Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جولائ » شوال کے چھ روزوں کے متعلق صحیح مسلم کی حدیث کو ضعیف ثابت کرنے کی ناکام کوشش

شوال کے چھ روزوں کے متعلق صحیح مسلم کی حدیث کو ضعیف ثابت کرنے کی ناکام کوشش

کچھ ہی ایام قبل حافظ عاطف نامی شخص نے شوال کے چھ روزوں کی تردید میں’’ضعیف الاقوال فی استحباب صیام ستۃ من شوال‘‘ کے نام سے کتاب شائع کرائی، جس میں موصوف نے شوال کے روزوں کے ثبوت میں تمام روایات کو ضعیف ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کی ہے۔
ان روزوں کے استحباب پر ایک روایت صحیح مسلم میں بھی موجود ہے، موصوف نے اس روایت پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا، حالانکہ صحیحین کی تمام متصل روایات کی صحت پر علماء امت کا اجماع رہا ہے، عاطف صاحب نے اپنے زعم میں ایک علمی کاوش سرانجام دی ہے لیکن حقیقت میں محترم نے محدثین کرام کی مخالفت کرکے بہت بڑی جہالت کا ارتکاب کیا ہے۔
کیا وجہ ہے؟ ائمہ محدثین جنہوں نے خود روایات کے قبول ورد کے قوانین وضوابط وضع فرمائے اور کمال احتیاط سے راویان حدیث کے مراتب طے کیے وہ اس حدیث کی علتوں سے واقف نہ ہوسکے اور انہوں نے صحیحین کی صحت پر اجماع بھی کرلیا اور دورحاضر کے وہ لوگ جن کا علم حدیث ورجال سے دور کا واسطہ بھی نہیں ان کے سامنے اس حدیث میں موجود علتیں عیاں ہوگئیں۔(سبحان اللہ)
ہم اس حدیث کا دفاع کرنے سے قبل شارح بخاری حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن محمد ابن حجر العسقلانی (المتوفی ۸۵۲ھ) کا صحیحین اور ان کے رواۃ کے متعلق کلام پیش کردیتے ہیں۔
’’يَنْبَغِي لكل منصف أَن يعلم أَن تَخْرِيج صَاحب الصَّحِيح لأي راو كَانَ مُقْتَض لعدالته عِنْده وَصِحَّة ضَبطه وَعدم غفلته وَلَا سِيمَا مَا انضاف إِلَى ذَلِك من إطباق جُمْهُور الْأَئِمَّة على تَسْمِيَة الْكِتَابَيْنِ بالصحيحين وَهَذَا معنى لم يحصل لغير من خرج عَنهُ فِي الصَّحِيح فَهُوَ بِمَثَابَة إطباق الْجُمْهُور على تَعْدِيل من ذكر فيهمَا ‘‘
ہر منصف شخص کو یہ معلوم ہوناچاہئے کہ امام بخاری ومسلم ؒ کے کسی راوی سے حدیث نقل کا مطلب یہ کہ وہ راوی ان کے نزدیک کردار کاسچا اور حافظے کا پکا ہےنیز وہ حدیث کے معاملے میں غفلت کا شکار بھی نہیں ہے خصوصا جمہور ائمہ کرام متفق طور پر بخاری ومسلم کو صحیحین کا نام دیتے ہیں۔اور یہ تمام مقام اس راوی کو حاصل نہیں ہوسکتا جس کی روایت صحیحین میں موجود نہیں۔گویاجس راوی کا صحیح بخاری ومسلم میں ذکر ہے وہ جمہور محدثین کے نزدیک قابل اعتماد ہوتاہے۔
(فتح الباری شرح صحیح البخاری ۱؍۳۸۴،دار المعرفۃ بیروت)
حافظ صاحب کے کلام سے یہ بات مترشح ہورہی ہے کہ ائمہ حدیث نے متفقہ طور پر بخاری ومسلم کو صحیح کہا ہے ،صحیحین کے تمام رواۃ ثقہ وقابل احتجاج ہیں اور صحیحین کا مختلف فیہ راوی بھی جمہور کے نزدیک ثقہ ہوتا ہے۔

صحیح مسلم کی روایت ائمہ حدیث کی نظر میں

سیدنا ابوایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
من صام رمضان ثم أتبعہ من شوال کان کصیام الدھر.
یہ روایت صحیح مسلم سمیت کئی کتب حدیث میں موجود ہے پوری تخریج ملاحظہ کیجئے۔
(تکملۃ صحیح للاقوال :۳۴ از شیخ یونس اثری d)
اس روایت کو متعدد علماء حدیث نے صحیح قرار دیا ہے بعض کے اسماءبمع حوالہ درج ذیل ہیں۔
vامام الائمۃ محمد بن اسحاق بن خریمہ ؒ(المتوفی ۲۲۳ھ)
(صحیح ابن خزیمہ ۲؍۱۰۱۴رقم الحدیث:۲۱۱۴المکتب الاسلامی)
vامام ابو الحسن مسلم بن حجاج النیشابوری ؒ(المتوفی ۲۶۱ھ)
(صحیح مسلم ،رقم الحدیث:۱۱۶۴)
vامام ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ الترمذی ؒ(المتوفی ۲۷۹ھ)
(جامع ترمذی ،تحت حدیث:۷۵۹)
vامام ابو عوانہ یعقوب بن اسحاق الفرائنی ؒ(المتوفی ۳۱۶ھ)
(صحیح ابن عوانہ القسم المفقود ،ص:۲۵)
vامام ابوحاتم محمد بن حبان البستی ؒ(المتوفی ۳۵۴ھ)
(صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان ۸؍۳۹۷،رقم الحدیث ۳۶۳۴مؤسسۃ الرسالۃ)
vامام اندلسی ابوعمر یوسف بن عبداللہ بن عبدالبر الاندلسی ؒ(المتوفی ۴۶۲ھ)
(الاستذکار ۳؍۳۷۹،دار الکتب العلمیہ)
vحافظ حسین بن مسعود البغوی ؒ(المتوفی ۵۱۶ھ)
(شرح السنہ ۳؍۳۱۳،ح:۱۷۷۴،دار الکتب العلمیہ)
vشیخ الاسلام ثانی محمد بن ابی بکر بن ایوب ابن القیم(المتوفی ۷۵۱ھ)(تہذیب السنن مع عون المعبود ۷؍۶۲،دا رالکتب العلمیہ)
vعلامہ ابوعبدالرحمٰن محمد ناصر الدین بن نوح الالبانی ؒ(المتوفی ۱۴۲۱ھ)(ارواء الغلیل ۴؍۱۰۶،المکتب الاسلامی)
vشیخ حافظ زبیر بن مجدد علی زئی ؒ(المتوفی ۱۴۳۴ھ)
(صحیح الاقوال ،ص:۲۲)
vشیخ شعیب الارنووط ؒ(المتوفی ۱۴۳۳ھ)
(تحقیق مسند احمد ۳۸؍۵۱۵،مؤسسۃ الرسالۃ)
اتنے ائمہ دین وماہرین فن کی تصحیح کے مقابلے میں اس روایت کا ضعیف ہونا کسی ایک امام سے بھی ثابت نہیں جیسا کہ ذھبی عصر محدث زبیر علی زئی صاحب فرماتے ہیں:
میرے علم کے مطابق کسی بھی امام سے اس روایت کو ضعیف قرار دینا ثابت نہیں۔(صحیح الاقوال ،ص:۲۲)
اس کے باوجود عاطف جیسے لوگوں کو اس روایت کو ضعیف کہنا سستی شہرت کے حصول کے سواء کچھ نہیں۔
شہرت کے ہم حریص ہیں، عزت سے کوئی کام نہیں
بدنام ہوئے تو کیا نام نہ ہوگا

بعض شبہات کا ازالہ

شبہ(۱)

امام سفیان بن عیینہ نے اس روایت کو ابوایوب سے موقوفا بیان فرمایا ہے۔(مسند الحمیدی ،رقم الحدیث:۳۸۴)
ازالہ:
کسی راوی کا کسی روایت کو موقوفا بیان کرنے سے ان کے نزدیک سا کی تضعیف کشید کرنا جہالت ہے۔
کیونکہ یہ روایت ابوایوب tسے موقوفا ومرفوعا دونوں طرح ثابت ہے تو امام ابن عیینہ صرف موقوفا بیان کیا تو کیاہوا؟؟؟
شبہ(۲)
عاطف صاحب اس روایت کو ضعیف ثابت کرنے کیلئے امام طحاوی کی آدھی عبارت نقل کرتےہیں۔
فکان ہذا الحدیث مما لم یکن بالقوی فی قلوبنا لما سعد بن سعید علیہ فی الروایۃ عنداھل الحدیث ومن رغبتھم عنہ.
یہ ان روایات میں سے ہے جو ہمارے نزدیک قوی نہیں ہے اس لئے کہ اس روایت میں سعد بن سعید ہےجس کی طرف اہل الحدیث(محدثین) رغبت نہیں کرتے تھے۔
(ضعیف الاقوال ،ص:۱۸)

ازالہ:

عاطف صاحب طحاوی حنفی کی آدھی عبارت نقل کرکے خیانت کے مرتکب ٹھہرے ہیں امام صاحب کی مکمل عبارت اس طرح ہے:
فکان ہذا الحدیث مما لم یکن بالقوی فی قلوبنا لما سعد بن سعید علیہ فی الروایۃ عنداھل الحدیث ومن رغبتھم عنہ حتی وجدناہ قد اخذہ من قدذکرنااخذ ایاہ عنہ من اھل الجلالۃ فی الروایۃ والتثبت فیھا فذکرنا حدیثہ لذالک .
اور یہ روایت ہمارے نزدیک قوی نہ تھی کیونکہ اس میں سعد بن سعید ہے جس سے محدثین نے اعراض کیا ہے حتی کہ ہم نے ایسے لوگ پائے جو اہل درایت اور ثبت ہیں انہو ں نے اس (سعد بن سعید) سے روایت کو لیا ہے۔
پس اس لئے ہم نے اس کی حدیث کو ذکرکردیا۔
(شرح مشکل الآثار ۶؍۱۲۱،ح:۲۳۴۰مؤسسۃ الرسالۃ)
معزز قارئین غور فرمائیں امام صاحب تو واضح طور پر فرمارہے ہیں کہ ائمہ حدیث کےک اعراض کی وجہ سے میں نے اس حدیث کو قبول کرنے سے توقف کیا تھا جب دیکھا جھابذہ العلم ائمہ اس روایت کو لینے لگ گئے ہیں تو میں نے بھی اسے درج کردیا طحاوی حنفی کی عبارت کے پہلے ٹکڑے کو لیکر ان کی اس روایت کے مضعفین کی صف میںشامل کرنا خیانت عظمیٰ سے کم نہیں۔

شبہ(۳)

عاطف صاحب ابن المفلح کے حوالے سے لکھتے ہیں :اس روایت کو امام احمد نے ضعیف قراردیا ہے۔(ضعیف الاقوال،ص:۱۸)
ازالہ:
عاطف صاحب کا یہ دعوی بے سند ہونے کی وجہ سے باطل ہے۔ موصوف سے گذارش ہے کہ امام صاحب سے اس روایت کی تضعیف باسند صحیح ثابت کریں کیونکہ علمی دنیا میں ٹھوس دلائل وباسند باتیں چلتی ہیں نہ کہ ہوائی فائر۔

شبہ(۴)

موصوف نے مذکورہ صحیح حدیث کے مضعفین کی فہرست بنائی ہے اس میں انہوں نے حافظ ابن رجب ،ابن عبدالبر اور ابن رشد وغیرہ کے اسماء ذکر کیے ہیں۔(دیکھئے:ضعیف الاقوال،ص:۱۷اور۱۹)
ازالہ:
ان تینوں ائمہ میں سے کسی سے بھی اس روایت کا ضعیف ہونا ثابت نہیں ،بلکہ ابن عبد البر نے تو اس روایت کو صحیح قرار رکھا ہے کمامر۔
محض ان ائمہ کا امام مالک کے متعلق احتمال ذکر کرنے سے ان کے نزدیک اس روایت کی تضعیف کشیدکرنا ظلم عظیم ہے۔
عاطف صاحب کی سینہ زوری
مدینہ طیبہ کے جلیل القدر وعظیم المرتبہ امام مالک بن انسa نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’مؤطا‘‘ میں ان چھ روزوں کا انکار کیا ہے ،امام صاحب کے اس مجردانکار سے عاطف صاحب یہ بات منوانے پر تلے ہوئے ہیں کہ امام صاحب کے نزدیک مذکورہ حدیث ضعیف تھی اسی بناء پر موصوف نے اس حدیث کے مضعین کی جعلی فہرست میں امام صاحب کانام بھی درج کیا ہے۔(ضعیف الاقوال،ص:۱۸)
موصوف مزید لکھتے ہیں:
اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو امام مالک کو کیونکر اس کی بدعت کا خوف ہوتا اور بیشک بدعت کا خوف تب ہوتا ہےجب کہ وہ روایت رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہ ہو۔(ضعیف الاقوال،ص:۱۹)

تبصرہ:

امام مالک کے کلام میں اس روایت کے متعلق ذکر تک موجود نہیں ظن غالب یہ ہی ہے کہ یہ روایت امام مالک a کے علم میں نہیں ہوگی جیسا کہ محدثین وعلماء کرام کی ایک جماعت یہ بیان کرچکی ہے کہ یہ صحیح حدیث امام مالک a تک پہنچی ہی نہیںہوگی ورنہ امام صاحب صحیح حدیث کی موجودگی میں ایسا فتویٰ نہیں دے سکتے ۔
تفصیل کے لئے ملاحظہ کیجئے:(تکملہ صحیح الاقوال ،ص:۶۶)
ہم یہاں بھی یہی کہیں گے کہ ائمہ حدیث کی تصریحات وتوجیہات کے مقابلے میں عاطف صاحب کی بات کی کوئی وقعت ہی نہیں ہے۔
قارئین کرام اصل بات یہ ہے کہ شوال کے چھ روزوں کے استحباب پر دومرفوع روایات اور سیدنا ابوایوب tکا فتویٰ باسند صحیح ثابت ہےان صحیح ادلہ کے پیش نظر کسی کا بھی فتویٰ قابل التفات نہیں۔ جیسا کہ محدث العصر حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں:
’’جب حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو اس کے مقابلے میں ہر کسی کا فتویٰ مردود ہوتا ہے چاہےوہ کتنا ہی بڑا امام ہو۔‘‘
(صحیح الاقوال،ص:۲۹)

سند پر اعتراضات کا جائزہ

قارئین کرام ہم گذشتہ سطور میں صحیح مسلم کی حدیث کی تصحیح ائمہ حدیث سے ثابت کرنے کے ساتھ عاطف صاحب کے شبہات کا جائزہ پیش کیا، اب موصوف کے ان اعتراضات کی طرف آتے ہیں جو انہوں نے اس روایت کی سند پر وارد کیے ہیں ۔

اعتراض(۱)

اس روایت کا کلی دارومدار عمر بن ثابت المدنی پر ہے جو کہ متفرد ہے اور اس کی توثیق معتبر نہیں۔

تجزیہ:

عمر بن ثابت المدنیؒ(تابعی) اگرچہ اس روایت کو بیان کرنے مین منفرد ہیں لیکن انہیں محدثین نے ثقہ قرار دیا ہے، اور ثقہ کا تفرد مضر نہیں ہوتا۔
عمر بن ثابتؒ کی توثیق درج ذیل ائمہ نے کی ہے:
مؤرخ رجال ابوالحسن احمد بن عبداللہ العجلیؒ (المتوفی ۲۶۱)
(تاریخ الثقات ،ص:۳۵۵ ت ۱۲۲۰،دار الکتب العلمیہ)
امام ابوحاتم محمد بن حبان البستی ؒ(المتوفی ۳۵۴)
(کتاب الثقات ۵؍۱۴۹،طبع حیدرآباد دکن)
امام ابوحفص عمر بن احمد بن شاھینؒ (المتوفی ۳۸۵)
(تاریخ اسماء الثقات ،ص:۱۹۶ت ۶۶۶،دار الکتب العلمیہ)
امام ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ الترمذیؒ (المتوفی ۲۷۹)
(جامع ترمذی ،تحت حدیث:۲۵۹)
امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہؒ (المتوفی ۲۲۳)
(صحیح ابن خزیمہ ۲؍۱۰۱۴،المکتب الاسلامی)
امام ابوالحسن مسلم بن حجاج نیشاپوریؒ (المتوفی ۲۶۱)
(صحیح مسلم،ح:۱۱۴۶)
امام ابوعوانہ یعقوب بن سفیانؒ (المتوفی ۳۱۶)
(صحیح ابن عوانہ القسم المفقود،ص:۹۵)
حافظ حسین بن مسعود البغویؒ (المتوفی ۵۱۶)
(شرح السنۃ ۳؍۱۳،دار الکتب العلمیہ)
علامہ ابن عبدالبرؒفرماتے ہیں:
’’وھو من ثقا اھل المدینہ‘‘
(الاستذکار ۳؍۳۸۰،طبع عباس احمد البازمکہ)
حافظ ابن حجر العسقسلانیؒ (المتوفی ۸۵۲) فرماتے ہیں:
ثقۃ.
(التقریب التھذیب :۴۸۷۰)
تلک عشرۃ کاملۃ

تنبیہ(۱)

کسی محدث کا کسی بھی راوی کی منفرد روایت کو صحیح قرار دینا اس کی طرف سے اس راوی کی توثیق ہوتی ہے، یہ اصول صحیح اور برحق ہے تفصیل کیلئے دیکھئے:(صحیح الاقوال ،ص:۲۳، از حافظ زبیر علی زئی)
عاطف صاحب کا اس اصول سے انکار کرنا اصول حدیث سے ناواقفیت ہے، نیز محترم کا یہ کہنا کہ حافظ ابن حجر نے اس اصول کو ذکر نہیں کیا غلط ہے کیونکہ حافظ ابن حجر نے اپنی کتاب ’’تعجیل المنفعۃ‘‘میں دو مقامات پراس اصول کے ذریعے رواۃ کی توثیق کی ہے ۔

تنبیہ(۲)

امام ابوالحسن العجلی اور امام ابن شاھین کا شمار ثقہ وجلیل القدر ائمہ میں ہوتا ہے ہمارے علم کے مطابق ان کو معاصرین (البانی ومعلمی) سے قبل کسی نے بھی تساہل نہیں کہا لہذا ان کی بیان کردہ توثیق معتبر ہوگی والحمدللہ
خلاصہ یہ ہوا کہ عمربن ثابت المدنیؒ(تابعی) محدثین کے ہاں ثقہ ہیں ان پر کسی بھی محدث کی جرح ثابت نہیں۔
اگربالفرض ثابت بھی ہوجائے تو وہ جمہور کے مقابلے میں مضر نہ تھی۔
اصول حدیث کا مشہور ومسلمہ قاعدہ ہے کہ جب کسی راوی کا ثقہ ہونا ثابت ہوجائے تو اس کا تفرد نقصان دہ نہیں یعنی ثقہ راوی کا تفرد مقبول ہوتا ہے۔

اعتراض(۲)

عاطف صاحب لکھتے ہیں :
’’پھر عمربن ثابت سے روایت نقل کرنے میں سعد بن سعید متفرد ہے جس کو علماء نے ضعیف قراردیا ہے۔(ضعیف الاقوال ،ص:۳۹)
تجزیہ:
(۱) سعد بن سعیدبن قیس اگرچہ مختلف فیہ راوی ہے لیکن جمہور محدثین کے نزدیک موثق، حسن الحدیث ہے جیسا کہ امام ابن الملقن (المتوفی ۸۰۴ھ) فرماتے ہیں:
’’فیہ خلف مشہور بل الاکثر علی توثیقہ‘‘
یعنی اس کے ثقہ وضعیف ہونے میں علماء کا اختلاف ہے جب کہ اکثر ائمہ نے اس کی توثیق کی ہے۔(خلاصۃ البدر المنیر ۲؍۹۹،المکتبہ الشاملہ)
(۲)عاطف صاحب کا یہ کہنا کہ عمر بن ثابت سے روایت کرنے میں سعد بن سعید منفرد ہے باطل ہے کیونکہ عمر بن ثابت سے یہ روایت بیان کرنے میں سعدبن سعید کی تین ثقہ رواۃ نے متابعت کررکھی ہے۔
(۱)زید بن اسلم
(شرح مشکل الآثار ،رقم:۲۳۴۳،وسندہ صحیح
زید بن اسلم کا ذکر کرنے والے یوسف بن یزید کامل القراطیسی ثقہ ہیں۔(تقریب التھذیب :۷۸۹۳)
(۲)صفوان بن سلیم
(مسند الحمیدی ۱؍۳۷۰،دار المامون للتراث وسندہ صحیح)

تنبیہ:

زید بن اسلم اور صفوان بن سلیم سے روایت کرنے والاصحیح مسلم کا ثقہ راوی عبدالعزیز درادری ہے۔
عاطف صاحب نے اس ثقہ راوی کو ضعیف ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔(ضعیف الاقوال ،ص:۳۰)
جبکہ عبدالعزیز درادری جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ ہے۔ تفصیل کیلئے دیکھئے:(مقالات حافظ زبیر علی زئی۳؍۳۲۸)
(۳)یحی بن سعید بن قیس الانصاری
(مسند الحمیدی ۱؍۳۷۰،دار المامون للتراث وسندہ صحیح)
بعض نے اس سند پر بھی بے جا اعتراضات کیے ہیں جن کا علمی جواب محدث العصر حافظ زبیر علی زئی دے چکے ہیں، (دیکھئے صحیح الاقوال ،ص:۲۶)
خلاصہ یہ ہوا کہ سعد بن سعیدبن قیس جمہور ائمہ کے نزدیک ثقہ و حسن الحدیث ہیں اگربالفرض ان کو ضعیف بھی تسلیم کرلیا جائے تو بھی ان کا ضعف مضر نہیں کیونکہ ان کی 3ثقہ رواۃ نے متابعت کررکھی ہے۔
(والحمدللہ)

اس لئے سعد بن سعید بن قیس(ثقۃ عندالجمہور) کا بہانہ بناکر اس صحیح حدیث پر حملہ کرنا باطل ہے۔

صحیح مسلم کی روایت کا صحیح شاہد

سیدنا ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صیام شھر بعشرۃ اشھر وستۃ ایام بعد ھن بشھرین فذالک تمام سنۃ‘‘
یعنی رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں اس کے بعد چھ روزے دومہینوں کے برابرہیں۔
اس طرح سے پورے سال کے روزے بنتے ہیں۔
(سنن دارمی ۲؍۴۳،ح۱۷۵۵،قدیمی کتب خانہ )
اس روایت کو امام ابن حبان (۳۶۳۵)اور امام ابن خزیمہ (۲۱۱۵)وغیرہ نے صحیح کہا ہےاس کی سند میں موجود راوی ابواسماء عمرو بن رشد الرجیٰ ثقہ ہے۔ (تقریب التھذیب :۵۱۰۹)
اور اسے مجھول کہنا غلط ہے۔

خلاصۃ التحقیق

اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہوا کہ شوال کے چھے روزے کے استحباب پر صحیح مسلم کی روایت صحیح ہے کیونکہ ائمہ حدیث نے اسے صحیح کہا ہے اور کسی بھی محدث نے اس حدیث کی تضعیف نہیںکی۔
اس روایت کے مرکزی راوی عمر و بن ثابت المدنی کا شمار اہل مدینہ کے ثقات میں ہوتا ہے اس سے روایت کرنے والے ۴ثقہ رواۃ ہیں علاوہ ازیں اس کا صحیح شاہد بھی موجود ہے۔
لہذا یہ حدیث اصول محدثین کی روشنی میں صحیح ثابت ہوئی اسے ضعیف کہنا اصول محدثین سے انحراف ہے۔
vvvvvvvvvvvvvv

About محمدابراھیم ربانی

Check Also

امام ترمذی رحمہ اللہ کا تساہل علماءاحناف کی نظر میں

امام ترمذی رحمہ اللہ کا مقام ومرتبہ کسی بھی ذی علم سےاوجہل نہیں، امام صاحب …

جواب دیجئے