Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2020 » شمارہ جنوری » حب الوطنی کا اسلام میں تصور

حب الوطنی کا اسلام میں تصور

معزز قارئین کرام!

میں ایک پاکستانی ہوں اور اپنے وطن عزیز اور اسکی مٹی سے جان سےبڑھ کرمحبت کرتا ہوں۔

یاد رکھیں! اپنے وطن اور اسکی مٹی سے پیاراور محبت کرنا ایک فطری عمل ہے اور اسلام نے بھی اس فطری عمل کو برقرار ہی رکھا ہے، تبھی تو قرآن مقدس کے اندر اللہ تعالی نے جانوں کی محبت کو وطن کی محبت کے ساتھ ملا دیا ہے یعنی: جس طرح انسان اپنی جان سے محبت کرتا ہے اسی طرح وطن سے بھی محبت کرتا ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَ لَوۡ اَنَّا کَتَبۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَنِ اقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ اَوِ اخۡرُجُوۡا مِنۡ دِیَارِکُمۡ مَّا فَعَلُوۡہُ  اِلَّا قَلِیۡلٌ مِّنۡہُمۡ  وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ فَعَلُوۡا مَا یُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ  وَ اَشَدَّ  تَثۡبِیۡتًا ۔(النساء:66.)

 اور اگر ہم ان پر یہ فرض کر دیتے ہیں کہ اپنی جانوں کو قتل کر ڈالو! یا اپنے گھروں (یعنی وطن) سے نکل جاؤ! تو اسے ان میں سے بہت ہی کم لوگ بجا لاتے اور اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یقیناً یہی ان کے لئے بہتر اور بہت زیادہ مضبوطی والا ہو ۔

اس آیت سے پتا چلا کہ وطن سے محبت انسان کے دل میں بہت ہی زیادہ ہوتی ہے اور انسان اس کےچھوڑنے کو پسند نہیں کرتا۔

یہ محبت یقینا ایک فطری محبت ہے اسی وجہ سے وہ مہاجر صحابہ  جو اپنے وطن کو چھوڑ کر مدینہ گئے تھے اللہ نےان کی اس قربانی کی قدر کی اور اور بے حد تعریف کی:

لِلۡفُقَرَآءِ  الۡمُہٰجِرِیۡنَ  الَّذِیۡنَ  اُخۡرِجُوۡا  مِنۡ  دِیَارِہِمۡ وَ اَمۡوَالِہِمۡ یَبۡتَغُوۡنَ  فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ  وَ رِضۡوَانًا وَّ یَنۡصُرُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ۔ (الحشر:8.)

( فیٔ کا مال ) ان مہاجر مسکینوں کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالٰی کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی سچے لوگ ہیں۔

یہ بہت بڑی نعمت ہے کہ انسان اپنے وطن کے اندر آرام، سکون  اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزارے اورملک میں امن سے ہو۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏    مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ، ‏‏‏‏‏‏مُعَافًى فِي جَسَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا   ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحِيزَتْ:‏‏‏‏ جُمِعَتْ.

 ”تم میں سے جس نے بھی صبح کی اس حال میں کہ وہ اپنے گھر یا قوم میں امن سے ہو اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست ہو اور دن بھر کی روزی اس کے پاس موجود ہو تو گویا اس کے لیے پوری دنیا سمیٹ دی گئی“  (ترمذی شریف:2346)

سیدنا انس رضي الله عنه فرماتے ہیں :

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قدم من سفر فأبصر درجات المدينة أوضع ناقته وإن كانت دابة حركها

رسول الله صلی الله عليه وسلم جب سفر سے مدینہ کی طرف لوٹتے اور مدینہ کے بالائی علاقوں پر نظر پڑتی تو اپنی اونٹنی کو تیز کر دیتے،کوئی دوسرا جانور ہوتا تو اسے بھی ایڑ لگاتے (جلدی پہنچنے کے لیے).

( صحيح البخاري ،حديث: 1802)

حافظ ابن حجر رحمه الله کہتے ہیں :

وفي الحديث دلالة على فضل المدينة، وعلى مشروعية حب الوطن، والحنين إليه .

یہ حدیث مدینہ کی فضیلت، وطن سے محبت کی مشروعیت اور وطن کے شوق پر دلالت کرتی ہے۔ (فتح الباري : ج3ص783)

امام ابن بطال رحمه الله کہتے ہیں :

 قد جبل الله النفوس على حب الأوطان والحنين إليها، وفعل ذلك عليه السلام، وفيه أكرم الأسوة ۔

یقینا اللہ تعالی نے جانوں کو وطن کی محبت اور اس کی طرف رغبت اور شوق پر پیدا کیا ہے. اور یہی نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے کیا، اور یہی بہترین نمونہ ہے.[ شرح ابن بطال : 4/435 ]

 اسی طرح جب نبی صلی الله عليه وسلم پر پہلی وحی آئی اور آپ نے اس کے بعد ورقہ بن نوفل سے ملاقات کی۔(یہ واقعہ بخاری اور دیگر کتب میں مذکور ہے) محدث امام سهيلي رحمه الله اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :

 يؤخذ منه شدة مفارقة الوطن على النفس، فإنه سمع قول ورقة أنهم يؤذونه، ويكذبونه، فلم يظهر منه انزعاج لذلك، فلما ذكر له الإخراج تحركت نفسه لحب الوطن، وإلفه، فقال : أو مخرجي هم ؟! .

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وطن کی مفارقت جان پر کتنی گراں اور مشکل گزرتی ہے، کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے ورقہ سے یہ بھی سنا کہ مکہ کے لوگ آپ کو تکلیف دیں گے،آپ کی دعوت جھٹلا دیں گے لیکن آپ صلى الله عليه وسلم نے پریشانی کا اظہار نہ کیا، مگر جب آپ کے نکالے جانے کی بات آئی تو وطن سے محبت و اُنسیت کی بنا پر آپ رہ نہ سکے اور بے ساختہ کہا : کیا وہ مجھے نکال دیں گے ؟![ فتح الباري : ج12ص450 ]

اسی وجہ سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  مکہ سے نکل رہے تھے تو فرما رہے تھے:

وَاللَّهِ، إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ.( رواہ الترمذی:3925 وصححہ الالبانی رحمہ اللہ تعالی )

اللہ کی قسم !(اے مکہ) بے شک تو سب سے بہترین اللہ کی زمین  ہے اور اللہ کے ہاں سب سے محبوب ترین ہے اگر تیری قوم مجھے تجھ سے نہیں نکالتی میں کبھی نہیں نکلتا۔

طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر یہ بات بھی موجود  ہے کہ انسان دم کرتے  وقت اپنے وطن کی مٹی  کو استعمال کرے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الرُّقْيَةِ : "تُرْبَةُ أَرْضِنَا، وَرِيقَةُ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا ” (راه البخاري :5746)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دم کرتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے :

تربة أرضنا،‏‏‏‏‏‏‏‏ وريقة بعضنا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏يشفى سقيمنا،‏‏‏‏‏‏‏‏ بإذن ربنا‏ ‏‏.

 ”ہماری زمین کی مٹی اور ہمارا بعض تھوک،ہمارے رب کے حکم سے ہمارے مریض کو شفاء ہو۔“

 ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری میں اس حدیث کی وضاحت  میں فرماتے ہیں:

وقال البيضاوي: قد شهدت المباحث الطبية على أن للريق مدخلا في النضج وتعديل المزاج، وتراب الوطن له تأثير في حفظ المزاج ودفع الضرر.

علامہ بیضاوی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : بے شک طبی مباحث اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ بے شک تھوک یا لعاب کا ایک کردار  ہے مزاج کو تبدیل کرنے اور معتدل بنانے میں،اسی طرح  وطن کی مٹی کے اندر بھی تاثیر موجود  ہے مزاج کی حفاظت کرنے اور نقصان کو ہٹانے میں( اللہ کے حکم کے ساتھ)۔

اسی طرح کئی صحابہ سے وطن کی محبت منقول ہے جیساکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ آئے تو اپنے اصلی وطن مکہ کو یاد کرتے اور اشعار پڑھتے تھے :

أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ

وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ

 اے کاش! کیا میں مکہ کی اذخر اور جلیل گاس والی وادیوں میں رات گذارونگا ؟

کیا میں کسی دن مکہ میں موجود مجنہ پانیوں کے پاس جاسکوں گا؟ کیا میرے لیے دوبارہ مکہ کے شامہ اور طفیل پہاڑ جلوہ افروز ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔  (صحیح بخاری حدیث:3926 )وغیرہ۔

رسول اللہ ﷺ نے جب صحابہ کی یہ باتیں سنیں تو فرمایا تھا:

اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ

اے اللہ جس طرح ہماری ( اپنے وطن مکہ )کے ساتھ محبت ہے اسی طرح ہماری دلوں میں مدینہ کی محبت کو بھی بٹھا دے۔

حب الوطنی کے تقاضے:

حب الوطنی کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم چودہ اگست کو ڈانس کریں، محفلِ موسیقی منعقد کریں،عورتوں کو روڈ اورراستوں پر بے پردہ حالت میں پیش کریں، اور وہ کام کریں جن سے اللہ ناراض ہو،بلکہ ایک ایمان والے کی ذمہ داری ہے اس وطن کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا تھا:

( الحمد لله الذي انجز وعده ونصر عبده وهزم الاحزاب وحده)( مسلم:1218)

تمام تعریفات اس  اللہ کے لئےہیں جس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام دشمنوں کو اس اکیلے اللہ نے شکست دی۔

اور آپ مکہ میںداخل ہوکر صلوۃ الفتح ادا کرتے ہیں یعنی کامیابی ملنے پر بطور شکرانہ کے نماز پڑھتے ہیں۔

حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ  ہم اس ملک میں قرآن وسنت کے نفاذ کے لئے مخلصانہ کوشش کریں اور حقیقی معنیٰ  میں اس ملک کو مدنی فلاحی ریاست بنائیں کیونکہ کہ اس ملک کے لیے اس سے بڑی کوئی اور خیرخواہی نہیں ہوسکتی،قرآن مقدس کے اندر ہے:

اَلَّذِیۡنَ  اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ  فِی الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ  نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ لِلّٰہِ  عَاقِبَۃُ  الۡاُمُوۡرِ ۔(الحج:41)

 یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کو اقتدار دیتے ہیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں  تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔

حب الوطنی کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ہم ملکی قوانین کی پاسداری کریں، حکمرانوں کا احترام کریں، اور اپنے ملک کی ترقی ، خوشحالی اور بقاء کے لیےاللہ سے ہر وقت دعاگو رہیں اوراس کےلیے کوشش و محنت کریں،اوراس ملک کی افواج اور سپاہ جو ہماری ملک کی سرحدوں پر موسم سرمااورگرمامیں جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان کے لئے بالخصوص دعائیں کریں،اسی طرح اپنے حکمرانوں کی اصلاح کے لئے دعا گو رہیں ۔

اللہ ہمارے وطن عزیز پاکستان کی حفاظت فرمائے،اس کو امن کا گہوارہ بنائے اسے ہمیشہ شادوآباد رکھے اس پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے،جو اس ملک کے لیے خراب ارادہ رکھتا ہے اللہ اسے ذلیل اور رسوا کرے ۔آمین۔

اہم ترین نوٹ:

حب الوطنی کے حوالے سے عوام میں ایک من گھڑت روایت مشہور ہے جس کے الفاظ ہیں ( حب الوطن من الایمان) وطن سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے۔

یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ نہیں ہیں لہذا حب الوطنی کو بیان کرتے وقت ان الفاظ کو رسول اللہ صل وسلم کی طرف منسوب کرنا درست نہیں ہے۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو سلسلۃ ضعیفہ میں ذکر کیا ہے۔دیکھئے: حدیث:36.

شیخ البانی مزید فرماتے ہیں:یہ حدیث معنیٰ کے اعتبار سے بھی ٹھیک نہیں کیونکہ مشرک اور کافر بھی تو اپنے وطن کے ساتھ محبت کرتے ہیں ۔واللہ اعلم بالصواب۔

About ابو عبدالرحمٰن عبدالرزاق دل

Check Also

سایہ رسول ﷺکا اثبات دلائل صحیحہ سے

سوال: کچھ  احباب کہتے ہیں کہ آپ صلی علیہ وسلم کا سایہ نہیں تھا لھذا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے