Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مئی » داڑھی بڑھانا ہی مشروع ومسنون ہے قسط:3آخری

داڑھی بڑھانا ہی مشروع ومسنون ہے قسط:3آخری

 قسط:3 آخری

رسول اللہﷺ کی داڑھی کی مقدار

حافظ عمران الٰہی صاحب نے ’’رسول اللہ ﷺ کی داڑھی لمبی نہ تھی‘‘ عنوان کے تحت لکھا:
’’کوئی ایسی حدیث بھی موجود نہیں ہے کہ جس میں اس بات کاذکر ہو کہ رسول اللہ ﷺ کی داڑھی اتنی لمبی تھی کہ آپ کوداڑہی کاٹنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہونہ ہی کسی صحابی نے ایسا بیان کیا کہ آپ کی داڑھی مبارک لمبی تھی۔‘‘(ضیائے حدیث ،شمارہ ۱۲جلد ۲۵ص:۵۸)
تبصرہ:
موصوف کی یہ بات درست نہیں کیونکہ یہ وضاحت احادیث صحیحہ میں موجود ہے کہ رسول اللہﷺ کی داڑھی لمبی اور گھنی تھی۔
(۱)سیدناعلی بن ابی طالب کا بیان ہے :

(کان رسول اللہ ﷺ لیس بالطویل ولابالقصیر ضخم الرأس واللحیۃ)

رسول اللہ کا قدمبارک نہ بڑاتھا اور نہ چھوٹا آپﷺ کا سرمبارک بڑاتھا او داڑھی مبارک بھی بڑی تھی۔
(مسنداحمد ۱؍۱۲۰،مستدرک حاکم ۲؍۶۰۶دار الفکر، صحح الحاکم ووافقہ الذھبی)
تنبیہ: اس روایت کے راوی عثمان بن مسلم بن ھرمز کی جمہور محدثین نے توثیق کررکھی ہے جمہور کےمقابلے میں امام نسائی کی جرح ناقابل قبول ہے لہذا یہ راوی حسن الحدیث ہے۔
(۲)یزید الفارسی فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباسw فرماتے ہیں:

(قد ملأت لحیتہ ما بین ہذہ الی ہذہ قد ملأت نحرہ)

یعنی رسول اللہ ﷺ کی داڑھی سینے کو بھرے ہوئی تھی۔
(مسنداحمد ۱؍۴۷۰،دار الکتب العلمیہ،طبقات الکبری لابن سعد ۱؍۳۱۴،دار الکتب العلمیۃ وقال الھیثمی فی المجمع ۸؍۲۷۲رجالہ ثقات)
(۳)سیدناجابربن سمرہ فرماتے ہیں:

(وکان کثیر شعر اللحیۃ )

یعنی آپﷺ کی داڑھی بہت گھنی تھی۔
(صحیح مسلم،الرقم:۲۳۴۴)
ان احادیث صحیحہ سےموصوف کے دعوے (رسول اللہﷺ کی داڑھی لمبی نہ تھی)کا ابطال واضح ہوجاتاہے۔

عجیب منطق

موصوف لکھتے ہیں: اور ایسی کوئی صحیح یا ضعیف حدیث موجود نہیں ہے جس میں قطعی طور پر یہ وضاحت موجود ہو کہ رسول اللہ ﷺ اپنی داڑھی نہیں کاٹتے تھے،حالانکہ اس کے برعکس ایک ضعیف روایت ایسی موجود ہے جس میں آپﷺ کے داڑھی کاٹنے کاذکر موجود ہے۔(ضیائے حدیث ،شمارہ ۱۲جلد ۲۵ص:۵۹)
تبصرہ:
اصولِ حدیث میں ضعیف روایت کو غیرمقبول ومردود روایات کی ایک قسم قراردیاگیاہے۔(انظرکتب اصول الحدیث)
اسی بناءپر ضعیف روایت کاوجود وعدم وجوددونوں مساوی ہیں جیسا کہ امام محمد بن حبان البستی(المتوفی ۳۵۴ھ)فرماتے ہیں:گویا جوضعیف روایت بیان کرے اور جس روایت کاسرے سے وجود نہ ہو دونوں حکم میں برابرہیں۔(کتاب المجروحین ۱؍۳۲۷،دار المعرفۃ)
جب یہ بات طے شدہ ہے کہ ضعیف روایت کاہونا نہ ہونے کے برابر ہے تو اس طرح کی بات کرنے کاکیافائدہ؟؟
جہاں تک تعلق ہے رسول اللہ ﷺ کے داڑھی نہ کاٹنے کا ثبوت طلب کرنے کا تو وہ سوائے مغالطے کے کچھ نہیں ،ہم گذشہ سطور میں یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی داڑھی لمبی اور گھنی تھی جبکہ کاٹنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہی نہیں موصوف اپنے پورے مضمون میں اس کوثابت کرنے سے قاصر رہے ہیں۔
باقی رہی وہ ضعیف روایت جس کی طرف موصوف نے اشارہ کیا ہے وہ عندالمحدثین سخت ضعیف بلکہ موضوع ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے: اسلام میں داڑھی کامقام، ص:۴۱تا۴۳،از محدث دیارسندھ علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی)

مرسل روایت

حافظ عمران صاحب نے اپنامدعی ثابت کرنے کےلئے ایک مرسل روایت کوبطور دلیل پیش کرنے کےبعد لکھا:
’’مرسل روایت چند شرطوں کےساتھ قابل حجت ہے یہ جمہور کانقطہ نظر ہے۔‘‘(ضیائے حدیث ،شمارہ۱۱،ص:۵۰)
تبصرہ:
مرسل روایت کے بارے میں جمہور محدثین کامذہب عدم حجیت کا ہے جیسا کہ امام یحی بن شرف الدین النووی (المتوفی ۶۷۶ھ) فرماتے ہیں:
(ثم المرسل حدیث ضعیف عند جماھیر المحدثین)
پھر یہ کہ جمہور محدثین کے نزدیک مرسل ضعیف حدیث ہے۔
(تقریب النووی ۷ نوع نمبر۹)
موصوف کا اپنی سوچ کوجمہور کامذہب قراردینا مضحکہ خیز ہے۔

مجاہد بن جبر کی مراسیل کاحکم

اصول محدثین کی رو سے تمام تابعین کی مراسیل کاحکم (اتصال ثابت نہ ہونے کی صورت میں)مساوی ہے موصوف نے مجاہد بن جبر کی مراسیل کی حجیت کے حق میں جواقوال ائمہ ذکر کئے ہیں ان سے ان کی مراسیل کی حجیت کشیدکرنا اصول حدیث سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ کیونکہ ان ائمہ نے ان کی مراسیل کو دوسرے تابعین (عطاء بن ابی رباح)کی بنسبت بہترقراردیاہے۔
اس بات کوآپ یوں سمجھیں کہ جس طرح کسی راوی کو دوسرے کی بنسبت ضعیف کہنے سے اس کی تضعیف لازم نہیں آتی مثلاً: مشہور راوی حدیث علاء بن عبدالرحمٰن کے متعلق امام یحیٰ بن معین سے پوچھاگیا تو انہوں نے اس کی توثیق فرمائی پھر امام صاحب سے کہاگیا:

ھو احب الیک او سعید المقبری‘‘

آپ کےنزدیک علاء اور سعید المقبری میں سے زیادہ محبوب کون ہے؟
تو امام صاحب نے فرمایا:

سعید اوثق والعلاء ضعیف.

یعنی سعید اوثق ہے اور علاء ضعیف ہے۔
(تاریخ عثمان بن سعید الداری عن ابی زکریا یحییٰ بن معین،ص:۱۷۳،دارالباز)
یہاں امام ابن معین نے علاء کی تضعیف دوسرے کی بنسبت کی ہے جبکہ مطلقا اسے ثقہ قرار دےچکے ہیں بعینہ اسی طرح ابن سعید القطان وغیرہ کا مجاہد بن جبرکی مراسیل کی تحسین کرنا دوسرے(عطاء بن ابی رباح) کی بنسبت ہے نہ کہ مطلقاً۔
مطلق طور پر مجاہد کی مراسیل کا بھی وہی حکم ہے جو دیگر کی مراسیل کا ہے الایہ کہ دوسرے طریق سے اتصال ثابت ہوجائے۔
اورمحترم کی پیش کردہ روایت کااتصال ثابت نہیں لہذا یہ روایت منقطع ہونے کی بناء پر ناقابل احتجاج ہے۔

بعض آثار کی اسناد ی حیثیت

داڑھی کاٹناصرف ۳صحابہyسے ثابت ہے عمران الٰہی صاحب نے ۳صحابہ کے علاوہ جتنے بھی آثار صحابہ ذکر کئے ہیں وہ سنداً ضعیف ہونے کی بناء پر ناقابل حجت ہیں،ان آثار کامختصر جائزہ پیش خدمت ہے۔
اثر:(۱)
قال علی بن حجر حدثنا یحی بن سعید الاموی عن ابیہ عن خثیم بن مروان السلمی کتب عمر لایغزون رجل حتی یاخذ ما فضل من لحیتہ.
(تاریخ الکبیر للبخاری ۳؍۲۱۱)
جائزہ:یہ اثر خثیم بن مروان السلمی (ضعیف عند المحدثین) کی وجہ سے ضعیف ہے امیر المؤمنین فی الحدیث محمد بن اسماعیل البخاریa (المتوفی۲۵۶ھ)اس روایت کونقل کرنے کےمتصل بعد فرماتے ہیں: لایتابع علیہ.
یعنی اس روایت کو بیان کرنے میں اس ضعیف راوی کی کسی نے بھی متابعت نہیں کی۔
عمران صاحب نے بعض الناس کے طرز کو اپناتے ہوئے امام صاحب کی جرح کوچھپادیا۔ اور اسی طرح امام عقیلی،علامہ ہیثمی، ابن الجوزی ،حافظ ذھبی اور حافظ ابن حجر نے بھی خیثم بن مروان کی وجہ سے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، دیکھئے:(الضعفاء الکبیرللعقیلی ۲؍۲۶،دار الکتب العلمیہ، مجمع الزوائدللھیثمی۴؍۴،دار الکتب العربی،الضعفاء والمتروکون لابن الجوزی ۱؍۲۵۲،دار الباز، میزان الاعتدال للذھبی ۲؍۴۳۷، دار الکتب العلمیہ، لسان المیزان لابن حجر ۲؍۳۹۴،دار الفکر)
اس سخت ضعیف ترین اثر کو نقل کرنے کے بعد موصوف نے داڑھی بڑھانے والے اشخاص کی توہین میں جو کچھ رقم کیا ہے اس کے متعلق ہم صرف یہی کہیں گے کہ سنت نبوی سے استہزاء کرنا اہل حدیث کی شان کے لائق نہیں ہے بلکہ اہل بدعت کا شیوہ ہے۔
نیز موصوف کی ان توہینآمیز باتوں کو صفحہ قرطاس پر نقل کرنے سے سنت کااحترام مانع ہے۔
اثر:(۲)
اور اسی طرح عمران صاحب نے شرح ابن بطال اور فتح الباری کے حوالے سے سیدنا عمر بن خطاب کی طرف منسوب ایک اور اثرنقل کیا ہے۔دیکھئے:(ضیائے حدیث ،ش۱۱ج۲۵،ص:۴۷،ش۱۲،ص:۶۱)
جائزہ:یہ اثر بے سند ہے اور بے سند باتوں کی علمی دنیا میں کوئی وقعت ہی نہیں ہوتی۔

لطیفہ:

موصوف اس بے سند قول کو نقل کرنے کے بعد لکھتےہیں: اور حافظ ابن حجر بالعموم جس حدیث کی سند پر سکوت کرلیتےہیں وہ ان کے نزدیک صحیح یاحسن ہوتی ہے لہذا یہ اثر ان کے نزدیک کم از کم حسن درجے کا ہوگا۔
(ضیائے حدیث:شمارہ:۱۱،ص:۴۷)
عمران صاحب کا اس بے سند قول کوحسن کہناتخت سے قبل نقش بنانے کے مترادف ہے نیز بے سند اقوال کو بطور حجت پیش کرنا بھی بعض الناس کا کام ہے۔
اثر:(۳)
سیدناجابر بن عبداللہw بیان کرتے ہیں :

کنا نعفی السبال الا فی حج اوعمرۃ.

(سنن ابی داؤد،رقم:۴۲۰۳)
(ضیائے حدیث،شمارہ:۱۰،ص:۵۰)
جائزہ:اس اثر کی سند میں ابوزبیر المکی (محمد بن سلم بن تدرس) مدلس ہے ،دیکھئے:
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین از محدث العصرحافظ زبیر علی زئی ،ص:۱۲۰)
جبکہ مسلمہ اصول ہے کہ مدلس کی غیرمصرح بالسماع روایت ضعیف ہوتی ہے،نیز ذھبی عصرحقا محدث حافظ زبیرعلی زئی aاس روایت کے متعلق فرماتے ہیں:سندہ ضعیف.
(انوار الصحیفہ ،ص:۱۴۸،طبع جدید)
اور اسی طرح استاذ الاساتذہ ،حافظ عبدالمنان نورپوری فرماتے ہیں:
پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس روایت میں جابر tسے نیچے راوی ابوزبیر محمد بن سلم بن تدرس ہے ،اسماء رجال کی کوئی کتاب یا اہل تدلیس پر جو کتابیں لکھیں گئیں ہیں وہ دیکھ لو ان میں اس کانام آجائے گا کہ ابوزبیر مدلس راوی ہے۔
مدلس راوی(تدلیس کرنے والا)اس کے متعلق اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ وہ سماع کی تصریح کردے تو پھر اس کی روایت حجت ہے … اور اگر سماع کی تصریح نہ کرے…پھر اس کی روایت دلیل نہیں بنتی… اصول اور ضابطے کے مطابق یہ روایت صحیح نہیں۔(مقالات نورپوری،ص:۲۶۳)
دوسری سندکاحال:

عن قتادۃ قال قال جابر لانأخذ من طولھا الافی حج او عمرۃ.

(مصنف ابن ابی شیبہ ،رقم:۲۵۴۸۷)
(ضیائے حدیث،ش۱۱،ص:۴۶)
جائزہ:اس سند میںابو ہلال (محمد بن سلیم)ہے جو کہ محدثین کے نزدیک مجروح ہے:
امام محمد بن سعد بن منیع الھاشمی البصری (المتوفی ۲۳۰ھ) فرماتے ہیں:

فیہ ضعف‘‘

(طبقات الکبری ۶؍۲۰۵،رقم:۳۲۷۴،دار الکتب العلمیہ)
cامام بخاری (المتوفی ۲۵۶ھ)نے ان کو ضعفاء میں ذکر کیا ہے۔
(کتاب الضعفاء،ص:۹۸،بتحقیق الشیخ زبیر علی زئی)
cامام ابو زرعہ عبداللہ بن عبدالکریم بن یزید الرازی (المتوفی ۲۶۴ھ)فرماتے ہیں:’’لین‘
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۴؍۲۷۴ ت ۱۴۸۴،دار الکتب العلمیہ)
امام احمد بن حنبل (المتوفی ۲۴۱ھ)فرماتے ہیں:

’وھو مضطرب الحدیث عن قتادۃ‘‘

یعنی: یہ جب قتادہ سے بیان کرےتو اس کی روایت میں اضطراب ہوتا ہے۔
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۶؍۲۷۳وسندہ صحیح)جب کہ زیربحث روایت بھی قتادہ سے بیان کررہا ہے۔
اور اسی طرح محترم عمران صاحب نے بھی ابو ہلال کاضعیف ہونا تسلیم کیا ہے، دیکھئے:(ش ۱۱،ص:۴۶)
اثر:(۴)

عن سماک بن یزید قال کان علی یأخذ من لحیتہ مما یلی وجھہ.

(مصنف ابن ابی شیبہ :۲۵۴۸)
جائزہ:اس کی سند میں زمعہ بن صالح ہے جو کہ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے،جیسا کہ علامہ نور الدین علی بن ابی بکر الھیثمی (المتوفی ۸۰۷ھ)فرماتے ہیں:’’ضعفہ الجمھور‘‘
یعنی :جمہور ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
(مجمع الزوائد ۵؍۹۸،دار الکتب العزی)
نیز حافظ ابن حجر فرماتے ہیں :’’ضعیف‘‘
(تقریب التھذیب :۲۰۳۵)
عمران صاحب نے اس اثر کو نقل کرنے کے بعد لکھا زمعہ بن صالح کی وجہ سے اس اثر کی سند کمزور ہے ۔
(ضیائے حدیث،شمارہ:۱۱،ص:۴۷)
ضعیف روایت کو بطور احتجاج پیش کرنا عمران صاحب ہی جیسے لوگوں کا کام ہے۔
اثر:(۵)

عن الحسن قال کانوا یرخصون فیما زاد علی القبضۃ من اللحیۃ ان یؤخذ منھا.

(مصنف ابن ابی شیبہ :۲۵۴۸۴)
(ضیائے حدیث ،ش:۱۱،ص:۴۷ وش:۱۲،ص:۶۱)
جائزہ:یہ اثر بھی ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں اشعث بن سوار جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے، ان پر امام یحیٰ بن معین، امام عجلی ابوزرعہ رازی ،دار قطنی ،ابن حبان وغیرہ نے جرح کررکھی ہے،دیکھئے:

(۱)من کلام ابی زکریا یحیٰ بن معین فی الرجال ،ص:۴۷،رقم:۶۶ روایۃ ابی خالد یزید بن ھیثم بن طھمان دار المأمون للتراث.
(۲)تاریخ الثقات للعجلی ،ص:۶۹ت ۱۰۵، دار الکتب العلمیہ.
(۳)الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۲؍۲۷۱،دار الکتب العلمیہ
(۴)سوالات البرقانی عن الدا رالقطنی ،ص:۱۷ روایۃ الکرجی ،کتب خانہ جھلم لاہور
(۵)کتاب المجروحین لابن حبان ۱؍۱۷۱

امام یحی بن شرف الدین النووی(المتوفی ۶۷۶ھ)فرماتے ہیں:

’’وقد ضعفہ الأکثرون ‘‘

اس کو اکثرائمہ نے ضعیف کہاہے۔
(المجموع ۶؍۲۲،دار الفکر)
اثر:(۶)

وکیع عن سفیان عن منصور عن ابراھیم قال کانوا یطیبون لحاھم ویأخذون عن عوار ضھا.

(مصنف ابن ابی شیبہ ۶؍۱۰۹)
جائزہ:یہ اثر سفیان ثوری ثقہ مدلس کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔
اثر:(۷)

حدثنا وکیع عن ابی ھلال قال سألت الحسن وابن سیرین فقالا لابأس بہ ان تأخذ من طول لحیتک.

(مصنف ابن ابی شیبہ :۲۵۴۸۹)
(ضیائے حدیث،ش:۱۱،ص:۴۷)
جائزہ:یہ اثر بھی ابوھلال کی وجہ سے ضعیف ہے ،دیکھئے:اثر(۳) کی دوسری سند کاجائزہ۔
اس پوری بحث کاخلاصہ یہ ہوا کہ داڑھی کو اپنی کیفیت پر چھوڑ دینا فرض ہے اور اسے مونڈنا یاکٹوانا خلاف سنت اور گناہ کاکام ہے۔
یہی موقف اکثرعلماء حق(اہل حدیث) کا ہے ۔
شیخ الکل سیدنذیر حسین محدث دھلوی aکے شاگرد اور مشہور اہل حدیث عالم مولانا عبداللہ غازیپوری aلکھتے ہیں:’’داڑھی رکھنا واجب ہے‘‘(مجموع فتاوی ،ص:۶۹۰،دار ابی الطیب)
nشیخ الکل کے دوسرےشاگرد مناظر اسلام مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری aفرماتے ہیں:’’حدیثوں میں داڑھی رکھنے کاحکم بکثرت ملتا ہے اور قانون قدرت اللہ رکھنے کی تائید کرتا ہے۔
(فتاوی ثنائیہ ۲؍۷۲،مکتبہ ثنائیہ سرگودھا)
nشیخ العرب والعجم محدث دیارسندھ علامہ سیدابومحمد بدیع الدین شاہ راشدیaنے اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر داڑھی کی فرضیت پر ایک رسالہ تحریرفرمایا جو کہ علماء میں بڑی پذیرائی حاصل کرچکا ہے (والحمدللہ)
nمشہور اہل حدیث عالم مولانا عبدالقادر حصاروی aفرماتے ہیں:’’واضح رہے کہ داڑھی رکھنا اور مونچھوں کوکاٹنا فرض ہے۔‘‘
(فتاوی حصاریہ ۵؍۵۴۶،مکتبہ اصحاب الحدیث ،لاہور)
nاستاذ الاساتذہ حافظ عبدالمنان نورپوری aنے اس مسئلے پر مقالات نورپوری میں تفصیلی گفتگو کی ہے،دیکھئے:
(مقالات نورپوری ،ص:۲۴۹تا۲۹۸)
nمفتی اہل حدیث شیخ مبشراحمد ربانیdفرماتےہیں:’’اور مسلمان کے لئے داڑھی رکھنا ضروری ولازمی ہے جسے شرعی اصطلاح میں فرض وواجب کہتے ہیں۔(احکام ومسائل ،ص:۶۷۰)
مزید لکھتے ہیں:’’صحابی رسول عبداللہ بن عمرwکا اپنا ذاتی عمل کوئی شرعی دلیل نہیں ہے مرفوع حدیث کے مقابل اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔(احکام ومسائل ،ص:۶۷۲)
nشیخ الحدیث حافظ عبدالستار حمادdداڑھی کی فرضیت پر دلائل ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:’’ان تمام بیان کردہ روایات کاتقاضا ہے کہ داڑھی رکھنا ضروری ہے اور اس میں کانٹ چھانٹ کرنا شرعاً جائز نہیں۔(فتاوی اصحاب الحدیث :۱؍۱۸۵)
اور اسی طرح امام العصر فی العقیدہ واستاذنا علامہ عبداللہ ناصر رحمانی، شیخ رفیق اثری، حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی،شیخ عبداللہ امجد چھتوی، حافظ مسعود عالم المرجالوی، شیخ خالد بن بشیر،شیخ ارشاد الحق اثری، سید طیب الرحمن زیدی، حافظ محمد شریف، مفتی حافظ محمد سلیم (مفتی جمعیت اہل حدیث سندھ) استاذی المکرم حافظ ندیم ظہیر، استاذی المکرم شیخ ذوالفقار علی طاہر، اہل سندھ کے مایہ ناز مبلغ ڈاکٹر عبدالحفیظ سموں، مبلغ اہل حدیث محمدابراھیم بھٹی،حافظ ایوب صابر، اور حافظ ابوالحسن عبدالخالق(مفتی ضیائے حدیث لاہور) وغیرہ بھی اس موقف پرقائم ہیں ان کے سواء مدارس اہل حدیث کے اکثر وبیشتر شیوخ الحدیث اور عرب علماء کا بھی یہی موقف ہے۔
نیز حافظ عمران صاحب کاذھبی عصر حقا محدث زبیر علی زئی aکو اپنی تائید میں پیش کرنا درست نہیں کیونکہ حافظ صاحب aداڑھی بڑھانے کو بہترخیال کرتے تھے اور ان کا عمل بھی اس پر تھا۔
آخر میں،میں اپنے محسن اور مشفق استاذ شیخ ذوالفقار علی طاہر صاحب (متعنا اللہ بطول حیاتہ)کا بے حد مشکور ہوں کہ جن کی بھرپور معاونت وحوصلہ افزائی سے یہ مضمون پایہ تکمیل کوپہنچا۔
اللہ تعالیٰ استاذ محترم کاسایہ ہم پر تادیر قائم رکھے۔آمین

About محمدابراھیم ربانی

Check Also

اتمام البرھان فی تصحیح ابن خزیمہ وابن حبان امام ابن خزیمہ وامام ابن حبان کی تصحیح اور بعض الناس کامغالطہ

امام ابوبکرمحمدبن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ (المتوفیٰ۳۱۱ھ)اورامام ابوحاتم محمدبن حبان البستی رحمہ اللہ (المتوفیٰ۳۵۴ھ)نے …

جواب دیجئے