Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ نومبر » بدیع التفاسیر قسط 197

بدیع التفاسیر قسط 197

المسلمات:وہ قضیے جو مدمقابل کے نزدیک بھی مسلم ہوں اور ان کے ساتھ اس کا رد کیاجائے۔
المشہور:وہ حدیث جسے روایت کرنے والے ہرزمانہ میں دو سے زیادہ ہوں، چونکہ دوطرق سےآنے کی وجہ سے وہ زیادہ واضح وروشن ہوتی ہے اس لئے اسے مشہور کہتے ہیں اور بعض فقہاء اسے مستفیض بھی کہتے ہیں، نیز اس روایت کو بھی مشہور کہاجاتاہے جولوگوں کی زبانوں پر عام ہواگرچہ اس کی ایک سند ہو بلکہ بعض اوقات تو اس کی کوئی سند ہی نہیں ہوتی۔(شرح النخبۃ:ص:۱۲،۱۳)
المشاہدہ:کسی چیز کو دلائل کے ذریعہ سے دیکھنا۔
المشترک: وہ لفظ ہے جس میں کئی معانی موجود ہوں مثلاً العین بمعنی آنکھ، چشمہ وغیرہ۔
تنبیہ: لفظ مشترک کے حکم کے بارے میں تفصیل آئندہ فصل میں دیکھنی چاہئے۔
المشکل: جس کا معنی ومفہوم تامل اور غوروفکر کے بغیرحاصل نہ کیاجاسکتا ہونیز ایک نمونہ کا کئی نمونوں کے ساتھ مل جانا۔
المشکک: وہ کلی جو اپنے تمام افراد پر یکساں وبرابر(ایک جیسی) صادق نہ آئے بلکہ افراد سے بعض کے لئے زیادہ اولیٰ ہومثلا الوجود (ہونا) واجب اور ممکن دونوں اس(الوجود) کے افراد ہیں، واجب کے لئے ممکن کی نسبت زیادہ اولیٰ ،اقدام اور اشد ہے۔
المشبھہ: وہ فرقہ جو اللہ تعالیٰ کو مخلوق سے مشابہ اور محدثات(نئی پیدا ہونے والی چیزوں) کے مثل قرار دیتے ہیں۔(نعوذباللہ)
المصغر:وہ لفظ جس میں قلت کامعنی پیدا کرنے لئے کسی حرف کا اضافہ کیاجائے مثلا:عبد(بندہ) سے عبید(چھوٹاسابندہ)
المصادرۃ علی المطلوب: جملہ سے وہی نتیجہ نکلے جو کہ اس جملہ کا ایک جزء ہو مثلا:کہاجائے کہ :الانسان بشر(انسان بشرہے)وکل بشرضحاک. (ہر بشرہنسنے والاہے) ان دونوں اجزاء کو ملاکریہی نتیجہ نکلا کہ: الانسان ضحاک.(انسان ہنسنےوالاہے) اب ظاہرہے کہ کبری یعنی دوسرا جملہ اور نتیجہ ایک ہی چیز ہے کیونکہ انسان اور بشرہم معنی ہیں۔
مصداق الشیٔ: ہر چیز کامصداق اسے کہاجاتاہے کہ جس پر وہ صادق آئے۔
المضمر: وہ اسم جس کے ذریعہ ایسے متکلم یامخاطب یاغائب کی طرف اشارہ کیاجائے جو اس سے پہلے مذکور ہے۔
المضاف: ہر وہ اسم جس کی کسی دوسرے اسم کی طرف اضافت ہو اور وہ اسے زیردےدوسرے اسم کو مضاف الیہ کہتےہیں۔
المضاعف: وہ کلمہ جس میں دوحرف ایک ہی جنس کے ہوں ثلاثی مجرد ومزیدمیں ع اور ل کلمہ کےمقابل میں ہوتے ہیں مثلا:ردَّ اور اعدَّرباعی میں ف اور ل ہم جنس اور ع اور ل دوسرا ہم جنس ہوتے ہیں جیسے زلزل.
المضارع: وہ فعل جس کے شروع میں چار حروف ا۔ت۔ی۔ن میں سے کوئی ایک آئے مثلا:اضرب تضرب، نضرب، یضرب۔
المطلق: جو کسی ایک غیر معین فرد پر دلالت کرے۔
المظنونات: وہ قضیے جن پر غالب گمان کے مطابق حکم لگایا جاتا ہے اور اس کے خلاف حکم بھی ممکن سمجھاجاتاہےمثلاً: فلان یطوف باللیل. (فلاں شخص رات کے وقت پھرتارہتاہے) وکل من یطوف باللیل فھو سارق.(جورات کے اوقات میں گھومتا پھرتا ہے وہ چورہوتاہے) دونوں جملوں کا نتیجہ ہے کہ فلاں شخص چور ہے مگر یہ غالب گمان کی وجہ سے ہے کیونکہ یہ بات یقینی نہیں ہے کہ رات کے وقت ہر گھومنے پھرنے والاچورہو ایسے مرکب کو قیاس خطابی کہا جاتا ہے ۔
المعلق: وہ جس کی سند کے شروع میں ایک یا زیادہ روات ساقط ہوں، سند کے وسط میں راوی ساقط ہونے کی صورت میں منقطع اور آخر سے راوی ساقط ہونے کی صورت میں مرسل کہاجاتاہے۔
المعجزہ: مدعی نبوت کےہاتھوں کسی خرق عادت کام کاہونا، اور وہ نیکی وبھلائی کاحکم دینے والاہو، ایسے کام کا اظہاررسالت کی سچائی ثابت کرنے کے لئے ہو، معجزات کا یہ سلسلہ آخری نبی محمدﷺ تک جاری رہا۔
المعارضہ: بمعنی مقابلہ اور ایک دوسرے کوروکنا، اصطلاحا باہم مقابلہ کرنے والوں کا ایک دوسرے کےخلاف دلائل قائم کرنا۔
المعانی: الفاظ کے مقابلے میں ذہن یاعقل میں آنے والی صورتیں جوالفاظ سے مقصود ہوں، اس کاواحد معنی ہے یعنی جس سے کوئی چیز مقصود ہو۔
المعنوی: جو چیز الفاظ کے بجائے دل سے سمجھی جائے۔
المعاندہ: کسی علمی مسئلہ میں جھگڑا ہو مگر طرفین کے کلام سے علم معلوم نہ ہوتا ہو۔
المعرفہ: جس سے بعینہ کسی چیز پر دلالت معلوم ہوجیسے: عَلَم، مبھم ، یا لازم ملزوم سےمعلوم شدہ چیز ، یا ان میں سے کسی کی طرف مضاف شدہ چیز۔
المعرب: وہ کلمہ جس کے آخری حرف کا اعراب عامل کے آنے سے بدلتارہے۔
المعروف: وہ چیز جسے شرعاً اچھاسمجھاگیاہو۔
المعتل: جس کے اصلی حروف میں سے کوئی حرف علت اگر ف کلمہ کی جگہ ہوتومعتل الفاء،عین کلمہ کی جگہ ہو تو معتل العین، اور اگر لام کلمہ کی جگہ ہو تو معتل اللام کہاجاتاہے۔
المعتزلہ: واصل بن عطاء کی جماعت جو کہ حسن بصری کی جماعت سے الگ ہوئے۔
المعمریہ: معمر بن عبدالسلمی کی جماعت جن کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اجسام کو پیداکیا ہے اور اعراض کو اجسام خود پیداکرتے ہیں۔
المعلومیہ: جازمیہ والے عقائد کے حامل ہیں مگر ان کاکہنا ہے کہ مؤمن کے لئے یہ شرط ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمام اسماء وصفات سے پہچانے ورنہ اسے مؤمن نہیں کہاجائےگا۔
المغالطہ:قیاس فاسد ،پھر صورتاہو کہ شرائط سےپورا نہ ہونے کی وجہ سے نتیجہ صحیح نہ نکلے، یامادہ کے اعتبار سے ہو کہ اس کا مقدمہ ،جزء یانتیجہ ایک ہی چیز ہو جیسا مصادرۃ علی المطلوب میں گذرا۔
المغیریہ: مغیرہ بن سعید العجلی کی جماعت جن کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی صورت میں نوری جسم ہے جس کے سرپرنور کاتاج ہے اور اس کا دل دانائی کا سرچشمہ ہے۔(نعوذباللہ من ذلک)
المفرد: وہ لفظ جس کا جزء معنی کےجزء پر دلالت نہ کرے۔
مفہوم الموافقہ: وہ حکم جو کلام سےدلالت مطابقی کے طریق پر سمجھاجائے، اور دلیل ومدلول دونوں مطابق ہوں ۔
مفہوم المخالفہ: جوحکم دلالت التزامی سے سمجھاجائے نیز منطوق (بولاہوا)سے جو حکم ثابت ہو اس کے خلاف سکوت (نہ بولے ہوئے) سے سمجھاجائے۔
المفسر: وہ کلام جو نص سے بھی زیادہ واضح ہو اس میں کسی قسم کی تاویل وتخصیص کا احتمال بھی نہ ہو۔
المفعول: پانچ قسم کے ہیں اگر پہلے مذکور فعل کامصدر واقع ہو یاتاکید کے لئے ہو، یا قسم یا عدد کے بیان کے لئے ہوتو اسے مفعول مطلق کہاجاتاہے، اور اگر فعل واقع ہوتواسے مفعول فیہ، اگرفعل کا سبب ذکرکیاگیاہو جس کے لئے وہ فعل واقع ہوا ہو تو مفعول لہ کہتے ہیں۔ اگر ایسے واؤکے بعد واقع ہو جو بمعنی مع ہو اور اسی فعل کا معمول ہو تو اسے مفعول معہ کہتے ہیں، لیکن اگر مفعول کا فاعل محذوف ہو اور اسے فاعل کے قائم مقام بنایاگیاتوایسے مفعول کو مفعول ما لم یسم فاعلہ یانائب فعل کہا جاتا ہے۔
المقدمہ: جس پر آئندہ آنے والے مضمون موقوف ہوں، اور وہ جملہ جو کسی قضیے کا جزء ہو۔ نیز جس پر کسی دلیل کی صحت موقوف ہو کہ اس کے سواء دلیل صحیح نہ ہوسکتی ہو اسے بھی مقدمہ کہتے ہیں۔ کسی کتاب کے شروع میں مقدمہ سےمراد بھی یہی ہوتی ہے اس میں مضمون سے متعلق ضروری باتوں کی وضاحت ہوتی ہے۔
المقید: جس کی کسی نہ کسی صفت پر کوئی قید لگائی گئی ہو۔
مقتضی النص: وہ حکم جس پر الفاظ خود دلالت نہ کرتے ہوں مگران کی ضرورت وطلب سے معلوم کیاجائے۔
المقطوع: وہ روایت جس کی سند تابعی تک پہنچے یعنی اس کا قول یا فعل ہو۔
المکابرہ: علمی مسئلہ میں جھگڑا جس سے اظہار حق مطلوب نہ ہو بلکہ اپنے مقابل کی پکڑ مقصود ہو حتی کہ اس کے قول کو صحیح سمجھتے ہوئے بھی اس کا رد کیاجائے۔
المکاشفہ:کسی حقیقت کا اس انداز سے کھلنا کہ اسے بیان نہ کیاجاسکے مکاشفہ صوفیوں کی خاص دلیل ہے مگر اہل حق کے لئے قرآن وسنت کے علاوہ کوئی دوسری دلیل کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
المکرمیہ: مکرم العجل کی جماعت جو تارک نماز کو کافر کہتے ہیں مگر اس لئے نہیں کہ اس نے نماز ترک کی ہے بلکہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو نہیں پہچانا۔
المکروہ: جس کے کرنے پر کوئی گناہ نہ ہو اور چھوڑنے پرثواب ہو یعنی جس کا ترک کرنا افضل ہو فقہاء کا کہنا ہے کہ اگر اس میں حرام کا پہلو قریب ہوتومکروہ تحریمی اگرحلال کا پہلو قریب ہوتو مکروہ تنزیہی ہے۔
الملازمہ: لغتاً دوچیزوں کا باہم جدانہ ہونا، اصطلاحاً ایک کاحکم دوسرے کے حکم کاتقاضہ وطلب کرے اس طرح کہ ایک چیز کے حکم واقع ہونے سےد وسرے حکم کا وقوع لازمی وضروری ہو۔
الملامیہ: یہ ایک باطنی فرقہ ہے جو اپنے باطنی حالات کا اظہار نہیں کرتے اگرچہ وہ کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں ظاہراً ان کے اعمال خراب ہوتے ہیں تاکہ لوگ ان پر لعنت وملامت کریں جسے یہ لوگ اپنے لئے باعث اجروثواب سمجھتے ہیں۔
الممدودہ: جس کلمے کے آخر میں الف کے بعد ہمزہ ہو۔
المنصوبات:وہ کلمے جو مفعولیت کی علامت پر مشتمل ہوں۔
المنصرف: جس پر تنوین داخل ہوسکتی ہو۔
المنادی: جو اسم جس کی طلب حرف نداسے کی گئی ہو اور وہ کلمہ ادعوا (بلاتاہوں) کا نائب یا اس کے قائم مقام ہو۔
المندوب: جس کے اوپر دکھ وافسوس سے پکاراجائے مثلاً: یالزیدا، وزیداہ، شرعا مستحب کومندوب کہاجاتاہے۔
المنقوص: وہ اسم جس کے آخر میں ی ماقبل مکسور ہو مثلا:القاضی۔
المناقضیہ: لغۃً ایک بات کو دوسری بات کے ذریعہ جھوٹا ثابت کرنا، اصطلاحا دلیل کی مقدمات میں سے کسی مقدمہ کو دفع یا منع کرنا۔
المنطق: وہ قانونی آلہ جس کی نگہداشت ذہن کو تفکرات وخطاء سے محفوظ رکھے عموما یہ تعریف علماء منطق کرتے آئے ہیں مگر کئی محقق علماء
(بقیہ صفحہ:40)

comments

About شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

جمعیت اہل حدیث سندھ کے بانی ومئوسس شیخ العرب والعجم سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ہیں جوکہ اپنے دور کے راسخین فی العلم علماء میں سے تھے بلکہ ان کے سرخیل تھے۔ صوبہ سندھ میں موجود فتنوں ،فرقوں ،ضلالتوں،تقلیدجامد اور ان کی نشاطات کو دیکھتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس صوبہ کو اپنی دعوتی واصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بنالیاتھا۔

Check Also

قسط 193 بدیع التفاسیر

قسط 193 ۔۔۔ احسن الکتاب فی تفسیر ام الکتاب شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو …

جواب دیجئے