Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ مئی » المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

علماء دیوبند کے حیاتی طبقہ کے عقائد کی ایک متفقہ کتاب المھند علی المفندہے۔
*جسے حیاتی طبقہ کے ہاں بڑی اہمیت و پذیرائی دی جاتی ہے کیونکہ چوبیس اکابر علماء دیوبند نے اس پر اپنی تصدیقات ثبت کی ہیں اور اس کے مندرجات کو اپنے عقائد تسلیم کیا ہے۔
*علماء دیوبند کے باہمی اختلافات کے سبب 1388 ھ میں اس کے مندرجہ عقائد کا خلاصہ ’’خلاصہ عقائد علمائے دیوبند ‘‘کے نام سے شائع ہوا۔
اور ان کے مفتی عبدالشکور صاحب نے اسے اپنے عقائد جاننے کے لئے ” تحریری دستاویز اور متفقہ مسلکی وثیقہ اور مسلک دیوبند کے دیکھنے اور جانچنے کے لئے بمنزلہ آئینہ و کسوٹی قرار دیا۔(خلاصہ عقائد علماء دیوبند ص : 153 ادارہ اسلامیات لاہور)
پھر اس پر وقت کے چالیس اکابر دیوبند نے اپنی اپنی تائید وتصدیق ثبت فرمائیں۔یوں مجموعی طور پر چوسنٹھ علمائے دیوبند کی تصدیقات اس پر موجود ہیں۔
کچھ عرصہ قبل الشیخ نصیب شاہ سلفی حفظہ اللہ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس پر نقد کرتے ہوئے ایک مختصررسالہ بنام’’ موازنہ کیجیے‘‘لکھا۔اس رسالہ کے جواب میں دیوبندیوں کے’’متکلم اسلام‘‘ الیاس گھمن نے اپنے مخصوص انداز میں ایک کتاب بنام ” المہند پر اعتراضات کا علمی جائزہ لکھی _۔
ہمارے فاضل بھائی شیخ صدیق رضا صاحب حفظہ اللہ نے الیاس گھمن صاحب کی اس کتاب کا جواب لکھنا شروع کیا ہے افادہ عام کی غرض سے ہم اس جواب الجواب کو ماہنامہ” دعوت اہل حدیث”میں شائع کر رہے ہیں(ادارہ)
(۱) گھمن:بارہویں صدی ہجری کے بعدبرصغیر پاک وہند میں غیرمقلدین کاظہورہوا اس وقت سےلے کر آج تک اس فرقہ نے اپنے قلیل فرقےکے علاوہ سب اہل حق مسلمانوں کی تکفیر کی ہے۔ ان کے نزدیک ائمہ اربعہ کےمقلدین مشرک وکافر ہیں ۔
(المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ،ص:19)
جواب:گھمن صاحب نے اہل حدیث کےخلاف لکھنے والے اپنے مشہور استاذ ماسٹر امین اوکاڑوی صاحب کی طرح اپنی کتاب کا آغاز اہل حدیث کے خلاف الزام تراشی وغلط بیانی سےفرمایا، اگر ان کاخیال ہے کہ ایسا نہیں تو ان پر لازم ہے کہ اس کاثبوت دیں کہ اہل حدیث نے اہل حق مسلمانوں کی تکفیر کی اور ائمہ اربعہ کے مقلدین کو مشرک وکافر قرار دیا جب وہ دلائل کے ساتھ اس کاثبوت پیش فرمائیں گے تو تبھی ہم کچھ عرض کریں گے اور یہ بھی بتائیں گے کہ فتوے بازی کون لوگ کرتے رہے۔
(۲) گھمن:اس فرقے نےعوام کو گمراہ کرنے کے لئے قرآن وحدیث کا نام استعمال کیا،علمائے احناف کو قرآن وحدیث کا منکر قرار دیا اور فقہ حنفی جو صدیوں سے یہاں رائج تھی اس کو قرآن وحدیث کے خلاف بتایا۔(المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ،ص:19)
جواب:پھر سے الزام کو’’عوام کو گمراہ کرنے کے لئے‘‘ الحمدللہ اہل حدیث نے عوام کو قرآن وحدیث کا شعور دیا اور قرآن وحدیث پر عمل کی دعوت دی قرآن وحدیث جو ہدایت کا سرچشمہ ہیں ۔ یہ بھی الزام ہی ہے کہ علماء احناف کو قرآن وحدیث کا منکربتایا، اور فقہ حنفی کی بہت سی جزئیات قرآن وحدیث کے خلاف ہیں اس پر کئی ایک کتب لکھی جاچکی ہیں۔الحمدللہ
(۳) گھمن:یہ لوگ قرآن وحدیث کی تشریح اپنی مرضی سے کرتے ہیں ،قرآن کوچھوڑ کر حدیث،حدیث کی رٹ زیادہ لگاتے ہیں مگر ان کے عمل بالحدیث کا حال یہ ہے کہ حدیث کی مختلف اقسام جن کا ذکر اصول حدیث کی کتابوں میں موجود ہے (دیکھئے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی حنفی نقشبندی کا رسالہ ’’عجالہ نافعہ‘‘) ان میں سے صرف اور صرف ایک قسم کی حدیث پر عمل کرتے ہیں اور باقی تمام اقسام کی احادیث کا انکار کرتے ہیں۔
(المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ،ص:19)
جواب:ایک ساتھ اتنے سارے اتہامات لگانے کا ریکارڈ تو بس مقلدین رکھتے ہیں ،اب یہی اقتباس دیکھ لیں دیوبندیہ کے’’ متکلم اسلام‘‘ گھمن صاحب نےایک الزام دیا کہ ‘‘قرآن وحدیث کی تشریح اپنی مرضی سے کرتے ہیں‘‘ لیکن ثبوت کوئی نہیں دیا۔زیادہ نہیں کوئی ایک مثال پیش کردیتے کہ قرآن مجید کی فلاں آیت کی یہ تشریح ہے لیکن اہل حدیث اس کے بجائے اپنی مرضی سے یہ تشریح کرتے ہیں۔ اسی طرح حدیث سے بھی کوئی ایک مثال پیش کرتے ،لیکن نہیں کیا بس الزام لگادیا،ہم کہتے ہیں کہ چلئے آپ پہلے نہیں کرسکے تو اب کیجئے لیکن یاد رکھئے وہ مثال انفرادی خطا کی نہ ہو چونکہ انفرادی خطائیں تو بہت سےمفسرین سے ہوئی ہیں ،ایسی تشریح ہو کہ جسے سارے یا اکثر اہل حدیث تسلیم کرتے ہوں۔
اسی اقتباس میں الزامات کا سلسلہ دراز کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’قرآن کو چھوڑ کر حدیث حدیث کی رٹ زیادہ لگاتے ہیں‘‘ ثبوت؟ قطعا پیش نہیں کرسکے گویاجناب کے نزدیک ان کافرمان ہی بڑا ثبوت ہے۔ لیکن کوئی عقلمند بلاثبوت اتہام پرتوجہ نہیں دیتا۔
اقتباس بالامیں تیسرا بہتان یہ لگایا کہ حدیث کی صرف ایک قسم پر عمل کرتےہیں اور باقی تمام اقسام کی احادیث کا انکار کرتے ہیں، ثبوت یہاں بھی ندارد کہ جناب کون سی صرف ایک قسم تسلیم کرتے ہیں اور کونسی باقی اقسام کاانکار کرتےہیں ،اگر وہ ثبوت دیتے ہم حقیقت ظاہر کردیتے۔
(۴) گھمن:تصوف اور صوفیاء کرام کے سخت دشمن ہیں، ولیوں کی کرامات بلکہ تمام خوارقِ عادات جن میں کشف، الہام، رویائے صالحہ وغیرہ جو قرآن وحدیث سے ثابت ہیں ان کاانکار کرتے ہیں یہ حال ان کے اکثر علماء اورعوام کا ہے۔
(المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ،ص:19تا20)
جواب:اپنی اس تحریر میں گھمن صاحب فرمارہے ہیں کہ یہ تصوف اور صوفیاء کرام کے سخت دشمن ہیں، لیکن انہی کے مکتبہ سے شائع ایک دوسری کتاب’’آئینہ غیرمقلدیت‘‘ میں ان کے ’’مفکراسلام وفخرالمحدثین ورئیس المحققین‘‘ ابوبکرغازی پوری صاحب نے’’غیرمقلدین اورتصوف‘‘ کے زیرعنوان کہا:
’’علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک تصوف علی الاطلاق بدعت نہیں بلکہ وہ تصوف بدعت اور حرام ہے جو کتاب وسنت کے دائرہ سےخارج ہو اور غیر شرعی رسوم واشغال کاحامل ہو۔‘‘
(آئینہ غیرمقلدیت ،ص:60)
کچھ آگےچل کر لکھتے ہیں:
’’ہمیں عرب کے سلفی حضرات سے کوئی شکایت نہیں کیونکہ ان کے قول وفعل میں کوئی اختلاف نہیں….چنانچہ تصوف اور اہل تصوف پر وہ کھل کر نکیر کرتےہیں، مگر یہ طائفہ لامذہبیہ جو دیناروں اور ریالوں کی چمک دمک سے مبہوت ہے اس کا یہ دعویٰ سراسرجھوٹ پر مبنی ہے کہ ان کا عقیدہ وہی ہے جو عرب کے سلفی برادران کا ہے، اس لئے ہم نے ضروری سمجھا کہ ان کے دجل وفریب کو مسلمانوں کے سامنے آشکارا کیا جائے۔(آئینہ غیرمقلدیت ،ص:60)
الیاس گھمن صاحب! آپ کے رئیس المحققین صاحب تو اہل حدیث کو الزام دے رہے ہیں،انتہائی سخت کلامی کےساتھ کہ وہ عرب کے مخلص سلفیوں کی طرح تصوف کے مخالف نہیں بلکہ اہل حدیث کے تصوف کے انکار کو ’’ان کادجل وفریب‘‘ بتارہے ہیں ،ایک ہی مکتبہ سے چھپی ہوئی دو کتابوں کے ان متضاد الزامات میں سے کس کا الزام صحیح ہے اور کس کاغلط؟ رہامعاملہ غازی پوری صاحب کےالزام کا تو الحمدللہ ہم ان کی اس کتاب کامفصل جواب لکھ چکے ہیں۔
پھرگھمن صاحب نے اس جگہ بھی الزامات کے سلسلہ کو مزید طول دیتے ہوئے اہل حدیث پر ایک اور الزام جڑدیا کہ ’’ولیوں کی کرامات، بلکہ تمام خوارقِ عادات جن میںکشف ،الہام ،رویائے صالحہ وغیر جو قرآن وحدیث سےثابت ہیں ان کا انکار کرتےہیں۔
واللہ یہ خالص بہتان ہے، گھمن صاحب اپنے جمیع اعوان وانصار کے ساتھ مل کر بھی کوئی ایک ایسی کرامت،خارقِ عادت، کشف ،الہام یارویائے صالحہ کی مثال پیش نہیں کرسکتے قطعا نہیں کرسکتے کہ جو قرآن مجید یا حدیث مقبول سے ثابت ہو اور اہل حدیث اس کاانکار کرتے ہوں، [وَلَوْ كَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِيْرًا۝۸۸ ]ہم پھر عرض کرتےہیں کہ سچے ہوتو اپنی دلیل لاؤ۔[قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝۱۱۱ ] (۵) گھمن:فقہ حنفی اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کےخلاف لکھنا ان کے نزدیک فرض ہے۔
(المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ،ص:20)
جواب:یہ بھی محض الزام واتہام ہی ہے آخر کب کسی اہل حدیث عالم نے کہاں لکھا ہے کہ’’فقہ حنفی‘‘ اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے خلاف لکھنا فرض ہے؟؟؟ دراصل گھمن صاحب ایسی بے سروپاباتوں سے اپنی مجالس آباد رکھنے کے عادی ہیں توتحریر میں بھی اس روش سے باز نہیں رہ پائے۔
(۶) گھمن:ان کا جہاد سادہ لوگوں کوورغلاکرغیرمقلد بنانا ہے۔
(المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ،ص:20)
جواب:لوگوں کو قرآن وحدیث کی دعوت دینا درحقیقت [اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول]کی دعوتِ حق ہے ،کیاآپ کے نزدیک دعوتِ حق جہاد نہیں؟ یقینا جہاد ہی ہوگا،اگر نہیں تو پھرصاف صاف انکار کیجئے ہم دلائل پیش کردیں گے ۔ان شاءاللہ
باقی ورغلانے والی بات تو آپ کی منفی سوچ ہے، ایسے تو آپ کی کوششوں کو بھی ورغلانے کا نام دیاجاسکتاہے، صرف سادہ لوگ ہی نہیں الحمدللہ احناف اور دیوبند کے طلباء وکبارعلماء بھی اہل حدیث ہوئے ہیں ،جیسے مفتی عبدالرحمٰن مدنی فاضل دیوبند، مولانا عبدالسلام آف رستم، مولانا جلال الدین قاسمی وغیرھم
(۷) گھمن:شروع میں ان لوگوں کا سارازور امام ابوحنیفہa اور فقہ حنفی کے خلاف ہوتا تھا، علمائے حق نے جب اس محاذ پر ان کا مقابلہ کیا تو ان لوگوں نے اپنا انداز بدلااورتبلیغی جماعت کے خلاف مہم شروع کردی، مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہاور فضائل اعمال کے خلاف بہت زہراگلا،جب اس میں بھی ناکام ہوئے تو اب ایک نیا شوشہ چھوڑا کہ ہمارا تو علمائے دیوبند سے عقائد کااختلاف ہے مسائل کانہیں، علمائے دیوبند عوام کو مسائل میں الجھاتے ہیں اور اپنے عقائدپر پردہ ڈالتے ہیں۔(المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ،ص:20)
جواب:یہ ساری ترتیب ان کی خیالی اور گھڑی ہوئی ہے وگرنہ عقائد، فقہی مسائل اور من گھڑت بے ثبوت قصے کہانیوں پر اہل حدیث پہلے بھی گفتگو کرتے رہے اور اب بھی کرتے ہیں، اگر یقین نہ آئے تو بتائے آپ کے ’’حکیم الامت‘‘ اشرف علی تھانوی صاحب نے ’’تمہید العرش فی تحدید العرش‘‘ کس کے رد میں لکھی؟ آپ نے خود اپنی کتاب میں اہل حدیث کے ’’رد میں لکھی جانے والی بعض کتب کی فہرست میں اس کا ذکر کیا ہے۔دیکھئے ’’فرقہ اہل حدیث پاک وہند کا جائزہ، ص:378,375پر آپ نے ’’تنبیہ الضالین‘‘ اور ’’فتح المبین‘‘ کا تذکرہ کیا ان میں بھی عقائد ومسائل کی بحث موجود ہے۔
الحمدللہ نہ تو’’فقہی مسائل‘‘ میں اہل حدیث کوناکامی کاسامنا ہوا نہ ہی ’’فضائل اعمال‘‘ کےخلاف۔ قرآن وحدیث کی باتوں کےمقابلہ میں یہ محض آپ کاوہم ہے۔
(۸) گھمن:غیرمقلدین علمائے دیوبند کی جن عبارات کو قطع وبرید کرکے عقائد کا نام دےکر پیش کرتے ہیں ان میں اکثر عبارتیں صوفیاء کرام کی ہیں جن کا عقائد سے دور کابھی واسطہ نہیں اور ان کا اکثر حصہ بریلویوں سے سرقہ کیاہواہے۔
(المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ،ص:20)
جواب:علمائے اہل حدیث مقلدین دیوبند کی عبارات میں قطعا قطع وبرید نہیں فرماتے ان کی واضح عبارتیں پیش کرتے ہیں، اور عقائد کے معاملہ میں وہی عبارات پیش کرتے ہیں جو ان کے اکابر علماء کی کتب میں موجود ہیں، صوفیاء کرام کہہ دینےسے خلاصی نہیں مل سکتی کیا صوفیاء کرام کی عبارات عقائد سے بالاتر ہیں؟ کیا انہیں اس بات کی کھلی چھٹی ہےکہ وہ قرآن وحدیث میں مذکور عقائد ونصوص کےخلاف جو چاہیں بیان کرتے رہیں؟ قطعا نہیں معیار ومیزان قرآن وحدیث ہیں جو کچھ اس کے مطابق ہوگا وہی صحیح کہلائے گا اور جو اس کے خلاف ہوگا وہ غلط ہی ٹھہرے گا،رہی بات بریلویہ سے سرقہ کی تویہ اعتراض بھی فضول ہے کیوں کہ ہم علماء دیوبند کی اصل کتب سے حوالے پیش کرتے ہیں۔
گھمن اور سرقہ:
بات دراصل یہ ہے کہ الیاس گھمن صاحب خو د علمی سرقہ(چوری) کے مرتکب ہیں حوالہ دیئے بغیر دوسروں کی کتب کے کئی کئی صفحات اپنی کتاب کاحصہ بنالیتے ہیں،ثبوت ملاحظہ کیجئے:
’’غیراللہ سے مدد‘‘ کے عنوان پر اپنی کتاب ’’فرقہ بریلویت پاک وہند کا تحقیقی جائزہ‘‘ ،ص:318سے بحث شروع کی اور اس میں اپنے ’’امام اہلسنت‘‘ سرفراز خان صفدر صاحب کی کتاب’’گلدستہ توحید‘‘ ص:95تاص:120تک کی نقل ماری۔ دیکھئے :فرقہ بریلویت ص:333تک ،سارے کا سار ا نقل ہے، بس کہیں تھوڑی بہت تبدیلی کی ہے، لیکن حوالہ کہیں بھی نہیں دیا،اہل علم اس طرح کی حرکت کو،’’علمی سرقہ‘‘ کہتے ہیں۔اگر بات گھمانے کو گھمن صاحب یہ کہہ دیں کہ وہ ہمارے بزرگ ہیں وغیرہ تو سن لیں کہ آپ ہی کے بزرگ ہیں لیکن ان سے نقل مار کر ان کی کتابوں کاحوالہ نہ دینا، بہرحال ’’علمی سرقہ‘‘ ہی ہے۔ چونکہ خود گھمن صاحب نے ایک اہل حدیث پر طنز کرتے ہوئے الزام لگاتے ہوئے اپنی کتاب میں لکھا:
’’ابواسامہ نے اکثر مواد مولانا محمد بن ابراھیم میمن جوناگڑھی غیرمقلد کی کتابوں سے لیا ہے اور بعض چیزیں ارشاد الحق اثری کے رسالہ سے سرقہ کی ہیں۔(جی ہاں فقہ حنفی قرآن وحدیث کا نچوڑ ہے، ص:17)
اب دیکھئے خطیب الہند مولانا جونا گڑھی رحمہ اللہ اور محقق العصر مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ اہل حدیث ہی ہیں اور ابواسامہ صاحب بھی لیکن اس کے باوجود بھی گھمن صاحب نے’’سرقہ‘‘ (چوری) کاالزام لگایالیکن ثبوت نہیں دیا، ہم تو گھمن صاحب کی چوری کاحوالہ بھی پیش کرچکے ہیں، شائقین حضرات دونوں کتابوں کو سامنے رکھ کر تقابل فرمالیں ثبوت مل جائے گا،المختصر کہ جو خود ہی’’علمی سرقہ‘‘ کا مرتکب ہواس سے کوئی بعید نہیں کہ وہ دوسروں کو بھی اپنے جیسا سمجھ بیٹھے۔
(۱۰) گھمن :بہرحال اس موضوع پر غیرمقلدین کی طرف سے کئی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں سرفہرست طالب الرحمٰن زیدی کی عربی کتاب ’’الدیوبندیہ‘‘ اور دوسری اردو زبان میں’’دیوبندیت تاریخ وعقائد‘‘ ہیں۔(المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ،ص:21)
جواب:الحمدللہ ’’الدیوبندیہ‘‘ اپنی نوع کی ایک عمدہ ،بہترین اور مدلل کتاب ہے ،دیوبندی حضرات کی طرف سے اس کےجواب میں محمد ابوبکر غازی پوری فاضل دیوبند نے’’وقعۃ مع اللامذھبیہ‘‘ کے نام سے قلم اٹھایا لیکن باعتراف خود اس کے جواب سے’’قطع نظر‘‘ کرگئے، (آئینہ غیر مقلدیت ،ص:41)اس کتاب کا ترجمہ پاک وہند کے دیوبندیوں نے‘‘کچھ دیر مقلدین کے ساتھ‘‘ اور’’آئینہ مقلدیت‘‘ کے نام سے کیاالحمدللہ ہم ان کے اس ناکام کوشش کا بھی مفضل جواب لکھ چکے ہیں۔(یسر اللہ لنا طبعہ)
(۱۲)گھمن :طالب الرحمٰن کے بعد عقائد کے حوالے سے ایک رسالہ دیکھنے کا موقعہ ملا جس کے مرتب کراچی کے نصیب شاہ سلفی ہیں اور مقدمہ امین اللہ پشاوری نے لکھا ہے،رسالے کانام’’موازنہ کیجئے کہ کون سے عقائد صحیح ہیں عقائد علمائے دیوبند یا عقائد قرآن وحدیث‘‘ یہ رسالہ اصل میں مولانا مفتی عبدالشکور ترمذی رحمہ اللہ ساہیوال ضلع سرگودھا کے ایک رسالے کا جواب ہے۔آپ نےاپنے دور میں مولانا خلیل احمد سہارنپوری کی مشہور زمانہ کتاب’’المہند علی المفند‘‘ کا اختصار ،’’خلاصہ عقائد علمائے دیوبند‘‘ کےنام شائع کیا تھا۔ بعد میں کچھ حضرات نے اس کو اشتہار کی شکل میں طبع کرایا۔ اس میں علمائے دیوبند کے جن 25عقائد کا ذکر آپ نے فرمایا تھا ان میں ایک عقیدہ بھی ایسا نہیں جو قرآن وسنت کے خلاف ثابت کرنے کی اپنی سی ناکام کوشش کی ہے۔(ص:21تا22)
جواب: اقتباس بالاسے قارئین پر ظاہر ہوگیاہوگا کہ گھمن صاحب کی یہ کتاب دراصل اپنے عقیدہ کی متفقہ دستاویز ’’المہند‘‘ کا دفاع ہے۔ گھمن صاحب کاخیال ہے کہ ’’المہند‘‘اور اس کے ’’خلاصہ‘‘ میں مذکور پچیس (25)عقائد قرآن وسنت کے خلاف نہیں۔یہ تو عنقریب واضح ہوجائیگا ان شاءاللہ کہ حقیقت کیا ہے۔باقی انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ’’عقائد‘‘ کے بارے میں علمائے دیوبند کے جو’’اصول وشرائط‘‘ ہیں ان کے مطابق ان عقائد کاثابت ہونا بھی لازمی ہے وگرنہ ان کو صاف اعلان کردینا چاہئے کہ ان کے یہ’’اصول وشرائط‘‘ ردی وفضول ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ،پھر’’ناکام کوشش ‘‘کس نے کی یہ عنقریب واضح ہوجائے گا۔ان شاء اللہ
(جاری ہے)

About ابوالاسجد محمد صدیق رضا

Check Also

اہل حدیث وشیعیت میں توافق کااتہام اورحقیقت (قسط نمبر4)

ترتیبِ افضلیت صحابہ رضی اللہ عنہم اورغیرمقلدینق اس عنوان کے تحت غازی پوری صاحب فرماتے …

جواب دیجئے