Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اپریل » مِنْ "دُوْنِ اللہِ‘‘ کاصحیح مفہوم قسط ٣

مِنْ "دُوْنِ اللہِ‘‘ کاصحیح مفہوم قسط ٣

 قسط:3

تیسری دلیل:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ۝۰ۚ] ’’انہوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا اور مسیح ابن مریم کو‘‘(التوبۃ:۳۱،ترجمہ از احمد رضاخان صاحب)
احمد سعید کاظمی ملتانی صاحب نے ترجمہ ان الفاظ میں کیا:
’’انہوں نے اپنے دینی پیشواؤں اور عبادت گزاروں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا اور مسیح ابن مریم کو بھی‘‘(البیان،ص:۳۰۷،مطبوع ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور)
۱: اس آیت کی تفسیر میں پیر کرم شاہ ازہری بھیروی صاحب نے لکھا:
’’احبار جمع ہے حبر کی…..اس کا معنی ہے جید عالم جو بڑی عمدگی اور سلیقہ سے بات کر سکے….رھبان راہب کی جمع ہے جو رہبۃ بمعنی خوف سے ماخوذ ہے۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ کے خوف سے اپنی ساری زندگی اس کی عبادت کے لئے وقف کردیتے ہیں‘‘
(ضیاء القرآن ۲؍۱۹۸،نیز دیکھئے تفسیر نعیمی ۱۰؍۲۴۵)
۲: ان کے حکیم الامت احمدیارخان نعیمی صاحب نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا:
’’حضرت مسیح کو عیسائی خدا کی مثل یعنی خدا کا بیٹا مانتے ہیں اور ظاہر ہے کہ رب کابیٹا بھی رب ہوگا، اس لئے یہ الزام ان پر درست ہے، یوں سمجھوکہ وہ لوگ اپنے پوپ وپادریوں کو عملاً رب سمجھتے کہ ان کے ساتھ رب کا سامعاملہ کرتے تھے اور عیسیٰuکو اعتقاداً اپنا رب مانتے تھے…. وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــہًا وَّاحِدًا۝۰ۚ اس فرمان عالیشان میں ان دونوں قوموں پر عتاب کااظہار ہے، یعنی تورات وانجیل اور تمام آسمانی کتابوں میں ان لوگوں کو یہ ہی حکم کیا گیا تھا کہ وہ ایک اللہ ہی کی عبادت کریں۔ انہوں نے اللہ کے مقابل دوسروں کو حرام وحلال کرنے کا مالک مان کر انہیں سجدے کرکے ان سے اپنے گناہ بخشوا کر ان کی عبادت کی، یعنی دلی اور اعتقادی عبادت لہذا انہوں نے ساری آسمانی کتابوں کی مخالفت کی لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝۰ۭ اس فرمان عالی میں واقعیت کا ذکر ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا واقعۃً کوئی لائق عبادت نہیں ہر قسم کی عبادت اسی کو لائق ہے، اعتقادی عبادت ہو یا بدنی یا مالی۔ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۝۳۱ اس فرمان عالی میں یہود ونصاریٰ کو صراحۃً مشرک فرمایاگیا ہے اور ان کے مذکورہ عقیدوں کو شرک قرار دیاگیا۔‘‘(تفسیر نعیمی ۱۰؍۲۴۶)
مفتی صاحب نے شاید انجانے میں یہاں یہ بھی تسلیم کرلیا کہ احبار رہبان کو سجدے کرے،یہود ونصاریٰ نے اپنے علماء کی عبادت کی، تو آج جو لوگ اونچی قبروں کو اپنے سجدوں سےر ونق بخشے ہوتے ہیں، وہ ان اونچی قبروں کی عبادت کرنے والے’’عباد القبور‘‘ کیوں نہیں۔
یہ بھی لکھا ہے:
’’دون کے بہت معنی ہیں:دور،الگ،مقابل، کٹاہوا‘‘ سواء یہاں یاتو بمعنی مقابل ہے یا سواء‘‘(ایضا)
مفتی نعیمی صاحب کا یہ تسلیم کرنا کہ اس آیت میں ’’دون‘‘ سوا کے معنی میں ہے، اس بات کا اعتراف ہے کہ اس آیت میں سیدناعیسیٰ u، دینی پیشواؤںاور عبادت گزاروں کو ’’من دون اللہ‘‘ یعنی ’’اللہ کے سوا‘‘ہی قرار دیا گیا اور یہود کے ساتھ ساتھ نصاریٰ نے سیدناعیسیٰuاور اپنے نیک لوگوں کے ساتھ جو معاملہ اختیار کیا ہواتھا اسے شرک قرار دیا گیا۔ اگر وہ’’من دون اللہ‘‘ نہ ہوتے تو یہ معاملہ شرک کیوں ہوتا؟
چوتھی دلیل:اللہ تعالیٰ کا فرمان:
[قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَۃٍ سَوَاۗءٍؚبَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ وَلَا نُشْرِكَ بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۝۶۴] ’’تم فرماؤ اے کتابیوایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں ہے یہ کہ عبادت نہ کریں مگر خدا کی اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں اور ہم میں سےکوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنالے اللہ کے سوا پھر اگر وہ مانیں تو کہہ دو تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں‘‘
(آل عمران :۶۴،ترجمہ از احمد رضا خان صاحب)
۱: نعیم الدین مرادآبادی صاحب نے’’اس کاشریک نہ کریں‘‘ اور ’’ایک دوسرے کو رب نہ بنالے‘‘ کی تفیسر میں لکھا:
’’نہ حضرت عیسیٰ کو نہ حضرت عزیر کو نہ اور کسی کو‘‘،’’ جیساکہ یہود ونصاریٰ نے احبار ورھبان کو بنایا کہ انہیں سجدے کرتے اور ان کی عبادت کرتے‘‘(خزائن العرفان)
۲: ان کے حکیم الامت گجراتی صاحب نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا:
’’خلاصہ یہ ہے کہ ہم رب کے سوا کسی کو نہ پوجیں اولیاء سب کو اللہ کا بندہ سمجھیں ان میں سے کسی کو معبود نہ بنالیں او کسی کو خدا کا شریک نہ سمجھیں نہ بتوں کو نہ چاند سورج کو نہ صلیب کو نہ کسی اور کو نیز کوئی کسی کوخدا کے سوا اپنا رب اور احکام کامالک نہ بنائے۔ علماء صلحاء سب کو دین کا پیروکار سمجھیں‘‘
(تفسیر نعیمی ۳؍۵۰۱)
۳: ان کے علامہ غلام رسول سعیدی صاحب نے اس آیت کی تفسیر میںلکھا:
’’امام واحدی متوفی ۴۵۸ھ نے….لکھا ہے کہ ہم میں سے کوئی اللہ کوچھوڑ کر دوسرے کو رب نہ بنائے، اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباسwنے فرمایا جیسے نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ کو رب بنایا اور بنواسرائیل نے عزیر کو رب بنایا۔(الوسیط ۱؍۴۴۷)‘‘
(تبیان القرآن ۲؍۱۹۲)
اسی طرح سعیدی صاحب نے لکھا:
’’(۳) اللہ کو چھوڑ کر کسی کو رب نہ مانیں سوا نہوں نے اپنے علماء اور راہبوں کو رب مان لیا یعنی ان کے ساتھ رب کامعاملہ کیا، کیونکہ وہ چیزوں کوحلال اور حرام قرار دینے میں ان کی اطاعت کرتے تھے، نیز وہ اپنے راہبوں کو سجدہ کرتے تھے، اور یہ کہتے تھے جو راہب زیادہ مجاہدہ کرتا ہے اس میں لاہوت کااثرحلول کرجاتا ہے اور وہ مردوں کو زندہ کرنے اور مادرزاداندھوں کو بینا کرنے پر قادر ہوجاتاہے۔‘‘
(حوالہ بالا،ص:۱۹۳)
قارئین کرام!دیکھ لیجئے،خود نعیمی گجراتی صاحب نے اس مقام پر تمام انبیاء oاور اولیاء کرام کو’’رب کے سوا‘‘ تسلیم کیا ہے۔ اسی کو قرآن مجید کے الفاظ میں’’من دون اللہ‘‘یعنی’’اللہ کے سوا‘‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اس حقیقت کو مانتے نظرنہیں آتے۔ اسی طرح سعیدی صاحب نے بھی اپنی تفسیر میں نام لے کر سیدناعیسیٰ وسیدنا عزیر iکو’’من دون اللہ‘‘میں شامل رکھااور علماء وراہبوں کوبھی، لیکن دوسری طرف انکار بھی کرتے ہیں۔ المختصر کہ اس آیت کی بریلوی تفاسیر سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ تمام مخلوق خواہ وہ انبیاء oجیسی باعظمت شخصیات ہی کیوں نہ ہوں،’’من دون اللہ‘‘یعنی اللہ کے علاوہ ہی ہیں۔
پانچویں دلیل:اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
[اَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ يَّــتَّخِذُوْا عِبَادِيْ مِنْ دُوْنِيْٓ اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۭ اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَہَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ نُزُلًا۝۱۰۲ ] ’’تو کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی بنالیں گے بے شک ہم نے کافروں کی مہمانی کوجہنم تیارکررکھی ہے‘‘
(الکہف:۱۰۲،ترجمہ از احمدرضاخان صاحب)
۱:’’عبادی‘‘’’میرے بندوں‘‘ کی تفسیر میںمرادآبادی صاحب نے لکھا:
’’مثل حضرت عیسیٰ وحضرت عزیروملائکہ کے‘‘
’’اور’’میرے سوا حمایتی بنالیں گے’’کی تفسیر میں لکھا:
’’اور اس سے کچھ نفع پائیں گے یہ گمان فاسد ہے بلکہ وہ بندے ان سے بیزار ہیں اور بے شک ہم ان کے اس شرک پر عذاب کریں گے‘‘
(خزائن العرفان)
بندوں کوکارساز بناناشرک ہے
الحمدللہ !مراد آبادی صاحب ایسے کٹر بریلوی کو بھی اعتراف کرنا پڑگیا کہ بندوں کوکارساز بناڈالنا شرک ہے، خواہ وہ نیک بندے ہی کیوں نہ ہوں۔
۲: ابوالحسنات قادری صاحب نےاس آیت کی تفسیرمیں لکھا:
’’یعنی بطور استفہام انکاری فرمایا کہ کیا یہ کافر یہ سمجھ رہے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپناولی وکارساز وحاجت روابنالینا ان کے لئے کافی ہے۔ حالانکہ میرے بندوں سے حاجت روائی کی دعاکرانا بھی جب ہی فائدہ مند ہوسکتاہے جب میری رضاہو ورنہ وہ بھی دعا نہیں کرسکتے… بلکہ حقیقتاً اگر دیکھا جائے تو وہ خود میری عطاکے محتاج ہیں۔ ان کا مقرب وبرگزیدہ ہوناتمہارے حق میں اتنا ہی فائدہ مند ہے کہ وہ مستجاب الدعوات ہیں جیسے عیسیٰ وموسیٰ ودیگر انبیاء کرام oاور اولیاء عظام لیکن انہیں مستقل بالذات بلارضاالٰہی کارساز ماننا یہ جہالت خالص ہے ایسے خیال والوں کے لئے ہمارے یہاں جہنم کی مہمانی ہے۔‘‘
( تفسیر الحسنات ۳؍۸۴۶)
قادری صاحب کی اس تفسیر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف ’’دعا کرانے‘‘ کی اجازت ثابت کرنا چاہتے تھے چونکہ انہوں نے خود نیک لوگوں سے حاجت روائی وکارسازی کے بجائے اس کے لئے دعا ان سے دعا کرانے کی بات کی۔
رہا مسئلہ مستقل بالذات وبالعطاء کاتوہم اپنی کتاب’’امت اور شرک کاخطرہ‘‘ میں الحمدللہ دلائل سے اس بات کا ثبوت فراہم کرچکے ہیں کہ زمانہ قدیم کے مشرکین بھی’’عطائی‘‘ قوت واختیارات کے مدعی تھے۔ دیکھئے ،ص:۶۹تا۷۱۔ پھر قادری صاحب نے یہ لکھا کہ’’ان کابرگزیدہ ہونا تمہارے حق میں اتنا ہی فائدہ مند ہے کہ وہ مستجاب الدعوات ہیں جیسے عیسیٰ وموسیٰ ودیگر انبیاء کرامoاور اولیاء عظام’’مطلب ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔’’ہی‘‘ کا لفظ قابل غور ہے۔ اس کے باوجود اگر یہ اولیاء کرام کوحاجت روا،کارساز، مشکل کشا اور فریادرس سمجھیں تو یہ اپنی ہی وضاحت وتفسیر سے انحراف کی واضح مثال ہوگی۔ الغرض کہ ’’عطائی‘‘ طور پر کارساز وحمایتی قرار دینے کی کوئی دلیل نہیں۔
۳: ان کے علامہ غلام رسول سعیدی صاحب نے ان آیات کی تفسیر میںلکھا:
’’میرے بندوں سے مراد ہیں ملائکہ، حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر، اور اس آیت کامعنی یہ ہے کہ کیا ان کاگمان ہے کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپناکارساز بنالیں گے اور میری عبادت کے بجائے ان کی عبادت کریں گے اور میں ان کو کوئی سزا نہیں دوں گا، یا ان کا یہ عمل ان کو نفع دے گا…ہم نے کافروں کی مہمانی کے لئے جہنم کوتیار کررکھاہے۔‘‘ (تبیان القرآن ۷؍۲۱۶)
مذکورہ بالاتینوں بریلوی اکابر اس بات پر متفق ہیں کہ’’عبادی‘‘ یعنی’’میرے بندوں‘‘ سےمراد سیدناعیسیٰ، سیدناعزیر اور ملائکہ ہیں۔ قرآن مجید کی آیت زیربحث میں ان کے لئے سبحانہ وتعالیٰ نے ’’من دونی‘‘ یعنی ’’میرے علاوہ‘‘ یا’’میرے سوا‘‘ کے الفاظ استعمال کیے اور جن لوگوں نے انبیاء oکو اپنا’’کارساز‘‘مطلب کام بنانے والااور کام
سنوارنے والاسمجھا اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب کی وعید سنائی۔اور انہیں ’’حمایتی یاکارساز‘‘ بنانے کو نعیم الدین صاحب مراد آبادی بھی غالباً انجانےمیں’’شرک‘‘ قرار دے کر اپنے ہی ایسے عقائد کاابطال فرماگئے۔
ذرا سوچئے! جن لوگوں نے انبیاءoایسی مقدس، مقرب وبرگزیدہ شخصیات کو’’کارساز‘‘بگڑی بنانے والے سمجھا انہیں تو اللہ نے عذاب کی وعید سنائی توکیا جوبابافرید، بابا علی ہجویری، بابا معین الدین چشتی وغیرھم کو اپنے ’’اولیاء ‘‘و’’کارساز‘‘ بگڑی بنانے والے سمجھیں تو اس کے لئے یہ وعید نہیں؟ انبیاء oکوکارساز بنانے والوں کے لئے تو وعید ہواور امتیوں میں سے صالحین کو’’کارساز‘‘بنانے والے کے لئے کوئی وعید نہ ہو؟ اور قرآن مجید کی نص سے انبیاءoتو’’اللہ کے سوا‘‘ ثابت ہوں گے مگرصاحبانِ مزارات نہ ہوںگے؟ یہ کیسی دینداری اور کیسا انصاف ہے؟ اور کیسی سوچ ہے؟ اللہ تعالیٰ ہی سمجھ عطافرمائے!

About ابوالاسجد محمد صدیق رضا

Check Also

لمھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

         :اتباع وتقلید میں فرق :دوسری اہم بات یہ ہے کہ مقلدین …

جواب دیجئے