Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مئی » جنت کی طلب اصل مقصود عبادت

جنت کی طلب اصل مقصود عبادت

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ (ﷺ) وبعد!
قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصررحمانی ماہنامہ دعوت اہل حدیث شمارہ مارچ 2017ء کے درسِ حدیث کے آخر میں فرماتے ہیں:
’’صوفیاء کاکہنا ہے کہ جنت کی طلب یا جہنم سے بچاؤکی نیت سے عبادت نہیں کرنی چاہئے،ورنہ یہ عبادت ایک غرض اور لالچ پر قائم ہوگی۔یہ نظریہ انتہائی فرسودہ ،باطل اور مردود ہے۔‘‘
جی ہاں!صوفیاء اپنے اس نظریہ کا پرزور پرچار کرتے ہیں ،ماہنامہ اردو ڈائجسٹ لاہورشمارہ اکتوبر2016ء میں شایع شدہ مریم مرتضیٰ کے مضمون :’’اللہ کوراضی کیجئے‘‘ سے چنداقتباسات ملاحظہ ہوں:
’’اگر ہم مؤمن ہونے کاد عوی کربھی لیں تو پھر بھی ہم خود غرض ہیں کیونکہ ہم اب بھی اللہ کو اپنی غرض کیلئے یاد کرتےہیں، ہم اللہ کو اس لئے یاد کرتے ہیں کہ ہمیں جنت مل جائے اور دوزخ سے بچ جائیں‘‘
’’قرب الٰہی پانے کیلئے تہجد کی نماز اداکرنے کا کہاجاتاہے مگر لالچ اورخودغرضی سے تہجدادا کریں کہ یہ وہ وقت ہے جب دعا قبول ہوتی ہے تو ہم دنیا مانگ لیں گے یاپھر جنت۔ اب ذراسوچیے !اللہ سے ملے گا جو دل میں لالچ لیے اٹھا ہے یا پھر اس کی دعاقبول ہوگی جو صرف اللہ کیلئے جاگ رہا ہے، اس کے دل میں کوئی اورلالچ نہیں‘‘
’’ہم لالچی ہیں، خودغرض ہیں دنیا کے یا دنیا کے نہ بھی ہوں تو ہمیں جنت چاہئے‘‘
’’جنہیں اللہ کاقرب حاصل ہوتا ہے انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ دوزخ میں جائیں گے یا جنت میں….وہ کہتے ہیں کہ اللہ اگر راضی تو جہنم بھی قبول اور اگر وہ خفاہے تو اس جنت کوحاصل کیاکرناجہاں اللہ خوش نہ ہو‘‘
اناللہ واناالیہ راجعون! کس قدر جاہلانہ باتیں ہیں، وہ حصول جنت جسے مؤمن کامقصودِ عبادت قرار دیاگیا ہے، کی آرزو کو لالچ وخودغرضی قرار دیاجارہا ہے ،اور پھر بھلا ایساممکن ہے کہ اللہ کسی سے راضی ہو اور اس کوجہنم میں ڈال دے اور کسی سے ناراض ہو اور اس کو جنت میں داخل کردے؟؟؟
!!! فیا للعجب
قارئین کرام! اس بات پر متعدد دلائل موجود ہیں کہ مؤمن کی عبادات کامقصود ومطلوب جنت کاحصول اور جہنم سے دوری ہے، آیئے چند ایک کاتذکرہ کرتےہیں:
محدث دیار سندھ علامہ سید ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی اپنی مایہ ناز تفسیر،بدیع التفاسیرج۹ص:۶۰۸میں طبرانی کبیر کے حوالے سے رسول اکرم ﷺ کی حدیث لائےہیں جس سے عیاں ہے کہ بعثتِ نبوی کا ایک مقصد امت کیلئے ایسے اعمال کی نشاندہی کرنا بھی تھا، جن سے جنت کاقرب حاصل ہوجائے اور جہنم سےد وری ،ملاحظہ ہو:

عن ابی ذر قال قال رسول اللہ ﷺ :مابقی شیٔ یقرب من الجنۃ و یباعد من النار الاوقد بین لکم.

یعنی سیدنا ابوذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی ایسی چیز باقی نہیں بچی جوجنت کے قریب اور جہنم سےد ور کردینے والی ہو مگر وہ تمہارے لئے بیان کردی گئی ہے۔
اب ذرا صحابہ کرام کے اشتیاقِ جنت کے چندواقعات ملاحظہ فرمائیں:
سنن ابی داؤد میں روایت موجود ہے کہ:

قال رسول اللہ ﷺ :من یتقبل لی بواحدۃ اتقبل لہ بالجنۃ؟ قال ثوبان انا قال لاتسأل الناس شیئا قال: فکان ثوبان تسقط سوطہ فلا یأمر احدا ان یناولہ وینزل ھو فیاخذھا.

یعنی:(ایک مرتبہ) رسول اللہﷺ نےارشاد فرمایا:کون ہے جو مجھے ایک چیز کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں؟سیدنا ثوبان نے کہا: میں ضمانت دیتاہوں!آپﷺ نےفرمایا:لوگوں سے کسی بھی چیز کا سوال نہ کرنا،(اس کے بعد) ثوبان سے اگر چابک بھی گرجاتا تھا تو سواری سے اتر کر خوداٹھاتے کسی کواٹھاکر دینے کا نہ کہتے۔
سیدناثوبان ایساکیوں کرتے رہے؟ حصولِ جنت کیلئے، اب صوفیاء ثوبان کے اس عمل پر کیاتبصرہ کریں گے؟؟؟
صحیح مسلم میں یہ واقعہ موجود ہے کہ سیدناعطاء بن ابی رباح اپنے شیخ سیدنا عبداللہ بن عباسwکے ساتھ موجود ہیں، ایک سیاہ فام عورت کا گذر ہوا، سیدنا ابن عباس فرمانے لگے :ھذہ من اھل الجنۃ.یہ جنتی عورت ہے، عطاء بن ابی رباح کے استفسار پربتایا کہ یہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تھی کہ مجھے مرگی کے دورے پڑتے ہیں، آپ اللہ سے دعاکریں مجھے اس بیماری سے شفامل جائے، تب آپﷺ نے فرمایا تھا: ان شئت صبرت ولک الجنۃ .اگر توچاہے تو اس مرض پر صبرکرے، تیرے لئے جنت ہے تو اس عورت نے صبر کی حامی بھرلی تھی۔
صوفیاءحضرات! وہ صحابیہrحصولِ جنت کیلئے پوری زندگی اس مرض کی شدت برداشت کرتی رہیں، آپ کیا تبصرہ فرمائیں گے صحابیہ کے اس طرزِ عمل پر؟
قارئین کرام!ذرا اس بدوی صحابی کے سوال اورآپﷺ کے جواب پر غور فرمائیں، اس بدوی صحابی نے رسول اللہ ﷺ کی سواری کی لگام تھام کر استفسار کیاکہ:

یارسول اللہ اخبرنی بمایقربنی من الجنۃ ویباعدنی من النار؟

یعنی اللہ کے رسول!مجھے ان اعمال کے متعلق بتائیں جومجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کردیں؟ تب رسول اکرم ﷺ نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا: لقدوفق.البتہ تحقیق اسے اللہ کی طرف سے توفیق دی گئی ہے(کہ اس نے یہ سوال کیا ہے) پھر آپ ﷺ نے اس کے سوال کا جواب ارشاد فرمایا:

تعبداللہ ولاتشرک باللہ شیئا وتقیم الصلاۃ وتؤتی الزکاۃ وتصل الرحم.

یعنی: تو اللہ کی عبادت کرتارہے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور صلہ رحمی کرے(تو ،توجنت کے قریب اورجہنم سے دور ہوجائے گا۔) اس بدوی صحابی نے جاتے جاتے یہ جملہ کہا:

والذی نفسی بیدہ! لاأزید علی ہذا شیئا ابدا ولاانقص منہ.

یعنی: میں آپ کے بتائے ہوئے اس طریقے میں کبھی کوئی اضافہ کروں گانہ کمی۔
تب آپﷺ نے فرمایا:

من سرہ ان ینظر الی رجل من اھل الجنۃ فلینظر الی ھذا.

یعنی جو کسی جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اس کو دیکھ لے۔(صحیح مسلم مع منۃ المنعم ۱؍۶۲،۶۳)
اسی طرح بنوعبدالقیس کے وفد نے رسولِ اکرم ﷺ کے سامنے اپنی مجبوریاں بیان کیں اور عرض کی:

فمرنا بامر فصل نخبربہ من وراءنا وندخل بہ الجنۃ.

یعنی: لہذا آپ ہمیں کوئی ایسی واضح بات بتائیں کہ جس پر عمل پیراہوکرہم جنت میں داخل ہوجائیں، تب آپﷺ نے ان کی بنیادی اعمال کی طرف رہنمائی کی۔(صحیح مسلم مع منۃ المنعم۱؍۶۶)
حصولِ جنت کیلئے اعمال کرنے کو لالچ اورخودغرضی قرار دینے والے صوفیاء حضرات، صحابہ کرام کے ان استفسارات کو کیانام دیں گے؟
قارئین کرام! خلاصہ کلام یہ ہے کہ مؤمن کی عبادات واعمال صالحہ کامقصود حصولِ جنت ہے، شرعی دلائل کا یہی تقاضا ہے، اس کے برعکس ذخیرۂ احادیث میں سے ایسا کوئی ثبوت نہیں دیاجاسکتا کہ آپﷺ سے جنت میںداخل ہونے اور جہنم سے بچنے سے متعلق پوچھاگیا ہواورآپﷺ نے جواباً فرمایاہو کہ جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے بچنے کی سوچ کوذہن سے کھرچ دو یہ لالچ اورخودغرضی ہے، بس اللہ کو راضی کرنے کی فکرکرو،آخرت میں ٹھکانہ جوبھی ہو۔حاشاوکلا
بلکہ متفق علیہ حدیث کے مطابق جولوگ جہنم سے بچ گئے اور جنت میں داخل ہوگئے ان ہی سعادتمندوں کیلئے اللہ کی رضا کا اعلان ہوگا،اللہ فرمائےگا:
احل علیکم رضوانی فلااسخط علیکم ابدا.
یعنی: آج میں تمہارے لئے اپنی رضامندی کا اعلان کرتاہوں آج کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔
اللہ ہماراحامی وناصرہو۔

محمدآفاق شفیق پریس والے اور جماعتی محمدرمضان کی رحلت

15مارچ2017ء بروز بدھ ایک مخلص، دیندار جماعتی محمدآفاق شفیق پریس والے کراچی میں انتقال کرگئے، مرحوم دینی امور انجام دینے کے جذبہ سے سرشار تھے، قرآن مجید مترجم وغیرمترجم چھپواکر کراچی وبیرونِ کراچی مفت تقسیم کرتے، محدث دیار سندھ علامہ سید ابومحمدبدیع الدین شاہ راشدی کے چاہنےوالوں میں سے تھے اورہرسال باقاعدہ سالانہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس نیوسعیدآباد میں شرکت فرماتے، ایک قرآن مجید شایع کرنے سےقبل شاہ صاحب کو دکھایا اور شاہ صاحب سے دستخط لیےاس کے بعد تاحیات اس دستخط کے ساتھ وہ قرآن مجید شایع کرتے رہے۔
ادارہ ماہنامہ دعوتِ اہل حدیث مرحوم کیلئے دعاگوہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بشری لغزشوں سے درگزر فرماتے ہوئے انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کومنور ووسیع فرمادے اور لواحقین کوصبرجمیل عطافرمائے۔آمین
جبکہ2اپریل2017ء بروز اتوار بھینس کالونی کراچی کے جماعتی محمدرمضان اچانک انتقال کرگئے، آپ گھر میں نماز تہجد کی ادائیگی کے بعد بلال مسجد میں نمازفجر کی امامت کرانے جارہے تھے، راستہ میں بجلی کے ٹوٹے ہوئے تار سے کرنٹ لگنے سے بےہوش ہوگئے اور جانبرنہ ہوسکے،آپ حافظ کرم الٰہی فاضل المعہد السلفی کے والد گرامی تھے،اگلے روز صبح دس بجے آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور تدفین عمل میں آئی، اس دن بعد نماز مغرب شیخ محمدداؤدشاکرنے راقم کے ہمراہ حافظ کرم الٰہی کے گھر جاکر ان سے تعزیت کی۔
دریں اثناء فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصررحمانی امیر جمعیت اہل حدیث سندھ نے محترم محمدآفاق اورمحترم محمدرمضان کے انتقال پر گہرے رنج ودکھ کا اظہار فرمایا ہے اورلواحقین سے مسنون تعزیت کرتے ہوئے دعاکی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرماکرانہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کوصبرجمیل عطافرمائے۔آمین

امیرمحترم کا سعودی عرب کاتبلیغی وتدریسی دورہ

فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصررحمانی امیر جمعیت اہل حدیث سندھ نے 13تا19اپریل2017ء سعودی عرب کا تبلیغی وتدریسی دورہ فرمایا، دورے کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

13اپریل بروز جمعرات بعد نماز عشاء ثنائیہ ریاض کی جامع مسجد میںد رس ارشاد فرمایا۔

14اپریل بروزجمعہ بوقت شام یہیں پر ایک عظیم الشان کانفرنس سے خطاب کیا۔

17,16,15اپریل بروز ہفتہ ،اتوار،سوموار روزانہ بعدنماز عصر تاعشاء ریاض کی جامع مسجد میں صحیح بخاری کی کتاب الفتن کی تدریس فرمائی۔

18اپریل بروزمنگل بعدنمازعشاء طائف کی جامع مسجد میں درس ارشا د فرمایا۔

19اپریل بروز بدھ بعدنمازمغرب طلاب جامعہ ام القری سے نشست کی اور انہیں نصائح فرمائیں۔

20اپریل بروز جمعرات وطن واپس پہنچ گئے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ امیرمحترم کی تمام مساعی وجہود کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت بخشے۔آمین

About شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ

.سابق ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ ٣ جنوری ٢٠١٨ کو ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے ‏اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله داراً خيراً من داره، وأهلاً خيراً من أهله، وزوجاً خيراً من زوجه، وأدخله الجنة، وأعذه من عذاب القبر، ومن عذاب النار

Check Also

پاکستان زندہ آباد

فضیلۃ الشيخ ذوالفقار علی طاہرر رحمہ اللہ کی یوم آزادی کی مناسبت سے لکھی ہوئی …

جواب دیجئے