Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مئی » مِنْ دُوْنِ اللہِ کاصحیح مفہوم قسط:4

مِنْ دُوْنِ اللہِ کاصحیح مفہوم قسط:4

 قسط:4

چھٹی دلیل

:اللہ تعالیٰ نے فرمایا

[اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ۝۰ۭ اَنْتُمْ لَہَا وٰرِدُوْنَ۝۹۸ لَوْ كَانَ ہٰٓؤُلَاۗءِ اٰلِہَۃً مَّا وَرَدُوْہَا۝۰ۭ وَكُلٌّ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝۹۹ لَہُمْ فِيْہَا زَفِيْرٌ وَّہُمْ فِيْہَا لَا يَسْمَعُوْنَ۝۱۰۰ اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى۝۰ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْہَا مُبْعَدُوْنَ۝۱۰۱ۙ ]

’’بے شک تم اور جوکچھ اللہ کے سوا تم پوجتے ہو سب جہنم کے ایندھن ہوتمہیں اس میں جانا۔ اگر یہ خداہوتے تو جہنم نہ جاتے اور ان سب کو ہمیشہ اس میں رہنا۔وہ اس میں چیخیں گے اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے۔بے شک وہ جن کیلئے ہمارا وعدہ بھلائی کاہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں۔‘‘(الانبیاء:۹۸۔۱۰۱ترجمہ از احمدرضا خان صاحب)
ان آیات کی تفسیر میں کرم شاہ بھیروی صاحب نے لکھا:
’’یہاں خطاب مشرکین مکہ سے ہے کہ تمہیں اور تمہارے پتھر کے گھڑے ہوئے ان خداؤں کو جہنم کا ایندھن بنادیاجائےگا۔ماغیرذوی العقول کے لئے ہے اس لئے اس میں فرشتے عزیر اور عیسیٰ داخل نہیں۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو عبداللہ بن الزبعری نے اعتراض کیا کہ پھر توصرف ان کی بھی عبادت کرتےہیں۔یہ سن کر حضورؐ نے ارشاد فرمایا: نعم کل من احب ان یعبد من دون اللہ فھو مع من عبدہ.ہاں ہر وہ آدمی جس نے یہ پسند کیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی بھی پوجا کی جائے اسے بھی اپنے پجاریوں کے ساتھ دوزخ میں پھینک دیاجائے گا۔‘‘
(ضیاء القرآن ۳؍۱۸۷)
جی ہاں ،یقینا لیکن جو اپنی عبادت کی دعوت نہیں دیتے تھےبلکہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور لوگوں کو بھی اللہ ہی کی عبادت کی دعوت دیتے تھے، جیساکہ انبیاء oاور اولیاء کرام وہ اس کامصداق نہیں اُن کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کا اچھاوعدہ ہے، ان آیات کے مطابق وہ یقیناً جہنم سے دور ہوں گے۔ بعض دیگر بریلوی مفسرین کی طرح سعیدی صاحب نے بھی ابن الزبعری کا یہ اعتراض نقل کیا اور لکھا:
’’جب قریش نے یہ لغو اعتراض کیا تو اللہ تعالیٰ نےیہ آیت نازل فرمائی:اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ ….بے شک جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے اچھی جزاپہلے مقررہوچکی ہے وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے۔‘‘(تبیان القرآن ۷؍۲۶۷)
نیز سعیدی صاحب نے بھی لکھا:
’’ان کا یہ اعتراض لغو تھا کیونکہ عربی زبان میں’’ما‘‘ غیرذوی العقول کے لئے آتا ہے اور حضرت عیسیٰ اور عزیرoذوی العقول ہیں۔ سو یہ آیت ان پر چسپاں نہیں ہوتی۔‘‘(حوالہ بالا)
بلاشبہ وہ اس آیت کامصداق نہیں،لیکن یہ بات درست نہیں کہ لفظ’’ما‘‘ غیرذوی العقول کے لئے ہی استعمال ہوتاہے۔ درحقیقت یہ ذوالعقول اورغیرذوی العقول ہر دو کےلئے استعمال ہوتا ہے۔ فریقِ ثانی کوذوالعقول کے لئے استعمال سے انکار ہے تو اس کی چندمثالیں ملاحظہ کیجے:
۱:اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کوحکم دیا کہ وہ کہیں:

[وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ۝۳ۚ ](الکافرون:۳،۵)

خود سعیدی صاحب نے اس طرح ترجمہ لکھا:
’’نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں‘‘ (تبیان القرآن ۱۲؍۱۰۱۲)
نبی کریم ﷺ صرف اور صرف اللہ عزوجل ہی کی عبادت کیا کرتے تھے ۔ اس آیت میں لفظ’’ما‘‘ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لئے استعمال ہوا۔
۲: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[قَالَ يٰٓـاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ۝۰ۭ ](ص:۷۵)

’’فرمایا: اے ابلیس !تجھے اس کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا‘‘(ترجمہ از سعیدی ،تبیان ۱۵؍۱۳۴)
اور اس کی تفسیر میں لکھا:’’حضرت آدمuکے متعلق فرمایا: میں نے اس کو اپنےہاتھوں سے بنایاہے۔(حوالہ بالا۱۰؍۱۴۹)
سیدنا آدمuیقیناذوی العقول میں سے ہیں،لیکن اللہ تعالیٰ ’’مَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ‘‘فرمایا:’’لمن خلقت‘‘ نہیں فرمایا: ثابت ہوا کہ ’’ما‘‘ ذوالعقول کے لئے بھی آتا ہے ،جیسا کہ سیدناآدمuکے لئے وارد ہوا۔
۳: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ](النساء:۳)

سعیدی نے ترجمہ لکھا:’’تمہیں جوعورتیں پسندہوں ان سے نکاح کرو‘‘(تبیان القرآن ۲؍۵۴۶)
’’ما‘‘ کالفظ خواتین کے لئے وارد ہواجوذوی العقول ہیں۔ ’’من طاب لکم‘‘ نہیں فرمایا گیا۔

۴:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَاۗؤُكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ ](النساء:۲۲)

سعیدی صاحب نے ترجمہ کیا:’’اور ان عورتوں کےساتھ نکاح نہ کرو جن کے ساتھ تمہارے باپ دادانکاح کرچکے ہیں‘‘(تبیان ۲؍۶۰۳)
اس آیت میں بھی عورتیں جوذوی العقول ہیں ان کے لئے ’’ما‘‘ کالفظ وارد ہوا، یہاں بھی ’’من نکح‘‘ نہیں فرمایاگیا۔یقینا پتھر کے بے جان بتوں سے نکاح نہیں ہوتا۔
۷،۶،۵:قرآن مجید میںکئی بارارشاد ہوا:

[مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۝۰ۭ ](النساء:۳،۲۴،۲۵)

سعیدی صاحب نے ترجمہ کیا:’’یا اپنی مملوکہ کنیزوں سے‘‘
(تبیان ۲؍۵۴۶)
دوسری جگہ ترجمہ کیا:’’جن عورتوں کے تم مالک بن جاؤ‘‘(تبیان ۲؍۶۲۰)
یہاں بھی مملوکہ عورتوں کے لئے ’’ما‘‘کالفظ وارد ہوا،حالانکہ وہ ذو العقول ہیں، ان کےلئے ’’من ملکت ایمانکم‘‘ کالفظ نہیں آیا۔
۸:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ۝۳ۙ ](البلد:۳)

سعیدی ترجمہ:’’اور (انسان کے) والد کی قسم اور اس کی اولاد کی ‘‘(تبیان ۱۲؍۷۴۶)
تفسیر میں لکھا: والد سے مراد حضرت آدمuہیں اور اس کی اولاد سےمراد ان کی نسل ہے۔(ایضا:۱۲؍۷۵۲)
گویایہاں پوری نسل انسانی کے لئے’’ما‘‘ کالفظ وارد ہوا۔کیا پوری کی پوری انسانیت غیرذوی العقول ہے۔(معاذاللہ) مثالیں تو اور بھی دی جاسکتی ہیں کہ لفظ ’’ما‘‘ ذوی العقول کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر یہ استعمال اس قدر غلط وبعیدازقواعد لغت ہوتاتوقرآن مجید میں اس کی کئی مثالیں قطعاً وارد نہ ہوتیں۔ اگر یہ اتنا ہی نا ممکن ہوتاجتنا کہ مرادآبادی، گجراتی، سعیدی اور بھیروی وغیرھم بریلویوں نے سمجھ رکھا ہےتو (بشرطِ ثبوت) ایسے کسی اعتراض پرافصح الناس محمدمصطفیٰ ﷺ بلکہ ان کے خدام میں سے کوئی خادم ہی کہہ دیتا،نادانوںتمہیں کیا ہوگیا ہے اپنی ہی زبانوں سے اس طرح جہالت کی حد تک بے خبرہو کہ یہ تک نہیں جانتے کہ’’ما‘‘ذوی العقول کے لئے تو آتا ہی نہیں ،عیسیٰ ،عزیر وملائکہ oتوذوالعقول ہیں ،پھرتمہارا اعتراض کس قدر غلط اورلغوہے۔!!!
صحیح سند کےساتھ ایسی کوئی بات یاجواب میرے علم میں نہیں، اگرچہ بعض مفسرین نے بغیرسند کے ایسا کچھ لکھ رکھا ہے۔ الغرض کہ سورۃ الانبیاء کی ان آیات سے بھی’’من دون اللہ‘‘ کامفہوم خوب واضح ہوجاتاہے کہ اس میں انبیاء o،ملائکہ اور نیک بندے بھی شامل ہیں وگرنہ اس وضاحت کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ مزیدوضاحت کے لئے تفسیر قرطبی میں سورۂ انبیاء کی ان آیات کی تفسیر دیکھ لی جائے۔

فریقِ ثانی کے مغالطات

مثبت دلائل کے بعد اب یہ دیکھئے کہ فریق ثانی ان نصوص قطعیہ صریحہ کے خلاف کیا مغالطات دیتے ہیں اور ان مغالطات کا کیا جواب ہے۔ نعیمی گجراتی صاحب نے اگر اس مسئلہ پر کوئی تفصیلی بحث کی بھی ہے تو ہمارے علم میں نہیں، البتہ جہلم کے غلام نصیر الدین سیالوی صاحب نے اپنی کتاب میںبزعم خود چنددلائل دیے ہیں، اسی طرح طاہر القادری صاحب نے بھی اس بات کوالجھانے کے لئے کافی جتن کیے ہیں۔ اس مضمون میں ہم سیالوی صاحب کے نام نہاد دلائل کاجائزہ لے رہے ہیں، ان شاء اللہ کسی دوسری فرصت میں قادری مغالطات پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔ ان کے جوابات ملاحظہ کیجئے:
پہلاسیالوی مغالطہ:اپنی پہلی دلیل دیتے ہوئے سیالوی مذکور نے لکھا:
’’ان (من دون اللہ) کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

[ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ ہُوَالْحَقُّ وَاَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ہُوَالْبَاطِلُ](الحج:۶۲)

اللہ تعالیٰ ہی حق ہے اور جس کو یہ پکارتے ہیں اس کے سوائے سووہ باطل ہے۔قابل غور امر یہ ہے کہ اگر انبیاء واولیا ء بھی (من دون اللہ)میںشامل ہوتولازم آئیگا کہ وہ باطل ہوں حالانکہ انبیاء واولیاء کوباطل کہنا ان کی توہین ہے۔‘‘(ندائے یارسول اللہ ﷺ کی علمی تحقیق ،ص:۱۷۹،۱۸۰)
جواب:اس دلیل کی حقیقت جاننے سے پہلے یہ دیکھ لیجئے کہ اپنی اس نام نہاد’’علمی تحقیق‘‘ میں سیالوی صاحب نے (من دون اللہ) کا ترجمہ کیالکھاہے؟ جناب نےلکھا:
۱: ’’(فاطر:۱۳) جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو‘‘(ص:۱۸۱)
۲:’’(التوبۃ:۱۱۶)تمہارا اللہ کے علاوہ نہ کوئی مددگارہے۔(ص ۱۸۵)
۳:’’(الحج:۷۳) جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو۔(ص۱۸۶)
محولہ بالاتین آیات میں(من دون اللہ) کی ترکیب وارد ہوئی ، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ خود سیالوی مذکور نے تینوں جگہ ترجمہ میںلکھا:’’اللہ کے علاوہ‘‘ کیا سیالوی مذکور صاف الفاظ میں یہ کہہ سکتےہیں کہ’’انبیاء oاللہ تعالیٰ کے علاوہ نہیں ہیں‘‘؟ بہرحال’’اللہ کے علاوہ‘‘یا’’اللہ کے سوا‘‘ کاکیامفہوم ہے یہ ہم آغاز میں عرض کرچکے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ آیت نقل کرکے اس کی جس تشریح کو سیالوی صاحب نے توہین قراردیا،بلاشبہ وہ تشریح انبیاءoکی توہین ہی ہے اور یقیناً یقیناً باطل ہے۔ لیکن اس آیت کا تو یہ مفہوم ہے ہی نہیں۔درحقیقت اس آیت میں معبودوں کو نہیں بلکہ ان کی عبادت کیے جانے کو باطل قرار دیاگیاہے۔ سب سے پہلے چندناموربریلوی اکابر سے اس آیت کا درست ترجمہ ملاحظہ کیجئے:
۱: احمدسعیدی کاظمی ملتانی صاحب نے ترجمہ کیا:
’’یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور(یہ مشرکین) اللہ کے سوا جس کی عبادت کرتے وہ باطل ہے‘‘(البیان،ترجمہ،حج:۶۲)
۲:ابوالحسنات قادری نے ترجمہ کیا:
’’یہ اس لئے کہ اللہ حق ہے اور اس کے سوا جسے پوجتے ہیں وہی باطل ہے‘‘(تفسیر الحسنات ۴؍۳۹۳)
۳:سعیدی صاحب نے ترجمہ کیا:
’’اللہ ہی حق ہے اور یہ (مشرکین) اس کے سوا جس کی عبادت کرتے ہیں وہ باطل ہے‘‘(تبیان ۷؍۷۷۵)
پھر اس کی تفسیر میں لکھا:
’’کیونکہ اللہ ہی حق ہے…اور اس کی عبادت کرنا حق ہے اور اس کے غیر کی عبادت کرنا باطل ہے۔(ایضا ۷؍۷۹۲)
ان تراجم وتفسیر سے یہ بات واضح ہے کہ آیات میں خود(من دون اللہ) کوباطل نہیں کہاگیا بلکہ ان سے ’’دعا‘‘ کو باطل کہا ہے۔ ’’یدعون‘‘ کا مصدر’’دعا‘‘ ہے اور آیت میں ضمیر کا مرجع یہ’’دعا‘‘ ہے جو کہ واحد ہے۔ مشرکین جن کوپکارتے تھے وہ بہت سے ہیں۔ اگر مزید وضاحت چاہیں تو قرآن مجید کی اس آیت پر غور کرلیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[لَہٗ دَعْوَۃُ الْحَقِّ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ لَہُمْ بِشَيْءٍ](الرعد:۱۴)

’’اسی کوپکارناحق ہےا ورجن لوگوں کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی التجا قبول نہیں کرسکتے۔‘‘
دونوں آیات پرغور کریں توواضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوپکارنا حق ہے اور غیراللہ کوپکارنا یعنی ان سےد عا مانگنا باطل ہے۔ اس سے انبیاء oکی توہین قطعاً لازم نہیں آتی ۔سیالوی مغالطہ کافور ہوجاتاہے ۔
دوسراسیالوی مغالطہ:سیالوی صاحب نے بزعم خود اپنی دوسری دلیل دیتے ہوئے لکھا:ارشاد باری تعالیٰ ہے:

[وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۭ ](الاعراف:۳)

نہ چلو اس کے سوا بھی رفیقوں کے پیچھے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ’’مِنْ دُوْنِہٖٓ ‘‘ کی اتباع سےمنع فرمایا ہے اگر انبیاء واولیاء بھی (من دون اللہ) میں داخل ہوں تو ان کی اتباع بھی منع ہوگی حالانکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:[قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ](آل عمران:۳۱) نبی پاک ﷺ کی اتباع کی اللہ تعالیٰ مومنین کو تلقین فرمارہے ہیں پھر نبی پاکﷺ (من دون اللہ) میں داخل کیسے ہوسکتے ہیں۔‘‘
(ندائے یارسول اللہ ﷺ کی علمی تحقیق ،ص:۱۸۰)
جواب:معلوم نہیں سیالوی صاحب واقعی اتنے بے علم ہیں یااپنی بات منوانے کے لئے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے اس سخن سازی پر مجبور ہوئے، اور یہ غلطیاں جمع کردیں وہ بھی ’’نفیس بحث‘‘ کے خوشنما عنوان سے۔
قارئین کرام!ان کے اس فریب کو سمجھنے کیلئے سب سے پہلے مکمل آیت ملاحظہ کیجئے:

[اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ<۝۰ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ۝۳ ]

’’اے لوگو اس پر چلو جوتمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اترا اور اسے چھوڑ کرحاکموں کے پیچھے نہ جاؤ بہت ہی کم سمجھتے ہو‘‘
(ترجمہ ازاحمدرضاخان بریلوی،الاعراف:۳)
آسان الفاظ میں اس آیت کاترجمہ ہے:
’’اس چیز کی پیروی کروجوتمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور اس کے علاوہ اولیاء کی پیروی مت کرو، تم بہت کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔‘‘(الاعراف:۳)
اس آیت میں پہلے’’منزل من اللہ‘‘مطلب’’اللہ کی طرف سے نازل شدہ‘‘ کی اتباع کاحکم ہے اور پھر’’من دونہ‘‘ اس نازل شدہ کے علاوہ کی پیروی کی ممانعت ہے۔یہاں’’من دونہ‘‘ کا مطلب سرے سے یہ نہیں کہ ’’اللہ کے علاوہ‘‘ بلکہ مطلب یہ ہے کہ ’’اللہ کی طرف سے نازل شدہ کے علاوہ‘‘ ادنی درجےکے طلباء سے بھی یہ بات مخفی نہیں رہ سکتی کہ’’من دونہ‘‘میں’’ہِ‘‘ ضمیرکامرجع’’منزل من اللہ‘‘ ہے نہ کہ اللہ۔ اور خاں صاحب کے ترجمے سے بھی یہ بات واضح ہے۔ سیالوی صاحب کے علاوہ شاید ہی کسی فردنے جہالت کی حد تک ایسی غلط تشریح کی ہو۔اگرسیالوی صاحب ایسےہی نادان طفل مکتب نہیں تو یہ صریح دھوکاہے۔
’’منزل من اللہ‘‘ کیا ہے؟اب ذرا اس کی بھی وضاحت ہوجائے کہ ’’ منزل من اللہ‘‘ کیا ہے؟ اہل حق کی طرح بریلوی بھی اس بات پرمتفق ہیں کہ قرآن وحدیث ثابت منزل من اللہ ہیں۔ بعض بریلوی علماء کی تصریحات ملاحظہ کیجئے:
۱: پیرکرم شاہ بھیروی صاحب نے اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا:
’’فرمایاجارہاہے ہم نے اپنے رسول اکرمؐ کے ذریعے ان کی طرف جو شریعت ،جواحکام نازل کئے ہیں اس کی تعمیل سے سرِمُو انحراف نہ کریںاور انہیں چھوڑ کر کسی اور نظامِ قانون کااتباع نہ کرنے لگیں۔علماء محققین نے تصریح کی ہے کہ جس طرح احکام قرآنی منزل من اللہ ہیں اسی طرح وہ احکام جن کو زبانِ رسالت نے بیان کیا ہے وہ بھی حضورعلیہ الصلاۃ والسلام کی ذاتی رائے نہیں بلکہ وحی الٰہی ہیں یعنی :الکتاب والسنۃ (القرطبی) ویعم القرآن والسنۃ لقولہ تعالیٰ: وماینطق عن الھوی ان ھو الاوحی یوحی. (بیضاوی) علامہ بیضاوی فرماتے ہیں کہ ان سے مراد کتاب وسنت دونوں ہیں کیونکہ سنت نبوی بھی منزل من اللہ ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے کہ میرامحبوب اپنی ذاتی خواہش سے بولتا بھی نہیں جوبذریعہ وحی اسے حکم ملتا ہے اس کی زبان پر آتا ہے‘‘(ضیاء القرآن ۲؍۱۰)
۲:ان کے ’’سعید الملت‘‘غلام رسول سعیدی صاحب نے لکھا:
’’اس آیت میں امت کو یہ حکم دیا ہے کہ نبی ﷺ پرجوکچھ نازل کیاگیا ہے وہ اس کی اتباع کریں اور اس پر عمل کریں، اور اس آیت میں احادیث مبارکہ کے حجت ہونےپر دلیل ہے، کیونکہ جس طرح نبیﷺ پر قرآن مجید نازل کیاگیا ہے اسی طرح آپ پراحادیث مبارکہ بھی نازل کی گئی ہیں…اس آیت کےعلاوہ اور بھی متعدد آیات میں احادیثِ مبارکہ کے حجت ہونے پر دلیل ہے‘‘(تبیان القرآن ۴؍۳۸)
الغرض کہ اس آیت میں قرآن وحدیث کی پیروی کا حکم ہے اور اس کے علاوہ اولیاء کی پیروی کی ممانعت ہے۔ نبی کریم ﷺ کی اتباع سےکوئی کافر ہی انکار کرسکتاہے، لیکن وہ ’’من دون اللہ ‘‘ہی تھے؟ نعوذباللہ ،اللہ نہیں تھے۔ اور آیت میں’’من دون اللہ‘‘ کی نہیں بلکہ’’ من دون ما انزل اللہ‘‘ کی اتباع سے ممانعت ہے۔ اس آیت سے بھی سیالوی خواب پورانہیں ہوسکتا۔
تیسراسیالوی مغالطہ: لکھاہے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

[وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ۝۱۳ۭ](فاطر:۱۳)

جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی پرموجود جھلی کے بھی مالک نہیں۔ یہ آیت بھی اس پرواضح دلیل ہےکہ ’’ من دون اللہ‘‘ میں انبیاء کرامoاور اولیاء کرام علیھم رضوان داخل نہیں ہیں۔(ندائے یارسول اللہ ﷺ کی علمی تحقیق ،ص:)
جواب:حسبِ معمول اس مقام پر بھی سیالوی صاحب بے سوچے سمجھے بول اٹھےہیں،وگرنہ ان کے اس اشکال کاحل تو ان کے اپنے ترجمہ میں ہی موجود ہے،موصوف نے ترجمہ میں صاف صاف لکھ رکھاہے:’’اللہ کے علاوہ‘‘
سیالوی صاحب یہ قطعاً نہیں کہہ سکتے کہ انبیاء کرام o’’اللہ کے علاوہ‘‘نہیں بلکہ اللہ ہی ہیں(نعوذباللہ) اگر وہ ایسا نہیںکہتے اور امید ہے کہ نہیں کہیں گے توسوچیں کہ یہ کس طرح لکھ دیا کہ ’’ من دون اللہ‘‘ میںانبیاء کرامo…داخل نہیں ہیں‘‘یہ کہنے کاواضح مطلب یہی ہے کہ’’انبیاء oاوراولیاء کرام اللہ کے علاوہ نہیں‘‘ چونکہ’’ من دون اللہ‘‘ کاترجمہ خود جناب نے بھی’’اللہ کے علاوہ ‘‘ہی کیا ہے۔
مزیدوضاحت کے لئے آیت بھی ملاحظہ کیجئےجو اسی تسلسل میں ہے، چندبریلوی علماء کی تفاسیر ملاحظہ کیجئے، سیالوی مغالطہ کابطل مزید واضح ہوجائے گا،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ۝۱۳ۭ اِنْ تَدْعُوْہُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاۗءَكُمْ۝۰ۚ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ۝۰ۭ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ۝۰ۭ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ۝۱۴ۧ ]

’’اور وہ (باطل معبود) جنہیں اللہ کے سواتم پوجتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے کسی چھلکے کے(بھی) مالک نہیں (اے مشرکو)اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکارنہ سنیں اور اگرسن لیں تو وہ تمہاری التجا کوقبول نہ کرسکیں گے اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکارکریں گے(اور اے سننے والے)تجھے (کوئی) نہ بتائے گا کہ خبررکھنے والے کی طرح‘‘
(فاطر:۱۳،۱۴۔ترجمہ از کاظمی ملتانی صاحب)
تنبیہ: کاظمی صاحب نے اکثرمقامات کی طرح اس مقام پر بھی’’تدعون‘‘ کاترجمہ ’’پوجتے ہو‘‘ کیا ہے، حالانکہ سیاق وسباق سے ظاہر ہے کہ درست ترجمہ’’پکارتے ہو‘‘ ہے جیسا کہ سیالوی صاحب نے ’’پکارتے ہو‘‘ ترجمہ کیا ہے، چونکہ اس سے آگے والی آیت میں ’’دعا‘‘ یا’’التجا‘‘ کے سننے نہ سننے کاتذکرہ ہے اور’’پوجنا‘‘ قابل سماعت نہیں ہوتاالایہ کہ ’’پوجا‘‘ میں دعاوپکار کوبھی شامل کیاجائے۔ بہرحال’’پوجنا‘‘ ترجمہ کرنا غیراللہ سے دعائیں مانگنے والوں کی اشدمجبوری ہے، وگرنہ اپنے قول وفعل کا دفاع مشکل ہوجاتاہے۔
(جاری ہے)

About ابوالاسجد محمد صدیق رضا

Check Also

المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ(قسط 3)

قسط نمبر: 3 صوفیاء کی باتیں پیش نہ کریں (۲۴) گھمن :’’ہم نے بہت سی …

جواب دیجئے