Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جولائ » شیخ عبدالرحمٰن السدیس

شیخ عبدالرحمٰن السدیس

ادارہ


شیخ عبدالرحمٰن السدیس
مسجد حرام کے سینئرترین امام وخطیب



شیخ عبدالرحمن السدیس کا شمار عالم اسلامی کے مشہور وممتاز قرائے کرام میں ہوتا ہے۔ آپ کامخصوص لہجہ دنیا بھر میں اس قدر مقبول ہے کہ سب سے زیادہ آپ ہی کے لہجے کی نقل کی جاتی ہے۔ شیخ سدیس ان قراء میں سے ہیں جن کی سریلی آواز میں تلاوت سب سے زیادہ سنی جاتی ہے، جبکہ اردو سمیت مختلف زبانوں میں ترجمہ کے ساتھ ان کی آواز میںپورے قرآن کریم کی ریکاڈنگ مختلف ریڈیواسٹیشنوں سے بھی نشر ہوتی ہے۔ وہ حفص عن عاصم الکوفی کی روایت میں قرأت کرتے ہیں۔ شیخ سدیس 2005ء سے عام اسلامی کی 5سو بااثرشخصیات کی فہرست میں شامل ہیں، وہ مسجد حرام کے سب سے سینئر امام وخطیب ہیں جبکہ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کی نگران کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز ہیں، سعودی عرب میں یہ عہدہ وفاقی وزیر کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ شیخ سدیس اور شیخ شریم چونکہ مسجد حرام کے سینئر ترین امام ہیں، اس لئے حرمین شریفین میں انہیں’’شیخین‘‘ کے لقب سے پکاراجاتا ہے۔ شیخ عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس 10فروری 1960ء کو سعودی دار الحکومت ریا ض میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق مشہور قبیلہ عنزہ سے ہے ۔ ان کا آبائی علاقہ سعودی عرب کا شہر القصیم ہے۔ شیخ سدیس کی کنیت ابوعبدالعزیز اور لقب ’’السدیس‘‘ ہے ،شیخ سدیس نے بچپن ہی میں ریاض کے ایک تعلیمی ادارے سے بارہ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا۔انہوں نے ابتدائی تعلیم مثنی بن حارثہ ایلیمنٹری اسکول ریاض میں حاصل کی۔ 1979ء میں ریاض سائنفکٹ انسٹی ٹیوٹ سے گریجویشن کی۔1983ء میں ریاض یونیورسٹی سے شریعہ کی ڈگری حاصل کی۔ 1987ء میں امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی سے ماسٹر کیا،جبکہ ڈاکٹریٹ کی سند 1995ء میں ام القریٰ یونیورسٹی مکہ مکرمہ سے حاصل کی۔ اور بعدازیں اسی جامعہ میں معین مدرس کی حیثیت سے تدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔ شیخ سدیس کو 23مئی1984ء میں(رمضان المبارک میں)شاہی فرمان کے تحت مسجد حرام میں امام مقررکیاگیا۔ اس مبارک عہدے پر فائز ہوکر انہوں نے سب سے پہلے عصر کی نماز پڑھائی۔
اسی سال رمضان میں انہوں نے مسجدحرام میں پہلاخطبہ جمعہ بھی دیا۔ شیخ سدیس منصب امامت پر فائز ہوتے ہی اپنے مخصوص لہجے اور کانوں میں رس گھولنے والی آواز کے سبب پوری دنیا میں مشہور ہوگئے، شیخ سدیس کے تقویٰ اور خشیت الٰہی کا یہ عالم ہے کہ وہ اکثروبیشتر نمازوں کے دوران روتے رہتے ہیں، وہ رمضان المبارک میں ختم القرآن کے موقع پر رقت آمیز طویل دعا کراتے ہیں، جس میںشریک 20لاکھ سے زائد افراد میں کوئی ایسا نہیں ہوتا ،جس کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب نہ بہتاہو۔ گذشتہ حج(ذی الحج 1437ھ) کے موقعہ پر سعودی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ کی خرابی صحت کے باعث پہلی بار شیخ سدیس نے عرفات میں حج کا خطبہ بھی دیا۔ 1433ھ میں شیخ سدیس کو امورحرم مکی ومدنی کی صدارت کامنصب عطاکیاگیا، 17جمادی الثانی1433ھ کو منگل کے روز شاہی فرمان جاری ہوا،جس میں سابق صدر صالح بن عبدالرحمن الحصین کی صحت کی خرابی کے پیش نظر ان کا استعفیٰ قبول کرتے ہوئے، شیخ عبدالرحمن السدیس کو ان کی جگہ صدر مقررکیاگیا۔
شیخ عبدالرحمن السدیس اپنی خوبصورت آواز اور قرآن کریم کی بہترین اور پراثرتلاوت کے علاوہ اپنے زوردار خطبوں کی وجہ سے بھی شہرت رکھتے ہیں جو وہ امت مسلمہ کی حالتِ زار پر حرم مکی میں دیتے ہیں، ان کے دل میں امتِ مسلمہ کا بہت درد ہے، جس کا اظہار ان کے خطبات اور دعاؤں سے ہوتا ہے۔ شیخ سدیس کے گرانقدر خطبات کو کتابی شکل میں بھی شایع کیا جارہا ہے ،ا ب تک کئی جلدیں منظر عام پرآچکی ہیں۔
2007ء میں شیخ سدیس نے پاکستان کا دورہ کیا۔جہاں ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا، شیخ سدیس کی آواز میں اللہ نے بڑی تاثیر رکھی ہے۔ دنیا میں متعدد افراد پورا قرآن کریم صرف ان کی ریکارڈنگ سن کر حفظ کرچکے ہیں اور متعدد غیرمسلم ان کی تلاوت سن کر اسلام کی طرف راغب ہوئے ہیں۔ یوٹیوب میں ایک امریکی نوجوان کی اپنی ویڈیو اپ لوڈ ہے، جس میں وہ امریکی سڑکوں پرگھومتا ہے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو شیخ سدیس کی تلاوت سناکران سے پوچھتا ہے کیسے لگا؟ان تمام افراد کا کہناہے کہ اس کلام کا ان کے دل پر عجیب اثر ہوا۔ ایک امریکی جو خود کوملحد بتاتا ہے، شیخ سدیس کی تلاوت سن کر دھاڑیں مار مار کررونے لگتا ہے۔
شیخ سدیس کا امام حرم بننے کا واقعہ بھی بڑا عجیب ہے، انہوں نے حرم شریف میں خطبہ کے دوران ایک مرتبہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اے ماؤں اپنی اولاد کے بارے میں اللہ سے ڈرتی رہو، چاہے کتنا ہی غصہ کیوںنہ ہو، ان کیلئے منہ سے خیر کا کلمہ ہی نکالاکرو، اولاد کو لعن طعن ،سب وشتم اور بددعائیں دینے والی مائیں سن لیں کہ والدین کی ہر دعاوبددعا قبول کی جاتی ہے۔ ایک لڑکا ہوا کرتا تھا، اپنے ہم عمرلڑکوں کی طرح شرارتی، چھوٹی موٹی غلطیاں کرنے والا۔ مگر ایک دن شاید غلطی اور شرارت ایسی کربیٹھا کہ اس کی ماں کو طیش آگیا، غصے سے بھری ماں نے لڑکے سے کہا: چل بھاگ ادھر سے اللہ تجھے حرم شریف کا امام بنائے۔ یہ بات بتاتے ہوئے شیخ سدیس پھوٹ پھوٹ کر رودیئے، ذرا ڈھارس بندھی تو رندھی ہوئی آواز میں بولے: اے امت اسلام!دیکھ لو وہ شرارتی لڑکا میں کھڑا ہوں تمہارے سامنے۔
اپنی والدہ کی وفات کے بعد ایک انٹرویوکے دوران انہوں نے اپنی اس شرارت ، جس پر ان کی ماں نے ’’بددعا‘‘دی تھی کے بارے میں بتایا کہ میری والدہ، والدصاحب کیلئے کھانا تیار کررہی تھی، اس دوران میں مٹی میں کھیل رہا تھا اور میں مٹھی بھرمٹی تیارشدہ سالن میں ڈال کر بھاگ گیا۔جس پر والدہ نے طیش میں آکر مجھے یہ ’’بددعا ‘‘دی۔
شیخ عبدالرحمن السدیس اتنے عظیم مرتبے پر فائز ہونے کے باوجود تواضع وانکساری وعاجزی وملنساری میں اپنا ثانی نہیںرکھتے، وہ کبھی معذورین حجاج ومعتمرین کی وہیل چیئر چلاتے دیکھے جاتے ہیں اور کبھی انہیں حرم شریف کے غریب خدام کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر افطارکرتے ہوئے بھی دیکھاجاسکتا ہے۔ اور بسااوقات وہ ان خدام کے جلو میں مطاف شریف کی صفائی کرتھے بھی دکھائی دیتے ہیں۔
(بشکریہ روزنامہ امت کراچی مورخہ 30مئی2017ء)

About ادارہ

Check Also

ہمارے استاذ محترم شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کے متعلق درجہ ثامنہ کے طلبہ کے مشاہدات،جذبات اور احساسات

  ہمارے استاذ محترم اور والد کا مقام رکھنے والے انسان فضیلۃ الشیخ ذوالفقار علی …

جواب دیجئے