Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ مئی » مقدمہ بدیع التفاسیر

مقدمہ بدیع التفاسیر

سولہویں فصل:

حروف مقطعات کابیان

کئی سورتوں کی ابتداء میں ایسے حروف آتے ہیں مثلا:الٓمٓ، حٰمٓ، طٓسٓمٓ وغیرہ جن کے بارے میں علماء کے مختلف خیالات ہیں، بعض کا خیال ہے کہ یہ ایسے راز ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سواکوئی نہیں جانتا۔ اسی طرح ابن المنذر نے شعبی سے روایت نقل کی ہے۔(الاتقان ۲؍۸) تفسیر قرطبی ۱؍۱۵۴میں سفیان ثوری سے بھی یہی منقول ہے۔نیز دیگر صحابہ کی روایات بھی مذکور ہیں مگر ان کے لئے ثبوت درکار ہیں،چونکہ ان کی کوئی سند ذکر نہیں کی گئی ۔تفسیر ابن جریر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم ہیں،زید بن اسلم کہتے ہیں کہ یہ سورتوں کے نام ہیں۔ کلبی کاکہنا ہے کہ یہ حروف قسم کے قائم مقام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے آنے والے مضمون کے لئے بطور قسم ذکر فرمایا ہے نیز قرطبی امام ابن الانباری سے نقل کرتے ہیں:

وَقَالَ جَمْعٌ مِنَ الْعُلَمَاءِ كَبِيرٌ: بَلْ يَجِبُ أَنْ نَتَكَلَّمَ فِيهَا، وَنَلْتَمِسَ الْفَوَائِدَ الَّتِي تَحْتَهَا، وَالْمَعَانِيَ الَّتِي تَتَخَرَّجُ عَلَيْهَا، وَاخْتَلَفُوا فِي ذَلِكَ عَلَى أَقْوَالٍ عَدِيدَةٍ، فَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ أَيْضًا: أَنَّ الْحُرُوفَ الْمُقَطَّعَةَ فِي الْقُرْآنِ اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمِ، إِلَّا أَنَّا لَا نَعْرِفُ تَأْلِيفَهُ مِنْهَا. وَقَالَ قُطْرُبٌ وَالْفَرَّاءُ وَغَيْرُهُمَا: هِيَ إِشَارَةٌ إِلَى حُرُوفِ الْهِجَاءِ أَعْلَمَ اللَّهُ بِهَا الْعَرَبَ حِينَ تَحَدَّاهُمْ بِالْقُرْآنِ أَنَّهُ مُؤْتَلَفٌ مِنْ حُرُوفٍ هِيَ الَّتِي مِنْهَا بِنَاءُ كَلَامِهِمْ، لِيَكُونَ عَجْزُهُمْ عَنْهُ أَبْلَغَ فِي الْحُجَّةِ عَلَيْهِمْ إِذْ لَمْ يَخْرُجْ عَنْ كَلَامِهِمْ. قَالَ قُطْرُبٌ: كَانُوا يَنْفِرُونَ عِنْدَ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا سَمِعُوا:” الم” وَ” المص” اسْتَنْكَرُوا هَذَا اللَّفْظَ، فَلَمَّا أَنْصَتُوا لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِالْقُرْآنِ الْمُؤْتَلَفِ لِيُثَبِّتَهُ فِي أَسْمَاعِهِمْ وَآذَانِهِمْ وَيُقِيمَ الْحُجَّةَ عَلَيْهِمْ. وَقَالَ قَوْمٌ: رُوِيَ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ لَمَّا أَعْرَضُوا عَنْ سَمَاعِ الْقُرْآنِ بِمَكَّةَ وَقَالُوا:” لَا تَسْمَعُوا لِهذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ «2» ” [فصلت: 26] نَزَلَتْ لِيَسْتَغْرِبُوهَا فَيَفْتَحُونَ لَهَا أَسْمَاعَهُمْ فَيَسْمَعُونَ الْقُرْآنَ بَعْدَهَا فَتَجِبُ عَلَيْهِمُ الْحُجَّةُ. وَقَالَ جَمَاعَةٌ: هِيَ حُرُوفٌ دَالَّةٌ عَلَى أَسْمَاءٍ أُخِذَتْ مِنْهَا وَحُذِفَتْ بَقِيَّتُهَا، كَقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرِهِ: الْأَلِفُ مِنَ اللَّهِ، وَاللَّامُ مِنْ جِبْرِيلَ، وَالْمِيمُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقِيلَ: الْأَلِفُ مِفْتَاح اسْمِهِ اللَّهِ، وَاللَّامُ مِفْتَاح اسْمِهِ لَطِيفٍ، وَالْمِيمُ مِفْتَاح اسْمِهِ مَجِيدٍ. وَرَوَى أَبُو الضُّحَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ:” الم” قَالَ: أَنَا اللَّهُ أَعْلَمُ،” الر” أَنَا اللَّهُ أَرَى،” المص” أَنَا اللَّهُ أَفْصِلُ. فَالْأَلِفُ تُؤَدِّي عَنْ مَعْنَى أَنَا، وَاللَّامُ تُؤَدِّي عَنِ اسْمِ اللَّهِ، وَالْمِيمُ تُؤَدِّي عَنْ مَعْنَى أَعْلَمَ. وَاخْتَارَ هَذَا الْقَوْلَ الزَّجَّاجُ وَقَالَ: أَذْهَبُ إِلَى أَنَّ كُلَّ حَرْفٍ مِنْهَا يُؤَدِّي عَنْ مَعْنًى، وَقَدْ تَكَلَّمَتِ الْعَرَبُ بِالْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ نَظْمًا لَهَا وَوَضْعًا بَدَلَ الْكَلِمَاتِ الَّتِي الْحُرُوفُ مِنْهَا، وَقَالَ زُهَيْرٌ:

بِالْخَيْرِ خَيْرَاتٍ وَإِنْ شَرًّا فَا … وَلَا أُرِيدُ الشَّرَّ إِلَّا أَنْ تَا

أَرَادَ: وَإِنْ شَرًّا فشر. وأراد: إلا أن تشاء.

’’علماء کی ایک بڑی جماعت کا کہنا ہے کہ :ضروری ہے کہ ہم حروف مقطعات پر بحث کریں ان کا معنی معلوم کریں اس بارے میں مختلف اقوال ہیں ،ابن عباس اور علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم ہیں، عربی کے ائمہ قطرب وفراء کہتے ہیں کہ یہ حروف کفار کو متوجہ کرنے کے لئے ہیںکہ یہ کلام بھی ان ہی حروف پر مبنی ہے جنہیں تم اپنی گفتگو وکلام میں استعمال کرتے ہو اور انہیں یہ چیلنج کیا گیا ہے اگر تم اسے انسانی کلام تصور کرتے ہو تو ایسا کلام بناکر دکھاؤ۔قطرب کہتے ہیں کہ وہ قرآن سننے سے بدکتے اور اس سے نفرت کرتے ہیں جب انہوں نے یہ حروف الٓمٓ، المٓصٓ، وغیرہ سنے تو نامانوس سمجھ کر خاموش ہوگئے تو پھر ان پر دوسرا مضمون پڑھاگیا تاکہ ان کے کانوں تک پہنچے اس طرح ان پر حجت قائم کی گئی ۔ایک جماعت کا خیال ہےکہ یہ حروف مختلف کلمات پر دلالت کرتے ہیں جن کا پہلاحروف ذکرکرکے باقی کو محذوف کیا گیا ہے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے،الف بمعنی اللہ، لام بمعنی جبریل اور میم بمعنی محمد ﷺ ہے۔ نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ لام بمعنی لطیف ہے ،ابوالضحیٰ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ الٓمٓ بمعنی انا اللہ اعلم ،الٓمٓ، بمعنی انا اللہ اری، المٓصٓ بمعنی انااللہ افضل ہے، یعنی ہر ایک حرف کسی نہ کسی کلمہ کا معنی ادا کرتا ہے ۔استاذ العربیہ امام الزجاج نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ کلام عرب میں اس قسم کا استعمال عام ہےکہ وہ حروف مقطعات کو کلمات کے قائم مقام استعمال کرتے ہیںمثلا شاعر زھیر کا قول ہے:

باالخیر خیرات وان شرافا

ولاارید الشرا الا ان تا

اس میں پہلا جملہ اس طرح ہے کہ:

ان شرا فشر اور دوسرے جملے کے آخر میں الا ان تشاء ہے، دوسرا شاعر کہتا ہے:

نادوھم الا الجموا الاتا

قالوا جمیعا کلھم الا فا

اس میں پہلا جملہ الاترکبون اور دوسرا الا فارکبوا مراد ہے۔

ایک حدیث میں بھی ہے کہ

من اعان علی قتل مسلم بشطر کلمۃ مکتو با بین عینہ آیس من رحمتہ.

اخرجہ ابن ماجہ من حدیث ابی ھریرہ ،الفتح القدیر :۲؍۱۶۴(سنن ابن ماجہ ،ابواب الدیات، باب التغلیظ فی قتل مسلم ظلما ،ح:2620ضعفہ الشیخ الالبانی والشیخ زبیر علی زئی رحمھمااللہ)

یعنی جس شخص نے اپنےمسلمان بھائی کے قتل میں آدھے کلمے کی مددبھی کی تو قیامت کے دن اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہے۔

شفیق بن سلمہ تابعی کہتے ہیں کہ آدھے کلمہ سے مرادہے،مثلاً: اقتل (قتل کرو) کے بجائے صرف کہے ’’اُق‘‘ نیز حدیث میں یہ الفاظ منقول ہیں کہ :

کفی بالسیف شا بمعنی شافیا۔

الغرض کئی محقق مفسرین نے اس مؤقف کو اختیار کیا ہے کہ حروف مقطعات سے مختلف کلمات مراد ہیں، مثلاً: امام ابن جریر، حافظ ابن کثیر، امام قرطبی وغیرھم، اور متاخرین میں امام شوکانی وغیرہ نے اس کو ترجیح دی ہے، نیز ہمارے شیٰخ ابوالوفاء ثناءاللہ امرتسری رحمہ اللہ  نے بھی اپنی تفسیر میں اسے اختیار کیا ہے، یہی تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے ثابت ہے اور انہیں تفسیر سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی دعا بھی حاصل ہے جیسا کہ آخری باب میں ذکر ہوگا، اس لئے ہم بھی اسی اسلوب تفسیر کو اختیار کریں گے ۔ان شاء اللہ

حافظ ابن القیم الفوائد المشوق الی علوم القرآن وعلم البیان ،ص:۸۱ میں لکھتےہیں کہ:

’’ابن عباس رضی اللہ عنہ اکابر صحابہ کی ایک جماعت اور سلف صالحین سے ثابت ہے کہ حروف مقطعات میں سے ہر ایک کسی جملے پر دلالت کرتا ہے اور ظاہری تلفظ محذوف کی خبر دیتا ہے، کہا گیا ہے کہ الٓمٓ کا معنی ہے: انا الملک ،اسی طرح کھٰیٓعٓصٓ میں حرف کا ف سے کافٍ اور حرف ھا سے مراد ھارٍ ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ عرب میں ایسا استعمال عام ہے، کلمہ کے بجائے ایک حرف کے ذکر کوکافی سمجھتے ہیں،شعراء کے کلام میں بھی ایسا استعمال پایاجاتا ہےجن کامعنی ومفہوم بھی سمجھا جاتا ہے مثلاً: اوپر مذکور دواشعار،پہلے شعر کے اول حصہ سےمراد أن تأتی اور دوسرے أن تمسح ،دوسرے اور تیسرے شعر محذوف کا اظہار امام قرطبی کے کلام کے تحت گذرا، کلام عرب میں ایسی کئی مثلہ ملتی ہیں کہ بکثرت استعمال ہونے والے کلام کو فصیح شمار کیاجاتا ہے اور کلام اور ترکیب کو اچھا تصور کیاجاتا ہے بلکہ جو کلام کچھ مشکل اور پہیلی کی طرز پر ہوپھرسامع اس کو سمجھ جائے تو اس کے کثرت علم، سالم طبعی، پوری سمجھ اور کلام کی خوبی اور اس کے برمحل ہونے پر محمول کیاجاتاہے

(جاری ہے)

About شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

جمعیت اہل حدیث سندھ کے بانی ومئوسس شیخ العرب والعجم سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ہیں جوکہ اپنے دور کے راسخین فی العلم علماء میں سے تھے بلکہ ان کے سرخیل تھے۔ صوبہ سندھ میں موجود فتنوں ،فرقوں ،ضلالتوں،تقلیدجامد اور ان کی نشاطات کو دیکھتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس صوبہ کو اپنی دعوتی واصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بنالیاتھا۔

Check Also

بدیع التفاسیر(قسط نمبر 202)

پند رھویں فصل: متشابھات کابیان آٹھویں فصل میں لفظ متشابہ کامعنی گزرچکا،نیز جس کلمہ میں …

جواب دیجئے