Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مارچ » داڑھی بڑھانا ہی مشروع ومسنون ہے قسط:1

داڑھی بڑھانا ہی مشروع ومسنون ہے قسط:1

 قسط:1

حال ہی میں مجلہ ضیائے حدیث لاہور میں حافظ عمران الٰہی صاحب کامقالہ :’’مشت سے زائد داڑھی کاحکم‘‘ شایع ہوا۔جس میں مقالہ نگار نے مشت سے زائد داڑھی کاٹنے کاجواز ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کی ہے۔
ہماراخیال ہے کہ اگر موصوف اس موضوع پر قلم اٹھانے سے قبل فریق مخالف کے دلائل سے غیرجانبدارانہ طور پر مکمل آشنائی حاصل کرتے اور اس اثناء میں جماعت کے مشائخ سے مشاورت بھی کرلیتے تو ان کو اس مسئلے پرلکھنے کی نوبت ہی پیش نہ آتی یا کم از کم بکثرت اغلاط کے مرتکب نہ ٹھہرتے۔لیکن موصوف نے عدم تدبر کی بناء پر محض بعض اسلاف کے عمل کو سامنے رکھتے ہوئے جماعت اہل حدیث کے (تقریباً) اتفاقی موقف کی مخالفت میں کئی اوراق سیاہ کردیئے۔ نتیجتاًموصوف نہ صرف جماعت میں انتشار کا سبب بنے بلکہ سادہ لوح عوام کوبھی الجھن میں مبتلاکردیااور اسی طرح اراکین مجلہ ضیائے حدیث کے لئے بھی یہ بات لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اس طرح کا مواد شایع کرکے اصلاح کے بجائے انتشار کاباعث بن رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کوباعثِ اصلاح بنائے اور انتشار پھیلانے سے محفوظ رکھے۔آمین
مختصر سی تمہید کے بعد ….
داڑھی کو اپنی حالت پر چھوڑنے کے دلائل اور حافظ عمران الٰہی کی طرف سے ان پر وارد شدہ اعتراضات کا جائزہ سپرد قرطاس ہے۔
داڑھی کوبڑھانے کاحکم
فقیہ الامۃ سیدناابوھریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جزوا الشوارب وارخوا اللحی خالفوا المجوس .
(صحیح مسلم،کتاب الطھارۃ، باب خصال الفطرۃ ،الرقم:۲۶۰)
یعنی: مونچھوں کوکاٹواور داڑھیوں کو بڑھاؤ اورمجوسیوں کی مخالفت کرو۔
سیدنا عبداللہ بن عمرwسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
انھکوا الشوارب وأعفوا اللحیٰ. (صحیح بخاری، کتاب اللباس، باب تقلیم الاظفار،الرقم:۵۸۹۲)
یعنی: مونچھوں کواچھی طرح کاٹواور داڑھیوں کو بڑھاؤ۔
یہی روایت ابن عمرwسے درج ذیل الفاظ کے ساتھ بھی مروی ہے:خالفوا المشرکین وفروا اللحیٰ واحفوا الشوارب.
(صحیح بخاری،الرقم:۵۸۹۲)
یعنی:مشرکین کی مخالفت کرو ،داڑھیوں کووافرکرو اور مونچھوں کوکاٹو۔
خالفوا المشرکین واحفوا الشوارب واوفوا اللحی. (صحیح مسلم،الرقم:۲۵۹)
یعنی:مشرکین کی مخالفت کرو،مونچھوں کوخوب کاٹو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ۔
اور اسی طرح عبداللہ بن عمرw رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں:انہ امر باحفاء الشوارب واعفاء اللحیۃ.
(صحیح مسلم،کتاب الطھارۃ، باب خصال الفطرۃ )
یعنی:آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو(اللہ کی طرف سے) مونچھیں کاٹنے اورداڑھی بڑھانے کاحکم ہواہے۔
مزید دلائل کے لئے محدث دیار سندھ شیخ العرب والعجم علامہ بدیع الدین شاہ الراشدی کی کتاب’’اسلام میں داڑھی کامقام‘‘ کی طرف رجوع کریں۔
مندرجہ بالااحادیث میں داڑھی کوبڑھانے کاحکم بذریعہ صیغہ امر وارد ہوا ہے، اصول فقہ کامشہور ومسلمہ اصول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاصیغہ امر کے ساتھ حکم دینا فرضیت ووجوب کاتقاضا کرتاہے۔
(انظر کتب الاصول)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو فرضیت سے پھیرنےکیلئے صحیح دلائل کی ضرورت ہے۔ جب تک داڑھی کاٹنے کی استثناء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں کی جاتی تب تک اس حکم سے وجوب ہی سمجھاجائیگا۔
احادیث میں موجود الفاظ کے معانی
درج بالااحادیث میں داڑھی کی فرضیت پر دال الفاظ کے متعلق حافظ عمران الٰہی صاحب لکھتے ہیں:
…..کسی لفظ کے یہ معنی نہیں کہ داڑھی کومعاف کردویاداڑھی کو اس کے حال پرچھوڑدو۔(ضیائے حدیث جلد۲۵شمارہ۱۰،ص:۴۷)
تجزیہ:
احادیث میں موجود تمام تر صیغے(اعفوا،ارخوا، وفروا وغیرہ) کے معانی داڑھی کولمباکرنا،بڑھانا،لٹکانا اور اپنے حال پر چھوڑ دینے کے ہیں۔اور اسی طرح ’’اعفوا‘‘ کا معنی معاف کرنا بھی ہے۔
اللہ جل شانہ کافرمان ہے:[وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا۝۰ۚۖ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِہِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُمُ الْحَقُّ۝۰ۚ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللہُ بِاَمْرِہٖ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝۱۰۹ ](البقرۃ:۱۰۹)
ترجمہ:ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے محض حسد وبغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں، تم بھی معاف کرو اور چھوڑو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم ﻻئے۔ یقیناً اللہ تعالے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
موصوف کے مذکورہ دعوے کی تردید میں شارحین حدیث ،علماء لغت ودیگر اہل علم کی چندعبارتیں پیش خدمت ہیں۔
nشارح مسلم یحیٰ بن شرف الدین النووی(المتوفی ۶۷۶) ان صیغ (اعفوا ،اوفروا، ارخوا، ارجووفرو) کے معنی بیان کرتے ہوئےفرماتے ہیں:’’ومعناہ کلھا ترکھا علی حال ھذا ھو الظاہرمن الحدیث الذی یقتضیہ الفاظہ وھو الذی قالہ جماعۃ من اصحابنا وغیرھم من العلماء ‘‘
(شرح مسلم ۲؍۳۸دار الکتب العلمیۃ)
یعنی: ان سب کا معنی یہ ہے کہ داڑھی کو اپنی حالت پرچھوڑا جائے اور حدیث کے الفاظ سے بھی یہی معنی ظاہر ہورہاہے۔اور اسی طرح ہمارے اصحاب کی ایک جماعت ودیگر اہل علم کا بھی یہی قول ہے۔
nجلال الدین عبدالرحمٰن بن ابی بکر السیوطی(المتوفی ۹۱۱) اوفوا اللحیٰ کےمتعلق لکھتے ہیں:’’وھو بمعنی اعفوا ای اترکوھا وافیۃ کاملۃ لا تنقصوھا .‘‘(الدیباج ۲؍۳۸ مطبع بیروت)
یعنی:اوفوا اللحیٰ بھی اعفوا کے معنی میں ہے یعنی اسے اس کی پوری اور کامل حالت پر چھوڑ دو اسے کم نہ کرو۔
اور اسی طرح ارخوا اللحیٰ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ای اترکوھا ولا تعرضولھا بتغیر.
اسےچھوڑ دو اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرو۔(ایضا)
nشارح بخاری حافظ احمد بن علی بن حجر العسقلانی (المتوفی ۸۵۲) لفظ :’’اوفوا‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’اوفو ای اترکوھا وافیۃ ‘‘(فتح الباری ۱۰؍۳۵۰ ،دار السلام)
یعنی:داڑھی کو مکمل طورپر چھوڑدو۔
اور اسی طرح اعفوا کا معنی ترک یعنی چھوڑ دینا کیا ہے۔(ایضا)
nامام ابوالسعادات مبارک بن محمد بن اثیر الجزری (المتوفی۶۰۶)لفظ :’’اعفاء‘‘کے متعلق بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’وفیہ انہ امر باعفاء اللحیٰ ھو ان یوفر شعرھا ولا یقص کالشوارب من عفا الشیٔ إذا کثر وزاد یقال اعفیتہ وعفیتہ‘‘(النھایۃ فی غریب الحدیث ۲؍۲۲۹دار المعرفہ بیروت)
یعنی:اس معنیٰ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ’’اعفاء اللحیۃ‘‘ کا حکم دیا اور وہ داڑھی کے بالوں کو بڑھانا اور مونچھوں کی طرح نہ کاٹنا ہے یہ ’’عفا الشیٔ‘‘ سےماخوذ ہے جب کوئی چیز بکثرت زیادہ ہوتواعفیتہ اور عفیتہ کہاجاتاہے۔
nعلامہ محمد عبدالرحمان بن عبدالرحیم مبارکپوری(المتوفی ۱۳۵۳)فرماتے ہیں:’’وقد حصل من مجموع الاحادیث خمس روایات اعفوا واوفروا وارخوا وارجوا ووفروا ومعناھا کلھا ترکھا علی حال ‘‘
(تحفۃ الاحوذی ۱؍۳۸،دار الکتب العلمیہ)
یعنی: کل پانچ روایات میں موجود الفاظ:( اعفوا واوفروا وارخوا وارجوا ووفروا)کا معنی یہ ہے کہ داڑھی کو اپنے حال پر چھوڑ دیاجائے۔
nعلامہ صفی الرحمان مبارکپوری(۲۰۰۶ھ)لفظ: ’’اعفوا‘‘ کے متعلق فرماتے ہیں:’’اعفوا ای اترکرھا وافرۃ کثیرۃ وذالک بان لاتقصوھا ‘‘(منۃ المنعم ۱؍۲۰۲،دارا لسلام)
یعنی: اعفوا کا معنی یہ ہے کہ داڑھی کو وافر مقدار میں چھوڑ ودو۔ اس طرح کہ داڑھی سے کچھ بھی نہ کاٹو۔
اور اسی طرح لفظ::’’اوفوا‘‘کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’اوفوا ای اترکرھا وافیۃ کاملۃ غیر منقوصۃ‘‘(ایضا)
یعنی :داڑھی کو بغیر کاٹے مکمل چھوڑ دو۔
اور پھرلفظ:’’ارخوا‘‘کے بارے میں فرماتے ہیں:’’وھو ترکھا علی طولھا وعدم التعرض لھا ‘‘(ایضا)
یعنی :داڑھی کو اس کی لمبائی پر ہی چھوڑ دیاجائےاور اس میں کچھ بھی تبدیلی نہ کی جائے۔
nامام عبدالرؤف المناوی(المتوفی۱۰۳۱ھ) رماتے ہیں:’’واعفاء اللحیۃ ای اکتارھا بلانقص والمراد عدم التعرض لھا بشیٔ منھا‘‘(فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ۴؍۳۱۶طبع بیروت)
یعنی:اعفاء اللحیۃ کامطلب داڑھی کو بغیر کسی کمی کرنے کے بڑھانا اور اس سے مراد یہ ہے کہ بالوں سے کچھ بھی نہ لیاجائے۔
nعلامہ محمدحیات سندھی (المتوفی ۱۱۳۶)علامہ ابن ارسلان (المتوفی ۸۴۴)کے حوالے سے لکھتےہیں:
’’اعفاء اللحیۃ بالمد وھو توفیرھا وترکھا بحالھا ولایقص منھا ولا یاخذ شیئا کعادۃ الکفار والقلندریہ‘‘(اعفاء اللحیٰ للشیخ محمدحیات السندی بحوالہ اسلام میں داڑھی کامقام،ص:۲۳)
یعنی:اعفاء اللحیۃ سےمراد داڑھی کو بڑھانا اور اس کو اپنی حالت پر چھوڑ دینا ہے اورداڑھی سےکچھ بھی نہ کاٹاجائے جیسا کہ کفار اور قلندریہ (بے دین فرقہ)کی عادت ہے۔
nسعودی عرب کے جید عالم دین علامہ عبدالمحسن العباد ’’اعفاء اللحیۃ‘‘کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ترکوھا موفرہ ولا یتعرض لھا بحلق ولا بتقصیر لا بقلیل ولابکثیر‘‘
(شرح السنۃ ابی داؤد ،شیخ عبدالمحسن تحت حدیث:۵۳)
یعنی:داڑھی کو بہت زیادہ وافر مقدار میں چھوڑ دینا کہ اسے نہ مونڈا جائے اور نہ ہی کاٹاجائے نہ تھوڑا سا نہ بہت ۔
مزید فرماتے ہیں:
’’وھی الفاظ مختلف متنوعۃ کلھا تدل علی ابقائھا وترکھا‘‘
یعنی: یہ مختلف قسم کے الفاظ ہیں جو سب داڑھی کو باقی رکھنے اور اسے چھوڑ دینے پر دلالت کرتے ہیں۔(ایضا)
nابوالحسین احمد بن فارس بن زکریا(المتوفی۳۹۵ھ)لفظ :’’العفو‘‘کے متعلق بحث کرتےہوئے فرماتے ہیں:
’’وقد یکون ان یعفو ا الانسان عن الشیٔ بمعنی الترک‘‘(معجم مقاییس اللغۃ ۲؍۶۰۵الاعلام الاسلامی)
یعنی:اور کبھی انسان کسی شیٔ کومعاف کردیتا ہے یہ ترک کے معنی میں ہے یعنی اسےچھوڑدیتاہے۔
مزیدلکھتے ہیں:
’’وقال اھل اللغۃ کلھم یقال من الشعر عفوتہ وعفیتہ مثلا قلوتہ وقلیتہ وعفا فھو عاف وذٰلک إذا ترکتہ حتی یکثر ویطول قال اللہ تعالیٰ (حتی عفوا) ای نمو وکثروا وہذا یدل علی ما قلناہ ان اصل الباب فی ھذا الوجہ الترک.‘‘(ایضا)
یعنی: تمام اہل لغت کاکہنا ہے کہ بالوں کے بارے میں عفوتہ وعفیتہ کہاجاتاہے یہ قلوتہ اور قلیتہ کی طرح ہے عفا فھو عاف یہ سب اس وقت ہوگا جب آپ انہیں چھوڑ دیں حتی کہ وہ بڑھ جائیں اور لمبے ہوجائیں اللہ تعالیٰ کا فرمان حتی عفوتہ یعنی وہ بڑے اور زیادہ ہوئےاور یہ اس بات پر دلالت کرتاہے جو ہم نے کہی کہ اس کااصل معنی ترک چھوڑ دیناہے۔
nالشیخ احمد رضاءلغوی (المتوفی ۱۹۵۳)لکھتےہیں:
’’واصل معناہ الترک‘‘(معجم متن اللغۃ ۴؍۱۵۲مکتبۃ الحیاۃ)
یعنی:العفو کا اصل معنی چھوڑدیناہے۔
nمحمد بن یعقوب الفیروز آبادی (المتوفی ۸۱۷)نے بھی اس کا معنی ترک (چھوڑدینا)ہی کیا ہے۔دیکھئے:(القاموس المحیط ،ص:۱۶۹۳مؤسسۃ الرسالۃ)
nمشہور لغت دان ابو الفضل محمد بن مکرم ابن منظور الافریقی المصری لکھتےہیں:
’’وفی الحدیث انہ ﷺ امر باعفاء اللحیۃ ھو ان یوفر شعرھا ویکثر ولایقص کالشوارب‘‘(لسان العرب ۱۵؍۷۵ نشر ادب الحوزہ ایران)
یعنی:اورحدیث میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعفاء اللحیۃ کا حکم دیا ہے اور وہ اس کے بالوں کاوافر اور زیادہ ہونامونچھوں کی طرح نہ کاٹناہے۔
nصواحب معجم الوسیط وفر یوفر کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’کملہ ولم ینقصہ وجعلہ وافرا‘‘
(معجم الوسیط ۲؍۱۰۴۷دار الدعوہ)
یعنی:اس نے پورا کیا اور کچھ کم نہیں کیا پس اسے وافربنادیا۔
nلغت کی مشہور کتاب’’المنجد‘‘ میں لکھاہواہے:
’’عفا یعفوا عفوا وعفی یعفی عفیا الشعر ‘‘
(المنجد ،ص:۶۶۵دار الاشاعت)
یعنی:بالوں کو چھوڑدینا تاکہ وہ لمبے اورگھنے ہوجائیں۔
nعربی اردولغت کی دوسری مشہور کتاب’’مصباح اللغات‘‘ میں لکھاہواہے:
’’عفا یعفوا عفوا‘‘
یعنی:درگزرکرنا،معاف کرنا۔
صاحب مصباح مزید لکھتےہیں:
’’عفا یعفوا عفواوعفی یعفی عفیا الشعر‘‘
یعنی:بالوں کوچھوڑدینا یہاں تک کہ لمبے اور زیادہ ہوجائیں۔
(مصباح اللغات ،ص:۵۶۴مجلس نشریات اسلام کراچی)
ان کے سوا بھی متعدد کتب اللغۃ والشروح میں بھی یہی معنی مذکور ہے۔
محدث دیار سندھ علامہ سید ابومحمدبدیع الدین شاہ الراشدی اس حوالے سے تفصیلی گفتگو کرنے کے بعد فرماتےہیں:
’’یہی معنی لغت کی عام کتابوںمیں ہے،جیسا کہ:الفائق اللزمخشری (ص:۱۳۲) والصحاح للجوہری(۶؍۲۴۳۲) لسان العرب (۱۵؍۷۵) تاج العروس (۱۰؍۲۴۸) وغیرھا من کتب الفن ۔ اسی طرح شروح احادیث میں بھی مثلا:فتح الباری(۱۰؍۳۵) عمدۃ القاری للعینی(۲۲؍۴۷۰) الکرمانی(۲۱؍۱۱۱)رشاد الساری للقسطلانی (۸؍۴۵۰) وغیرھا من الشروح ۔بس داڑھی کامونڈنا یا کاٹنا حکم نبوی ﷺ کے صریحاخلاف ہے۔(اسلام میں داڑھی کامقام،ص:۲۳)
اور اسی طرح استاذ الاساتذہ حافظ عبدالمنان نور پوری اعفوا اللحی کے متعلق فرماتے ہیں:
’’بہت سارے لغت دانوں نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ داڑھی کو اپنی حالت پرچھوڑدو…..(مقالات نورپوری،ص:۲۵۱دارہ تحقیقات سلفیہ)
اب بھی یہ کہنا کہ کسی بھی لفظ کا معنی معاف کردینا اور اپنے حال پر چھوڑ دینا نہیں۔
سواء خلط مبحت کے کچھ نہیں۔
موصوف نے ان الفاظ کی لغوی مبحث میں جتنے بھی اقوال ذکر کئے ہیں ان سے داڑھی کوچھوڑ دینا اور بڑھانااور اس کا کثیر ہونا معلوم ہوتاہے۔
اب ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ داڑھی کو کہاں تک بڑھایاجائیگا؟ اس کوبڑھانے اور لمبا کرنے کی حددلیل سے واضح کیجے؟؟
جب تک مشت کی تحدید وتقیید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں کی جاتی تب تک عموم پر ہی عمل کیاجائیگا یعنی داڑھی کو اپنے حال پر چھوڑ دیاجائیگا۔
جیسا کہ امام ابن دقیق العید فرماتے ہیں:
ترک التعرض للحیۃ یستلزم تکثیرھا .
(فتح الباری ۱۰؍۳۵۰)
داڑھی کو نہ کاٹنا اس کی تکثیر کو مستلزم ہے۔
یعنی: تکثیر وبہتات تبھی ممکن ہے جب اس سے کچھ بھی نہ کاٹا جائے ۔
امام صاحب کی اس صریح وضاحت کے بعد عمران صاحب کے اخذ کردہ نتیجہ کی تارعنکبوت سی بھی حیثیت نہیں رہ جاتی۔
گویاعمران صاحب کے بیان کردہ اقوال سے محترم کامقصد ہی ثابت نہیں ہورہا بلکہ ہمارے ذکرکردہ معنی کی تائید ہورہی ہے۔
صحابہ کرامyکی طرف غلط انتساب
حافظ عمران الٰہی صاحب لکھتےہیں:’’داڑھی والی روایات میں صحابہ نے بھی ان الفاظ کے معنی کثرت وبہتات کے ہی کیے ہیں….‘‘
(ضیائے حدیث شمارہ۱۰ص:۴۲)
مزیدلکھتے ہیں:عبداللہ بن عمرکے نزدیک اعفاء کے معنی ہی ایک مشت کے ہیں۔(ص:۵۰)
تبصرہ:
قارئین کرام! کسی بھی صحابی سے ان الفاظ کے مذکورہ معنی یا ایک مشت کی تقیید ہرگزثابت نہیں اور نہ ہی ابن عمررضی اللہ عنہ سے اعفاء کامذکورہ معنی ثابت ہے موصوف پرضروری ہے کہ وہ اپنے اس زعم کوصحابہ سے بسندصحیح ثابت کریں۔
یہاں پر یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ صحابہ کرامyکے متعلق حسن ظن کے طور پر احتمال ذکر کرنے اور ان کی طرف کسی بات کو بالجزم منسوب کرنےمیں بڑافرق ہے۔
موصوف نے احتمال ذکرنہیں کیا بلکہ صحابہ کی طرف بالجزم نسبت کی ہے اس لئے محترم پرثبوت پیش کرناضروری ہے۔
اور اسی طرح عمران صاحب نے لغوی تشریح میں بہت سی خیانتیں بھی کی ہیں ہم نے ان سے پردہ پوشی کرتے ہوئے صرف محترم کی بنیادی باتوں پر اپنی معروضات پیش کی ہیں،آئندہ سطور میں بھی راقم کا یہی طرز رہے گا۔ان شاءاللہ
(جاری ہے)

About محمدابراھیم ربانی

Check Also

اتمام البرھان فی تصحیح ابن خزیمہ وابن حبان امام ابن خزیمہ وامام ابن حبان کی تصحیح اور بعض الناس کامغالطہ

امام ابوبکرمحمدبن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ (المتوفیٰ۳۱۱ھ)اورامام ابوحاتم محمدبن حبان البستی رحمہ اللہ (المتوفیٰ۳۵۴ھ)نے …

جواب دیجئے