Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ ستمبر » اربعینِ نووی حدیث نمبر:23 قسط:54

اربعینِ نووی حدیث نمبر:23 قسط:54

(۶) وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ.
اور صبر روشنی ہے۔
صبرکالغوی معنی،حبس یعنی روکنااوربرداشت کرنا ہے، شرعی اصطلاح میں صبر کامعنی:(حبس النفس علی طاعۃ اللہ) یعنی: نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر روکنا اور قائم رکھنا۔
علمائے کرام نے صبر کی تین اقسام بیان فرمائی ہیں:
(۱) صبر علی طاعۃ اللہ.یعنی:اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرنا،اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو ان امورپر روکے اور مستقل قائم رکھے،جو اللہ رب العزت کی اطاعت پرمشتمل ہیں۔
گویا صبر علی طاعۃ اللہ کی حقیقت یہ ہے کہ دوچاردن کی نیکی صبر نہیں ہے،بلکہ مستقل طور پر نیکی اختیار کیے رکھنا صبر ہے،چنانچہ ایک شخص اگر چند دن نماز اداکرےاور پھر چھوڑدے وہ صابر قرار نہیں دیاجاسکتا،بلکہ عمر بھر کانمازی ہی صابرہے،چنانچہ اس کا روزانہ پنج وقتہ نماز کا جملہ متقاضیات وواجبات کے ساتھ اہتمام کرنا(جو یقیناً ایک گراں عمل ہے) اس کےسچے صبر کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس کے برعکس چنددن نماز کااہتمام کرنے والااور پھر اسے چھوڑ دینےوالامنہجِ صبر سے کوسوں دورہےاورصبرکے فضائل ومحاسن سے یکسرمحروم بھی؛کیونکہ اگر اس شخص کے پاس صبرہوتاتو اس کی نمازوں کا سلسلہ، تسلسل واستمرار کے ساتھ جاری رہتا۔
سردموسم ہواور بندہ اپنے نرم وگرم بستر پہ محوِ خواب ہو،اسی اثناءمسجد سے فجرکی اذان گونجنے لگےتواپنی نینداور آرام کو خیرباد کہتے ہوئے نمازِ فجر کا اہتمام یقیناصبر کی اعلیٰ مثال ہے۔
کاروبار اپنے شباب پرہو،کاروباری میٹنگ جاری ہو،اسی اثناء میں مسجد سے عصر کی اذان شروع ہوجائےتو ان تمام مہمات کو خیربادکہتے ہوئے نمازِ عصرکااہتمام کرنا یقیناً صبر کی بہت بڑی مثال ہے۔
اسی لئے ا ن دونوں نمازوں کے بے شمار فضائل وارد ہیں؛ کیونکہ ان دو اوقات میںصبر کا عظیم الشان مظاہرہ دیکھنے میں آتاہے، ویسے ہرنماز ہی بوجوہ صبر کا انتہائی عمدہ مظہرہے۔
واضح ہو کہ ہر نیکی مثلاً:حج،عمرہ، روزہ، زکوٰۃ، جہاد، امربالمعروف اور نہی عن المنکروغیرہ صبر کی متقاضی ہے،صبر کامعاملہ ہرنیکی کے اجر کو دوچندبڑھادیتاہے،اللہ رب العزت کی معیت صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے:[اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۝۱۵۳ ](البقرہ:۱۵۳)
(۲) صبر عن معصیۃ اللہ.یہ صبر کی دوسری قسم ہے، جس کا معنی :اللہ تعالیٰ کی ہرنافرمانی سے گریز اختیارکرکے صبرکرنا۔
واضح ہو کہ گناہوں کو ترک کرنا صبر کی انتہائی بہترین صورت ہے، چنانچہ ذنوب ومعاصی کے اسباب ووسائل متوفر ہونے کے باوجودحبس النفس یعنی ان سے کنارہ کشی اختیار کیے رکھنابہترین صبر ہے۔
انسان کا نفس (امارۃ بالسوء)یعنی: گناہوں کا حکم دینے والاہے، شیطان بھی اپنی تمام تر قوتوں کے ساتھ گناہوں پر اکسانے اور برانگیختہ کرنے میں مصروف ہے، پھر معاشرہ میں بہت سے لوگ ان گناہوں کو عملاًانجام دےرہے ہیں، ان تمام حقائق کے باوجود ایک شخص کا گناہوں سے احتراز برتتے رہنااور گناہگاروں کی کثرتِ تعداد سے بالکل متاثر نہ ہونا،صبر کی بہترین مثال ہے۔
تبھی تو اس اعلیٰ ترین صبر کا ایک بار مظاہرہ قیامت کے دن، میدانِ محشر میںسائے کی فراہمی کا باعث بن جائے گا،چنانچہ یہ شخص ان سات افراد میں شامل کرلیاجائے گاجنہیں اللہ تعالیٰ یوم الحشر کی گرمی سے بچانے کیلئے اپنے سائے تلے جگہ عطافرمادے گا۔
(رجل دعتہ إمرأۃ ذات منصب وجمال فقال إنی أخاف اللہ)(بخاری:660،صحیح مسلم:1017)
وہ شخص جسے کوئی بڑے منصب والی خوبصورت عورت دعوتِ گناہ دے اور وہ یوں کہہ دے کہ میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔
اس خوش نصیب انسان کو اس عظیم الشان صبرکے مظاہرہ پر قیامت کے دن یہ انتہائی لطیف اور پرراحت سایہ نصیب ہوگا۔
اس کی عملی مثال سیدنا یوسفuکا واقعہ ہے،جنہیں عزیزمصر کی بیوی نے دعوتِ گناہ دی،اس گناہ کے تمام اسباب میسر تھے،مثلاً:مقفل کمرے کی تنہائی،اس عورت کاحسن،نیز اس کامنصب اور یوسفuکا حسن وشباب وغیرہ ۔
لیکن یوسفuکا معاذاللہ کہنا اور اس گناہ سے یکسراحتراز کرنا حالانکہ اسباب ودواعی موجودتھے،صبر کاایک ایسا عالی شان مظاہرہ تھا جو اس قسم کے تمام مواقع پر بطورِ مثال پیش کیاجاتاہے۔
دوسری مثال اصحاب الغار کے قصہ کی دی جاسکتی ہے،یہ تین لوگ طوفانِ بادوباراں سے بچنے کیلئے پہاڑ کی ایک غار میں پناہ گزین ہوئے ،طوفان کی شدت نے ایک بھاری بھرکم پتھر غار کے دھانے پر ٹِکادیا،جس سے ان کے باہر نکلنے کا راستہ بندہوگیا،ان کی اس حالت وکیفیت کی کسی کو خبربھی نہ تھی کہ مدد کو آسکے۔
تینوں نے اپنی اپنی ایک نیکی کے وسیلے سے بارگاہِ اللہ رب العزت کودستک دی،ان میں سے ایک شخص کی نیکی جو اس نے اپنی دعا میں بطورِ وسیلہ پیش کی یہ تھی:
اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي ابْنَةُ عَمٍّ، مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَأَنِّي رَاوَدْتُهَا عَنْ نَفْسِهَا فَأَبَتْ، إِلَّا أَنْ آتِيَهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَطَلَبْتُهَا حَتَّى قَدَرْتُ، فَأَتَيْتُهَا بِهَا فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهَا، فَأَمْكَنَتْنِي مِنْ نَفْسِهَا، فَلَمَّا قَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا، فَقَالَتْ: اتَّقِ اللَّهَ وَلاَ تَفُضَّ الخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ، فَقُمْتُ وَتَرَكْتُ المِائَةَ دِينَارٍ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ خَشْيَتِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا.
(صحیح بخاری:3465)
اے اللہ!تو جانتا ہے میری ایک چچاکی بیٹی تھی،جس سے مجھے شدید محبت تھی، میں نے اسے کئی بار ورغلانے کی کوشش کی مگر وہ انکار کرتی رہی، (ایک بار اپنی کسی شدید ضرورت کے تحت)اس نے میری خواہش کی تکمیل کیلئے سودینار کاتقاضاکیا،میں نے کوشش بسیار کے بعد اس رقم کا بندوبست کرلیا،اس کے پاس جاکر وہ رقم اس کے حوالے کردی، اس نے بھی اپناآپ مجھے سونپ دیا،جب میں اس کی دوٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا:اللہ سے ڈرجا!ناحق اس مہر کو توڑنے سے بازآجا،میں اسی وقت کھڑاہوگیا اور وہ سودیناربھی اس کے پاس چھوڑ دیئے ،اگرتوجانتا ہے کہ یہ سب کچھ میں نے تیرے خوف کی بناپرکیاتو ہمیں اس غار سے رہائی عطافرمادے۔
حدیث کے آخری الفاظ یہ ہیں:
فَفَرَّجَ اللهُ عَنْهُمْ فَخَرَجُوا.
اللہ تعالیٰ نے (پتھرسرکاکر)انہیں رہائی عطافرمادی اور وہ بسلامت غار سے باہرنکل آئے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صبرعن المعصیۃ اختیار کرنے سے دنیوی مشاکل بھی ٹل جاتی ہیں۔
واضح ہو کہ گناہوں کو یکسر ترک کردینا تقویٰ بھی ہے اور صبر بھی۔
چنانچہ معاشرے میں مروج گناہ مثلاً:اکلِ حرام،ربا(سود)، شراب نوشی اورزناوغیرہ میں بڑی کشکش اور جاذبیت ہے،ان سے پوری طرح لاتعلقی اختیارکرلینا،تقویٰ تو ہے ہی ،صبر کابھی عظیم الشان مظاہرہ ہے،تقویٰ کی برکت سے اللہ رب العزت ترکِ معصیت پر صبر عطافرمایتا ہے،چنانچہ حرام مال کے خواہ کتنےہی انبارہوںاور کتنی ہی چمک دمک سے بھرپورہوںاوربندے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہوں، مگر بندے کا تقویٰ اسے ان خزانوں سے دور رکھے گا اور کشش کے باوجود ان خزانوں کو ٹھوکرماردیناانتہائی آسان ہوجائے گا۔
[وَمَنْ يَّتَّقِ اللہَ يَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ يُسْرًا۝۴ ] ترجمہ:اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا ۔(الطلاق:۴)
[وَمَنْ يَّـتَّقِ اللہَ يَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا۝۲ۙ وَّيَرْزُقْہُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۝۰ۭ](الطلاق:۲،۳)
اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔
منہجِ تقویٰ اورمنہجِ صبر دونوں کا کسی انسان کے اندر مجتمع ہونا اس کے بلندہمت وعزیمت ہونے کی دلیل ہے:
[وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۝۱۸۶ ] (آل عمران:۱۸۶)
ترجمہ:اور اگر تم صبر کر لو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو یقیناً یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے ۔
ایسے لوگوں کو حقیقی محسن قراردیاگیاہےاور ان کے بارے میں یہ خبر دی گئی ہے کہ ان کی نیکیاں ہرگز برباد نہیں ہوسکتیں:
[اِنَّہٗ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرْ فَاِنَّ اللہَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ۝۹۰ ](یوسف:۹۰)
ترجمہ: بات یہ ہے کہ جو بھی پرہیز گاری اور صبر کرے تو اللہ تعالیٰ کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔
چونکہ انبیاءِ کرام سے بڑھ کر کوئی عالی ہمت نہیں ہوسکتا، لہذا ان کی شخصیات کو منہجِ صبر کے ساتھ مربوط کیاگیا ہے:
[فَاصْبِرْ كَـمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ۔۔۔۔] (الاحقاف:۳۵)
ترجمہ:پس (اے پیغمبر!) تم ایسا صبر کرو جیسا صبر عالی ہمت رسولوں نے کیا ۔
لوگ جن کا آغازِ امر خسارہ ہی خسارہ ہے ،انہیں اس سے چھٹکارہ پانے کیلئے جوزریں اصول فراہم کیے گئے ہیں،ان میں صبر بھی اپنی تمام تر اقسام کے ساتھ شامل ہے:
[وَالْعَصْرِ۝۱ۙ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۝۲ۙ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ۝۰ۥۙ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۝۳ۧ ] زمانے کی قسم ۔بیشک (بالیقین) انسان سرتا سر نقصان میں ہے۔سوائے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے اور (جنہوں نے)آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی ۔واللہ المستعان وعلیہ التکلان.
صبر کی تیسری قسم:
صبر کی تیسری قسم (صبر علی أقدار اللہ)ہے،جس سےمراد یہ ہےکہ بندے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے وہ فیصلے جو اس کی طبیعت کےخلاف جاتے ہیںاور مشکل اورشاق محسوس ہوتے ہیں ،انہیں دل وجان سے قبول کرکے صبرکرنا۔
مصیبتوں پر منہجِ صبر کی تکمیل کا معنی یہ ہے کہ کسی مصیبت پر غصے اور ناراضگی کا اظہار نہ کرے،نہ دل سے ،نہ زبان سے اور نہ ہی اپنے کسی عمل سے۔
چنانچہ مصیبت پر مبنی اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے سے دل سے راضی ہو نیززبان سے بھی اس طرح راضی ہو کہ کوئی ایسا جملہ استعمال نہ کر ے جو منہجِ رضاکے منافی ہواور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بن جائے،رسول اللہ ﷺنے اپنے بیٹے ابراہیم کی وفات پر فرمایاتھا:
(ولانقول الاما یرضی ربنا)
یعنی:بیٹے ابراہیم کی جدائی پر ہم اپنی زبان سے وہی الفاظ ادا کرتے رہیںگے جن میں ہمارے پرودگار کی رضاہو۔
واضح ہو کہ عملی صبر کی صورت یہ ہے کہ مصیبت کے لاحق ہونے پر سینہ کوبی ،یا گریباں چاک کرنے جیسی قبیح حرکات کا ارتکاب نہ کرے؛ کیونکہ یہ سارے امور صبر کے منافی ہیں،رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
(لیس منا من ضرب الخدود وشق الجیوب ودعا بدعوی الجاھلیۃ)
یعنی: جوشخص مصیبت پیش آنے پر اپنے رخساروں کوپیٹے،اور گریباں چاک کرے اور جاہلیت کی پکاریں پکارے،وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
مصیبتوں پر صبر کرنا ایک بڑا ہی مستحسن اورقابل تعریف عمل ہے، انبیاء کرام کی بابرکت سیرتیں،صبر سے عبارت ہیں، جس کے بغیر ان کے اسوہ اور قدوہ کی تکمیل ناممکن ہے:
[اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ۝۰ۭ مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰى نَصْرُ اللہِ۝۰ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِيْبٌ۝۲۱۴ ](البقرہ:۲۱۴)
ترجمہ:کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے، حالانکہ اب تک تم پر وه حالات نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے۔ انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے ۔
عَنْ سعد بن ابی وقاص، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاَءً؟ قَالَ: الأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ، فَيُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ دِينُهُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلاَؤُهُ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَمَا يَبْرَحُ البَلاَءُ بِالعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ.(ترمذی:2398)
سعد بن ابی وقاصtنے نبیﷺ سے سوال کیا:سب سے سخت آزمائشوں اور مصیبتوں کا نشانہ بننے والے کون لوگ ہیں؟رسول اللہ ﷺنے فرمایا:انبیاء کرام اور پھر وہ لوگ جو ان کے بعد افضل شمار ہوتے ہیں،چنانچہ ہر شخص اپنے دین کے بقدر آزمایاجاتاہے،اگر اس کے دین میں شدت وصلابت ہو تو اس کی آزمائش بھی سخت ہوگی،اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اسی کمزور ی کے بقدر آزمایا جائے گا، آزمائشیں اور تکلیفیںبندے کو گھیرے رہتی ہیں(اور بندہ صبر کرتا رہتا ہے)حتی کہ یہ نوبت آجاتی ہے کہ وہ بندہ زمین پر چل پھل رہاہوتا ہے اور اس کے ذمے کوئی گناہ نہیں بچتا۔
امام بخاریaاپنی صحیح میں فرماتے ہیں:
بَابٌ: أَشَدُّ النَّاسِ بَلاَءً الأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ.
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا؟ قَالَ: «أَجَلْ، إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ» قُلْتُ: ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ: «أَجَلْ، ذَلِكَ كَذَلِكَ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى، شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا سَيِّئَاتِهِ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا»
ترجمہ:یہ باب اس بات کے بیان میں ہے کہ انبیاء کرام پر سب سے سخت آزمائشیں اور تکلیفیں ٹوٹتی ہیں،پھر ان لوگوں پر جن کا مقام ومرتبہ،درجہ بدرجہ انبیاء کے بعد آتا ہے۔
امام بخاریaاپنی مذکور سند کے ساتھ عبداللہ بن مسعودtکی روایت سے یہ حدیث لائےہیں،وہ فرماتے ہیں :میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپﷺ کو شدید بخارتھا،میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ آپ کو بھی اتناشدید بخار ہوتاہے؟تورسول اللہﷺ نے فرمایا:ہاں!مجھ اکیلے کو تم میں سے دوآدمیوںکے برابر بخار ہوتاہے۔ میں نے عرض کیا:پھر تو آپ کیلئے دہرااجرہوگا؟فرمایا:ہاں یہی معاملہ ہے۔کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے خواہ کانٹا ہی چبھ جائے تو اللہ رب العزت اس کے گناہ اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کوجھاڑ دیتاہے۔
واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے تلخ فیصلوں پر صبرکرنا ایک بڑی عزیمت ہے،لیکن یہاں ایک مقام اور بھی ہے جو صبر سے بھی افضل ہے اور وہ ہے ان تلخ اورکڑوے فیصلوں پر راضی رہنا،بعض علماء نے صبر کو واجب اور مقامِ رضاکو مستحب قراردیا ہے،لیکن بہرحال راضی برضارہنا ایک بہت ہی افضل مقام ہے ،جو عقیدے کی حدود میں داخل ہوجاتا ہے؛کیونکہ تقدیر کے ہرفیصلے کو رضاکے ساتھ قبول کرلیناجو ایک مشکل اور صبرآزماکام ہے، انتہائی قوی ایمان بالقدر ہےاور ظاہر ہے کہ ایمان بالقدر، ارکانِ ایمان میں داخل ہے،یوں منہجِ رضاایک انتہائی مبارک اقدام قرارپائے گاجوبندے کے قوی عقیدے کی زبردست دلیل ہوگا۔
(واللہ تعالیٰ ولی التوفیق)
نیز اس بات کا مظہراتم ہوگا کہ یہ بندہ مشاق ومشاکل میں نہ صرف یہ کہ صبر کے منہج کو اختیارکیے ہوئے ہے ،بلکہ ان پر راضی بھی ہے؛کیونکہ اس قسم کے سخت اور مشکل امور پر راضی رہنا اللہ رب العزت کی رضا پر راضی رہنے کے مترادف ہے،یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صبر کو ضیاء قرار دیا ہے،جبکہ نماز کو نور فرمایا ہے۔
نور اور ضیاء دونوں روشنی کا معنی دیتے ہیں،لیکن ضیاء میں پایا جانے والانور زیادہ شدید ہوتا ہے،جس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں چاند کو نور اور سورج کو ضیاء قرار دیا ہے۔
[ھُوَالَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا ] (یونس:۵)
ترجمہ:وه اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے آفتاب کو ضیاء اور چاند کو نور بنایا۔
اور یہ بات بالکل ظاہروواضح ہے کہ سورج کا نور چاند کے نور کے مقابلے میں زیادہ شدید اور قوی ہے،نیز سورج کی روشنی میں حرارت پائی جاتی ہے جسے برداشت کرنا انتہائی شاق ہے،اسی طرح صبرورضاکے منہج پر قائم رہتے ہوئے بعض اوقات بڑے مشکل اور شاق مراحل عبور کرنے پڑتے ہیں۔
نماز کی اقامت بھی صبر کے مشمولات میں سے ہے،جو اس بات کی دلیل ہے کہ صبر ایک بڑی وسعت وعزیمت کا حامل ایک منہج ہے،جو بندہ منہجِ صبرورضااپنانے میں کامیاب ہوگیا جسے ضیاء سے تعبیر کیا گیا ہے، اس کے سامنے ہدایت کا راستہ واضح اور روشن ہوجائےگا،جس طرح کہ سورج کے طلوع ہونے سے رات کے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں اسی طرح صابرین کیلئے تمام تاریکیوں پر سورج کی ضیاء غالب آجائے گی ؛کیونکہ انہوںنے جس منہج (صبرورضا)کو اختیارکیا ہے وہ ضیاء ہی قرار دیا گیا ہے۔
vvvvvvvvvvvvvvv
(جاری ہے)

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

حجِ تمتع حج وعمرہ کیونکر قبول نہیں ہوتا؟

بسم اﷲ الرحمن الرحیم إن الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ، ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا …

جواب دیجئے