Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ مئی » روزہ کے چند ضروری احکام

روزہ کے چند ضروری احکام

(۱)  روزہ کی فرضیت کی ابتداء

 ماہِ رمضان کے روزے ، رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی فرض ہوجاتے ہیں۔

 ماہِ رمضان کا شروع ہونا تین طریقوں سے معلوم ہوسکتا ہے :

پہلا طریقہ:  رؤیتِ ہلال ، اﷲتعالیٰ کافرمان ہے:

[فَمَنْ شَہِدَ مِنْكُمُ الشَّہْرَ فَلْيَصُمْہُ۝۰ۭ ]

     ترجمہ:’’تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہئے‘‘(البقرۃ:۱۸۵)

رسول اﷲﷺکافرمان ہے:’’ صوموا لرؤیتہ‘‘یعنی: ’’چاند دیکھ کر روزہ رکھو‘‘(صحیح بخاری (۱۹۰۹) صحیح مسلم(۱۰۸۱/۱۹)

چنانچہ جس شخص نے چاند دیکھ لیا ،اس پر روزہ فرض ہوجائے گا ۔

دوسرا طریقہ:چاند خود تو نہیں دیکھا ، لیکن رؤیتِ ہلال کی شہادت یا خبر موصول ہوگئی، شہادت یا خبردینے والا اگر عادل اور مکلف ہے تو اس کی شہادت یا خبر کفایت کرجائے گی ،اس کی دلیل عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، فرماتے ہیں:

’’ایک دفعہ لوگ چاند دیکھنے کے حوالے سے شک وشبہ کا شکار ہوگئے ، میں نے رسول اﷲﷺکو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے، تو رسول اﷲﷺنے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ ‘‘( ابوداؤد :۲۳۴۲/ ابن حبان:۳۴۴۷/ حاکم:۱۵۴۱/ دار القطنی :۲۱۲۷)

تیسرا طریقہ: ماہِ شعبان کے تیس دن پورے ہوجانا ، اس کی صورت یہ ہے کہ شعبان کی انتیس تاریخ کو چاند نظر نہ آئے، خواہ بادل یا گرد وغبار، جوچاند دیکھنے میں رکاوٹ بنتے ہیں، ہوں یا نہ ہوں۔

اس کی دلیل رسول اﷲﷺکایہ فرمان ہے:’’ إنما الشھر تسع وعشرون یوما، فلا تصوموا حتی تروہ ، ولا تفطروا حتی تروہ فإن غم علیکم فاقدروا لہ‘‘

ترجمہ:’’ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ،لہذا تم چاند دیکھے بغیر روزہ نہ رکھو ، اور چاند دیکھے بغیر افطار نہ کرو ،اگر بادل حائل ہوجائیں تو پھر شعبان کے تیس دن پورے کرلو‘‘(صحیح بخاری (۱۹۰۷) صحیح مسلم (۲۴۹۹) یہ ا لفاظ صحیح مسلم کے ہیں)

واضح ہوکہ حدیث کے الفاظ ’’فاقدروا لہ‘‘ کا مندرجہ بالا معنی، ہم نے حدیثِ ابوھریرۃ t کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہے۔حدیثِ ابوھریرۃ کے الفاظ یہ ہیں:

’’فإن غمی علیکم الشھر ، فعدوا ثلاثین‘‘

یعنی:’’ اگر بادل وغیرہ چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو‘‘

(صحیح بخاری(۱۹۰۹) صحیح مسلم(۲۵۱۶)یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں)

واضح ہوکہ یوم الشک کا روزہ ناجائز ہے ،عمار بن یاسرt  فرماتے ہیں:’’من صام الیوم الذی شک فیہ فقد عصی أبا القاسم ﷺ ‘‘یعنی:’’ جس شخص نے شک والے دن کا روزہ رکھا اس نے ابو القاسمﷺ کی نافرمانی کی‘‘ (اسے امام بخاری نے کتاب الصوم، ’’ باب قول النبی ﷺ إذا رأیتم الھلال فصوموا‘‘میں معلقاً روایت فرمایا ہے)

اسی طرح رمضان سے ایک یا دودن قبل روزہ رکھنا بھی ناجائز ہے، رسول اﷲﷺکا فرمان ہے:’’ لاتقدموا صوم رمضان بیوم ولایومین إلا ان یکون صوم یصومہ رجل فلیصم ذلک الیوم ‘‘

    ترجمہ:’’رمضان سے ایک یا دودن قبل روزہ نہ رکھو ،إلا یہ کہ ایسا دن ہو جس میں ایک شخص روزہ رکھتا رہتا ہے (مثلاً پیر یا جمعرات کادن) تو وہ رکھ سکتا ہے‘‘

(صحیح بخاری(۱۹۱۴) صحیح مسلم(۱۰۸۲) مسند احمد (۷۷۲۲)

(۲)  روزہ کی ابتداء وانتہاء

روزہ کی ابتداء، فجرِ ثانی جسے صبحِ صادق بھی کہا جاتا ہے کے طلوع ہوتے ہی ،فرض ہوجاتی ہے ،فجرِ ثانی سے مراد افقِ سماوی میں پھیل جانے والی سفیدی ہے ۔جبکہ روزہ کی انتہاء ، غروبِ آفتاب کے ساتھ، ضروری ہوتی ہے،اﷲتعالیٰ کافرمان ہے:

[فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللہُ لَكُمْ۝۰۠ وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۝۰۠ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ۝۰ۚ ](البقرۃ:۱۸۷)

ترجمہـ:’’اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اﷲتعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے،تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے ۔پھر رات تک روزے کو پورا کرو‘‘

آیتِ کریمہ میں ’’الخیط الابیض‘‘ اور ’’الخیط الاسود‘‘ سے مراد صبح کے اجالے کا، رات کی تاریکی سے اجاگر ہونا ہے ۔

(۳)  روزہ کس پر فرض ہے؟

روزہ ہر اس شخص پر فرض ہے جس میں مندرجہ ذیل تین شرائط ہوں: (۱) مسلمان ہو۔ (۲) مکلف ہو۔(۳)  روزہ رکھنے کی قدرت رکھتا ہو۔

کافر پر روزہ اس لئے فرض نہیںہے کہ اس کے کفر کی وجہ سے اس کا کوئی عمل مقبول نہیں ،اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے:

[وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰہُ ہَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا۝۲۳ ](الفرقان:۲۳)

ترجمہ:’’اور انہوں نے جو اعمال کیے تھے ہم نے ان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگندہ ذروں کی طرح کردیا‘‘

البتہ اگر کافر شخص ، رمضان کے مہینہ میں توبہ کرکے اسلام قبول کرلیتا ہے تواس پر بقیہ دنوں کے روزے فرض ہونگے،اور اس مہینہ کے بحالتِ کفر گزرے ہوئے روزوں کی قضاء لازم نہیں ہوگی۔

اسی طرح روزہ ، مکلف پر فرض ہے ، چنانچہ وہ شخص جو جنون یا دیوانگی کے عارضہ میں مبتلا ہے پر روزہ فرض نہیں،ایک تو اس لئے کہ اس کی نیت نہیں ، دوسرا اس لئے کہ رسول اﷲﷺ نے اسے اپنی ایک حدیث میں مرفوع القلم قرار دیا ہے:’’وعن المجنون حتی یفیق‘‘

بچے پر بھی روزہ فرض نہیں ہے؛کیونکہ رسول اﷲﷺنے بچے کو بھی مرفوع القلم قرار دیا ہے:’’وعن الصبی حتی یحتلم‘‘ البتہ اگر بچہ سنِ تمییز وشعور کو پہنچتا ہے تو اس کا روزہ صحیح قرار پائے گا ،اور نفل ہوگا، بچے کے والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو روزہ رکھوایا کریں ، صحابۂ کرام اپنے چھوٹے بچوں کو روزہ رکھوایا کرتے تھے۔

مریض اور مسافر پر اَداء ً روزہ فرض نہیں ہے، لیکن جب مرض یا سفر کا عذر ختم ہوجائے گا تو روزہ رکھیں گے، اور چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء کریں گے،اﷲپاک کا فرمان ہے:

[فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ۝۰ۭ ](البقرۃ:۱۸۴)

ترجمہ:’’ہاں جو بیمار ہویا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرنی چاہئے‘‘

واضح ہوکہ روزہ کی فرضیت کا حکم، مقیم ، مسافر، صحت مند ، مریض ، حائضہ ،نفاس والی عورت ، ان دونوں سے پاک عورت اور بے ہوش سب کو شامل ہے ، روزہ کی فرضیت ان سب کے ذمہ قائم ہے، اور یہ سب روزہ کی فرضیت کے مخاطَب ہیں، ان سب کو اپنے ذمہ روزہ کے وجوب کا عقیدہ رکھنا چاہئے ،البتہ یہ سب فرضیتِ روزہ کے باعتبارِ اداء یا قضاء مختلف حکم رکھتے ہیں :

کچھ تو وہ ہیں جن پر رمضان کے مہینہ میں روزہ فرض ہوتا ہے،ان میں صحت مند، مقیم اور حیض ونفاس سے پاک عورت ، شامل ہیں۔

کچھ وہ ہیں جو صرف روزہ کی قضاء پر مکلف ومامور ہوں ان میں حیض اور نفاس والی عورتیںشامل ہیں۔نیز وہ مریض بھی جو بوجہِ مرض رمضان میں روزہ کی قدرت نہیں رکھتے لیکن بعد میں مرض کے زائل ہونے پر روزہ قضاء کرسکتے ہیں۔

اور کچھ وہ لوگ ہیں جنہیں روزہ رکھنے یا چھوڑنے ،دونوں میں سے کسی ایک چیز کا اختیار دیا گیا ہے، ان میں مسافراور وہ مریض شامل ہے جو بلا خوفِ ہلاکت روزہ رکھ سکتا ہے۔

    حیض ونفاس والی عورت کیلئے روزہ کی قضاء کی دلیل رسول اﷲeکا یہ فرمان ہے:’’وتمکث إحداکن اللیالی لاتصلی وتفطر فی رمضان ‘‘  (صحیح مسلم(۸۰) مسند احمد(۵۳۲۱)

یعنی:’’ تم عورتیں کئی دن ، نماز نہیں پڑھتیں اور رمضان میں بھی افطار کرتی ہو ‘‘

(دنوں سے مراد ،حیض ونفاس کے دن ہیں)نیز عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا فرماتی ہیں:’’کنا نحیض علی عھد ا لنبی ﷺ فنؤمر بقضاء الصوم ولانؤمر بقضاء الصلاۃ‘‘

(صحیح مسلم(۳۳۵) جامع ترمذی(۷۸۷) مسند احمد(۲۵۴۲۰)

ترجمہـ:’’ ہمیں نبی ﷺکے دور میں جب حیض آتا تو روزے کی قضاء کا حکم دیا جاتا اور نماز کی قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا‘‘

شیخِ کبیر یعنی بہت ہی زیادہ بوڑھے کیلئے ترکِ صوم اور صوم کی جگہ فدیہ کی رخصت وارد ہے، اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے:

[ وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَہٗ فِدْيَۃٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ۝۰ۭ ]

ترجمہ:’’اور اس کی (ناقابلِ برداشت مشقت سے )طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں‘‘(البقرۃ:۱۸۴)

اگر کسی شخص نے کسی عذر کی بناء پر روزہ نہ رکھا ہو،پھر روزہ کے دوران دن ہی میں وہ عذر ختم ہوگیا ہو تو وہ شخص بقیہ دن امساک کرے گا یعنی کچھ بھی نہیں کھائے پیئے گا اور اس روزہ کی قضاء واجب ہوگی۔اس کی مثال، اس مسافر سے دی جاسکتی ہے جو سفر کے عذر کی بناء پر روزہ نہیں رکھتا، پھر اسی دن واپس لوٹ بھی آتا ہے، تو وہ بقیہ دن کھانے پینے سے پرہیز کرے گا اور اس روزہ کی قضاء دے گا۔یہی حکم حیض اور نفاس والی عورت کا ہے ،اگر وہ دن میں حیض یا نفاس سے پاک ہوجاتی ہیں ،اسی طرح اگر دن کے وقت کافر اسلام قبول کرلے ، یا مجنون ہوش میں آجائے ، یا بچہ بالغ ہوجائے، تو یہ سب بقیہ دن کا امساک کریں گے اور اس دن کے روزہ کی قضاء کریں گے۔

(۴)  روزہ کی نیت

ہر عمل کی نیت فرض ہے ،کیونکہ رسول اﷲﷺکا فرمان ہے:

’’إنما الاعمال بالنیات وإنما لکل امریٔ مانوی‘‘

(صحیح بخاری(۱)

ترجمہ:’’تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور انسان کو اس کے عمل سے وہی کچھ حاصل ہوگا جو وہ نیت کرے گا‘‘

نیت کا اﷲتعالیٰ کیلئے خالص ہونا ضروری ہے، قولہ تعالیٰ :

[وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِــيَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ۝۰ۥۙ ]

ترجمہ:’’انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اﷲ کی عبادت کریں اسی کیلئے دین کو خالص رکھیں‘‘  (البینۃ:۵)

رمضان کے روزہ کیلئے، رات کو سونے سے قبل نیت کرنا ضروری ہے، اس کی دلیل رسول اﷲﷺکی یہ حدیث ہے:’’من لم یجمع النیۃ قبل الفجر فلاصیام لہ‘‘

یعنی :’’جو شخص فجر سے قبل روزہ کی نیت نہ کرے اس کا روزہ صحیح نہیں‘‘(ابوداؤد (۲۴۵۴) ترمذی(۷۳۰) نسائی(۲۳۳۱)

البتہ نفلی روزہ کی نیت دن میں بھی کی جاسکتی ہے؛کیونکہ رسول اﷲﷺ ایک دن صبح کے وقت عائشہ صدیقہrکے پاس آئے اور پوچھا:آپ کے پاس کھانے کو کوئی چیز ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔تورسول اﷲﷺنے فرمایا: پھر ہمارا روزہ ہے ۔

(صحیح مسلم(۱۱۵۴) مسند احمد(۲۵۲۰۳) ابوداؤد(۲۴۵۵)

(۵)  احکامِ سحر وافطار

شریعت میںسحری کے کھانے کی ترغیب وارد ہے، اور اسے بابرکت کھانا قراردیا گیا ہے۔

    عن أنس ص قال :قال رسول ﷲ ﷺ : ’’تسحروا فإن فی السحور برکۃ‘‘

انسtسے مروی ہے، رسول اﷲﷺنے فرمایا:’’سحری کیا کرو؛کیونکہ سحری میں برکت ہے’’

(صحیح بخاری(۱۹۲۳) صحیح مسلم(۲۵۴۴)

سحری کی فضیلت ،ترغیب اور تاکید اس حدیث سے بھی واضح ہوتی ہے:’’تسحروا ولو بجرعۃ مائ‘‘

یعنی:’’سحری کرو ، خواہ ایک گھونٹ پانی پی کر‘‘(مسند ابو یعلیٰ (۳۳۴۰) شیخ البانی کی ’’الترغیب والترھیب ‘‘ (۱۰۶۳) بھی ملاحظہ ہو)

شریعت نے سحری میں تاخیر کی ترغیب دلائی ہے، صحابۂ کرام ، تاخیر سے سحری کیا کرتے تھے، حدیث میں آتا ہے،رسول اﷲe کی سحری اور اذانِ فجر کے درمیان پچاس آیات کی مقدار کا وقفہ ہوتا تھا۔

بعض لوگ پوری رات جاگتے ہیں اور پھر جلدی سحری کرکے سوجاتے ہیں ، اس طرح یہ لوگ بہت سے گناہوں کا ارتکاب کرڈالتے ہیں: 1انہوں نے سحری کا کھانا وقتِ مشروع ومسنون سے قبل تناول کرلیا۔2وہ نمازِ فجر جماعت کے ساتھ نہیں ادا کرپاتے۔اس طرح وہ اﷲتعالیٰ کے فریضہ کے ترک کے مرتکب ہوتے ہیں۔3بعض اوقات وہ نمازِ فجر تاخیر سے ادا کرتے ہیں،بلکہ بعض لوگ تو سورج کے طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھتے ہیں، جوکہ بہت بڑا جرم اور شدید ترین معصیت ہے، اﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے:

[فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۝۴ۙالَّذِيْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ۝۵ۙ ](الماعون: ۴،۵)

ترجمہ:ان نمازیوں کیلئے افسوس(اورویل نامی جہنم کی جگہ) ہے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں‘‘

اگر کوئی شخص تاخیر سے بیدار ہو اور اسے جنابت کا عارضہ بھی لاحق ہو، تو وہ پہلے سحری کھاکر روزہ رکھ لے ،غسلِ جنابت، طلوعِ فجرکے بعد بھی کیا جاسکتا ہے ۔

اگر کوئی شخص طلوعِ فجر کے بعد بیدار ہوا تو وہ کھانا یا پانی استعمال نہیں کرسکتا ، البتہ اگر کھانا کھانے کے دوران ، اذانِ فجر شروع ہوجائے تو وہ اپنا کھانا پوراکرسکتا ہے، اس کی دلیل ابوھریرۃtسے مروی، رسول اﷲeکی یہ حدیث ہے:’’إذا سمع أحدکم النداء والإناء علی یدہ فلا یضعہ حتی یقضی حاجتہ منہ ‘‘

(ابوداؤد (۲۳۵۰) مسند احمد(۲/۵۱۰)

یعنی:’’ جب تم میں سے کوئی فجر کی اذان سن لے، اور کھانے کا برتن اس کے ہاتھ میں ہو (یعنی وہ کھانا کھارہا ہو) تو وہ اس برتن کو اس وقت تک نہ چھوڑے جب تک اپنی کھانے کی حاجت پوری نہ کرلے‘‘

یہ حدیث ان لوگوں کا رد ہے ،جو سحری کھاتے ہوئے فجرکی اذان سنتے ہیں تو فوراً کھانے کے برتن سے الگ ہوجاتے ہیں ، بلکہ منہ میں موجود نوالے کو بھی اُگل دیتے ہیںاور پانی کے گھونٹ کی کلی کردیتے ہیں۔

سحری میں کھجور کا استعمال بھی بہترین کھانا قرار دیا گیا ہے، چنانچہ ابوھریرۃtسے مروی ہے، رسول اﷲeنے فرمایا:’’نعم سحور المؤمن التمر‘‘(ابوداؤد(۲۳۴۵) ابن حبان(۳۴۷۵)

یعنی:’’مؤمن کی بہترین سحری کھجور ہے‘‘

روزہ کے افطار کا وقت غروبِ آفتاب ہے، غروبِ آفتاب اس کے ذاتی مشاہدہ سے ، یا پھر کسی ثقہ آدمی کی خبر سے (مثلاً مؤذن کی اذان ) حاصل ہوجاتا ہے۔غروبِ آفتاب کے فوراً بعد روزہ افطار کرنا مستحب ہے، تاخیر چاہے وہ ایک دو منٹ ہی کی کیوں نہ ہو (جیسا کہ بعض لوگ برسبیلِ احتیاط کرتے ہیں) جائز نہیں ؛ کیونکہ یہ تاخیر رسول اﷲﷺ کی حدیث کے خلاف ہے۔

عن سھل بن سعد ص ان النبی ﷺ قال:’’لایزال الناس بخیر ماعجلوا الفطر‘‘(صحیح بخاری:۱۹۵۷) صحیح مسلم(۲۵۴۹)

سھل بن سعد ص سے مروی ہے، رسول اﷲﷺنے فرمایا: ’’لوگ اس وقت تک خیر پر قائم رہیں گے، جب تک روزہ کے افطار میں جلدی کرتے رہیں گے‘‘

اس کے علاوہ ایک حدیثِ قدسی میں رسول اﷲﷺنے فرمایا ہے،کہ اﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے:

’’إن أحب عبادی إلی أعجلھم فطرا‘‘(جامع ترمذی(۶۹۹)

یعنی:’’بے شک میرے نزدیک سب سے محبوب میرے وہ بندے ہیں جو روزہ افطار کرنے میں سب سے زیادہ جلدی کرتے ہیں(یعنی سورج غروب ہوتے ہی)‘‘

تازہ اور تر کھجور سے روزہ افطار کرنا سنت ہے، اگر وہ میسر نہ ہو تو خشک کھجور (چھوہارہ) سے ، اور اگر وہ بھی میسر نہ ہو تو پانی کے چند گھونٹ لے لئے جائیں۔ انسt فرماتے ہیں :’’نبیe تازہ کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے ،اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو عام یا خشک کھجوروں سے اور اگر وہ بھی نہ ہوتیں تو چند گھونٹ پانی پی لیا کرتے‘‘(مسند احمد(۲۱۶۱۲) ابوداؤد(۲۳۵۶)ترمذی(۶۹۵)

اگر ایک شخص یہ سمجھتے ہوئے کہ سورج غروب ہوچکا ہے روزہ افطار کرلے ، پھر پتا چلا کہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا، تو اس پر کوئی قضاء نہیںہے ؛کیونکہ اﷲتعالیٰ کافرمان ہے:

[وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيْمَآ اَخْطَاْتُمْ بِہٖ۝۰ۙ وَلٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ۝۰ۭ ](الاحزاب:۵)

ترجمہ:’’تم سے بھول چوک میںجوکچھ ہوجائے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں،البتہ گناہ وہ ہے جس کا تم ارادہ دل سے کرو‘‘

صحابۂ کرام نے ایک روز،نبی ﷺکے دورمیں، مطلع کے ابرآلود ہونے کی وجہ سے غلطی سے قبل از وقت روزہ افطارکرلیاتھا، تو رسول اﷲe نے انہیں روزہ قضاء کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔

یہاں ایک مسئلہ کی وضاحت ضروری ہے ، کچھ لوگ افطار کے دستر خوان پر مسلسل کھاتے رہتے ہیں ،حتی کہ رات کا کھانا بھی کھالیتے ہیں، اورمسجدمیں مغرب کی باجماعت نماز تک چھوڑ دیتے ہیں، یہ لوگ بہت بڑی غلطی کے مرتکب ہیں، چنانچہ مسجد اور جماعت کی نماز کو چھوڑ کر ثوابِ عظیم سے محرومی اور مختلف سزاؤں اور وعیدوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ امرِ مشروع یہ ہے کہ پہلے روزہ افطار کرلیا جائے ،پھر نمازِ مغرب اداکی جائے ، پھر رات کا کھانا تناول کیا جائے۔

افطار کے وقت دعائیں کرنا مستحب ہے،یہ قبولیت کا وقت ہے، رسول اﷲeکا فرمان ہے:’’إن للصائم عند فطرہ دعوۃ ماترد‘‘

یعنی:’’روزہ دار کی افطارکے وقت کی دعائیں ،رد نہیں کی جاتیں‘‘(ابن ماجہ(۱۷۵۳) بروایت عبداﷲ بن عمرو بن العاص w)

افطار کے وقت یہ دعا پڑھنا مسنون ہے:’’ذَھَبَ الظَّمَأُ، وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ اِنْ شَائَ اللہُ‘‘

یعنی:’’ پیاس ختم ہوئی ، اور رگیں تر ہوگئیں، اور اگر اﷲتعالیٰ نے چاہا تو اجر بھی ثابت ہوگیا‘‘(ابوداؤد(۲۳۵۷)بروایت عبداﷲ بن عمر w)

اس کے علاوہ ایک دعاء ’’اللھم لک صمت وعلی رزقک أفطرت‘‘ بھی معاذبن زھرۃ کی مرسل روایت سے منقول ہے۔ (دیکھئے سنن ابی داؤد (۲۳۵۸)

(۶)  روزہ کو فاسد کرنے والے امور

ایسے بہت سے امور ہیں ،جن سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے، روزہ دار کیلئے ان کی معرفت ضروری ہے، تاکہ وہ ان سے اجتناب کرسکے، اور اپنے روزہ کو فاسد ہونے سے بچا سکے۔یہ امور درجہ ذیل ہیں:

1  جماع : روزہ دارکے بحالتِ روزہ جماع کرنے سے اس کا روزہ باطل ہوجائے گا، دریں صورت اس روزہ کی قضاء واجب ہوگی، قضاء کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی۔ کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے، اگر غلام یا اس کی قیمت کی طاقت نہ ہو تو دوماہ کے مسلسل اور متواتر روزے رکھنے ہونگے،اگرکسی عذرِشرعی کی بناء پر روزوں کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، جس کی صورت یہ ہے کہ ہر مسکین کو آدھا صاع (تقریباً سوا کلو) اپنے شہر کا معروف ومتداول کھانا کھلائے۔ جس عورت کے ساتھ جماع کیا ہے اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے؛کیونکہ رسول اﷲeنے اس شخص کو جس نے اپنی بیوی سے بحا لتِ روزہ جماع کرلیا تھا،کفارہ کا حکم دیا تھا،اس کی بیوی کو یہ حکم نہیں دیا تھا۔

2 انزالِ منی:  یعنی جماع کے علاوہ کسی طریقے سے مثلاً: بوسہ لینے ،عورت کو چھولینے، عورت کی طرف تکرارِ نظر وغیرہ سے اگر منی خارج ہوئی تو روزہ فاسدہوجائے گا ، دریں صورت روزہ کی قضاء فرض ہوگی ، کفارہ نہیں ہوگا؛کیونکہ کفارہ، جماع کے ساتھ مخصوص ہے۔ البتہ اگر سوئے ہوئے شخص کو احتلام کے ذریعے انزال ہوجائے تو اس کا روزہ صحیح ہے؛ کیونکہ یہ انزال اس کے اختیار کے بغیر ہوا ہے، لیکن غسلِ جنابت واجب ہوگا۔

3جان بوجھ کر کھانے یا پینے سے بھی روزہ فاسدہوجائے گا۔ اﷲتعالیٰ کافرمان ہے:

[وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۝۰۠ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ۝۰ۚ ](البقرۃ:۱۸۷)

ترجمہـ:’’تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے ۔پھر رات تک روزے کو پورا کرو‘‘

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ تبیینِ فجر کے بعد کھانا پینا ناجائز ہے۔

واضح ہوکہ بھول کر کھانے یا پینے سے روزہ پر کوئی اثر واقع نہیں ہوتا ،وہ روزہ صحیح متصور ہوگا ،اس کی دلیل رسول اﷲeکایہ فرمان ہے:’’من نسی وھو صائم فأکل وشرب فلیتم صومہ فإنما أطعمہ ﷲ وسقاہ‘‘

ترجمہ:’’جس روزہ دار نے بُھولے سے کھاپی لیا ، وہ اپنا روزہ پورا کرلے ؛کیونکہ اسے اﷲتعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے’’

(صحیح بخاری(۶۶۶۹) صحیح مسلم(۲۷۰۹)یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں)

 4  جان بوجھ کر قیٔ کرنے سے بھی روزہ فاسد ہوجائے گا۔ قیٔ کی صورت یہ ہے کہ معدہ میں موجود کھانے یا پانی کو عمداً منہ کے راستہ سے خارج کیا جائے، اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے،کیونکہ رسول اﷲeکا فرمان ہے:

’’من استقاء عمدًا فلیقض‘‘

یعنی:’’ جان بوجھ کر قیٔ کرنے والا اپنا روزہ قضاء کرے‘‘

(مسند احمد(۱۰۰۸۵) ابوداؤد(۲۳۸۰) ترمذی(۷۲۰)

البتہ خود بخود قیٔ ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اس کی دلیل رسول اﷲeکایہ فرمان ہے: ’’من ذرعہ القیٔ فلیس علیہ قضائ‘‘

 یعنی:’’ جسے غلبۂ قیٔ کی بناء پر خودبخود قیٔ آجائے اس پر کوئی قضاء نہیں‘‘(حدیثِ سابق کی تخریج ملاحظہ ہو)

5  حجامت یعنی سینگی یا فصد وغیرہ کے عمل سے خون نکلوانے سے بھی روزہ فاسد ہوجاتاہے۔ چونکہ رسول اﷲﷺنے فرمایا تھا:

’’ أفطر الحاجم والمحجوم ‘‘

یعنی:’’ سینگی لگانے والا اور جسے لگائی جارہی ہے،دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا‘‘(مسند احمد(۱۶۶۶۳)ابوداؤد (۲۳۶۹)سنن دارمی (۱۷۳۰)وغیرہ )

واضح ہوکہ اس حکم کا انطباق اس شخص پر بھی ہوگا جو عطیہ دینے کیلئے اپنے جسم سے خون نکلوائے ۔ البتہ لیبارٹری میں کسی چیک اپ کیلئے تھوڑا سا خون دینے میں کوئی مضائقہ نہیں، اسی طرح اگر اپنے اختیار کے بغیر خون نکلا ،(مثلاً: نکسیرسے ،زخم سے یا دانت نکلوانے سے) تو بھی روزہ فاسد نہیں ہوگا۔

حلق کی بجائے ورید (گلے کی رگ) سے غذا، پیٹ میں پہنچانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اسی طرح خون دینے سے بھی ، نیز طاقت کے انجکشن سے بھی ؛کیونکہ یہ دونوں چیزیں، غذااور طعام کے حکم میں ہیں۔

انجکشن اگر طاقت کا نہ ہو تو بھی بربنائِ احتیاط، اس کے لگانے سے گریز کرنا چاہئے، تاکہ اس کا روزہ کسی شک وشبہ کے بغیر صحیح رہے، رسول اﷲﷺکا فرمان ہے:

’’دع ما یریبک إلی مالایریبک‘‘

یعنی:’’ شک میں ڈالنے والی چیز کو چھوڑ کر ایسی چیز اختیار کرلو جو شک سے پاک ہو‘‘(مسند احمد(۱۷۲۳) ترمذی(۲۵۲۳) نسائی (۵۷۲۷) مستدرک حاکم(۲۲۱۶)امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے)

چنانچہ روزہ دار کو اگر انجکشن کی ضرورت ہو تو اسے رات تک کیلئے مؤخر کردے ،اور اگر مرض کی شدت غالب ہو تو شریعت نے قضاء کی رخصت عطافرمائی ہے، اس سے فائدہ اٹھائے۔

روزہ دار آنکھوں یا کانوںیا ناک میں ایسی دوا ڈالنے سے بھی گریز کرے، جس کے حلق میں اترنے کا اندیشہ ہو ، اسی طرح بحا لتِ روزہ،دورانِ وضوء، کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے ہوئے، مبالغہ سے کام نہ لے؛کیونکہ اس سے پانی کے پیٹ میں داخل ہونے کا احتمال رہتاہے ۔ رسول اﷲﷺکا فرمان ہے:

’’وبالغ فی الاستنشاق إلا أن تکون صائما ‘‘

یعنی:’’ ناک میں پانی چڑھاتے ہوئے خوب مبالغہ کرو، إلا یہ کہ تم روزہ سے ہو‘‘(ابوداؤد(۱۴۲) ترمذی (۷۸۷) نسائی(۸۷) بروایت لقیط بن صبرۃص)

بحا لتِ روزہ ، تھوک نگلنے ،تیل لگانے ،غسل کرنے ،بخور لینے یا خوشبو سونگھنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ، اس کے علاوہ عورت کھانا چکھ سکتی ہے، بشرطیکہ کھانا حلق سے نیچے نہ اترے ، صحابۂ کرام اس کے جواز پرفتویٰ دیا کرتے تھے۔

مسواک ،روزہ پر اثر انداز نہیں ہوتی،بلکہ بحا لتِ روزہ ،دن کے اول یا آخر کسی بھی حصہ میں مسواک مستحب اور مرغوب فیہ ہے۔

اڑتا ہوا گرد وغباریا مکھی اگر حلق میں داخل ہوتے ہیں، تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

گزشتہ صفحات میں بڑی تفصیل سے بیان ہوچکا کہ روزہ دار، جھوٹ ،غیبت ،چغلی اور گالی گلوچ سے مکمل اجتناب کرے، یہ معاملہ اگر چہ بہت مشکل ہے؛کیونکہ بعض لوگوں پر کھانا پینا چھوڑنا آسان ہے،لیکن زبان سے غیبت، چغلی ،بہتان طرازی اور گالی گلوچ وغیرہ چھوڑنا انتہائی مشکل ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ اﷲتعالیٰ سے ڈرے اور بحالتِ روزہ اپنے اوقات کو، ذکر اﷲ ، نوافل اور تلاوتِ قرآن میں صرف کرے۔ سلف صالحین روزہ کی حالت میں اپنا بیشتر وقت مساجد میں گزاراکرتے تھے،اور کہاکرتے تھے:ہم مساجد میں بیٹھے رہیں گے اور ہرقسم کی غیبت سے بچے رہیں گے، تاکہ ہمارا روزہ محفوظ رہے (لیکن ان لوگوں کا کردار انتہائی بھیانک اور ظالمانہ ہے جو روزہ رکھنے اورمساجد میں بیٹھنے کے باوجود غیبت سے باز نہیں آتے ، بلکہ بعض لوگ تو اس سے بھی بڑھ کر بحالتِ اعتکاف بھی غیبت سے نہیں چوکتے ۔)

رسول اﷲﷺکا فرمان ہے:’’من لم یدع قول الزور والعمل بہ ، فلیس للہ  حاجۃ فی أن یدع طعامہ وشرابہ‘‘

ترجمہ:’’جو شخص روزہ کی حالت میں، قولِ زوراور عملِ زور نہیں چھوڑتا، اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی اﷲتعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں‘‘(صحیح بخاری(۱۹۰۳) بروایت ابوھریرۃ ص)

ابوھریرۃرضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے :’’الصائم فی عبادۃ مالم یغتب مسلما أو یؤذہ‘‘

 یعنی:’’روزہ دار مستقل حالتِ عبادت میں ہے، جب تک کسی مسلمان کی غیبت نہ کرے یا اسے تکلیف نہ پہنچائے‘‘ (اسے دیلمی نے مسند الفردوس میں مرفوعاً روایت کیا ہے لیکن ابن ابی شیبہ نے اسے ابوالعالیۃ کا قول قرار دیاہے ،دیکھیئے مصنف ابن ابی شیبہ(۸۸۸۹)

سوچنے کا مقام ہے کہ کھانا ،پینا اور جماع کرنا ایسے امور ہیں جوروزہ سے قبل حلال اور مباح تھے لیکن بحالتِ روزہ ان میں سے کوئی بھی کام کرنے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے ،مگر غیبت ،چغلی، دروغ گوئی اور گالی گلوچ تو روزہ سے قبل بھی حرام تھے ، روزہ رکھنے کے بعد یہ کیسے قابلِ برداشت ہوسکتے ہیں؟ افسوس صد افسوس ! لوگ کھانے پینے اور جماع کرنے جیسے مباح امور تو چھوڑدیتے ہیں ،لیکن لوگوں کی عزتوں سے کھیلنا جو ہر حال میں قطعی حرام ہیں اور روزہ کی حالت میں شدت کے ساتھ حرام ہیں ،نہیں چھوڑتے ۔(فإناللہ وإنا إلیہ راجعون)

(۷)  روزہ کی قضاء کے چند احکام

رمضان میں روزہ نہ رکھنے کے مختلف اسباب ہیں، کچھ اسباب شرعی ہیں، جیسے سفر یا مرض وغیرہ ، اور کچھ اسباب غیر شرعی ہیں، جیسے جماع سے روزہ باطل کرلینا ۔

روزہ چھوڑنے کا کوئی بھی سبب ہو، قضاء واجب ہے۔

روزہ کی قضاء میں جلدی کرنی چاہئے ، اگر جلدی نہ کرسکے تو روزہ رکھنے کا عزم بہرحال قائم رہنا چاہئے ،روزہ کی قضاء میں تاخیر جا ئز ہے، کیونکہ قضاء کا وقت تنگ نہیں بلکہ وسیع ہے ۔ اسی طرح قضاء روزے،پے درپے رکھنا مستحب ہے ، لیکن وقفوں سے رکھنا بھی جائزہے۔

روزوں کی قضاء میں اس قدر تاخیر جائز نہیں کہ اگلا رمضان داخل ہوجائے۔عائشہ صدیقہrفرماتی ہیں:’’ میرے ذمہ رمضان کے قضاء روزے ہواکرتے تھے، میں انہیں رسول اﷲeکی موجودگی کی وجہ سے اگلے رمضان سے قبل شعبان کے مہینہ میں رکھ پاتی تھی ۔‘‘

(صحیح بخاری (۱۹۵۰) صحیح مسلم(۲۶۸۲)

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ روزوں کی قضاء کا وقت تنگ نہیں بلکہ وسیع ہے ، اتنے وسیع وقت کے باوجود اگر کوئی شخص روزے قضاء نہ کرسکا، حتی کہ دوسرا رمضان شروع ہوگیا، تو وہ شخص شروع ہونے والے اس رمضان کے روزے رکھے گا ،رمضان گزرنے کے بعد ،پچھلے رمضان کے روزے قضاء کرے گا ۔

اب یہاں دو صورتیں بنتی ہیں : 1 اس کے روزے قضاء کرنے میں حاصل ہونے والی تأخیراگر کسی شرعی عذر کے بناء پر تھی،تو اس صورت میں صرف قضاء فرض ہے۔ 2اور اگر وہ تأخیر بلا عذرِ شرعی تھی تو پھر قضاء کے ساتھ ساتھ ، ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو نصف صاع کھانا کھلانا بھی ضروری ہوگا۔

(۸)  بہت ز یادہ بوڑھوں اورناقابلِ شفاء بیماروں کا بیان

اﷲتعالیٰ نے تمام مسلمانوں پر روزہ فرض فرمایاہے، چنانچہ بعض مسلمانوں پر تو رمضان کے مہینہ میں اداء ً ، فرض ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کوئی عذر (مثلاً: سفر یا مرض وغیرہ) حاصل نہیں ۔ بعض مسلمانوں پر اداء ً  تو نہیں لیکن قضاء ً  فرض ہے ،یہ وہ لوگ ہیں جنہیں رمضان میں سفر یا مرض وغیرہ کا عذر حاصل ہے ، ان لوگوں پر رمضان کے بعدروزوں کی قضاء فرض ہوگی۔

تیسری قسم ان لوگوں کی ہے ،جو نہ تو رمضان میں اداء ً روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہیں ،نہ رمضان کے بعد قضاء کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، اس زمرہ میںانتہائی بوڑھے لو گ شامل ہیں ،نیز وہ بیمار بھی جن کے شفایاب ہونے کی کوئی امید نہیں ہوتی۔ اﷲتعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں پر تخفیف فرمائی ہے، اور ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو نصف صاع کھانا کھلانا مشروع قراردیا ہے،اﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے:

[لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۝۰ۭ ](البقرۃ:۲۸۶)

ترجمہ:’’اﷲتعالیٰ نہیں تکلیف دیتا کسی نفس کو ،مگر اس کی طاقت کے مطابق‘‘

نیز فرمایا:[وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَہٗ فِدْيَۃٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ۝۰ۭ ](البقرۃ:۱۸۴)

ترجمہ:’’اور اس کی (ناقابلِ برداشت مشقت سے )طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں‘‘

عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اس آیتِ کریمہ میں انتہائی بوڑھے مرد اور عورت کا ذکر ہے،جو روزہ کی طاقت نہیں رکھتے ،چنانچہ وہ ہرروزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلادیں۔

(صحیح بخاری(۴۵۰۵)

وہ مریض جس کے شفا یاب ہونے کی امید نہیں ہوتی، اس کا حکم بھی انتہائی بوڑھے مرد وعورت والا حکم ہے (یعنی ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا)

حاملہ اورمرضعہ(دودھ پلانے والی) کے بارہ میں علامہ ابن القیم ’’زاد المعاد‘‘ (۲/۲۹) میں فرماتے ہیں عبداﷲ بن عباسw اور بعض دیگر صحابہ اس حاملہ اور مرضعہ کہ جنہیں اپنے بچوں کے نقصان کا خدشہ لاحق ہے کے بارہ میں یہ فتویٰ دیتے تھے کہ وہ افطار کرلے اور ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلادے (یہ کھانا کھلانا رمضان میں اداء ً روزہ نہ رکھ سکنے کی بناء پر ہے )اور ان روزوں کی قضاواجب ہوگی ۔

(۹)  مسائلِ اعتکاف

اعتکاف ایک مشروع اور مسنون عبادت ہے۔

عن عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنھما قال :’’کان رسول ﷲ ﷺ یعتکف العشر الاواخر من رمضان‘‘

عبداﷲ بن عمررضی ﷲعنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں:’’ رسول اﷲﷺ رمضان  کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایاکرتے تھے‘‘

 (صحیح بخاری(۲۰۲۵) صحیح مسلم (۱۱۷۱)

احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اﷲﷺنے پوری زندگی، ماہِ رمضان میں اعتکاف فرمایا ،چنانچہ عائشہ صدیقہr فرماتی ہیں: ’’رسول اﷲﷺرمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، حتی کہ آپ وفات پاگئے، پھر آپ کے بعد امہات المؤمنین نے اعتکاف فرمایا‘‘(صحیح بخاری (۲۰۲۶) صحیح مسلم(۱۱۷۲)

اعتکاف ، مسجد کی عبادت ہے، اور ہر مسجد میں ہوسکتا ہے، لقولہ تعالیٰ:[وَلَا تُـبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ۝۰ۙ فِي الْمَسٰجِدِ۝۰ۭ ]

(البقرۃ:۱۸۷)

عورت بھی مسجد ہی میں اعتکاف کرے؛کیونکہ امہات المؤمنین مسجد ہی میں اعتکاف کیا کرتی تھیں ۔ (صحیح بخاری (۲۰۳۳) صحیح مسلم (۱۱۷۳)

رسول اﷲﷺاعتکاف کیلئے مسجد کی کسی متعین جگہ کو منتخب فرمایا کرتے تھے۔ چادروں کی آڑ میں بیٹھنا بھی مسنون ہے۔ دورانِ اعتکاف مسجد سے باہر نکلنا ناجائز ہے ،البتہ قضائِ حاجت کیلئے جانا ثابت ہے، رسول اﷲeکی بیوی صفیہr دورانِ اعتکاف آپ ﷺسے ملنے آئیں تو آپ ﷺنے انہیں مسجد سے باہر آکر الوداع کہا ، اس کے علاوہ آپ ﷺاپنا سر مبارک باہر نکالا کرتے تھے اور عائشہ صدیقہرضی ﷲعنہا آپ کے سر پہ کنگھی کیا کرتی تھیں۔ اگر کسی عذر کے تحت اعتکاف ختم کرنا پڑے تو جائز ہے ،لیکن اس کی قضا دینا پڑے گی۔

معتکِف(اعتکاف کرنیوالے) اپنے معتکَف(اعتکاف کیلئے مخصوص جگہ) میں اکیسویں روزے (جو عشرئہ اخیر کا پہلا دن ہے ) فجر کی نماز پڑھ کر داخل ہوگا، جب کہ اکیسویں روزے کی رات مسجد میں آجانا مسنون ہے۔

حیض ونفاس والی عورت نیز وہ بچہ جو سنِ تمیز کو نہیں پہنچا اعتکاف نہیں کرسکتے ۔

رسول اﷲﷺنے اعتکاف کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’من اعتکف یوما ابتغاء وجہ ﷲ جعل ﷲ بینہ وبین النار ثلاث خنادق کل خندق أبعدمما بین الخافقین  ‘‘

یعنی:’’ جو شخص اﷲکی رضا حاصل کرنے کیلئے ایک دن کا اعتکاف کرے گا اﷲتعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں تیار کرادے گا،ہر خندق کی چوڑائی مشرق ومغرب کے فاصلے سے بھی زیادہ ہوگی‘‘(اس حدیث کو امام حاکم نے اپنی مستدرک میں روایت فرمایا اور اسے صحیح الاسناد کہا)

(۱۰)  صد قۃ الفطر

صدقۃ الفطر ، وہ صدقہ ہے جو روزوں کے ختم ہونے پر اداکیاجاتا ہے،اس کی مشروعیت کی بہت سی حکمتیں ہیں :1  روزوں میں واقع ہونے والے لغو یا نقص کو پاک کردیتا ہے۔ 2  غرباء اور مساکین کی عید کی خوشی کا باعث بنتا ہے۔

  3  روزوں کے فریضہ کے پورا ہونے پر اﷲتعالیٰ کے شکر کے اظہار کا ذریعہ ہے ۔

صدقۃ الفطر فرض ہے، چنانچہ صحیح بخاری ومسلم میں رسول اﷲﷺ کی حدیث ہے :

’’فرض رسول ﷲ ﷺ زکوٰۃ  الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعیر علی العبد والحر والذکر والانثی والصغیر والکبیر من المسلمین ‘‘

ترجمہ:’’رسول اﷲeنے صدقۃ الفطر فرض فرمایا ہے ، ایک صاع کھجوروں کا ،یا ایک صاع جَوکا ، اور یہ مسلمانوں میں سے ہر غلام، آزاد، مرد،عورت،چھوٹے اور بڑے پر فرض ہے‘‘

(صحیح بخاری (۱۵۰۳) صحیح مسلم(۲۲۷۵)

اس حدیث میں ہر مسلمان پر صدقۃ الفطر کے واجب ہونے کا ذکر ہے، عثمانِ غنیtحاملہ عورتوں کے حمل کی طرف سے بھی صدقۃ الفطر ادا کیا کرتے تھے ،اور یہ مستحب ہے۔  (ابوداؤد (۱۶۰۹)

اس حدیث میں صدقۃ الفطر کی مقدار کا بھی ذکر ہے،اور وہ ایک صاع یعنی چار ’’مُد‘‘ہیں(تقریباً اڑھائی کلو)

اس حدیث میں یہ بات بھی مذکور ہے کہ صدقۃ الفطر جنس کی صورت میں اداکیا جائے، قیمت ادا کرنا خلافِ سنت ہے، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: صدقۃ الفطر میں قیمت نہ دی جائے ، کسی نے کہا : عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ قیمت لے لیا کرتے تھے، فرمایا: رسول اﷲeکے فرمان کو چھوڑ کر فلاں اور فلاں کی بات کرتے ہو؟ حالانکہ عبداﷲ بن عمررضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ رسول اﷲﷺنے صدقۃ الفطر کھجور یا جَو یا دیگر اجناس کا ایک صاع مقرر فرمایا ہے ۔

صدقۃ الفطر ادا کرنے کا صحیح وقت نماز عید سے قبل ہے ،چنانچہ عید کی رات غروبِ آفتاب سے لیکر عید کی نماز سے قبل تک ادا کرنا چاہئے۔ ایک یا دو دن قبل بھی اداکیا جاسکتاہے ،چنانچہ صحیح بخاری میںہے :صحابۂ کرام عید الفطر سے ایک یا دو دن قبل صدقۃ الفطر اداکردیا کرتے تھے۔  (صحیح بخاری (۱۵۱۱)

اگر عید کی نماز سے قبل صدقۃ الفطر ادا نہ کرسکا تو عید کی نماز کے بعد قضاء ً ادا کرنا واجب ہوگا ،عبد اﷲبن عباسw کی مرفوع حدیث ہے:’’من اداھا قبل الصلاۃ فھی زکوٰۃ مقبولۃ ومن اداھا بعد الصلوٰۃ فھی صدقۃ من الصدقات‘‘

یعنی:’’ جو صدقۃ الفطر، نماز ِعید سے قبل اداکرے گا ،تو وہ مقبول صدقہ قرار پائے گا، اور جو نمازِ عید کے بعد اداکرے گا وہ عام صدقہ شمار ہوگا‘‘(ابوداؤد(۱۶۰۹)

عید کی نماز کے بعد ادا کرنے والا بوجہ ِتأخیر اور بوجہ ِمخالفت امرِ رسول ﷺگنہگار ہوگا۔

خاندان کا سربراہ اپنے زیرِ کفالت افراد کا صدقہ اداکرے گا۔ کیونکہ رسول اﷲ ﷺ کا فرمان ہے:’’أدواالفطرۃ عمن تمونون‘‘ یعنی:’’تم صدقۃ الفطر ادا کروان لوگوں کی طرف سے جو تمہارے مکفول ہیں‘‘(سنن دار قطنی (۲۰۵۹)

(۱۱)  شوال کے چھے روز ے

رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے رسول اﷲﷺ کی حدیث سے ثابت ہیں۔

   عن ابی ایوب ص أن رسول ﷲ ﷺ قال:’’من صام رمضان ثم أتبعہ ستا من شوال فذاک صیام الدھر‘‘

ترجمہ:’’جو شخص رمضان کے روزے رکھ لے، پھر اس کے بعد شوال کے مہینے میں بھی چھ روزے رکھ لے ،تو یہ زمانے بھر کے روزے شمار ہونگے‘‘(صحیح مسلم(۱۱۶۴) ابوداؤد(۲۴۳۳) جامع ترمذی(۷۵۹) مسند احمد(۵/صـ: ۴۱۷)

روزہ کے چند ضروری احکام

شوال کے روزے عید الفطر کے فوراً بعد رکھنا ضروری نہیں ، بلکہ عیدکے ایک دن یا کئی دن بعد بھی رکھے جاسکتے ہیں ۔اسی طرح مسلسل رکھنا بھی ضروری نہیں بلکہ وقفوں کے ساتھ بھی رکھے جاسکتے ہیں۔ المھم ما ہِ شوال میں پورے کرنا ضروری ہے۔

جس شخص کے ذمے رمضان کے کچھ روزوں کی قضا ہو تو بہتر ہے کہ وہ پہلے رمضان کی قضا پوری کرلے بعد میں شوال کے روزے رکھ لے، اس طرح رسول اﷲﷺکی حدیثِ مذکور پر عمل ہوجائے گا۔ وصلی ﷲ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وأھل طاعتہ أجمعین

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعینِ نووی(حدیث نمبر28 قسط نمبر 60)

عَن أَبي نَجِيحٍ العربَاضِ بنِ سَاريَةَ رضي الله عنه قَالَ: وَعَظَنا رَسُولُ اللهِ مَوعِظَةً وَجِلَت …

جواب دیجئے