Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ مئی » ماہنامہ ’’دعوت اہل حدیث ‘‘کی اشاعت پر ایک نگاہ

ماہنامہ ’’دعوت اہل حدیث ‘‘کی اشاعت پر ایک نگاہ

معزز قارئین کرام !

السلام علیکم :امابعد

بفضلہ تعالیٰ مؤقر ’’دعوت اہل حدیث‘‘ سندھی اور اردو دونوں علیحدہ مواد کے ساتھ حیدرآباد سندھ سے جولائی2001ء سےباقاعدگی سےجمعیت اہل حدیث سندھ کےترجمان کی حیثیت سے شایع ہورہے ہیں، ادارے نے کئی مثالی،معیاری اور ضخیم خصوصی نمبر بھی شایع کئے، جنہیں قارئین سے خوب پذیرائی ملی، روزاول سے ہی جمعیت اہل حدیث سندھ کے زعماء کی منظوری سے دعوت اہل حدیث میں منہج اہل حدیث، فکر سلف صالحین کے ساتھ خالص قرآن وسنت کی روشنی میں دعوت وتبلیغ ،محاضرات علمیہ، توحید باری تعالیٰ ،اتباع سنت ،سیر ت النبیﷺ، سیر صحابہ کرام، اصلاحِ عقائد ،رغبت اعمال صالحہ، اخلاق حسنہ، تزکیہ نفس، مسنون ذکر واذکار اور رد شرک ،بدعت ورسومات جاہلیہ جیسے موضوعات پر دانش وبینش حکمت وموعظت کےساتھ روح پروروایمان افروز مواد قارئین کرام تک پہنچارہاہے۔

مجلہ کے اس کے علاوہ مقاصد میںسےالیکٹرانک ،پرنٹ اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات سےنوع انسان کو محفوظ رکھنا تھا، مزید یہ کہ آئے روز نت نئے مفاسد اور فتنوں سے حفاظت کےلئے علم وحکمت، دانش وبینش سے قرآن وسنت کی روشنی میں تفسیر، حدیث، دعوت وتبلیغ، پند ونصیحت، باب الفتاویٰ، حالات حاضرہ پربےلاگ تبصرے شایع کرنا اور بغیر کسی جذباتیت، سطحیت اور جدال کے علمی ،ادبی معیاری محققانہ مضامین قارئین کرام تک پہنچانا ،مواد میں کتاب سنت کی روشنی میں مسلک اصحاب الحدیث کو بھی علمی اورباوقار انداز میں پیش کرناشامل تھا، واضح ہو کہ مؤقر ’’دعوت اہل حدیث‘‘کے اجراء کے بعد چند ماہ تو سندھی اور اردو شمارے اکٹھے اشاعت پذیر ہوا کرتے تھے، پھر قارئین کرام کے اصرار پر،مالی وانتظامی بھاری بوجھ کے باوجود یہ دونوں شمارے باقاعدگی سے علیحدہ مواد ومضامین سے جداجداشایع ہونا شروع ہوئے۔

جس کی بفضلہ تعالیٰ قارئین میںخوب پذیرائی ہوئی، اردو شمارہ میں تو ’’پرمغز اداریہ‘‘ کے علاوہ محدث دوراں علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کی’’بدیع التفاسیر‘‘ باقاعدگی سے اردوترجمہ ،فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ کا درس حدیث، اور وقت بوقت ان کے محاضرات علمیہ، فتاوے ،تذکرہ رفتگاں ،جماعتی خبریں وغیرہ باقاعدگی سے شایع ہوا کرتے ہیں،یہاں یہ وضاحت بھی مناسب ہوگی کہ مؤقر ’’دعوت اہل حدیث ‘‘کی اشاعت دراصل علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدیرحمہ اللہ (متوفی:۸جنوری ۱۹۹۶ء)کی دیرینہ آرزوںکی تعبیر وتکمیل تھی ،شاہ صاحب یگانہ روزگار ،جامع کمالات علمیہ کے مالک، فن رجال کے امام، علمی ثقاہت میں فائق ،بلند پایہ محقق مصنف، فن خطابت ومناظرہ کے بادشاہ ،قادر الکلام سندھ میں خاندانی وجاہت کےمالک تھے، آہ !

اک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آسماں کے

جنہوں نے باب الاسلام سندھ میں اسلامی خدمات کے لئے حیدرآباد سندھ سے کافی عرصہ تک ایک علمی شاندار مؤقر مجلہ ماہنامہ ’’الھدی‘‘ بھی جاری فرمایاتھا، جوپھر مرور زمانہ کے ساتھ بند ہوگیا، پھر آپ ہی کے ارشادات کے تحت ٹنڈوغلام علی کے جامعہ سے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد صدیق مرحوم کو شاہ صاحب نےاپنے ایک مکتوب گرامی کے ہمراہ خاکسار راقم الحروف کے ہاں تھرپارکر بھیجا کہ جامعہ سے ایک ماہنامہ مجلہ جماعت اہل حدیث سندھ کی زیرنگرانی چلانا ہے، مگر بدقسمتی سے نہ مفتی صاحب کے پاس وقت تھا نہ ان کی صحت اچھی تھی، نہ راقم الحروف فارغ تھا،لہذا وہ رسالہ بھی چند شماروں سے آگے نہ بڑھ سکا،اور ایسے ہی مؤقر ماہنامہ’’السلطان‘‘ بدین بھی ستم ظریفی زمانہ کی نذرہوگیا،(شاہ صاحب کے یہ اور اس قسم کے دیگرمکاتیب گرامی آج بھی اپنی سانس کی طرح سنبھالے ہوئے ہوں) شاہ صاحب کے سانحہ ارتحال کے بعد اس کی آرزؤں اورامیدوں کی تکمیل وتعمیل میں جماعت کی مجلس مشاورت کی میٹنگ میں ماہنامہ ’’دعوت اہل حدیث‘‘ کا باقاعدہ اجراء عمل میں آیا، جس میں بلاشبہ فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی صاحب، محترم ڈاکٹر عبدالرقیب صاحب اور مولانا قاضی عبدالحق انصاری رحمہ اللہ (متوفی ۳جولائی ۲۰۰۳ء) کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں:

مدت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیںوہ لوگ

مٹتے نہیں ہیں دھر سے جن کے نشان کبھی

ان کے علاوہ مختلف اوقات میں دعوت اہل حدیث کی بزم میں جن حضرات نے صدقِ دل اورخلوص نیت سے کام کیا ان میں فاضل نوجوان مولانا حافظ عبدالحمید گوندل،مولانا محمد سہیل محمدی، مولوی محمد علی، مرحوم مولانا عبدالرحمن میمن، انعام اللہ کنجاہی، مولانا محترم بشیر احمد صاحب عسکری، مولانا محترم حزب اللہ بلوچ وغیرھم نے رسالہ کی ترقی وتوسیع میں اپنی پوری صلاحیتیں بروئے کار لائیں،پھر مورخہ یکم ستمبر2010ء کو اردوشمارے کی خدمات فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ  نے جماعت اہل حدیث کے مثالی محسن، اہل حدیث کے مایہ ناز مثالی مدرس اور قلمکار المعہد السلفی کے سینئر استاذ مکرم مولانا ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ (2018-1972)کے سپرد کیں جس نے تادم واپسی بڑے خلوص سے اپنے فرائض منصبی نبھائے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور ان کو جوار رحمت میں جگہ دے ۔آمین۔

مولانا طاہر رحمہ اللہ نے بغیر کسی معاوضے کے رسالہ کوخوب سے خوب تر بنایا علمی،تحقیقی، مفید اور معیاری مضامین کے حصول وانتخاب کے لئے آپ نے جوکاوشیں کیں وہ ناقابل فراموش ہیں، ہرہرمضمون نگار سے رابطہ میں رہنا ،ان کامضمون تاخیر سے ملنے کے باعث پریشان ہوجانا پھر مضمون کے وصول ہونے پر بروقت تشکر کا میسج بھیجنا یہ ان کاکام ان کے ساتھ اب ماضی کا حصہ بن گیا ہے۔

نظر سے چھپے ہیں جہاں کیسے کیسے؟

تہ خاک ہوئے جہاں کیسے کیسے؟

بہرحال شیخ طاہررحمہ اللہ کے اچانک سانحہ ارتحال کے بعد ’’دعوت اہل حدیث‘‘ شعبہ اردو کی خدمات لائق احترام محترم علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کے فیصلہ کے مطابق فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالصمد المدنی حفظہ اللہ جیسے علم پرور، باوقاراور سنجیدہ فکر مہرباں کے حصے میںآئیں، آپ المعہد السلفی کے باوقار اساتذہ میں سے ہیںاورعلمی،ادبی حلقوں میں معروف شخصیت کے مالک ہیں آپ نے وطن عزیز کی جامعات میں تحصیل علم کے بعد مدینہ یونیورسٹی سعودی عرب سے تحصیل علم کے ساتھ طویل علمی منازل ،مشاہدات وتجربات بھی حاصل کیے، مزید یہ کہ آپ مولانا طاہر رحمہ اللہ کے چچازادبھائی اوران کے خصوصی تلامذہ میں سے ہیں، ایسے میں ہم جیسے قارئین کرام انتہائی عجزوانکساری سے رب کعبہ کے حضور دست بدعاء ہیں کہ اللہ تعالیٰ مجلہ ’’دعوت اہل حدیث‘‘ کو جماعتی آرزؤں اور امنگوں کا حقیقی ترجمان بنائے، اور موجودہ ملحدانہ انارکی کے پرآشوب ماحول میں مجلہ کو طائفہ منصورہ مسلک اہل حدیث اور اسلام کا حقیقی ترجمان بنائے۔ موجودہ عالم اسلام پر مصائب کے باوجود قرآن وسنت کی روشنی میں محققانہ مضامین پیش کرے اور اسلام سے سچی بے غرض محبت کرنے والوں کی دل کی تسکین کا سامان پیداکرے، اور ہم خادمین کو ہمت عطافرمائے تاکہ گھر گھر تک قال اللہ وقال الرسول کی پرامن صدا پہنچاسکیں ،اللہ تعالیٰ ہمارے مجلہ کے رئیس التحریر کو بھی صحت، سلامتی،ہمت اور توانائی عطافرمائے ۔

مجلس مشاورت،جملہ منتظمین، معاونین اورباوقار قارئین کرام پر بھی اپنی عنایات بے پایاں کا نزول فرمائے۔آمین

ایں دعاء از من و جملہ جہاں آمین باد

About پروفیسر مولابخش محمدی

پروفیسر مولابخش محمدی،مٹھی تھرپارکر

Check Also

شائستہ،  پُروقار اندازِ گُفتگو 

معزز قارئین  کرام! ہمیں آپس میں دھیمیں ،پرُوقار اور شائستہ لہجہ میں بات کرنی چاہیے،چونکہ …

جواب دیجئے