Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جولائ » مِنْ دُوْنِ اللہِ کاصحیح مفہوم قسط:6

مِنْ دُوْنِ اللہِ کاصحیح مفہوم قسط:6

  قسط: 6


سیالوی صاحب اور کلیات

سیالوی صاحب کی اس تحریر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ منطق کی بعض کلیات سے بھی کچھ واقفیت رکھتے ہیں ،خواہ ان کے انطباق میں جناب کو منہ کی کھانی پڑے۔ بہرحال ایسےہی کچھ کلمات پیش کرتے ہوئے لکھا:’’اس آیت سے اگرچہ صرف داؤد کی خلافت ثابت ہوتی ہے حالانکہ اہل سنت کا دعویٰ تو یہ ہے کہ تمام انبیاء بااختیار ہیں۔ لیکن یہ دلیل ہم نے اس بنا پر پیش کی ہے کہ وہابی حضرات سالبہ کلیہ کے مدعی ہیں کہ کوئی نبی ولی کسی شیٔ کا اختیار نہیں رکھتا تو یہاں سے داؤد کا زمین میں بااختیار ہوناثابت ہوگیا تو ان کا سالبہ کلیہ کا دعویٰ غلط ثابت ہوگیا کیونکہ سالبہ کلیہ کی نقیض موجبہ جزئیہ ہوتی ہے۔‘‘(ص:۱۸۳)
جواب:سب سے پہلے تو عرض ہے کہ یہ اہل حق پر بہت بڑا بہتان ہے کہ وہ انبیاء اور اولیاء کرام کے لئے کسی شیٔ کا اختیار تسلیم نہیں کرتے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نےجس کوچاہا جتنا چاہااختیار دیا،ایسے ثابت شدہ کسی اختیار کا ہم انکار نہیں کرتے۔تو اس لحاظ سے ان کابنایا سالبہ کلیہ نرابہتان ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بریلویہ کسب واسباب سے ہٹ کر بھی بہت سے اختیارات کے حصول کے مدعی ہیں حتی کہ ان مقربان الٰہی کی وفات کے بعد بھی ان کے لئے ایسےا ختیارات مانتے ہیں کہ حاجت روائی، مشکل کشائی کرسکتےہیں، دھن ودولت، شان وشوکت، عزت وذلت دے سکتے ہیں، غرضیکہ ہر وہ نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے عام بندوں کو نوازتا ہے ایسی بہت سی نعمت دینے پر اختیار رکھتے ہیں۔ یہ عقیدہ کسی دلیل سے ثابت نہیں۔ لوگ جو اپنے ایسے عقیدے کاثبوت فراہم کرتے ہوئے کچھ نام نہاد دلائل پیش کرتے بھی ہیں ان سے یہ عقیدہ ثابت ہی نہیں ہوتا۔
اب رہا مسئلہ کلیات کا تو سیالوی صاحب نے جو اپنا دعویٰ پیش کیا ہے کہ ’’تمام انبیاء بااختیار ہیں‘‘ان کا یہ دعویٰ کلیات کے اعتبار سے ’’موجبہ کلیہ‘‘ ہے جس کی نقیض’’سالبہ جزئیہ‘‘ بھی ہوسکتی ہے۔ہم گزشتہ صفحات میں قرآن مجید کی آیات اور ان کی تفسیر میں بریلوی توضیحات واعتراضات سے یہ بات نقل کرآئے ہیں۔ جیساکہ قرآن مجید میں ہے کہ’’اللہ کے سوا جن سے دعائیں مانگی جاتی ہیں وہ تکلیف دور کرسکتے ہیں نہ ٹال سکتے ہیں‘‘ اس کی تفسیر میں بہت سے دیگر مفسرین کی طرح سعیدی صاحب نے لکھا:
’’بعض مفسرین نےکہا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ اور عزیر کی عبادت کرتے تھے اور ان کی عبادت کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ تم سے کسی ضرر کودور کرسکتےہیں اور نہ تم کو کوئی نفع پہنچاسکتے ہیں۔‘‘(تبیان القرآن ۶؍۷۴۵)
اگرچہ قرآنی آیات میں اللہ کے علاوہ ہر ایک کی نفی ہے لیکن بریلوی تفسیر سے بھی سیدنا عیسیٰ وسیدنا عزیرiکے ایسے اختیار،قدرت وتصرف کی نفی ہورہی ہے، ان کی مسلمات کے مطابق بھی یہ کم از کم ’’سالبہ جزئیہ‘‘ ہے۔ اور’’ سالبہ جزئیہ‘‘موجبہ کلیہ کے رد کو کافی ہے۔ ان کا دعویٰ تو غلط ثابت ہو ہی گیا کہ یہ کل کے مدعی ہیں جبکہ بعض کی نفی خود ان کے اعتراف کے مطابق بھی ہوتی ہے ،لہذا کلیات کا سہارا بھی انہیں مفید نہیں ہے۔

دسواں سیالوی مغالطہ:

اس کے بعد سیالوی صاحب نے سیدنا سلیمان کی اللہ تعالیٰ سے دعا اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے اس دعا کی قبولیت اور عطاکردہ سلطنت کاذکر کے لکھاہے:
’’اس آیت کریمہ اور شبیراحمدعثمانی کی تفسیر سےبھی ظاہر ہوا کہ انبیاء کرام من دون اللہ میں داخل نہیں‘‘(ص:۱۸۴)
جواب:سورۂ صٓ:۳۵تا۳۹سیدناسلیمان کی دعا اور رب کی عطا کاذکر ہے اس سے کس کافرکوانکارہے؟ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو شرفِ قبولیت عطافرماکر ایسی بادشاہت عطافرمائی کہ جو کسی دوسرے فرد کو عطا نہیں کی، لیکن اس آیت میں ایسی کوئی بات نہیں کہ انبیاء من دون اللہ میں داخل نہیں! حسب معمول سیالوی صاحب نے اختیار والی بات سے استدلال کیاہے تو اس کا جواب ہم دے آئے ہیں کہ کچھ نہ کچھ اختیار تو ہر انسان کوحاصل ہے۔

گیارہواں سیالوی مغالطہ:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:[قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ ](آل عمران:۲۶)
اے حبیب!آپ فرمادیجئے کہ اے اللہ تو ہی پورے ملک کا مالک ہے اور جس کو چاہے سارا ملک عطافرمادے۔
اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے پورا ملک بھی عطا فرماسکتا ہے …تو واضح ہوگیا کہ انبیاء من دون اللہ میں شامل نہیں کیونکہ وہ(من دون اللہ) تو کسی ذرہ کےبھی مالک نہیں ہیں۔ اور یہ حضرات اللہ تعالیٰ کی عطا سے پوری کائنات کے مالک ہیں، جس طرح مولوی محمود الحسن نے اپنی کتاب ادلہ کاملہ میں لکھا ہےکہ…‘‘(ص:۱۸۴)
جواب:اللہ تعالیٰ چاہے پوراملک ’’عطافرماسکتاہے‘‘ اور عطا فرمادیا‘‘دونوں میں بہت فرق ہے، کسی بھی آیت یاحدیث سے یہ ثابت نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو پوری کائنات کا مالک بنادیا ہے۔ ہاں البتہ یہ مولوی سیال صاحب اور ان کےہم مسلک لوگوں کا دعویٰ ضرور ہے لیکن محض دعویٰ دلیل نہیںہوتا۔پھر ہم گذشتہ صفحات میں عرض کر آئے ہیں کہ سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کے علاوہ تمام انبیاء کی نبوت بھی مخصوص قوم اورمخصوص علاقوں اور مخصوص وقت تک کے لئے تھی اور مخلوق میں نبوت سے بڑھ کر افضل کیا چیزہوسکتی ہے، جب ان کی نبوت بھی پوری زمین کے لوگوں کے لئے نہ تھی تو ان میں سے جن انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر ملوکیت عطافرمائی وہ پوری کائنات کے لئے کس طرح ہوسکتی ہے؟
پھر مولوی سیالوی صاحب نے اپنی اس کتاب کے ،ص:(۱۸۳ ) سورۂ صٓ کی آیات ۳۵تا۳۹نقل کی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدناسلیمان کو جیسی بادشاہت عطافرمائی ایسی بادشاہت کسی کو عطا نہیں کی، اگر سب ہی ا نبیاء پوری کائنات کے مالک تھے تو سیدناسلیمان کے بادشاہت کی خصوصیت کیا رہی؟ (نعوذباللہ) حالانکہ قرآن مجید تو ان کی بادشاہت کی خصوصیت کو بیان کرتا ہے،بفرضِ محال اگر سب کے لئے کائنات کی ملوکیت ثابت ہوتب بھی یہ توثابت نہیں ہوتا کہ انبیاء من دون اللہ ،یعنی اللہ کے سوا نہیں جبکہ متعدد آیات سے ثابت ہے کہ ’’من دون اللہ‘‘ میں انبیاء بھی شامل ہیں۔

بارہواں سیالوی مغالطہ:

لکھا ہے:
من دون اللہ کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:[وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ۝۱۱۶](التوبہ:۱۱۶)
تمہارا اللہ کے علاوہ نہ کوئی مددگار ہے نہ کوئی دوست۔
اس سے ثابت ہوا کہ جو من دون اللہ ہیں وہ کسی کی مدد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔‘‘(ص:۱۸۵)
جواب:کس قدر مہمل بات ہے جو سیالوی صاحب نےلکھ ڈالی ، ان کی اس تحریر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے خیال سے مخلوق میں’’من دون اللہ‘‘ ایک مخصوص قسم ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا،یقینا ایسا نہیں ہے، پھر اس آیت میں’’من دون اللہ‘‘ کے الفاظ تو ہیں لیکن کسی خاص مخلوق کے لئے نہیں بلکہ خود سیالوی صاحب کے ترجمہ کے مطابق بھی’’اللہ کے علاوہ‘‘ کے لئے ہیں، اور اس بات سے تو سیالوی صاحب بھی انکار نہیں کرسکتےکہ ’’تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہی ہیں، مخلوق میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں جسے اللہ کہا جاسکے باقی جواب آئندہ مغالطہ کے جواب میں عرض کیاجائے گا۔ان شاء اللہ

تیرہواں سیالوی مغالطہ:

لکھتےہیں:انبیاء کے بارے میںارشاد باری تعالیٰ ہے:[وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَۃٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ۝۰ۭ ](آل عمران:۸۱)
یاد کرواس وقت کو جب اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں سے عہد لیاکہ جب میں تم کو کتاب اور حکمت عطاکروں پھر تمہارے پاس وہ رسول تشریف لائیں جو تصدیق کرنےو الے ہوں ہر اس چیز کی جو تمہارے پاس ہے تمہیں ان پر ایمان بھی لاناہوگا اور مدد بھی کرنی ہوگی۔
اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ من دون اللہ میں انبیاء شامل نہیں، اگر انبیاء من دون اللہ میں شامل ہوتے تو پھر ان کو مدد کرنے کی طاقت نہ ہوتی۔‘‘(ندائے یارسول اللہﷺ،ص:۱۸۵)
جواب:بلاشبہ اس آیت میں ہے کہ انبیاء سے عہد لیا گیا کہ وہ تصدیق بھی کریں گے اورنصرت بھی۔ لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ’’من دون اللہ‘‘ یعنی ’’اللہ کے علاوہ‘‘نہیں(نعوذباللہ) اگر مدد کرنے کی طاقت سے سیالوی صاحب کا یہ استدلال ہے جیسا کہ ہے بھی چونکہ لکھا ہے:’’اگرانبیاء من دون اللہ میں شامل ہوتے تو پھر ان کو مدد کرنے کی طاقت نہ ہوتی‘‘ تومولوی صاحب کو چاہیے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی پوری امت بلکہ تمام انبیاء کی تمام اہل ایمان امتوں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھیں کہ وہ من دون اللہ میں شامل نہیں(نعوذباللہ) کیوں؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[فَلَمَّآ اَحَسَّ عِيْسٰى مِنْھُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللہِ۝۰ۭ قَالَ الْحَوَارِيُوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللہِ۝۰ۚ اٰمَنَّا بِاللہِ۝۰ۚ وَاشْہَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۝۵۲ ](آل عمران:۵۲)
’’پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفر محسوس کیا تو کہا اللہ کی طرف میرے کون مددگارہیں،حواریوں نے کہا ہم اللہ کے(راستہ میں) مدد گار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ گواہ ہوجائیں ہم مسلمان ہیں۔(ترجمہ اس سعیدی صاحب، تبیان القرآن ۲؍۱۷۸)
بریلویہ کے’’علامہ ومفسر‘‘ سعیدی صاحب نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا:
’’حضرت عیسیٰ کے اصحاب کو حواری کہتے ہیں‘‘
(تبیان۲؍۱۷۹)
اس آیت سے ثابت ہوا کہ سیدناعیسیٰ کے اصحاب سب کے سب ان کے حواری اور مددگار بنے تھے‘‘
نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ۝۰ۙ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۱۵۷ۧ ](الاعراف:۱۵۷)
پس جو لوگ ایمان لائےاس (نبی اُمی) پر اور تعظیم کی آپ کی اور امداد کی آپ کی اور پیروی کی اس نور کی جو اتاراگیا آپ کے ساتھ وہی (خوش نصیب) کامیاب وکامران ہیں‘‘
(ترجمہ از بھیروی صاحب،ضیاء القرآن ۲؍۹۲)
اس آیت میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان آپ کی تعظیم اور آپﷺ کی نصرت پرفوزوفلاح کی خوشخبری دی۔ اس آیت کے مطابق آپ کی نصرت کاحکم جمیع اہل ایمان کے لیے ہے، اور امتیوں پر نبی ﷺ کے  حقوق میں سے ایک حق ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:((مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ، وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ، ))
’’مجھ سے پہلے جو نبی بھی اللہ نے کسی امت میں بھیجا تو ان کی امت میں ان کے حواری واصحاب ہوتے تھے جو ان کی سنت اختیار کرتے اوران کے حکم کی تعمیل کرتے تھے۔‘‘(صحیح مسلم:۵۰)
اس حدیث سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ کوئی بھی نبی ﷺ ان کی امت اگر ہوئی تو وہ ان کے حواری یعنی مخلص ومددگار بنے۔بعض احادیث میں ہے کہ کسی نبی پر کوئی بھی ایمان نہیں لایا تو وہ مستثنیٰ ہیں۔ بہرحال ہر وہ نبی جن کے امتی ہوتے تو وہ اپنے نبی کے مددگاربنے۔
اب سیالوی صاحب جس طرح کےانوکھے استدلال کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ کہیں تمام امتوں کے لوگ جو کسی نہ کسی درجہ میں اپنے نبی کےمددگار ہوئے وہ سب کے سب اور نبی مکرم ﷺ کے بھی تمام اہل ایمان امتی’’من دون اللہ‘‘ میں شامل نہیں ہیں، اللہ کے علاوہ نہیں ہیں۔نعوذباللہ۔
پھر بات یہاں پرختم تونہیں ہوتی کفار بھی ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اولیاء الشیاطین بھی ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں مولوی سیالوی صاحب کے اس استدلال کے مطابق کفار بھی’’من دون اللہ‘‘ میں شامل نہ ہوئے ،نعوذباللہ ان پر بھی’’من دون اللہ‘‘ مطلب’’ اللہ کے علاوہ‘‘ کا اطلاق نہیں ہوگا چونکہ ان میں بھی’’مدد کرنے کی طاقت تو ہے‘‘(استغفراللہ)
سیالوی صاحب اگر مسلکی تعصب سے بالاتر ہوکرانصاف سے غور کریں تو مختلف نصوص قرآنی پر غور کرنے سے ان پریہ بات واضح ہوجائے گی کہ سورہ توبہ(۱۱۶)میں جس مدد کی نفی ہے وہ سبب سے بالاتر مددہے، نہ کہ اس مدد کی نفی ہے جو اسباب کے ماتحت ہے۔
چونکہ پورے قرآن مجید میں غیراللہ سے مافوق الاسباب مدد کاثبوت نہیں ملتا اور ماتحت الاسباب مددکاثبوت ملتا ہے۔ الغرض سیالوی صاحب کی اس دلیل سے بھی ان کامدعی ثابت نہیں ہوتا۔

چودہواں سیالوی مغالطہ:

لکھاہے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:[اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَنْ يَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہٗ۝۰ۭ وَاِنْ يَّسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَـيْـــــًٔـا لَّا يَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ۝۰ۭ ](الحج:۷۳)
جن کو تم اللہ کےعلاوہ پکارتے ہو وہ مکھی بھی پیدا نہیںکرسکتے اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو وہ اس سے کوئی چیز چھڑانہیں سکتے۔
جبکہ اللہ تعالیٰ کے ولی کی شان قرآن بیان کرتا ہے کہ [قَالَ الَّذِيْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِيْكَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ۝۰ۭ](النمل:۴۰) کہا اس آدمی نے جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں پلک جھپکنے سے پہلے تخت آپ کے پاس پیش کرتاہوں۔
پتہ چلامن دون اللہ کا مقام یہ ہے کہ وہ مکھی سے کوئی چیز چھین نہیںسکتے اور اللہ کے ولیوں کامقام یہ ہے کہ پلک جھپکنے کےاندرپندرہ سومیل دورپڑے تخت کو لاکرپیش کرسکتےہیں۔
(ندائے یارسول اللہﷺ،ص:۱۸۷)
جواب:سورۂ حج کی آیت:۷۳میں کون کون شامل ہیں،یہ تو سیالوی صاحب کےلکھے ترجمے سے ہی واضح ہوجاتا ہےکہ جناب نے’’من دون اللہ‘‘ کا ترجمہ’’اللہ کے علاوہ‘‘ لکھا ہے۔ اردوجاننے اور سمجھنے والے کسی فرد کے لیے بھی یہ سمجھنا قطعا مشکل نہیں کہ ہر وہ ذات وہستی خواہ وہ عظمتوں اور فضائل کے اعلیٰ درجات پر فائز ہوں لیکن اسے ہم اللہ نہیں کہہ سکتے تو وہ اللہ کے علاوہ ہے۔ اور کسی کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہووہ کسی عظیم ترمخلوق کو بھی’’اللہ‘‘ کہنے کی جسارت وگستاخی نہیں کرے گا۔اور مولوی سیالوی صاحب کا مقصد تو یہ ہے کہ انبیاءuاور اولیاء کرام’’من دون اللہ‘‘ میں داخل نہیں، تو کیا وہ صاف لفظوں میں یہ کہنے کی ہمت رکھتےہیں کہ انبیاء واولیاء’’اللہ کے علاوہ‘‘نہیں بلکہ اللہ ہیں؟؟ (نعوذباللہ)اگر نہیںاور یقینا نہیں تو اپنے استدلال پر غور کریں کہ اس سے تو یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ آیت کی تفسیر میں ان کے ’’علامہ‘‘سعیدی صاحب نے لکھا:َ
’’جن صورتوں کی یہ تعظیم اور پرستش کرتے تھے یعنی ستارے، سیارے، فرشتے، انبیاء اور صالحین، ان میں سے ستارے اور سیارے تومطلقا کسی چیز کو پیدانہیںکرسکتے اور اگر ان سے کوئی چیز چھین لی جائے تو اس کو واپس نہیں لے سکتے، رہے فرشتے، انبیاء اور صالحین تو وہ بھی اپنی ذاتی قدرت سے کوئی چیز پیداکرسکتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی چیز میں کوئی تصرف کرسکتے ہیں، ہر چند کہ حضرت عیسی نے بعض پرندے تخلیق کئے اور بعض مردے زند ہ کئے لیکن اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت سے اور اس کی اجازت سے، اسی طرح فرشتے، انبیاء اور صالحین کائنات میں تصرف کرتے ہیں مگر اللہ کی دی ہوئی قدرت اور اس کی اجازت سے اوراس کی عطا اور اس کی اجازت کے بغیر نہ یہ بت کچھ بناسکتے ہیں نہ کچھ تصرف کرسکتے ہیں اورجن ہستیوں کی صورتوں میں یہ بت تراشے گئے ہیںوہ بھی اس کی عطا اور اس کے اذن کے بغیر کوئی چیز پیدا کرسکتے ہیں اور نہ کسی چیز میں تصرف کرسکتے ہیں۔‘‘
(تبیان القرآن ۷؍۸۰۱)
عرض کرنےکامقصد یہ ہے کہ اگر‘‘من دون اللہ‘‘ میں انبیاء اور اولیاء کرام داخل ہی نہیں تو سعیدی صاحب نے اس آیت کی تفسیر میں یہ کیوں لکھا کہ’’فرشتے،انبیاء اور صالحین تو وہ بھی اپنی ذاتی قدرت سے کوئی چیز پیدا کرسکتے ہیں اور نہ اللہ کی اجازت کے بغیر کسی چیز میں تصرف کرسکتے ہیں؟؟؟؟
سعیدی صاحب کی اس تفسیر سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ آیت ان تمام لوگوں کے رد میں بھی ہے جو اللہ کے علاوہ اللہ کے نیک بندوں کی عبادت کرتےہیں، جیسے نصاریٰ سیدنا عیسیٰuاور یہود سیدنا عزیرuاور اسی طرح یہ دونوں اپنے اپنے نیک صالح افراد کی عبادت کرتے ہیں، اسی طرح مشرکین مکہ سیدناابراھیم وسیدنااسمعیل iاور بعض دیگر نیک لوگوں کے بت بناکر ان کی پرستش کرتے تھے، اور یہ باتیں خودان کے مولویوں کو بھی معلوم ہیں تونعوذباللہ کیا اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان باتوں سے بے خبر ہے؟نہیں اورقطعانہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس اور اس جیسی دیگر آیات میں نیک صالحین کا استثناء کیوں بیان نہیں فرمایا؟اگر ان آیات بینات سے(نعوذباللہ) نیک صالح ومقربین الٰہی کی اہانت ہوتی تو استثناء ضرور بیان ہوتاجیسا کہ اہم ابتداء میں سورۂ انبیاء کی آیات ۹۸تا۱۰۱ نقل کر آئے ہیں، ان میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے صالحین ومقربین کا استثناء بیان فرمایا۔
تیسری بات یہ ہے کہ اگر سیالوی صاحب یا ان کا کوئی ہم مسلک وہم خیال یہ سمجھتا ہے کہ اولیاءکرام اللہ کی دی ہوئی قدرت وطاقت سے صفتِ تخلیق کے حامل تھے یا ہیں اور بہت سی چیزوں کے خالق بھی ہیں تو صاف الفاظ میں اس کا اعتراف کریں اور ان آیات پر بھی غور کریں۔
۱:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[اَللہُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ۝۰ۡوَّہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ۝۶۲ ] ’’اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والاہے ہرچیز کا اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے‘‘(الزمر:۶۲،ترجمہ از بھیروی صاحب ضیاء القرآن ۴؍۲۸)
جب ہر ہرچیز کاخالق اللہ تعالیٰ ہی ہے تو سیالوی صاحب بتائیں اولیاء کرام کس چیز کےخالق ہیں؟ انہوں نے کیاکیاچیز پیدافرمائی؟
۲:اللہ نے زمین وآسمان کی تخلیق کے تذکرہ کے بعد فرمایا:
[ھٰذَا خَلْقُ اللہِ فَاَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِہٖ۝۰ۭ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝۱۱ۧ ] ’’یہ تو ہے اللہ کی تخلیق(اے مشرکو!)اب ذرا دکھاؤمجھ کو کیا بنایا اوروں نے اس کے سوا؟(کچھ بھی نہیں) مگریہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں‘‘
(لقمان :۱۱،ترجمہ از بھیروی صاحب ضیاء القرآن ۳؍۶۰۴)
اس آیت کی تفسیر میں بھیروی صاحب نے جو کچھ لکھا ہے ،اس میں بھی سیالوی صاحب اور ان جیسے دیگر لوگوں کے لئے نصیحت وعبرت کا وافر سامان ہے، بھیروی صاحب نے لکھا:
’’آسمان یہ وقیع اور وسیع گنبد جسے تھامنے کے لیے کوئی ستون اور سہارے نظر نہیں آتے، یہ کشادہ زمین اور اس میں گڑے ہوئے فلک بوس پہاڑ،یہ گوناگوں جانور،مناسب اوقات پر بارش کا برسنا،رنگارنگ فصلوں، سبزیوں،درختوں کااُگنا، پھلنا،پھولنا اور ان کے علاوہ جو کچھ تمہیں نظر آرہا ہے اسے تو اللہ نے اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمت بالغہ سے تخلیق فرمایا ہے اور تم بھی تو اس کے انکار کی جراءت نہیں کرسکتے۔ اب یہ بتاؤجن جھوٹے خداؤں کی پوجا پاٹ میں تم روز وشب مشغول رہتے ہواور انہیں اپناخدا یقین کرتے ہو۔انہوں نے آخر اپنی قدرت اور حکمت کاکونسا کمال دکھایا ہے کہ تم ان کو بھی خداماننے لگے، شرک کے بطلان کی یہ کتنی زبردست اور عام فہم دلیل ہے۔‘‘(ضیاء القرآن ۳؍۶۰۴)
دیکھ لیجئے سیالوی صاحب! ’’جو کچھ تمہیں نظرآرہا ہے اسے اللہ تعالیٰ نے…..تخلیق فرمایا ہے‘‘تو اولیاء خالق کیسے ہوسکتے ہیں؟ پھر’’جھوٹے خداؤں‘‘ کا یہ مطلب قطعا نہیں کہ صالحین سچے اور سچے بندوں کی خدائی کے جو قائل ہیں،نعوذباللہ وہ صالحین جھوٹے ہیں، ہر گز ہرگز نہیں وہ تو سچے ہیں لیکن انہیں الٰہ بنانا،خداقراردینا اور ان کی خدائی کا دعویٰ کرنا مشرکوں کاجھوٹ ہے، توجولوگ سیدنا عیسیٰ وسیدنا عزیر، سیدنا ابراھیم اور سیدنا اسمعیل oاور صالحین کرام کی پوجاپاٹ وپرستش کے مرتکب ہوتے ان سب سے بھی سوال ہوا:
[فَاَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِہٖ۝۰ۭ]؟ اب ذرا مجھے دکھاؤکہ کیا بنایا ہے اللہ کے علاوہ ان لوگوں نے؟ اگر مولوی صاحب انبیاءoکو اپنی طرف سے خالق قرار دیتے تو کیا عیسائی یہ نہیںکہہ سکتے کہ لوجی عیسیuتو بہت سی چیزوں کے خالق ہیں، ان کی عبادت توحق ہوئی؟ سیالوی صاحب تو’’صالحین‘‘ کو’’من دون اللہ‘‘ میں داخل نہیں سمجھتے بتلایئے کہ ان کا جواب کیاہوگا؟نیز اس اشکال کا جواب کیا ہوگا کہ جب اللہ کےنیک بندے بھی’’خالق‘‘ ہیں تو یہ آیت کیوںکہتی ہے کہ :’’بتاؤ ان لوگوں نےکیا تخلیق کیا؟
(جاری ہے)

About ابوالاسجد محمد صدیق رضا

Check Also

المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ(قسط 3)

قسط نمبر: 3 صوفیاء کی باتیں پیش نہ کریں (۲۴) گھمن :’’ہم نے بہت سی …

جواب دیجئے