Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اپریل » قسط 190 بدیع التفاسیر

قسط 190 بدیع التفاسیر

قسط 190

ساتویں فصل
ان خاص اصطلاحات کابیان
جن کاذکر تفسیر قرآن میں آنے کی توقع ہے
علامہ سید شریف علی بن محمد الجرجانی نے اپنی کتاب ’’التعریفات‘‘ میں عام مستعمل ہونے والی اصطلاحات کوحروف تہجی یعنی الف بائی ترتیب سےجمع کیا ہےان میں سے خاص اور ضروری استعمال ہونےوالے الفاظ کویہاں درج کیاجاتاہے،حسبِ ضرورت بعض الفاظ کو سمجھانے کیلئے مزید توضیح بھی ہوگی نیز ضرورت پیش آنے پر دیگر کتب سے بھی مدد لی جائے گی۔واللہ الموفق.
الابد:ایسی لمبی مدت جس کااختتام وہم وگمان میں نہ ہو۔
الاباضیۃ: عبداللہ بن اباض نامی شخص کی طرف منسوب ایک فرقہ جو اپنے تمام مخالفین کو کافر کہتا ہے۔خواہ اہل قبلہ ہی کیوں نہ ہوں، مرتکب کبیرہ کوموحد غیرمؤمن کہتا ہے علیtاور ان کے اکثر ساتھیوں کو کافر قرار دیتاہے۔
الاباحۃ: کسی کام کرنے کی عام رخصت کہ جو چاہے کرے۔
الاتقان: علتوں کے ساتھ دلائل کی معرفت اور تمام قواعد کو یاد رکھنا خواہ وہ کلی ہوں یاجزوی،نیز کسی چیز کےبارے میں بالیقین علم کو بھی کہاجاتاہے۔
الاثر: کسی چیز سے حاصل شدہ نتیجہ ،علامت اور جزء۔
الاثبات: کسی چیز کے بارے میں کوئی حکم ثابت کرنا۔
الاجماع: لغۃً بمعنی عزم اور اتفاق۔
اصطلاحاً: کسی زمانے کے تمام مجتہدین کا کسی دینی مسئلہ کے بارے میں متفق ہونا۔نیز اس سےجماعت کے بڑوں(رؤساء، نیک مردوں) کا کسی دینی مسئلہ کے بارے میں پختہ ارادہ وعزم بھی مراد ہوتاہے۔
فائدہ: کسی ایک مجتہد کے اختلاف سے اجماع منعقد نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اسے اجماع سمجھاجائےگا، جیسا کہ کتب اصول میں مندرج ہے۔
الاجتہاد: لغوی طور پر قوت کے استعمال کوکہتے ہیں یعنی کوشش۔
اصطلاحاً:شرعی دلائل سےمسائل کے استخراج کے لئے کسی عالم کا اپنی علمی وسعت وطاقت کو استعمال کرنا، مراد ہوتاہے ۔
اجزاء الشعر: یعنی شعر کے مختلف اجزاء جن سے ملکر شعرتیار ہوتا ہے، ایسے آٹھ جزء ہوتے ہیں:1فاعلن2فعولن3مفاعیلن 4مستفعلن 5فاعلاتن 6مفعولات 7مفاعلتن 8متفاعلن.جیسا کہ فن عروض کی کتب میں مذکور ہے۔
الاجمال: ایسا مبہم کلام جس میں کئی باتوں کااحتمال ہو۔
الاحتیاط:کسی غلط یاگناہ والےکام سے اپنےآپ کو بچانا۔
الاحساس: کسی چیزکو حواس خمسہ(سننا، دیکھنا، چکھنا، سونگھنا، اور چھونا) میں سے کسی حس کے ذریعے معلوم کرنا۔
الاحتمال: کسی چیز کے دواطراف کا ذہن میں آنا اور کسی ایک کامقرر نہ ہونا بلکہ ترددوشک میں رہنا۔
الادغام: پہلے حرف کادوسرے میں داخل ہوکر اس سے مل جانا، پہلے کومدغم اور دوسرے کو مدغم فیہ کہاجاتاہے۔
الارسال فی الحدیث: کسی راوی کا سند کو ذکر نہ کرنا بلکہ بلاواسطہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرنا، ایسی روایت ضعیف شمار ہوتی ہے، اس کامزید بیان مرسل میں ہوگا۔
الازل: گذشتہ زمانہ میں ایسی دائمی مدت جس کی ابتداء (شروعات) نہ ہو اور ایسا وجود جس کا پہلے کوئی عدم (موجود نہ ہونا) نہ ہواسے ازلی کہاجاتاہے۔
الازارقۃ: ناقع بن ازرق کی جماعت جوعلیtکو فیصلہ کیلئے حکم مقرر کرنے کی وجہ سے کافر قراردیتے ہیں جبکہ آپtکے قاتل ابن ملجم یہودی کو برحق سمجھتے ہیں، اسی طرح جن صحابہ کرام نے فیصلہ صادر فرمایاانہیں ابدی جہنمی کہتے ہیں۔ نعوذباللہ من ذالک .
الاستدلال: کسی دلیل سے مدعیٰ اور مدلول ثابت کرنے کیلئے تقریر یابیان، پھر اگر علت کے ذریعہ سے معلول کاعلم ہوتواسے لِمّی یا پھر معلول سے علت معلوم ہوتی ہو تو اسے اِنّی کہتےہیں، لِمّی کی مثال جیسے سورج کو دیکھ کر دن کامعلوم ہونا کیونکہ دن ہونے کی علت اور سبب سورج کا طلوع ہونا ہے، اِنّی کی مثال جیسے کسی جگہ دھواں دیکھ کر آگ کا وجود سمجھنا کیونکہ دھویں کی علت یا سبب آگ ہے۔
الاستئناف: ایسا کلام جو ذہن میں پیداہونے والے سوال کے جواب میں ہو۔
الاستطراد: سیاق کلام اس طرز پر ہو کہ اس سے ایسا ہی دوسرا کلام لازم آتاہوجوکہ مقصود بالذات نہ ہو۔
الاستفہام:مخاطب سے اس کے مافی الضمیر کی معلومات کے لئے طلب کرنا۔
الاستحسان: کسی مجتہد کا کسی عمل کواچھاقراردینا،یہ اصطلاح فقہاء حنفیہ ومالکیہ اپنی کتب میں بکثرت استعمال کرتے ہیں،مگریہ کوئی شرعی دلیل نہیں ہے کیونکہ ایک مجتہد کسی عمل کواچھا قراردیتا ہے تو دوسرا مجتہد اسی عمل کوقبیح قرار دیتا ہے۔یہ ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا موجودہ مذاہب اربعہ کی فقہی کتب اس بات پر گواہ ہیں۔اس طرح کوئی بھی صحیح موقف قائم نہیں ہوگابلکہ یہ دین کے ساتھ استہزاء اور اسے کھلونا بنانے کے مترادف ہے اسی لئے امام شافعیaنے اپنے رسالہ میں استحسان کو اپنی طرف سے شریعت سازی کے برابر قرار دیا ہے۔
امام ابن حزم نے الاحکام فی اصول الاحکام باب 35 صفحہ 757 تا792میں خوب تحقیق کےساتھ اس کا رد کیا ہے، اسی طرح امام شوکانی نے ارشاد الفحول ،ص:241میں اسے غلط ثابت کیاہے، نیز امام شافعی نے اپنی مایہ ناز کتاب الام 267/7میں مستقل عنوان بنام کتاب ابطال الاستحسان قائم کیااور مکمل دس صفحات پر محیط بحث میں استحسان کوقرآن وحدیث اور معقول کےساتھ باطل ثابت کیا ہے، ان شاءاللہ تفسیر میں جابجااس مسئلہ کی وضاحت ہوتی رہے گی۔ خصوصاًآیت :[فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ ] (النساء:۵۹) کے تحت دیکھنا چاہئے۔
الاستدراج:اللہ تعالیٰ کا کسی مجرم کو آنے والے عذاب تک مہلت دیکر اسے نعمتوں سے نوازنا اور اس کے ہاتھوں بعض خرق عادت کام کروانااور اسے مقبول الحاجۃ بنانا۔
الاستعارہ: تشبیہ میں اس قدر مبالغہ کرنا کہ وہ حقیقت معلوم ہونے لگے اور تشبیہ کاذکر ہی نہ ہو،مثلاً: کسی کا یہ کہنا کہ میں نےآج شیرکودیکھاشیر سے اس کی مراد کوئی خاص پہلوان(بہادر) شخص ہو۔
الاستدراک: گذشتہ کلام میں پیداہونے والے وہم کو دور کرنا۔
الاستعداد: کسی چیز کا اپنی قوت سے کسی فعل کی طرف آگے بڑھنا پھر وہ قوت قریب ہو، جلدی حاصل ہویا دور(دیر) سے حاصل ہو۔
الاستصحاب:کسی بھی حکم کو اپنی حالت پر برقرار رکھنا کیونکہ اسے بدلنے کاکوئی سبب نہیں ہے۔
الاستنباط: لغت میں چشمے سے پانی نکالنے کوکہتے ہیں۔
اصطلاحاً:اس سے مراد اپنے تیزذہن اور انتھک جستجو سے نصوص شرعیہ سے معانی ومسائل کااستخراج کرناہے۔
الاسناد: ایک جزء کو دوسرے جزء کی طرف منسوب کرنا قطع نظر اس سے کہ اس نسبت سے سامع کو کوئی فائدہ حاصل ہو یا نہ ہو،علماء نحو کے نزدیک اس سے مراد دوکلموں کوآپس میں اس انداز میں ملانا ہے کہ سامع کو اس سے کوئی فائدہ حاصل ہو،نیزمحدثین کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث بیان کرتے وقت اپنےا ستاذ(شیخ) سے نقل کرنا اور ان کا پھر اپنے استاذ سے روایت نقل کرنا،مثلاً: حدثنا فلان عن فلان اور یہ سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک جاپہنچتا ہے یا اس صحابی تک جس کاقول یااثر روایت کیاجائے۔
الاستثناء: کسی ایسے لفظ سے جس میں کئی احکامات داخل ہوں، ایک حکم کو باہرنکالنا(خارج کرنا) اس شرط کے ساتھ کہ اگرا سے خارج نہ کیا جاتا تو وہ بھی اس حکم میں داخل سمجھاجاتا۔
الاستغراق: کسی لفظ کو اپنے تمام افراد کےساتھ اس طرح شامل کرنا کہ ان میں سے کوئی فرد بھی خارج تصور نہ کیاجائے۔
الاسم: وہ لفظ جو فی نفسہ اپنا معنی بتائے اور اس میں تین زمانوں :ماضی، حال اور مستقبل سے کوئی زمانہ مذکور نہ ہو اگر وہ بذات خود قائم ہوتو اسم عین ورنہ اسے اسم معنی کہاجاتاہے،اور اسم اعظم سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ نام ہے جو اس کے تمام اسماء وصفات کے لئے جامع ہواور جس اسم کے آخر میں الف مفرد ہو اسے اسم مقصورہ کہاجاتاہے جیسے :حبلیٰ، اگر اس کے آخر میں الف اور ہمزہ ہو تو وہ اسم ممدودہ ہوگا ،جیسے: بلاءً، فناءٌ وغیرہ ۔ اور جس کے آخر میں’’ی‘‘ ماقبل مکسور ہو اسے اسم منقوص کہتےہیں، کام کرنے والے کو ظاہر کرے تو اسم فاعل اور جس پر فعل واقع ہو وہ اسم مفعول ،فعل کے وقت کو اسم زمان اور فعل کی جگہ کو اسم مکان ،اور جس کے ذریعہ سے فعل سرانجام دیاجائے اسے اسم آلہ کہاجاتاہے، جس لفظ کے ساتھ اشارہ کیاجائے اسے اسم اشارہ کہتے ہیں، اور جن اسموں میں امر یا ماضی کا معنی ہومثلاً: روید زیدا یعنی امھلہ (یعنی زید کو چھوڑ دو) ھیھات الامریعنی بعد (یہ بات بہت دور ہے) ایسے اسموں کو اسماء الافعال کہتے ہیں، جن اسماء کے ساتھ گنتی یا شمار کیاجائے وہ اسماء العدد کہلاتے ہیں۔
الاسواریہ:اسواری کے متبعین جن کے عقائد فرقہ نظامیہ جیسے ہیں جن کاذکرآگے آرہاہے، ان کامزید کہناہےکہ اللہ تعالیٰ کو جس چیز کے معصوم ہونے کاعلم ہے یا جس کی معصومیت کی اس نے خبر دی ہے اس پر وہ (اللہ تعالیٰ) قدرت نہیں رکھتا۔
الاسکافیہ: ابوجعفر اسکاف کے پیروکار جن کاکہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجنونوں یا بچوں پر توظلم کرسکتا ہے مگرعقلمندوں پرظلم کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
الاسحاقیہ: اس فرقے والے فرقہ نصیریہ کی طرح کہتےہیں کہ اللہ تعالیٰ، علیtکے وجود میں داخل ہے۔
الاسماعیلیہ: یہ لوگ اسماعیل بن جعفر صادق کو امام مانتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نہ وہ موجود ہے اور نہ معدوم، نہ عالم نہ جاہل نہ قادر اور نہ ہی عاجز ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے بارے میں یہ متضاد عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہیں بھی اور نہیں بھی۔
نیز غیاث اللغات ،ص:۳۲میں فرقہ اسماعیلیہ کے بارے میں مرقوم ہے کہ:
نام طائفہ گمراہ کہ آلت اسپ را پرستش میکنند لطائف.
(جاری ہے)

About شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

جمعیت اہل حدیث سندھ کے بانی ومئوسس شیخ العرب والعجم سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ہیں جوکہ اپنے دور کے راسخین فی العلم علماء میں سے تھے بلکہ ان کے سرخیل تھے۔

صوبہ سندھ میں موجود فتنوں ،فرقوں ،ضلالتوں،تقلیدجامد اور ان کی نشاطات کو دیکھتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس صوبہ کو اپنی دعوتی واصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بنالیاتھا۔

Check Also

بدیع التفاسیر قسط 198

المنفصلہ:جس میں دو قضیوں پرآپس میں منافات کاحکم لگایا جائے اگرصدق وکذب دونوں میں منافات کاحکم …

جواب دیجئے