Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جنوری » حافظ احمد ابڑو- میرے پیارےنانا

حافظ احمد ابڑو- میرے پیارےنانا

حافظ احمد ابڑوaمتوفی1998ء

میرے پیارے نانا حافظ احمد ابڑوaگوٹھ سنجرخان ابڑو تحصیل مانجھند ضلع جامشورو کے رہنےو الے تھے۔ حافظِ قرآن اور عالم دین تھے، بڑےہی ملنساراور اعلیٰ اخلاق کے حامل تھے، میں اس مضمون میں اپنے ناناaکی حیات کے چندگوشے عیاں کرتا ہوں اور تمام قارئین سے دعا کی اپیل کرتا ہوں:
nمیرے نانا بچوں سے شفقت کرنے والے تھے، رات کو انبیاء کرام کے واقعات یااحادیث سناکربچوں کو سلادیتے،ویسے بھی جب نواسے نواسیوں ،بھانجے بھانجیوں کے ساتھ بیٹھے ہوتے تو دینی گفتگوہی چلتی رہتی۔
گھر میں لائبریری قائم کی ہوئی تھی، جہاں قرآن پاک کی تفاسیر اور دیگر اہم موضوعات پرمشتمل کتب موجود تھیں وہ لائبریری آج بھی قائم ہے اور اہل علاقہ مستفید ہورہے ہیں خصوصی طور پر احباب اہل حدیث کا جب بھی غیراہل حدیث سے کوئی مناظرانہ ماحول بنتا ہے تو وہ ان ہی کی کتابوں کا رخ کرتے ہیں اور حوالاجات تلاش کرتے ہیں۔
لہذا یہ لائبریری نانا کیلئے بہترین صدقہ جاریہ ہے۔ان شاء اللہ
nنانااحمدابڑوa،قرآن مجید کا اولین منظوم سندھی ترجمہ کرنے والے اہل حدیث عالم مولانا احمدملاحaکااکثر تذکرہ کرتے، ناناaکے دوستوں میں مولانا عبیداللہ سندھیa، محمد عثمان ڈیپل ئی a، محمد انور خاصخیلی آف نیوسعیدآباد جوکہ بقیدحیات ہیں، شامل ہیں۔
nناناa،امورِخیرمیں بڑھ چڑھ کرمعاونت کرنے والے تھے رمضان المبارک میںجوحافظِ قرآن خیرپور، لاڑکانہ،یا کسی دوسرے علاقے سے تراویح پڑھانے آتاتو نانا احمدابڑوaخاص وقت دے کر اس کاپارہ سنتے۔
nنانااحمد ابڑوaکو قرآن مجید پر اتنا عبور تھا کہ مسجد کے مقتدی تراویح پڑھانے والے حافظ کو کہتے تھےکہ سنبھل کر قرآن پڑھنا صف میں سائیں احمد موجود ہیں۔
نانااحمد بڑے خوبصورت لہجہ میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے یہاں تک کہ علاقہ کے معروف معلم مولوی حبیب اللہ کھاڑوخاص طور پر نانا احمد کی تلاوت سننے تشریف لایاکرتے۔
nنانااحمد ابڑوaکوقرآن سے بڑا لگاؤ تھا اس کااندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ نانا نے گاؤں کی مسجد آکر تلاوت شروع کردی حالانکہ آپ وہاں گاؤں کے کسی آدمی کی تلاش میں آئے تھے آپ نے دیکھاوہ آدمی نماز پڑھ رہا ہے لہذا یہ تھوڑا سا وقت بھی انہوں نے تلاوتِ کلام پاک میں صرف کیا اور قرآن کی تلاوت کئے بغیر وہاں سے جانا گوارہ نہیں کیا۔
nجب بھی کوئی آدمی آپ سے قرض مانگنے آتاتواسے قرض دے دیتےآپ نے کبھی کسی کوخالی نہیں لوٹایا اور اس قرض کی ادائیگی بھی مقروض کی سہولت کےمطابق ہوتی تھی نانا کی طرف سے کوئی تقاضہ یااصرار نہ ہوتایہاں صحیح مسلم کی حدیث کاحوالہ دینا زیادہ موافق ہوگا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ ایک شخص کو محض اس نیکی کی وجہ سے معاف کردے گا کہ وہ لوگوں کو قرض دیاکرتا اور ادائیگی میں بڑی مہلت وسہولت دیاکرتا۔
nنانااحمد ابڑوa،کسی مزدور سے کوئی کام لیتے تو اس کی اجرت کی ادائیگی میں بڑی عجلت کرتے اور فرماتے مزدور کی اجرت کی ادائیگی اس کا پسینہ سوکھنے سے قبل ہی کردی جائے۔
nناناحافظ احمد ابڑوaکی زبان پر اکثر یہ دعا جاری وساری رہتی: اللہ اللہ ربی لااشرک بہ شیئا.یعنی اللہ، اللہ، میرارب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تمام مشکلات کے حل کیلئے یہ کلمات سکھلائے ہیں۔(سنن ابی داؤد،حدیث:۱۵۲۵)
جبکہ آپ aدرودِ ابراھیمی بھی کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔
جب تنہائی محسوس کرتے تو اپنے خاندان کے کسی بچے یابچی کوحکم دیتے کہ حدیث کی کوئی کتاب اٹھاؤ اور مجھے پڑھ کرسناؤ۔
یوں اس بچے اور بچی کی حوصلہ افزائی ہوتی اور علم میں اضافہ بھی ہوتا۔
جس طرح پیارے پیغمبرﷺ بچیوں پر بہت زیادہ شفقت فرماتے تھے اور راہ چلتے بچوں کے ساتھ دوڑ کامقابلہ تک فرماجاتے اسی طرح ناناحافظ احمدابڑوaبھی بچوں کے ساتھ بڑی چاہ رکھاکرتے اپنے بھانجے بھانجیوں اورنواسے نواسیوں کے ساتھ اشعار سنانے کا مقابلہ بھی کرجاتے۔
nمہمانوں کی کثرت سےآنے اور انہیں وقت دینےکی وجہ سے اگر گھر کا کوئی فرد ان پر اعتراض کرتا تومندرجہ ذیل سندھی اشعار پڑھتے:
اج نہ اوطاقن م طالب تنوارین
آدیسی اتھی ویامڑھیوں مون مارین
جیکی جیٔ کی جیارین سی لاھوتی لڈی ویا
اورفرماتے تم لوگ میرے زیادہ مہمان آنے کی وجہ سے کبیدہ خاطر نہ ہواکرو، جب میں دنیا سے چلاگیا توتمہیں کوئی پہچانے گا بھی نہیں اور مندرجہ ذیل سندھی اشعار پڑھتے:
ویامور مری ہنج نہ رھیو ھیکڑو
انھن اوطاقن تی ویٹھا اول چڑھی
وطن تھیووری کوڑن کانگیرن جو
nناناحافظ احمد ابڑوa،اپنی اہلیہ کے ہمراہ حج پر جانے کی تیاری کرچکے تھے پاسپورٹ بنالیاتھا بلکہ جہاز میں سیٹیں بھی کنفرم کروالی تھیں، روانگی سے تین روز قبل ان کی صاحبزادی انتقال کرگئیں ،ان کی فو ت ہونے والی صاحبزادی کی نومولود، بالکل ہی چھوٹی ،دودھ پیتی بچی تھی لہذا اس کی پرورش کی ذمہ داری ناناحافظ احمد ابڑو اور نانی پرآپڑی، اس بناء پروہ حج پر نہیں جاسکے اور انہوں نےاپنی نواسی کی پرورش، تعلیم وتربیت کاحق اداکردیا،اور خصوصی دلچسپی سے اس کو قرآن پاک حفظ کرایا۔آج وہ حافظِ قرآن ہے اور اہل علاقہ کی بچیوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتی ہے ،ان شاءاللہ اس کا ایک ایک حرفِ قرآن پڑھنا اور پڑھانا ،نانا aکیلئے صدقہ جاریہ ہے۔ آخر میں اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میرے ناناaکی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے ان کی تمام نیکیوں کو شرفِ قبولیت بخشے۔
اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ.

About بلال احمد ابڑو مانجھند

جواب دیجئے