Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اپریل » ماہِ رجب کی رسومات کی حقیقت اور بدعات

ماہِ رجب کی رسومات کی حقیقت اور بدعات

ماہِ رجب کی رسومات وغیرہ: اکثر مسلمان ماہِ رجب میں کئی کام ایسے کرتے ہیں جن کا اہتمام ان کے نزدیک فرائض سے بھی زیادہ ضروری ہےاور اس کی وجہ من گھڑت فضیلتیں ہیں جو اہل بدعت بیان کرتے ہیں،مثلاً: ماہِ رجب کے جمعرات ،جمعہ اور ہفتہ کے تین روزے رکھنا، جمعہ کی رات مغرب سے عشاء تک مخصوص انداز میں 12رکعات نمازپڑھنا، رجب کے پہلے جمعہ کی شب کو’’صلاۃ الرغائب‘‘ پڑھنا، کثرت سے نفلی روزوں کا اہتمام کرنا، اجروثواب کی زیادتی کی نیت سے اسی ماہ میں زکوٰۃ دینا، ۲۲رجب کوکونڈوں کی رسم ادا کرنا، ۲۷رجب کی شب کو’’شب معراج‘‘ کی وجہ سے خصوصی عبادات کرنا جبکہ یہ واقعہ ماہِ رجب میں ہوا ہی نہیں اور اس میں مورخین کابہت اختلاف ہے۔(فتح القدیر)مساجد پرچراغاں کرنا اور تقریبات ومحافل کاانعقاد کرنا، ۲۷رجب کا روزہ رکھنا، جلسے وجلوس کا اہتمام کرنا،آتش بازی، چراغاں وغیرہ کرنا، یہ سب امور غیر شرعی ہیں۔یہ چیزیں نہ رسول اکرم صلی االلہ علیہ وسلم ،نہ صحابہyاور نہ ہی قرون اولیٰ کے ادوار میں ہوئیں اور چونکہ یہ دین میں بعد کی ایجادات ہیں لہذا یہ سب بدعات ہیں۔
رجب کے کونڈوں کی حقیقت: ۲۲رجب کوامام جعفر صادقaکا دن منانے کے حوالے سے کونڈے کیے جاتے ہیں۔ حالانکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ امام جعفرaنہ تو اس دن پیداہوئے اور نہ ہی وفات پائی جبکہ ۲۲رجب سیدناامیرمعاویہtکی وفات کا دن ہے۔ سیدنا امیرمعاویہtصحابی رسول،کاتبِ وحی اور رسول اکرم صلی االلہ علیہ وسلم کی زوجہ ام حبیبہrکے حقیقی بھائی تھے۔ آپtکا سیدناعلی المرتضیٰtسے سیدنا عثمان غنیtکی شہادت کی وجہ سے قصاص کا مسئلہ رہا جس کی وجہ سے ایک طبقہ آپ کا شدید مخالف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ امیرمعاویہtکی وفات کے دن یعنی۲۲رجب کو یہ طبقہ خوشیاں مناتا تھا اور اس خاطر کہ اس کااظہار نہ ہو گھروں کے اندربند ہوکر حلوے مانڈے پکاتے اورکھاتے تھے جو انتہائی گھناؤنا جرم اور بدترین حرکت تھی۔ کسی صحابی کے غم پرخوشیاں منانا کتنا بڑا جرم ہے اس کے بارے میں رسول اکرم صلی االلہ علیہ وسلم کا کیاارشاد ہے،ملاحظہ فرمائیں:
’’جس نے میرے صحابہ پر شب وشتم کیا،(انہیں جرح وتنقید اور برائی کاہدف بنایا) تواس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔(المعجم الکبیر للطبرانی ۱۲؍۱۴۲)
کونڈوں کی یہ رسم بعد میں عام مسلمانوں میں کس طرح پھیلی: ہوایوں کہ ۱۹۰۶ء میں ریاست رام پور میں امیرمینائی لکھنوی کے فرزند خورشید احمدمینائی نے ایک عجیب وغریب لکڑھارے کی کہانی چھپواکر رام پور کے مسلمانوں میں تقسیم کروادی اس کہانی کی کوئی سند نہیں ہے اور نہ ہی کسی مستند کتاب میں موجود ہے۔ اس جھوٹی داستان کانام ’’داستانِ عجیب‘‘ اور’’نیازنامہ‘‘ رکھاگیا۔ اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ ۲۲ رجب کو اگر کوئی شخص امام جعفرaکے نام کی کونڈوں کی نیاز کرے گا تو اس کی ہرحاجت پوری ہوگی، اگر ایسا نہ ہوتوقیامت کے دن وہ میرا(امام جعفر) کا دامن پکڑسکتاہے۔ معاذاللہ کوئی مسلمان ایسی بات نہیں کرسکتا یہ امام جعفر پر بہتان ہے کہ وہ شرک اور کفر کی تلقین کریں۔
لہذا اس سازش سے مسلمانوں کوآگاہ کیاجائے ۲۲رجب امام جعفرؒ کی پیدائش کادن نہیںہے بلکہ یہ صحابی رسول سیدناامیرمعاویہؓ کی وفات کادن ہے اور اس بدعت میں ہرگز شریک نہ ہوںاور نہ خود اس بدعت کے مرتکب ہوں۔
وماعلیناالاالبلاغ

About حافظ صہیب ثاقب

Check Also

ماہِ ذی الحج کی اہمیت

ذی الحج کامہینہ حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے۔ ماہِ ذی الحج میں …

جواب دیجئے