Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ اکتوبر » الـقـول المـخـتــار فـي تحـقيـق حـديـث إعـادة الـوضـوء بـإسـبـال الإزار

الـقـول المـخـتــار فـي تحـقيـق حـديـث إعـادة الـوضـوء بـإسـبـال الإزار

فن حدیث سے تعلق رکھنے والے عام طالب علم سے بھی یہ بات مخفی نہیں ہے کہ اہل علم دلائل  کی بنیاد پر ہر زمانہ میں احادیث کی صحت وسقم کے بارےمیں اختلاف کرتے آ رہے ہیں اور دلائل کی بنیاد پر اہل علم سے اختلاف رکھنا معیوب نہیں ہے بشرطیکہ ادب واحترام کے دائرہ میں ہو۔

ایسے ہی اسبال ازار (شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے) کی وجہ سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں ۔۔۔؟؟؟

اس بارے میں فقیہ امت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وضوء ٹوٹنے کےمتعلق مروی حدیث کی صحت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ہمارے نزدیک یہ حدیث صحیح اور قابل حجت ہے ۔

اس حدیث کی مکمل سنداور تحقیق  پیش خدمت ہے ۔

قَالَ الْإِمَامُ أَبُوْدَاوُدَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيٰى عَنْ أَبِى جَعْفَرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّى مُسْبِلاً إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ» فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ ثُمَّ قَالَ «اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ» فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنَّ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ ؟ قَالَ «إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّى وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ ذِكْرُهُ لاَ يَقْبَلُ صَلاَةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ ».

سیدنا ابویریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ایک دفعہ ایک شخص نماز پڑرہا تھا اور وہ اپنا تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے تھا رسول اللہ ﷺ نے (دیکھا تو) اسے فرمایا : ’’جاؤ اور وضوء کرکے آؤ۔‘‘ چنانچہ وہ گیا اور وضوء کرکے آیا ۔ آپﷺ نے اسے دوبارہ فرمایا : ’’ جاؤ اور وضوء کرکے آؤ۔‘‘ چنانچہ وہ گیا اور وضوء کرکے آیا ۔ تو ایک آدمی نے آپﷺ سے کہا : اے اللہ کے رسول! کس وجہ سے آپ نے اسے وضوء کرنے کا حکم دیا پھر آپ اس سے خاموش رہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا : ’’ یہ شخص اپنا تہ بند لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالی ایسے بندے کی نماز قبول نہیں کرتا جو اپنا تہ بند لٹکا کر نماز پڑھ رہا ہو۔‘‘

(ابوداود برقم 638 طبع دارالسلام مسند احمد برقم 16628 طبع الرسالة السن الكبرى للبيهقى برقم 3304۱۵۷ طبع دارالحديث القاهرة مسند البزار برقم 8762 طبع مكتبة العلوم والحكم بالمدينة المنورة السنن الكبرى للنسائى برقم 9623طبع الرسالة بيروت مسند الحارث برقم 138 مطبع المدينة المنورة)

سند کے روای کا تعارف:  اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں انکا مختصر تعارف پیش خدمت ہے:

[۱]موسی بن اسماعیل ابوسلمہ البصری ۔ یہ صحیحین (بخاری،مسلم) کے راوی ہیں انکے متعلق :

٭ امام الجرح والتعدیل ابوزکریا یحیی بن معین المتوفی (۲۳۳ھ) فرماتے ہیں :

ثِقَةٌ مَأْمُوْنٌ (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۸/۱۵۷ وسندہ صحیح طبع دارالکتب العلمیہ بیروت)

٭ امام ابوالولید ہشام بن عبدالملک الطیالسی المتوفی (۲۲۷ھ) فرماتے ہیں:

ثِقَةٌ صَدُوْقٌ (المصدرالسابق ۸/۱۵۷وسندہ صحیح)

٭ امام ابو حاتم محمد بن ادریس بن منذر الرازی المتوفی (۲۷۷ھ) فرماتے ہیں:

ثِقَةٌ (حوالہ مذکورہ)

٭امام ابوالحسن احمدبن عبداللہ بن صالح العجلی المتوفی (۲۶۱ھ) فرماتے ہیں:

بَصَرِيٌّ ثِقَةٌ (تاریخ الثقات برقم ۱۶۵۱طبع دارالباز مکہ المکرمہ)

٭امام ابو عبد الله محمد بن سعد بن منيع الهاشمي المتوفی(۲۳۰ھ) فرماتے ہیں:

كَانَ ثِقَةً كَثِيْرَ الْحَدَيْثِ (طبقات ابن سعد ۷/۲۲۲طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت)

٭ امام ابوحاتم محمد بن حبان البستی المتوفی(۳۵۴ھ)’’ ثقات‘‘ میں ذکر کرکے فرماتے ہیں:

 وَكَانَ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ متقی لوگوں میں سے تھے (کتاب الثقات لابن حبان ۹/۱۶۰طبع دارالفکر بیروت)

٭ امام ابوعبداللہ شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذہبی المتوفی(۷۴۸ھ)فرماتے ہیں :

اَلْحَافِظُ الْإِمَامُ الْحُجَّةُ شَيْخُ الْإِسْلَامِ (سیراعلام النبلاء ۱۰/۳۶۰ طبع الرسالہ بیروت)

٭ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی(۸۵۲ھ) فرماتے ہیں:

ثِقَةٌ ثَبْتٌ (تقریب التھذیب برقم ۶۹۴۳ طبع دارالرشید حلب)

[۲] ابان بن یزید العطار ۔ یہ بھی صحیحین (بخاری، مسلم) کے راوی ہیں انکے متعلق:

٭ امام الجرح والتعدیل ابوزکریا یحیی بن معین المتوفی (۲۳۳ھ) فرماتے ہیں :

ثِقَةٌ (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۲/۲۲۶وسندہ صحیح طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت)

٭ امام ابوعبداللہ احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی المتوفی (۲۴۱ھ) فرماتے ہیں:

ثَبْتٌ فِيْ كُلِّ الْمَشَايِخِ (المصدرالسابق۲/۲۲۶وسندہ صحیح)

٭امام ابوالحسن احمدبن عبداللہ بن صالح العجلی المتوفی (۲۶۱ھ) فرماتے ہیں:

بَصَرِيٌّ ثِقَةٌ (تاریخ الثقات برقم ۱۷طبع دارالباز مکہ المکرمہ)

٭ امام ابواحمد عبداللہ بن عدی الجرجانی المتوفی (۳۶۵ھ) فرماتے ہیں: وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ مُتَمَاسِكٌ يُكْتَبُ حَدِيْثُهُ وَلَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ عَن قَتادَة وَغَيْرِهِ وَعَامَّتُهَا مُسْتَقِيمَةٌ وَأَرْجُوْ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الصِّدْقِ.

(الکامل لابن عدی ۲/۷۳طبع دار الکتب العلميۃ بیروت)

٭ امام ابوحفص عمر بن احمد بن عثمان المعروف بابن شاہین المتوفی (۳۸۵ھ) نے ’’ثقہ ‘‘  قرار دیا ہے۔

دیکھئے (تاریخ اسماءالثقات لابن شاہین برقم ۷۸طبع دارالکتب العلمیة بیروت)

٭ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی(۸۵۲ھ) فرماتے ہیں:

ثِقَةٌ (تقریب التھذیب برقم ۱۴۳ طبع دارالرشید حلب)

[۳] یحیی بن ابی کثیرابونصر الطائی ۔ یہ بھی صحیحین کے راوی ہیں اور بالاتفاق ثقہ ہیں انکے متعلق :

٭ امام ایوب السختیانی المتوفی (۱۳۱ھ) فرماتے ہیں:

مَا بَقِيَ عَلٰى وَجْهِ الْأرْضِ مِثْلُ يَحْيَى بْنِ أَبِيْ كَثِيْرٍ

(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۹/۱۷۵وسندہ صحیح طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت)

٭ امام ابوعبداللہ احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی المتوفی (۲۴۱ھ) فرماتے ہیں:

يَحْيَى بْنُ أَبِيْ كَثِيْرٍ مِنْ أَثْبَتِ النَّاسِ إِنَّمَا يُعَدُّ مَعَ الزُّهْرِيِّ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيْدٍ وَإِذَا خَالَفَهُ الزُّهْرِيُّ فَالْقَوْلُ قَوْلُ يَحْيَى ابْنِ أَبِيْ كَثِيْرٍ.(المصدرالسابق۹/۱۷۵وسندہ صحیح)

٭ امام ابو حاتم محمد بن ادریس بن منذر الرازی المتوفی (۲۷۷ھ) فرماتے ہیں:

يَحْيَى بْنُ أَبِيْ كَثِيْرٍ إِمَامٌ لَا يُحَدِّثُ إِلَّا عَنْ ثِقَةٍ.

’’یحیی بن ابی کثیر امام ہیں وہ صرف ثقہ راویوں سے حدیث بیان کرتے ہیں‘‘(المصدرالسابق)

٭امام ابوالحسن احمدبن عبداللہ بن صالح العجلی المتوفی (۲۶۱ھ) فرماتے ہیں:

ثِقَةٌ حَسَنُ الْحَدِيْثِ يُكْنٰى أَبَا نَصْرٍ وَكَانَ يُعَدُّ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيْثِ(تاریخ الثقات برقم ۱۸۲۳طبع دارالباز مکہ المکرمہ)

٭ امام محمد بن حبان البستی المتوفی(۳۵۴ھ)رحمہ اللہ (کتاب الثقات ۷/۵۹۱طبع دارالفکر بیروت)اور

٭ امام ابوحفص عمر بن احمد بن عثمان المعروف بابن شاہین المتوفی (۳۸۵ھ) نے بھی ’’ثقہ ‘‘  قرار دیا ہے۔

دیکھئے ۔(تاریخ اسماءالثقات لابن شاہین برقم ۱۵۲۴طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت)

٭ امام ابوعبداللہ شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذہبی المتوفی(۷۴۸ھ)فرماتے ہیں :

الْإِمَامُ الْحَافِظُ الْحُجَّةُ أَحَدُ الْاَعْلاَمِ ….وَكَانَ طَلَّابَةً لِلْعِلْمِ حُجَّةً

دیکھئے ۔(سیراعلام النبلاء۶/۲۷طبع الرسالہ بیروت)

٭ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی(۸۵۲ھ) فرماتے ہیں:

ثِقَةٌ ثَبْتٌ(تقریب التھذیب برقم ۷۶۳۲طبع دارالرشید حلب)

[۴]ابوجعفر محمدبن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب الباقرالمدنی ۔

یہ بھی صحیحین (بخاری،مسلم)کے راوی ہیں اور بالاتفاق ثقہ ہیں انکے متعلق:

٭امام ابو عبد الله محمد بن سعد بن منيع الھاشمي المتوفی(۲۳۰ھ) فرماتے ہیں:

وَكَانَ ثِقَةً كَثِيرَ الْعِلْمِ وَالْحَدِيْثِ (طبقات ابن سعد ۵/۲۴۶طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت)

٭امام ابوالحسن احمدبن عبداللہ بن صالح العجلی المتوفی (۲۶۱ھ) فرماتے ہیں:

تَابِعِيٌّ ثِقَةٌ (تاریخ الثقات برقم ۱۴۸۶طبع دارالباز مکہ المکرمہ)

٭ امام محمد بن حبان البستی المتوفی(۳۵۴ھ)نے بھی ’’ثقہ‘‘  قرار دیا ہے دیکھئے۔

 (کتاب الثقات لابن حبان ۵/۳۴۸طبع دارالفکر بیروت)

٭ امام ابوعبداللہ شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذہبی المتوفی(۷۴۸ھ)فرماتے ہیں :

وَكَانَ أَحَدَ مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ وَالسُّؤْدَدِ وَالشَّرَفِ وَالثِّقَةِ وَالرَّزَانَةِ وَكَانَ أَهْلاً لِلْخِلَافَةِ ….. وَاتَّفَقَ الْحُفَّاظُ عَلَى الْإِحْتِجَاجِ بِأَبِيْ جَعْفَرٍ.

دیکھئے ۔ (سیراعلام النبلاء۴/۴۰۲‘۴۰۳طبع مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)

٭ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی(۸۵۲ھ) فرماتے ہیں:

ثِقَةٌ فَاضِلٌ (تقریب التھذیب برقم ۶۱۵۱طبع دارالرشید حلب)

[۵]عطاءبن یسار الہلالی۔ یہ بھی اعلی درجہ کے ثقہ اور صحیحین کے راوی ہیں انکے متعلق:

٭ امام ناقد ابوزکریا یحیی بن معین المتوفی (۲۳۳ھ) فرماتے ہیں :

ثِقَةٌ.(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۶/۴۳۸وسندہ صحیح طبع دارالکتب العلمیة بیروت)

٭ امام ابو زرعۃ عبیداللہ بن عبد الکریم بن فروخ الرازی المتوفی(۲۶۴ھ) فرماتے ہیں:

مَدِيْنِيٌّ ثِقَةٌ. (المصدرالسابق ۶/۴۳۸)

٭امام ابوالحسن احمدبن عبداللہ بن صالح العجلی المتوفی (۲۶۱ھ) فرماتے ہیں:

مَدَنِيٌّ تَابِعِيٌّ ثِقَةٌ.

(تاریخ الثقات برقم۱۱۳۵طبع دارالباز مکہ المکرمہ)

٭ امام محمد بن حبان البستی المتوفی(۳۵۴ھ)نے بھی ’’ثقہ‘‘  قرار دیا ہے دیکھئے۔

 (کتاب الثقات لابن حبان ۵/۱۹۹طبع دارالفکر بیروت)

٭ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی(۸۵۲ھ) فرماتے ہیں:

ثِقَةٌ فَاضِلٌ صَاحِبُ مَوَاعِظَ وَعِبَادَةٍ .

(تقریب التھذیب برقم ۴۶۰۵طبع دارالرشید حلب)

[۶]فقیہ امت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں۔ وَالصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عَدُوْلٌ.

حدیث اسبالِ ازار علماءومحدثین کی نظر میں:ہم سابقہ سطور میں یہ بات  واضح کرچکے ہیں کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور اسباب ضعف میں سے کوئی بھی سبب موجود نہیں ہے لہذا یہ حدیث صحیح اور قابل حجت ہے اسی وجہ علماءومحدثین کی ایک جماعت نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔

 ٭ امام ابو زکريا يحيٰ بن شرف النووي المتوفی (۶۷۶ھ) یہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ بِإِسْنَادٍ صَحِيْحٍ عَلٰى شَرْطِ مُسْلِمٍ.

(ریاض الصالحین مع بھجة الناظرین للشیخ سلیم بن عید الہلالی۲/۹۲برقم ۷۹۷طبع دارابن الجوزی الریاض)

٭ امام ابوعبداللہ شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذہبی المتوفی(۷۴۸ھ)فرماتے ہیں :

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَهُوَ عَلٰى شَرْطِ مُسْلِمٍ إِنْ شَآءَالله.

(کتاب الکبائر للذہبی ص ۸۸ طبع مکتبۃالمعارف الریاض)

٭ حافظ محمد بن مفلح  شمس الدين المقدسي  المتوفى(۷۶۳ھ) فرماتے ہیں:

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ بِإِسْنَادٍ صَحِيْحٍ.

(الآداب الشرعیہ والمنح المرعیہ۳/۵۴۶طبع عالم الکتب بیروت)

 ٭ حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی المتوفی (۸۰۷ھ) فرماتے ہیں:

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

(مجمع الزوائد ۵/۲۱۸برقم ۸۵۳۱ طبع دارالفکر بیروت)

٭ شیخ محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان التمیمی المتوفی (۱۲۰۶ھ) اسی روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:

وَلِأَبِيْ دَاوُدَ بِسَنَدٍ صَحِيْحٍ.

(مجموعۃ الحدیث علی ابواب الفقہ ۱/۱۱۶ مکتبہ شاملہ)

٭ علامہ شمس الحق عظیم آبادی المتوفی (۱۳۲۹ھ) فرماتے ہیں:

قُلْتُ : وَالْحَدِيْثَ سَنَدُهُ حَسَنٌ.

دیکھئے ۔(عون المعبودشرح سنن ابی داود۱۱/۹۷ طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت)

٭  محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَسَنَدُهُ حَسَنٌ لِذَاتِهِ وَأَخْطَأَ مَنْ ضَعَّفَهُ .

(مشکوۃ المصابیح بتحقیق المحدث الحافظ زبیر علی زئی ۱/۲۵۸طبع مکتبہ اسلامیہ لاہور)

نیز استاذی المکرم ماہر اسماءالرجال علامہ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ (شیخ الحدیث جامعہ امام بخاری سرگودھا)

اور محقق شہیر فضیلۃ الشیخ ابوظفیر حافظ محمد ندیم ظہیر حفظہ اللہ (مدیر ماہنامہ اشاعۃ الحدیث حضرو)کے نزدیک بھی یہ حدیث صحیح اور قابل حجت ہے۔

چند شبہات کا ازالہ:اب آتے ہیں ان شبہات کی طرف جن کی بنیاد پر اس حدیث کو ضعیف ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

شبہ (1):اس کی سند میں یحیی بن ابی کثیر مدلس ہیں اور صیغہ تمریض (عن)سے بیان کر رہے ہیں اور مدلس کی معنعن روایت بالاتفاق ضعیف ہوتی ہے۔

ازالہ: یحیی بن ابی کثیر کے ’’مدلس‘‘ ہونے کا انکار نہیں کیا جا سکتا انکے متعلق:

٭ امام محمد بن حبان البستی المتوفی(۳۵۴ھ)فرماتے ہیں:

وَكَانَ يُدَلِّسُ’’وہ تدلیس کرتے تھے‘‘ (کتاب الثقات ۷/۵۹۲طبع دارالفکر بیروت)

٭ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی(۸۵۲ھ) فرماتے ہیں:

ثِقَةٌ ثَبْتٌ لٰكِنَّهُ يُدَلِّسُ وَيُرْسِلُ’’ثقہ اور قابل حجت ہیں لیکن تدلیس اور ارسال کرتے تھے‘‘۔

(تقریب التھذیب برقم ۷۶۳۲طبع دارالرشید حلب)

٭ حافظ صلاح الدین خلیل بن کیلکدی العلائی المتوفی (۷۶۱ھ) فرماتے ہیں:

كَثِيْرُ التَّدْلِيْسِ وَهُوَ مُكْثِرٌ مِنَ الْإِرْسَالِ (جامع التحصیل برقم ۸۸۰ بتحقیق حمدی عبدالمجیدالسلفی)

٭ حافظ ابو الوفا سبط ابن العجمي المتوفی(۸۴۱ھ) فرماتے ہیں:

مَعْرُوْفٌ بِالتَّدْلِيْسِ (التبیین لاسماءالمدلسین برقم ۸۷ طبع دارالکتب العلمیہ بیروت)

٭ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی(۸۵۲ھ) فرماتے ہیں:

كَثِيْرُ الْإِرْسَالِ…..وَوَصَفَهُ النَّسَائِيُّ بِالتَّدْلِيْسِ

(تعریف اہل التقدیس ص۷۶ طبع دارالکتب العلمیہ بیروت)

مزید دیکھئے۔ (الفتح المبین  للمحدث الحافظ زبیر علی زئی ص۸۲طبع مکتبہ اسلامیہ لاہور)

البتہ حدیث زیر بحث میں یحیی بن ابی کثیر نے سماع کی صراحت کر رکھی ہے دیکھئے ۔

(مسند الحا رث برقم۱۳۸ مطبع مرکز خدمہ السنہ بالمدينہ المنورة ،اتحاف الخیرة المھرة ۲/۳۶ طبع دارالوطن بیروت)

اور ثقہ مدلس کی مصرح بالسماع روایت بالاتفاق مقبول ہےلہذا تدلیس کا شائبہ زائل ہوگیا۔

شبہ (2):اس کی سند میں ابوجعفر مؤذن مدنی ہے جوکہ مجہول الحال ہے ۔

ازالہ:ابوجعفر دو راوی ہیں (1)ابوجعفر باقر مدنی (2) ابوجعفر مؤذن مدنی اس حدیث میں ابوجعفر باقر ہے جس کی دو دلیلیں پیش خدمت ہیں ۔

[۱] اس حدیث میں ابوجعفر کے استاد عطاءبن یسار ہیں اور عطاء بن یسار کے شاگردوں میں ابوجعفر مؤذن کا ذکر نہیں ملتا جبکہ ابوجعفر باقر کا ذکر موجود ہے دیکھئے ۔

(تھذیب الکمال ۲۰/۱۲۶برقم ۳۹۴۶طبع الرسالہ بیروت )

[۲] اس حدیث کو حافظ ابوالحجاج یوسف بن عبدالرحمن المزی المتوفی (۷۴۲ھ) نے ’’تحفۃ الاشراف بمعرفۃ الأطراف‘‘ میں ابوجعفر مؤذن مدنی کی حدیثوں میں ذکر نہیں کیا بلکہ عطاءبن یسار کے شاگرد ابوجعفر باقر کی حدیثوں میں ذکر کیا ہے یعنی حافظ مزی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی ابوجعفر سے مراد باقر مدنی ہے ۔كَمَا لَايَخْفَىٰ عَلىٰ مَنْ يَّعْرِفُ مَنَاهِجَ كُتُبِ التَّخْرِيْجِ.

اور ابوجعفر باقر کتب ستہ کے راوی ہیں اور بالاتفاق ثقہ ہیں۔

شبہ (3): اس حدیث میں ابوجعفر سےمحمد بن علی بن حسین باقر مراد لینا درست نہیں ہے کیونکہ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی(۸۵۲ھ) فرماتے ہیں:

وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ فَقَدَ وَهِمَ .

’’جس نے کہا کہ یہ محمد بن علی بن حسین ہے اس کو وہم ہوا ہے‘‘

(تقریب التھذیب برقم ۸۰۱۷ )

لہذا ابوجعفر سے مراد مؤذن مدنی ہے جوکہ مجہول الحال ہے ۔

ازالہ:حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے اس تبصرے کا  سند میں راوی کے تعین سے کوئی تعلق نہیں ہے حافظ ابن حجر نے وہم کی نسبت اس شخص کی طرف کی ہے جو ابوجعفر مؤذن اور باقر کو ایک ہی شخصیت شمار کرتا ہے جبکہ یہ دو الگ شخصیات ہیں ۔ مزید دیکھئے (تھذیب التھذیب ۱۲/۴۸ برقم۸۳۴۶ طبع دارالکتب العلمیہ بیروت)

اور اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ حدیث اسبالِ ازار میں ابوجعفر مؤذن مدنی ہے پھر بھی حدیث کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ ابوجعفر مؤذن بھی حسن الحدیث ہیں انکو مجہول قرار دینا درست نہیں ۔

شبہ (4): ابوجعفر مؤذن مدنی کو حافظ ابن حجر العسقلانی نے مقبول (مجہول الحال) قرار دیا ہے۔

 دیکھئے (تقریب التھذیب برقم ۸۰۱۷ )

اور حافظ ابن القطان الفاسی المتوفی (۶۲۸ھ): فرماتے ہیں:

وَأَبُوْ جَعْفَرٍ هُوَ الْمُؤَذِّنُ يَرْوِيْ عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِيْ كَثِيْرٍ لَا يُعْرَفُ رَوَىٰ عَنْهُ غَيْرُهُ ذَكَرَهُ بِذٰلِكَ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَلَا تُعْرَفُ لَهُ حَالٌ.

’’اور ابوجعفر موذن وہ ہیں جن سے یحیی بن ابی کثیر روایت کرتے ہیں کسی اور کا ان سے روایت کرنا معلوم نہیں امام مسلم اور ترمذی نے بھی یہی بات ذکر کی ہے ۔اور اس کا حال معلوم نہیں ہے‘‘

(بیان الوہم والایہام ۴/۵۲۶ طبع دارطیبہ الریاض)

 ازالہ:ابو جعفر موذن مدنی جمہور محدثین کے نزدیک صدوق اور حسن الحدیث ہیں ان سے روایت کرنے والے یحیی بن ابی کثیر ہیں جنکے متعلق :

٭ امام ابو حاتم محمد بن ادریس بن منذر الرازی المتوفی (۲۷۷ھ) فرماتے ہیں:

يَحْيَى بْنُ أَبِيْ كَثِيْرٍ إِمَامٌ لَا يُحَدِّثُ إِلَّا عَنْ ثِقَةٍ.

’’یحیی بن ابی کثیر امام ہیں وہ صرف ثقہ راویوں سے حدیث بیان کرتے ہیں‘‘

(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۹/۱۷۵ طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت)

گویا یحیی بن ابی کثیر نے روایت کی وجہ سے انکی توثیق کردی ہے۔

اسی طرح امام ابوعیسی محمد بن عیسی الترمذی المتوفی (۲۷۹ھ) نے انکی حدیث کو ’’حسن‘‘ اور  امام ابو زکريا يحیی بن شرف النووي المتوفی (۶۷۶ھ) نے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے دیکھئے۔

(جامع الترمذی برقم ۳۴۴۸ طبع دارالسلام ،ریاض الصالحین ۲/۹۲برقم ۷۹۷طبع دارابن الجوزی الریاض)

اور روایت کی تصحیح وتحسین راویوں کی ضمنی توثیق ہوتی ہے جیساکہ:

٭ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی(۸۵۲ھ) ’’ عبداللہ بن عبید الدیلی ‘‘  کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

وَأَمَّا الرَّاوِيْ عَنْ عُدَيْسَةَ فَقَدْ أَخْرَجَ حَدِيْثَهُ أَيْضًا التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ حَسَنٌ غَرِيْبٌ وَهٰذَا يَقْتَضِيْ أَنَّهُ عِنْدَهُ صَدُوْقٌ مَعْرُوْفٌ

’’ عدیسہ سے بیان کرنے والے راوی کی حدیث کو ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے کہا:کہ

(اسکی حدیث) ’’حسن غریب‘‘ ہے یہ (تحسین حدیث)اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ وہ راوی انکے نزدیک سچے اور معروف ہیں‘‘۔

مزید فرماتے ہیں : وَيَحْسُنُ لَهُ التِّرْمِذِيُّ فَلَيْسَ بِمَجْهُوْلٍ .’’امام ترمذی نے انکی حدیث کو ’’حسن‘‘  قرار دیا ہے لہذا وہ مجہول نہیں ہیں

اسی طرح ’’ عبدالرحمن بن خالد بن جبل العدوانی ‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں:

صَحَّحَ ابْنُ خُزَيْمَةَ حَدِيْثَهُ وَمُقْتَضَاهُ أَنْ يَّكُوْنَ عِنْدَهُ مِنَ الثِّقَاتِ.

’’ ابن خزیمہ نے انکی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے جو اس بات کا تقاضہ ہے کہ وہ انکے نزدیک ثقہ ہیں ‘‘

دیکھئے ۔ (المصدرالسابق ۱/۷۹۳ برقم ۶۱۹)

’’عبداللہ بن عتبہ بن ابی سفیان‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں:

أَخْرَجَ ابْنُ خُزَيْمَةَ حَدِيْثَهُ فِيْ صَحِيْحِهِ فَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَهُ

’’ ابن خزیمہ نے انکی حدیث کو اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے لہذا وہ انکے نزدیک ثقہ ہیں ‘‘

دیکھئے ۔ (تھذیب التھذیب ۵/۲۷۵ برقم ۳۵۷۳ طبع دارالکتب العلمیة بیروت)

٭ علامہ عبد الله بن يوسف  الزيلعي الحنفی المتوفی (۷۶۲ھ) ’’ زینب بنت کعب ‘‘ کے بارے میں  فرماتے ہیں:

وَفِيْ تَصْحِيْحِ التِّرْمِذِيِّ إِيَّاهُ تَوْثِيْقَهَا. ’’ یعنی امام ترمذی کی تصحیح میں ہی انکی توثیق ہے ‘‘

 (نصب الرأیہ ۳/۲۶۴ طبع مؤسسة الریان بیروت)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

وَمِنَ الْعَجَبِ كَوْنُ ابْنِ الْقَطَّانِ لَمْ يَكْتَفِ بِتَصْحِيْحِ التِّرْمِذِيِّ فِيْ مَعْرِفَةِ حَالِ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ مَعَ تَفَرُّدِهِ بِالْحَدِيثِ وَهُوَ قَدْ نَقَلَ كَلَامَهُ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ وَأَيُّ فَرْقٍ بَيْنَ أَنْ يَقُولَ: هُوَ ثِقَةٌ أَوْ يُصَحِّحَ لَهُ حَدِيْثًا اِنْفَرَدَ بِهِ؟

’’ تعجب ہے کہ ابن القطان نے عمرو بن بجدان کے بارے میں امام ترمذی کی تصحیح پر اکتفا نہیں کیا جبکہ وہ حدیث بیان کرنے میں منفرد ہیں حالانکہ انہوں نے ترمذی کا کلام بھی نقل کیا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے کسی راوی کو ثقہ کہنے یا اسکی منفرد حدیث کو صحیح قرار دینے میں کیا فرق ہے ؟(نصب الرأیہ ۱/۱۴۹ طبع مؤسسۃ الریان)

حافظ ابن حجر اور علامہ زیلعی کے کلام سے معلوم ہوا کہ روایت کی تصحیح صاحب تصحیح کے نزدیک اس حدیث کے راویوں کی ضمنی توثیق ہوتی ہے ۔

گویا ابوجعفر مؤذن مدنی کو یحیی بن ابی کثیر نے روایت کے ذریعے اور امام ترمذی اور نووی نے حدیث کی تصحیح کے ذریعے ثقہ قرار دیا ہے انکے برخلاف ابن القطان الفاسی کا ’’لَا يُعْرَفُ ‘‘ کہنا مضر نہیں ہے

شبہ (5): ابو جعفر مؤذن مدنی کے بارے میں امام ابوعیسی محمد بن عیسی الترمذی المتوفی (۲۷۹ھ) فرماتے ہیں :

 ’’لَا نَعْرِفُ  إِسْمَهُ .‘‘ (جامع ترمذی تحت حدیث ۳۴۴۸ طبع دارالسلام الریاض)

 اور امام منذری المتوفی (۶۵۶ھ) فرماتے ہیں : ’’لَا يُعْرَفُ إِسْمُهُ ‘‘ دیکھئے ۔

(مختصر سنن ابی داود للمنذری ۱/۳۲۴ تحت حدیث ۶۰۹ طبع دارالمعرفۃ بیروت)

اور علامہ بدرالدین العینی الحنفی المتوفی (۸۵۵ھ) فرماتے ہیں

’’ وَأَبُوْ جَعْفَرٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَا يُعْرَفُ لَهُ إِسْمٌ ‘‘

دیکھئے (شرح سنن ابی داود للعینی ۳/۱۶۸ طبع مکتبہ الرشد الریاض)

لہذا ابوجعفر مؤذن مدنی مجہول ہے اور حدیث بھی ضعیف ہے ۔

ازالہ:ابو جعفر مؤذن مدنی ’’مجہول الاسم‘‘ ضرور ہیں لیکن ’’ مجہول الحال ‘‘ نہیں ہیں اور کسی بھی راوی کا محض مجہول الاسم ہونا مضر نہیں ہےاسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ بدر الدین العینی الحنفی المتوفی (۸۵۵ھ): فرماتے ہیں:

فَيَجُوْزُ أَنْ يَكُوْنَ التِّرْمِذِيُّ أَرَادَ بِهِ أَنَّهُ مَجْهُوْلُ الْاِسْمِ وَلَا يَضُرُّ ذٰلِكَ فَإِنَّ جَمَاعَةً مِنَ الرُّوَاةِ لَا تُعْرَفُ أَسْمَاؤُهُمْ وَإِنَّمَا عُرِفُوْا بِالْكُنٰى.

’’ شاید کہ امام ترمذی کی مراد مجہول الاسم ہو جو کہ مضر نہیں ہے کیونکہ راویوں کی ایک بڑی جماعت کے نام معروف نہیں ہیں وہ صرف کنیتوں سے پہچانے جاتے ہیں ‘‘

(البنایہ شرح الھدایہ ۱/۵۰۱ طبع مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ)

اگر ہر مجہول الاسم راوی کی روایت کو ضعیف قرار دیا جائے تو نہ جانے کتنی ہی صحیح احادیث جرح کی بھینٹ چڑھ جائیں گی کیونکہ بہت سارے ثقہ راوی ایسے ہیں جو صرف اور صرف کنیتوں سے معروف ہیں یہاں پر اسکی صرف دو مثالیں پیش خدمت ہیں ۔ [۱] ابوبکر بن ابی موسی الاشعری ۔ انکے بارے میں امام ابوعبداللہ احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی المتوفی (۲۴۱ھ) فرماتے ہیں: «لَا يُعْرَفُ إِسْمُهُ» (جامع ترمذی تحت حدیث ۲۵۲۸ دارالسلام الریاض)

جبکہ یہ کتب ستہ کے راوی ہیں اور بالاتفاق ثقہ ہیں انکے متعلق :

٭امام ابوالحسن احمدبن عبداللہ بن صالح العجلی المتوفی (۲۶۱ھ) فرماتے ہیں:

كُوْفِيٌّ تَابِعِيٌّ ثِقَةٌ. (تاریخ الثقات برقم ۱۹۱۴طبع دارالباز مکہ المکرمہ)

٭ امام ابو حاتم محمد بن حبان البستی المتوفی(۳۵۴ھ)نے ’’ ثقہ‘‘ قرار دیا ہے

(کتاب الثقات ۵/۵۹۲طبع دارالفکر بیروت)

٭ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی(۸۵۲ھ) فرماتے ہیں:

ثِقَةٌ (تقریب التھذیب برقم ۷۹۹۰ طبع دارالرشید حلب)

[۲] ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود ۔ انکے بارے میں امام ابوعیسی محمد بن عیسی الترمذی المتوفی (۲۷۹ھ) فرماتے ہیں:

«لَا نَعْرِفُ إِسْمُهُ»

(جامع ترمذی تحت حدیث ۱۷ دارالسلام)

جبکہ آئمہ ومحدثین نے انکی زبردست توثیق کر رکھی ہے ۔

٭ امام ابوزکریا یحیی بن معین المتوفی (۲۳۳ھ) فرماتے ہیں:

ثِقَةٌ. (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۹/۴۵۱وسندہ صحیح طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت)

٭ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی(۸۵۲ھ) فرماتے ہیں:كُوْفِيٌّ ثِقَةٌ .(تقریب التھذیب برقم ۷۹۹۰ طبع دارالرشید حلب)

الغرض کسی بھی راوی کا محض ’’مجہول الاسم ‘‘ ہونا صحت حدیث کیلئےمضر نہیں ہے اور اسی وجہ سے صدوق اور حسن

 الحدیث راوی ابوجعفر مؤذن مدنی کو ’’مجہول الحال‘‘  قرار دینا درست نہیں ہے ۔

خلاصۃ البحث : حدیث اسبالِ ازار سندًا صحیح اور قابل حجت ہے اس کے تمام رواۃ اعلی درجہ کے ثقہ ہیں

ضرورت اس بات کی ہے کہ صحیح احادیث کو عوام کے سامنے بیان کیاجائے تاکہ عوام الناس کی اصلاح ہوسکے عموما دیکھا یہ گیا ہے کہ نمازیوں کی بڑی تعداد کا معمول شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کا ہے پھر جب نماز کیلئے آتے ہیں تو وضوء کے بعد شلوار ٹخنوں سے اوپر کرتےہیں لہذا خطباء اور واعظین سے گذارش ہے کہ ضعیف اور موضوع روایات بیان کرنے کے بجائے صحیح احادیث کے ذریعے اصلاح کی کوشش کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ  اس غفلت اور سستی کی وجہ سے ہماری نمازیں اور دیگر اعمالِ صالحہ ضایع ہوجائیں اللہ تعالی ہمارا حامی وناصر ہو ۔ آمین.

About ابوانیس عبدالجباراظہر

جواب دیجئے