Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ ستمبر » سوالات وجوابات

سوالات وجوابات

پیشاب کی تھیلی کے ساتھ نماز

(1)
اگر کسی کو پیشاب کے قطرے ہمیشہ گرنے کی بیماری ہو تو ایسا شخص تھیلی لگاکرنماز پڑھ سکتاہے۔

الجواب بعون الوہاب
صورت مسئولہ برصحت سؤال
ایسے شخص کو ہرنماز کیلئے وضوکرنا ہوگا، وضوکرکے وہ نماز میں شامل ہوجائے اس کے بعد اگرچہ پیشاب کے قطرے تھیلی میں گرتے رہیں تو کوئی حرج نہیںاور تھیلی کے ساتھ ہونے میں بھی کوئی حرج نہیںکیونکہ یہ اضطراری صورت ہے اس کے سوا کوئی چارہ کارنہیں ہے اور اس کی دلیل حدیث سے ہے کہ نبیuکےد ور میں ایک صحابیہ حمنہ بنت جحش اور زینب بنت جحش rکو بیماری تھی کہ انہیں ماہواری کے علاوہ بھی فساد عروق کی وجہ سے خون بہتا رہتا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان تھیں حمنہ بنت جحشrکا فرمان ہے کہ بعض اوقات خون اتنا بہتا کہ لوٹا بھرجاتا تو یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سختی سے کوئی چیز زیرجامہ پہن لو کوئی روئی وغیرہ رکھ کر سختی سے کپڑا باندھ لو اور ہرنماز کے لئے وضو کرو اور نماز پڑھو، اس میں دونوں چیزیں موجود ہیں اگرنماز کے دوران خون بہتا ہے تو بھی کوئی حرج نہیں اور چونکہ خون اس کے ساتھ ہے جو کہ ناپاک ہے جو زیرجامہ میں جمع ہے توخون کے ساتھ اس کی نماز درست ہوجائیگی۔ لہذادریں صورت جو سائل کا سوال ہے اس میں اضطرار ہے اس لئے اس میں نماز درست ہے اور ہرنمازکیلئے وضوکرنا پڑے گا۔

صلاۃ التسبیح

2)
کیا یہ بات درست ہے کہ سعودی عرب میں صلاۃ التسبیح نہیں پڑھی جاتی۔
J
الجواب بعون الوہاب
صورت مسئولہ برصحت سؤال
جماعت سے نہیں پڑھی جاتی باقی صلاۃ التسبیح عبداللہ بن عباسwکی روایت سےثابت ہے اس روایت کو علماء نے حسن درجہ کا قرار دیا ہے، اور تقریباً چودہ صحابہ سے یہ روایت ملتی ہے تو ان احادیث کا مجموعہ حسن درجہ تک پہنچتا ہے تویہ نماز توثابت ہے لیکن جماعت کا اہتمام کرنا اور اس کیلئے اعلان کرنا کہ فلاں مقام پر تسبیح کی نماز اداہوگی یہ سب چیزیں بدعت ہیں نبیuکے عمل سے اور قرون اولیٰ کے عمل سے ثابت نہیں ہے۔

لیلۃ القدرکامختلف ہونا

3
سعودی عرب میں لیلۃ القدر ہم سے ایک رات پہلے آتی ہے اور ہمارے ہاںایک رات بعد میںہوتی ہے جبکہ لیلۃ القدر تو ایک ہوتی ہے تو ہم لیلۃ القدر کب سمجھیں ان کے ساتھ یااپنی الگ؟

الجواب بعون الوہاب
صورت مسئولہ برصحت سؤال
ہم اپنے چاند کااعتبار کریں گے کیونکہ اللہ رب العزت نے ہمیں یہی حکم دیا ہے ـ[فَمَنْ شَہِدَ مِنْكُمُ الشَّہْرَ فَلْيَصُمْہُ۝۰ۭ] (البقرہ:۱۸۵)کہ جو اس مہینہ میں موجود ہو وہ روزےرکھے تو مہینہ میں موجودگی چاند دیکھنے سے ہوتی ہے :’’صوموا لرؤیتہ‘‘کہ تم چاند کو دیکھ کر روزہ رکھو۔ اگر مطالع کے اختلاف کی بناپر کہیں چاند پہلے نظر آگیا اور کہیں بعد میں نظرآیاتو ان کی لیلۃ القدر ان کے حساب سے ہوگی اور ہماری ہمارے حساب سے۔ اللہ رب العزت کی رحمت میں کوئی تنگی نہیں ہے۔

نومولود کے کان میں اذان

(4)
نومولود کے کان میںاذان کہی جاتی ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
J
الجواب بعون الوہاب
صورت مسئولہ برصحت سؤال
کچھ احادیث سے اذانوں کا ذکر ملتا ہے اگرچہ ان کی سند میں کلام ہے لیکن امت کا عمل اس پر موجود ہے اس لئے اذان کہنے میںکوئی حرج نہیں ہے۔

نومولود کے پیدائشی بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرنا

(5)
کیابچے کے پیدائشی بالوں کے برابر چاندی کا صدقہ کرنا ثابت ہے؟
J
الجواب بعون الوہاب
صورت مسئولہ برصحت سؤال
ہاں یہ حدیث موجود ہے کہ پیدائش کے ساتویں دن اس کے بال اتارے جائیں اور ان کے وزن کے برابر چاندی صدقہ دی جائے اور یہ نبیuسے ثابت ہے کہ آپ نے حسین tکی پیدائش پر ایسا کیا،اور اس کافائدہ واللہ اعلم یہی ہے کہ اللہ رب العزت اس بچے کو بلاؤوں اورمصائب سے محفوظ رکھے گا۔

غوث ،ابدال ،قطب اورقلندر کا ثبوت ؟

(6)
غوث ،ابدال ،قطب اورقلندر کا ثبوت ہے ان کی وضاحت فرمادیجئے؟

الجواب بعون الوہاب
صورت مسئولہ برصحت سؤال
غوث عربی کا لفظ ہے، لفظ تو موجود ہے جیسے نبیuکی دعا:یاحی یا قیوم برحمتک استغیث.استغیث کا مادہ غوث ہے، غوث کا معنی مدد، استغیث کا معنی میں تجھ سے مدد طلب کرتاہوں،غوث کی حقیقت اگر ہے تو یہی ہے کہ سارے امور میں اللہ رب العزت سےمدد طلب کی جائے ،اس معنی میں یہ لفظ موجود ہے لیکن جس معنی میں لوگ استعمال کرتےہیں کہ فلاں غوث ہے اور فلاں غوث اعظم ہے یہ خالص شرک ہے اور اس کاثبوت قطعاًنہیں ہے، اللہ رب العزت ہی مدد کرتا ہے، وہی وکیل ہے،کارساز ہے اور مدد کرنے والا ہے، آپﷺ کی دعا:یاحی یا قیوم برحمتک استغیث. کہ میں تجھ سے مدد طلب کرتاہوں، اور سورہ فاتحہ میں: [اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۝۴ۭ]نماز میں ہم بار بار دہراتےہیں کہ ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور خاص تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں، جتنے بھی امور ہیں ان کی دوقسمیں ہیں:(۱)فوق الطاقۃ اور (۲)تحت الطاقۃ:ایک عمل وہ ہے جس میں آپ کسی کی مدد کرسکتے ہیں کسی کوپانی پلانا، کھاناکھلانا، یہ بندہ کی طاقت کے تحت ہے اور دوسرا عمل فوق الطاقۃ کہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے ان امو رمیں اللہ رب العزت کے علاوہ کوئی مدد نہیں کرسکتااور جوتحت الطاقۃ امور ہیں یہ بندہ کرتا تو ہے لیکن توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ۔
اسی طرح لفظ قطب :ق ،ط،ب یہ بھی عربی لفظ ہے قطب بولتے ہیں وہ لکڑی لوہےکاسوعاجوچکی میں گاڑا جاتا ہے اور چکی کے پاٹ اس لوہے کے سوعے کے ساتھ منسک ہوتے ہیں اور گھومتے ہیں ،تولوہے کا سوعا چکی کامحور ہے دونوںپاٹ اسی کے ساتھ گھومتے ہیں یہ قطب کامعنی ہے لیکن یہ لفظ جس معنی میں لوگ استعمال کرتے ہیں وہ شرک ہے، کہ فلاں قطب ہے یافلاں قطب عالَم ہے یہ بڑا شرک ہے ،قطب عالم کامعنی ہے کہ فلاں شخص کی حیثیت یہ ہے کہ وہ پوری دنیا کامحور ہے دنیا اس پر قائم ہے اس پر گھوم رہی ہے چل رہی ہے، حالانکہ دنیاقائم ہے صرف اللہ کی توفیق سے، دنیا چل رہی ہے اللہ کے چلانے سے ۔
ابدال یہ بھی عربی لفظ ہے:ب،د،ل، اس کا ماد ہ ہے ،بدل کا معنی کوئی چیز تبدیل کرنا، ایک چیز تبدیل کرکے دوسری چیز اس کی جگہ لانا، ابدال ،بدل کی جمع ہے،ابدال ثابت ہے دنیا میں ابدال ہونگے جیسے کہ ابوداؤد کی حدیث ہے کہ نبیuنے فتنوں کاذکرفرمایا اور فرمایا کہ کچھ قوموں سے جنگیں ہونگی او ر پھر شام سے کچھ ابدال آئیں گے ،لوگ ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے تو ابدال کاذکر ہےاور مسند احمد کی ایک حدیث ہے کہ نبیuنے فرمایا:الابدال فی امتی ثلاثون.میر ی امت میں تیس ابدال ہونگے اس کی سند میں کلام ہے لیکن ابوداؤد کی حدیث مقبول ہے اور ثابت ہے ،ابدال کامعنی ہے:’’جماعۃ الصالحین‘‘ نیک لوگوں کی جماعت ،یہ جماعت ایک، دویاآٹھ ،دس جتنے بھی اللہ تعالیٰ چاہے ہر وقت ،ہردور میں ہوں گے اور یہ کہیں بھی ہوسکتے ہیں ،ایک اگر فوت ہوگا تو دوسرا اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کھڑا کرے گا چونکہ دوسرا اس پہلے کی جگہ آئے گا اس کوبدل بولتےہیں، اس کے بدلے میں آنا اس کے عوض میں آنا اس لئے ابدال کو ابدال کہاجاتاہے۔باقی ابدال کے بارہ میں جولوگوں نے تصور قائم کررکھا ہے ،وہ تصور باطل ہے کہ وہ دنیا کواٹھائے ہوئےہیں کہ ایک اس کو نے میں اور دوسرا اس کونے میں چاروں کونوں سے دنیا کوانہوں نے اٹھایا ہوا ہے یہ وہ چیزیں ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
قلندرعربی کالفظ ہوسکتا ہے ،جبکہ ہمارے معاشرے میں قلندر بندرنچانے والے کو کہتے ہیں اور لوگ کہتے پھرتے ہیں کہ اڑھائی قلندر ہیں، پتہ نہیں اڑھائی کیسے ہوتے ہیں ،یہ سارے تصورات باطل ہیں، وہ نیکی اور تقویٰ کے کسی معیار پر پہنچ جائیں سب اللہ کے بندے اور اللہ کے فقیر اور اللہ کے محتاج ہیں، کسی میں کسی قسم کے تصرف میں کوئی طاقت نہیں کوئی صلاحیت نہیں، اس تعلق سے کسی کو غوث ،کسی کوقطب، کسی کو ابدال اور کسی کو قلندر کہنا سب چیزیں خلاف کتاب وسنت، خلاف عقیدہ اور خلاف توحیدہیں۔

استخارہ کا وقت نہ مل سکےتوکیاکرے؟

(7)
اگر کسی کو کوئی کام درپیش ہواوراستخارہ کا وقت نہ ملے تو وہ کیاکرے۔

الجواب بعون الوہاب
صورت مسئولہ برصحت سؤال
اللہ تعالیٰ سے دعاکی جاسکتی ہے مثلاًجواستخارہ کا مفہوم ہے کہ یا اللہ میرے لئے اس معاملے میں بہترچیز کاانتخاب فرما،ایک چھوٹی سی دعاہے کہ:اللھم خرلی واخترلی.اس کی سند ضعیف ہےمگر اس کا معنی صحیح ہے،یہ دعا کی جاسکتی ہےاگر فوری کوئی فیصلہ کی نوبت آجائے اور استخارہ کی مہلت نہ ملے،تو اللہ تعالیٰ سے دعاکرے ـ:اللھم خرلی واخترلی.یہ دعامسنون سمجھ کر نہ پڑھے بلکہ عام دعا سمجھ کر پڑھے کیونکہ اس کامعنی درست ہے۔
اور اگراستخارہ کرلیاجائے توبہتر ہے کیونکہ استخارہ میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگتا ،پانچ سے چھ منٹ لگتے ہیںاگرباوضوء ہیں تو دو نفل اختصار سے پڑھ لیں اور بعد میں استخارہ کی دعاپڑھ لیں اور یہ دعا آدھے منٹ میں پڑھی جاسکتی ہے۔

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعینِ نووی حدیث نمبر 28 ،قسط نمبر 63

تیسری وصیت: فرمایا:فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلافَاً كَثِيرَاً؛ فَعَلَيكُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المّهْدِيِّينَ …

جواب دیجئے