Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مارچ » اربعینِ نووی حدیث نمبر:22 قسط:50

اربعینِ نووی حدیث نمبر:22 قسط:50

حدیث نمبر:22
قسط:50

عَنْ أَبيْ عَبْدِ اللهِ جَابِرِ بنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النبيﷺفَقَالَ: "أَرَأَيتَ إِذا صَلَّيْتُ المَكْتُوبَاتِ، وَصُمْتُ رَمَضانَ، وَأَحلَلتُ الحَلاَلَ، وَحَرَّمْتُ الحَرَامَ، وَلَمْ أَزِدْ عَلى ذَلِكَ شَيئاً أَدخُلُ الجَنَّة؟ قَالَ: نَعَمْ” رواه مسلم
أخرجه مسلم كتاب: الإيمان، باب: بيان الإيمان الذي يدخل الجنة وأن من تمسك بما أمر به دخل الجنة، (18) .
ترجمہ:ابوعبداللہ جابر بن عبداللہ الانصاریtسے مروی ہے، ایک شخص نےرسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا:مجھے بتایئے ،اگرمیں فرض نمازیں اداکرتارہوں،رمضان کے روزے رکھتارہوں، حلال امور کو (حلال سمجھتے ہوئے)اپناتارہوں،اورحرام کاموں سے (حرام قرار دیتے ہوئے )بچتارہوں،اورمزید کچھ نہ کرپاؤں،توکیا میں جنت میں داخل ہوسکوںگا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں۔
امام نووی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:(حَرَّمْتُ الحَرَامَ)کامعنی: حرام امور سےبچاؤاختیارکرناہے،جبکہ (أَحلَلتُ الحَلاَلَ)کا معنی: حلال امور کو حلال سمجھتے ہوئے اختیارکرلیناہے۔
اس حدیث کے راوی سیدنا جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام الانصاری ہیں،ان کے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بھی صحبت کا شرف حاصل ہے،بلکہ بیعتِ عقبہ والوں میں بھی شامل تھے،جابررضی اللہ عنہ جنگِ بدراور جنگِ اُحد کے علاوہ تمام جنگوںمیں شریک رہے،ان کااپنابیان ہےکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انیس جنگوں میںحصہ لیا،بدرواُحد میں والد کی اجازت نہ ملنے کی بناء پر شریک نہ ہوسکے،ان کا کثیر الروایت صحابہ میں شمارہوتاہے۔سن۷۸ہجری میں مدینہ منورہ میں بعمر ۹۴ سال انتقال ہوا،مسجد نبوی میں ایک عرصہ علمی دروس کا سلسلہ قائم رکھا۔
فرضی اللہ عنہ وأرضاہ.
شرحِ حدیث
سیدنا جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی آمد کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک انتہائی اہم سوال کرنے کا ذکرفرمایاہے، اس شخص کانام مذکور نہیں ہے، ویسے بھی اصل غرض اس کے نام کی معرفت نہیں،بلکہ ان امور کی معرفت ہے جو اس کے سوال کرنے کی بناء پر نبیصلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوئے،ویسے صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس شخص کا نام (نعمان بن قوقل)واردہے۔(صحیح مسلم،الرقم:15)
اس شخص نے اپنے سوال میں چارامور کا ذکرکیا،پھر نبیuسے استفسارکیا کہ اگر میں پوری پابندی کے ساتھ ان چار امور کو اپناتارہوں تو مجھے جنت کاداخلہ حاصل ہوجائےگا؟
یہاں دوبڑی اہم باتیں سامنے آرہی ہیں،ایک یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کے اندردینی استفسارات کی کتنی شدید حرص تھی،اور دوسری بات یہ کہ جنت کا حصول ان کی اصل غایت تھی،چنانچہ تمام تر فقروفاقہ کے باوجود ان کے ہرسوال کا ہدف اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی اور جنت کی طلب ہوتا،تبھی تو اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کو ایمان کو پوری امت کیلئے ایک مثالی ایمان قرار دیا ہے:[فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اھْتَدَوْا۝۰ۚ ](البقرۃ:۱۳۷)
ترجمہ:(اے صحابہ!)اگر وه تم جیسا ایمان ﻻئیں تو ہدایت پائیں۔
ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ کا واقعہ بھی ایک زبردست نظیر کے طور پر پیش کیاجاسکتاہے،جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا:(إسأل ماذا ترید؟)یعنی:جو مانگناچاہتے ہومانگ لو۔
انہوں نے عرض کیا:(اسألک مرافقتک فی الجنۃ)یعنی: میںجنت کے اندر آپ کی رفاقت کاسوال کرتاہوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(أوغیرذلک) اس کے علاوہ بھی کچھ چاہئے؟ عرض کیا:(ھوذاک)بس یہی ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(فاعنی علی نفسک بکثرۃ السجود) یعنی:بہت زیادہ سجدوں (یعنی نوافل) کے ساتھ میری مدد کرو۔
مقامِ غور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیعہ بن کعب سے مطلقاً فرمایا تھاکہ جوچاہومانگ لو،ربیعہ چاہتے تو دنیا وآخرت سے متعلق بہت سے امور کی فہرست پیش کردیتے،لیکن انہوں نے صرف طلبِ جنت پر اکتفاء کیا اور امورِ دنیا کی طرف کوئی التفات نہ کیا،حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوبارہ فرمانے پربھی ،کسی درہم ودینار یا جانوروں کے ریوڑیا کھیتی باڑی کا کوئی سوال نہ کیا،بلکہ طلبِ جنت جو سب سے اعلیٰ غایت قرار پاتی ہےپر ہی اکتفاء کیے رکھا۔
سائل نعمان بن قوقلt نے جن چار امور کا ذکرکیا وہ درج ذیل ہیں:
1 (اذاصَلَّيْتُ المَكْتُوبَاتِ)
مکتوبات سے مراد فرض نمازیںہیں،جن کی تعداد پانچ ہے۔
2 (وَصُمْتُ رَمَضانَ)
یعنی: رمضان کے روزے رکھتارہوں۔
3 (وَأَحلَلتُ الحَلاَلَ)
یعنی: حلال امور کو حلال جانتے ہوئے اپنائے رکھوں۔
)4وَحَرَّمْتُ الحَرَامَ)
یعنی: حرام امورسے حرام جانتے ہوئے اجتناب کرتارہوں۔
سائل کا سوال یہ تھاکہ ان چارامور کی مکمل پابندی اختیار کرلینے سے جنت حاصل ہوسکتی ہے؟آپ نے فرمایا:(نعم)یہ حرفِ اثبات وایجاب ہے،جس کامعنی یہ ہے:ہاں،ان چار امور کی پابندی کرلینے سے تم جنت میں داخل ہوجاؤگے۔
واضح ہو کہ اس حدیث مبارک میں زکاۃ اور حج کاذکرنہیں ہے؟
اس کی دووجوہات ہوسکتی ہیں:
ایک یہ کہ ممکن ہے اس وقت حج فرض نہ ہواہواور جہاںتک زکاۃ کا تعلق ہے توممکن ہے کہ وہ فقیرہو،اور اس کے پاس اتنا مال ہی نہ ہو کہ وہ زکاۃ دینے کے قابل ہوسکے۔
دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ(وَأَحلَلتُ الحَلاَلَ) میںحج اور زکاۃ بھی داخل ہوسکتے ہیں۔
واضح ہو کہ اس حدیث میں سائل نے جن چندامورکا ذکر کیا ہے، ان کا تعلق فرائض وواجبات سے ہے،مستحبات کاکوئی ذکرنہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ فرائض وواجبات پر اکتفاء کرلینےنیز محرمات سے اجتناب اختیارکرلینے سے بھی جنت حاصل ہوسکتی ہے۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مستحبات یانوافل کو کوئی اہمیت نہ دی جائے،ان کی اپنی جگہ بڑی اہمیت ہے ،سب سے بڑی ضرورت واہمیت یہ ہے کہ فرائض وواجبات میں واقع ہونے والی کمی،نوافل ومستحبات کے ساتھ پوری کی جائے گی،اس مضمون کی احادیث بھی وارد ہیں۔
عن ابی ھریرۃ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: «إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الصَّلَاةُ»، قَالَ: ” يَقُولُ رَبُّنَا جَلَّ وَعَزَّ لِمَلَائِكَتِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ: انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا؟ فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً، وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ، قَالَ: أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَاكُمْ”
ترجمہ:ابوہریرہtسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بے شک قیامت کےدن بندوں کے اعمال میں سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیاجائےگا،چنانچہ اللہ رب العزت اپنے فرشتوں سے فرمائے گاحالانکہ وہ سب کچھ خوب جاننے والاہے:میرے بندے کی نمازوں کودیکھو،مکمل ادا کی ہیں یا ناقص؟اگر نمازیں مکمل ہوئیں تو نامۂ اعمال میں مکمل لکھی دی جائیں گی،اگران میں کچھ نقص ہوا،تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا:دیکھومیرے بندے نے نوافل اداکیے تھےیانہیں؟اگر نوافل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے بندے کے فرائض کی کمی کو اس کے نوافل سے پوراکردو،پھر بقیہ اعمال کاحساب بھی اسی اسلوب سے ہوگا۔(ابوداؤد:ـ864،جامع ترمذی:413)
خلاصہ یہ ہوا کہ اگرچہ فرائض پراکتفاء کرلینے سے جنت کاحصول ممکن ہے لیکن نوافل کی اہمیت اس لحاظ سے بہت زیادہ ہے کہ فرائض کی کمی ،نوافل سے پوری کی جائے گی،کون انسان یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس کے فرائض ہرلحاظ سے کامل ہیں؟
پھر نوافل کی ادائیگی بندے کی شدتِ حرص کی دلیل ہے نیز اس کی طلب کے سچاہونے کاثبوت ہےاور طلب کی شدت بہت زیادہ موجب اجر بنتی ہے۔
اس کے علاوہ نوافل کی محافظت ومداومت کی برکت سے فرائض کی ادائیگی کی منجانب اللہ توفیق میسر ہوسکتی ہے،چنانچہ نوافل کی حفاظت کرنےوالافرائض کی بالاولیٰ حفاظت کرے گا،جبکہ نوافل کو ضایع کرنے والا،فرائض کے ضیاع کامرتکب ہوسکتا ہے۔
یہ حدیث خصوصیت کے ساتھ دواعمال کی اہمیت کی دلیل ہے:ایک نماز ،جسے ایک دوسری حدیث میں اسلام کا مرکزی ستون قرار دیاگیا ہے،جبکہ دوسرا عمل روزہ ہے جوشرعاً بہت سے خصائص وفضائل کامجموعہ ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی واضح ہوا کہ امورِحلال کو واقعۃً حلال سمجھ کر اختیارکیاجائے جبکہ امورِ حرام کو حرام جانتے ہوئے ان سے اجتناب برتا جائے۔
مثال کے طور پہ ایک شخص شراب نہیں پیتا ،اس لئے کہ وہ طبعاً شراب سے نفرت کرتا ہے ،توایسے انسان کا شراب نہ پینا باعثِ اجر نہیں، ہاں جوشخص اس لئے شراب نہیں پیتا کہ اسے اللہ رب العزت نے حرام قرار دیا ہے،اور حرام سمجھتے ہوئے شراب سے اجتناب برتتاہے،تو اس شخص کا شراب نہ پینا باعثِ اجروثواب قرارپائے گا۔
یہ حدیث صوفیاء کے ایک باطل مفروضے کا بھی رد کررہی ہے، صوفیاء کاکہنا ہے کہ جنت کی طلب یا جہنم سے بچاؤکی نیت سے عبادت نہیں کرنی چاہئے،ورنہ یہ عبادت ایک غرض اور لالچ پر قائم ہوگی۔یہ نظریہ انتہائی فرسودہ ،باطل اور مردود ہے۔
چنانچہ سائل نے چارامور ذکرکرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:کہ میں ان چارامور کی ادائیگی سے جنت میں داخل ہوسکوں گا؟
اگر حصولِ جنت کی غرض سے عبادت جائز نہ ہوتی توآپصلی اللہ علیہ وسلم اس کاسوال ہی مسترد فرمادیتے،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا (نعم) کے ساتھ ایجابی جواب دینا اس امر کی دلیل ہے کہ طلبِ جنت کیلئے عبادت کرنا ہی اصل ہدف،غایت اور مقصد ہے،صوفیاء کا مزعومہ عقیدہ باطل اورمذموم ہے،اور اس کا کوئی شرعی اصل نہیں ہے۔
ابراہیم خلیل اللہuکی مندرجہ ذیل دعا کا کیاجواب دوگے:
(واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم)
اے اللہ !مجھے جنۃ النعیم کے وارثوں میں سے بنادے۔
گویا جنت کی طلب اصل مقصودِ عبادت ہے ،واللہ تعالیٰ المستعان وعلیہ التکلان وھو وحدہ ولی التوفیق
(جاری ہے)

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعین نووی حدیث نمبر25قسط57

عَنْ أَبي ذَرٍّ رضي الله عنه أَيضَاً أَنَّ أُنَاسَاً مِنْ أَصحَابِ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالوا …

جواب دیجئے