے بعد ان کے کسی بیٹے کا تذکرہ نہیںکیابلکہ ’’امام سید محمد بن عبداللہ مہدی فاطمی منتظر ‘‘کا نام لیا۔یہ بعینہ وہی تصور ہے جو احادیث سے ثابت اور اہل السنہ کے ہاںپایاجانے والاتصور ہے۔
چنانچہ سیدناابو سعیدالخدری t سے مروی ہے کہ رسولﷺ نے فرمایاـ:
’’یخرج فی آخر امتی المھدی،یسقیہ اللہ الغیث وتخرج الارض نباتھاویعطی المال صالحاًوتکثرالماشیۃوتعظم الامۃ‘‘
’’میری امت کے آخر میں مھدی ظاہر ہوگا،اللہ اسکے لئے بارش برسائے گااورزمین اپنی نباتات نکال دے گی ،مویشی کثرت سے ہوں گے وہ عدل وانصاف سے مال تقسیم کرے گااور امت کا غلبہ ہوگا۔‘‘
(المستدرک للحاکم ج 4 ص:577 صححہ الحاکم والذہبی)
اسی طرح سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا:
’’لاتذھب الدنیا….حتی یملک العرب رجل من اھل بیتی یؤاطی اسمہ اسمی‘‘
’’دنیا اس وقت تک ختم نہیںہوگی جب تک میرے اہل بیت میںسے ایک آدمی عرب پر حکمرانی نہ کرے جس کا نام میر ے نام کے موافق (محمد )ہوگا‘‘ (مسند احمد ج 1ص:377 ،سنن ابی داؤد، رقم: 4282، سنن الترمذی ،رقم :2230 قال الترمذی :حسن صحیح وصححہ الذہبی فی تلخیص المستدرک ج2 ص:442 )
اور یہی حدیث مصنف ابن شیبہ میں بھی مروی ہے اس میں بنی ﷺکا یہ فرمان بھی ہے کہ :’’واسم أبیہ اسم ابی ‘‘’’اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا‘‘(مصنف ابن ابی شیبہ ج 21 ص: 292) تفصیل کے لئے دیکھیں محدث العصر الشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا علمی مضمون:’’ظہور امام مھدی،ایک ناقابل تردید حقیقت ‘‘ (مقالات ج2ص:42تا47) پھر اسی کتاب میں وحید الزمان صاحب نے لکھا:
’’وینبغی ان یکون الامام ظاھراًلا مختفیاً ولا منتظراً ویجب ان یکون من قریش ولامن غیر ھم‘‘
’’مناسب ہے کہ امام (حکمران یا خلیفہ)ظاہر ہو نہ پوشیدہ اور نہ ہی منتظر اور لازم ہے کہ قریش میں سے ہو ان کے علاوہ دوسروں میں سے جائز نہیں ‘‘ (ھدیہ المھدی ص:97)
غازی پوری صاحب فرق واضح ہوگیا کہ اہل السنہ اس امت کے آخر میں جس مھدی منتظَر کے منتظِرہیں وہ ابھی پیدا نہیں ہوئے اور شیعہ جس امام مھدی کے منتظِر ہیں اُن کے خیال سے ان کے یہ امام پیدا ہو کر غارمیں جاچھپے،اسی لئے وہ بارہویںاما م کو ’’امام غائب منتظَر ‘‘کا نام دیتے ہیں۔الغرض کہ ’’امام منتظَر‘‘اور ’’امام غائب منتظَر ‘‘کا فرق واضح اور ظاہر ہے وحید الزمان نے پہلے کا ذکر کیا نہ کہ دوسرے کا ۔اور غازی پوری صاحب باوجود ایں رتبئہ بلند کہ دیوبند یہ کے رئیس المحققین ہیں اتنی سی بات سمجھ نہیں پائے یا مطلب پوراکرنے کے لئے سمجھنا نہیں چاہتے تھے چونکہ اعتراض کرنا تھا۔
اسی لئے وحیدالزمان صاحب سے ان بارہ ائمہ کے نام نقل کرتے ہوئے بارہویں پر یہ حاشیہ آرائی فرمائی کہ :’’ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیںحسن بن علی عسکری کو کوئی اولاد نہیںتھی‘‘(منھاج السنہ جلد1 ص: 131)توپھر یہ مھدی کہاں سے پیداہوئے ،ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’مھدی غائب پر ایمان رکھنے والوںسے زمین بھری پڑی ہے یہ مھدی ان سے ملنے کبھی نہیںآئے ۔۔۔۔۔‘‘(منھاج ص:132) (آئینہ ص:214،وقفہ ص:187)
جواب:شیخ الاسلام ابن تیمیہ a نے یہ جو فرمایابالکل صحیح فرمایا چونکہ انہوں نے تویہ تبصرہ اس کے موقع محل پر فرمایالیکن غازی پوری صاحب نے کم فہمی یا مطلب برآری کے لئے اسے بالکل غلط موقع پر لاپیش کردیا۔جناب ِ من وحیدالزمان کی جو عبارت آپ نے نقل کی اس میں ’’محمد بن عبداللہ منتظَر ‘‘کاذکر ہے ’’محمد بن حسن عسکری ‘‘کا نہیں جو آپ ان کے خلاف ابن تیمیہ رحمہ اللہ کافرمان لے آئے۔ اپنی ہی نقل کردہ عبارت کوخوب غور سے دیکھ لیجئے توواضح ہوگاکہ وہ کسی وادی میں ہیںاور آپ کسی دوسری وادی میںبھٹک رہے ہیں۔
اب آپ غازی پوری صاحب فاضل دیو بند کے اندھیر مچانے کی چند مثالیں بھی دیکھتے چلیں تاکہ واضح ہوکہ انہوں نے یہاں’’روشنی ‘‘ڈالی یا ’’اندھیر‘‘مچایاہے۔
غازی پوری صاحب کے اندھیر مچانے کی مثالیں
پہلی مثال:وحیدالزمان صاحب نے غازی پوری صاحب کی نقل کردہ فصل کا آغاز اس طرح کیا َ:
’’فصل :اھل الحدیث یتبرؤن من داب الروافض الذین یبغضون الصحابۃ ویسبّونھم وکذلک یتبرؤن من طریق الخوارج والنواصب الذین یبغضون اھل البیت والائمۃ الاطھارھی الطریقۃ المثلی والجادۃالفضلی ھم سلم لمن سالم اھل البیت وحارب لمن حاربھم‘‘
فصل:’’اہل حدیث روافض کی عادت سے برأت وبیزاری کا اظہار کرتے ہیں ،روافض جو صحابہ y سے بغض رکھتے ہیں اورانہیں برابھلاکہتے ہیں اور اسی طرح خارجیوں اور ناصبیوں کے طریقہ سے بھی بیزاری اختیار کرتے ہیںجو اہل بیت وائمہ اطہارسے بغض رکھتے ہیں۔ یہی مثالی طریقہ اور فضیلت والی راہ ہے ۔اہل حدیث کی ان کے ساتھ صلح ہے جو اہل بیت سے صلح کرنے والے ہیں اور ان سے جنگ ہے جو اہل بیت سے جنگ کرنے والے ہیں (جیسے ناصبی)‘‘
(ھدیۃ المھدی ص103تا102)
غازی پوری صاحب !وحید الزمان صاحب اور ان کی اس کتاب سے ہمیں بھی بڑا اختلاف ہے لیکن انصاف سے خدالگتی کہئے کیا ان کی تحریر کردہ یہ’’فصل شیعیت ورافضیت ‘‘کی ترجمان ہے یا اہل السنہ کاموقف و منھج سدید کہ صحابہ و اہل بیت y میں سے ہر ایک سے محبت و مودت اور ان میں سے ہر ایک سے مخالفت وبیزاری ظاہر کرنے والے سے بیزاری !!!ہاںاس میں جوبات غلط ہے اسے ہم بھی نہیں مانتے اور غلط ہی کہتے ہیں اور ایسی غلط باتوں کی تردید پر ہمیں کوئی اعتراض بھی نہیں۔
غازی پوری صاحب کی متروکہ عبارت کے بعد آگے وہ بات ہے جسے غازی پوری صاحب عنوان زیر بحث کے تحت سب سے پہلے لائے ہیں کہ وحید الزمان صاحب نے لکھا:’’اگر سید نا علی اور معایہ رضی اللہ عنھماکے درمیان ہمارے زمانہ میں جنگ شروع ہوئی ہوتی توہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوتے پھر حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ‘‘(کچھ دیر ص:266،آئینہ ص:213)تویہاں بھی غور فرمالیجئے کہ روافض کے باطل خیالات سے وہ قطعاًمتفق نہیں تھے چونکہ وہ سیدناعلی کو سیدنا ابوبکرصدیق ،سیدناعثمان رضی اللہ عنھم اجمعین کے دور میں بھی خلیفہ ماننے اور’’خلیفہ بلافصل ‘‘ماننے کا نہیں کہہ رہے وہ توان خلفاء راشدین کی امامت و خلافت کو برحق مانتے تھے ،خود غازی پوری صاحب بھی ان کا یہ نظریہ اپنی اسی کتاب میں نقل کرچکے ہیں چنانچہ لکھا ہے: نواب وحید الزمان حیدرآبادی لکھتے ہیں:
’’رسول ﷺ کے بعد امام برحق ابوبکر ہیں ،پھر عمر ،پھر عثمان ،پھر علی پھر حسن بن علی (رضی اللہ عنھم)‘‘(ھدیۃ المھدی ص:94،آئینہ ص:298،کچھ دیر ص:270)
معلوم ہواکہ وہ اولین تین خلفاء راشدین کی خلافت کو برحق سمجھتے اس کے برعکس شیعہ رافضی ان کی خلافت کو معاذاللہ ناحق قبضہ اور برسرِباطل سمجھتے ہیں بلکہ علی الاعلان ان پر سبّ وشتم ،لعن طعن اور تبراء کرتے ہیں ۔کتنا فرق ہے وحید الزمان صاحب اور شیعہ کے عقیدہ میں۔ ہاں البتہ عبارت بالامیں سیدناعلی و سیدنامعاویہ w کے اختلاف کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں کہ آج ایسا ہوتا تو ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوتے ۔پھر حسن بن علی w کے ساتھ۔(اگروحید الزمان صاحب زندہ ہوتے تو ہم ان سے عرض کرتے کہ پھر آپ ضرور سیدنا معاویہ t کے ساتھ ہوجاتے کیونکہ سیدنا حسنtسیدنامعاویہ t کے حق میں اپنی خلافت سے برضاء ور غبت ،بلاجبرواکراہ دستبردار ہوگئے تھے ۔آخر آپ حسن t کا ساتھ نبھاتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا امام وقت ما ن ہی لیتے )اب رہی بات دونوں کے مقابلے میں سیدنا علی t کے ساتھ دینے کی تو سن لیئجے۔
ملاعلی بن سلطان القاری الحنفی گیارہویں صدی کے حنفی بزرگ حدیث ’’میرے بعد خلافت تیس سال تک ہوگی۔‘‘اس پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’وقد استشھد علّی رضی اللہ عنہ علی رأس ثلاثین سنۃمن وفاۃرسول اللہ ،وممایدل علی صحۃ اجتہادہ وخطأ معاویۃ فی مرادہ ما صح عنہ علیہ الصلاۃ والسلام فی حق عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ’’تقتلک الفئۃالباغیۃ‘‘ …. فتبین أن معاویۃ ومن بعد لم یکو نواخلفاء بل ملوکاًوامراء ولایشکل بأن اھل الحل والعقد من الامۃ قد کانوا متفقین علی خلافۃ الخلفاء العباسیۃ و بعض المروانیۃ کعمر بن عبدالعزیز، فان المراد بالخلافۃ المذکورۃ فی الحدیث الخلافۃ الکاملۃ التی لا یشوبھاشی من المخالفۃ، ومیل عن المتابعۃ تکون ثلاثین سنۃ،وبعد قد تکون وقد لاتکون، اذ ورد فی حق المھدی أنہ خالفۃ رسول اللہ ،والأظھرأن اطلاق الخلافۃعلی الخلفاء العباسیۃ کان علی المعانی اللغویۃ المجازیۃ دون الحقیقۃ الشرعیۃ‘‘
’’سید نا علی t وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تیسویں سال شھید کئے گئے، ان کے اجتہاد کی درستگی اور سیدنامعاویہt کے مراد کے خطاہونے والے دلائل میں سے یہ دلیل بھی ہے جو نبی u سے سیدنا عماربن یاسر t کے حق میں صحیح ثابت ہے (آپ نے فرمایا)’’تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘۔۔۔۔۔۔۔پس اس سے واضح ہواکہ معاویہ t اور جو ان کے بعد ہوئے وہ خلفاء نہ تھے بلکہ ملوک وامراء تھے۔
اس پر یہ اشکال وارد نہیں ہوتا کہ امت کے اہل حل وعقد خلافت عباسیہ کے خلفاء پر متفق تھے اسی طرح بعض مروانیہ جیسے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ پر چونکہ حدیث میں مذکور خلافت تیس سال ہی رہے گی،اس کے بعد کبھی ہوگی کبھی نہیں،جبکہ ’’المھدی‘‘کے حق میں یہ بات وارد ہوئی کہ وہ رسول ﷺ کی خلافت کریںگے،زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ عباسی خلفاء پر خلافت کا اطلاق لغوی ،مجازی اور عرفی معانی پر ہے نہ کہ حقیقت شرعیہ کے مطابق ۔‘‘ (شرح فقہ الاکبرص:145مطبوع دارالنفائس ہشام)
مزید سنئیے پھر ہم کچھ عرض کریں گے ،علامہ علی قاری فرماتے ہیں:
’’ثم کان معاویۃ رضی اللہ عنہ مخطِأً اِلاأنہ فعل مافعل من تاویل فلم یصر بہ فاسقا،واختلف اھل السنہ فی تسمیتہ باغیاً،فمنھم من امتنع من ذلک،والصحیح مَن اطلق لقولہ علیہ السلام لعمار:’’تقتلک الفئۃ الباغیۃ‘‘
’’پھر سید نا معاویہ رضی اللہ عنہ محظی تھے مگر یہ کہ انہوں نے جوکچھ کیا وہ تاویل سے کیا بس وہ اس وجہ سے فاسق نہیں،اھل السنہ کا معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی قراردینے پر اختلاف ہوا،پس ان میں سے کچھ اس سے منع کر تے ہیں/روکتے ہیں اور صحیح بات اس کی ہے جس نے اس کا اطلاق کیانبی علیہ السلام کے اس فرمان کی وجہ سے کہ (اے عمار)’’تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘ (شرح فقہ الاکبر ص:148)
تو ان وجوہ کی بنا پر شاید وحید الزمان صاحب نے اس خواہش کا اظہار کیا ہو۔
دوسری مثال:اب غازی پوری صاحب کے اندھیرکی دوسری مثال ملاحظہ کیجئے مذکوربالاعبارت کے بعد جناب نے وحید الزمان صاحب کی بنو امیہ اور بنو عباس کے حکمرانوں سے متعلق عبارت نقل کردی ،شیعہ کے ساتھ موافقت ثابت کرنے کے لئے ۔اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ علی الاطلاق یہ کہنا باطل ہے ہمیں اس سے قطعاًاتفاق نہیں ۔لیکن اس کے بعد وحیدالزمان نے لکھا:’’کماملأت فی عھد النبیﷺ وخلفائہ الراشدین عدلاونور اویمانا‘‘
’’جیسا کہ نبی ﷺ اوران کے خلفاء راشدین کے دور میں زمین عدل ونور اور ایمان سے بھر پورتھی ۔‘‘(ھدیہ المھدی ص:103)
اب غازی پوری صاحب نے تو اہل حدیث اور شیعہ میں موافقت ثابت کرنے کی ٹھان رکھی ہے تو اس مقام پر یہ عبارت بھی نقل نہیں کی کیونکہ خلفاء راشدین کے عھد زرین کی تعریف ان کے دعوٰی کی تکذیب کرتی ہے تو اسے چھوڑکر یہ لکھ دیا کہ وحید الزمان نے ــ’’اپنی اس فصل کو ختم کرتے ہوئے کہا ‘‘ او ر انکی عبارت نقل کردی ۔اس سے نام نہا د روشنی ڈالنے کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔یہاں ہم عباسی صاحب کی خدمت میں عرض کریںگے کہ اگر کسی کادماغ ہی خیانت کے جراثیم سے بھرا ہوتواسے ہرجگہ جراثیم ہی نظر آتے ہیں۔اور اگر وحیدالزمان صاحب کی ان عبارت میںواقعی شیعیت و رافضیت کی روح جھلکتی تووہ خلفاء راشدین کے دور کو عدل وایمان کا دور قطعاًنہ لکھتے۔اسی جگہ قاسمی صاحب نے اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہوئے لکھ دیا:
’’ہم تو سمجھتے تھے ’’امام غائب ‘‘کا انتظار صرف شیعہ ہی کرتے ہیں یہ تو اب معلوم ہوا کہ غیر مقلدین کو بھی ’’امام غائب ‘‘کا شدت سے انتظار ہے‘‘۔ (آئینہ ص215)
جواب:قاسمی صاحب !آپ اگر اپنے استادگرامی کی اندھی تقلید کے بجائے اصل کتاب کی طرف مراجعت فرماتے تو ان کی غلط بیا نی آپ پر ضرور واضح ہوجاتی اور آپ یہ جملے لکھنے کا حوصلہ ہی نہ کرپاتے الایہ کہ آپ بھی اپنے استاذکی طرح غلط بیانی پر جری ہوں ۔بہر حال اب مذکورہ بالاتفصیل دیکھ کر آپ کو بخوبی معلوم ہوگیا ہوگاکہ یہ سب کچھ اہل حدیث کے خلاف بہتان طرازی اور باطل پراپیگنڈا ہے درحقیقت اہل حدیث کسی ’’امام غائب ‘‘ کا تصور تک نہیں رکھتے چہ جائیکہ’’امام غائب ‘‘کا انتظار بلکہ آپ کے زعم کاسد کے مطابق ’’شدت سے انتظار ‘‘کرتے ہوں۔

About ابوالاسجد محمد صدیق رضا

Check Also

المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

قسط نمبر: 5 عقیدہ نمبر:1 مسئلہ شد رحال یعنی زیارت قبور کےلئے دوردراز کاسفرطے کرنا …

جواب دیجئے