Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جون » المعہدا لسلفی کی ۱۹ویں سالانہ تقریب بخاری – اداریہ

المعہدا لسلفی کی ۱۹ویں سالانہ تقریب بخاری – اداریہ

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ (ﷺ) وبعد!
قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
7مئی2017ء بمطابق ۱۰شعبان ۱۴۳۸ھ بروز اتوار بعد نماز عصر تا ۱۰بجے شب المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ کراچی کی ۱۹ویں سالانہ تقریب بخاری منعقد ہوئی، جس میں کراچی وبیرونی کراچی سے کثیر تعداد میں علماء کرام وجماعتی احباب نے شرکت کی اور آغازِ تقریب سے اختتام تک بڑے ذوق وشوق اور دلجمعی کے ساتھ تشریف فرماہوکر تقریب کی کاروائی سے استفادہ کیا، جزاھم اللہ خیرا.
سب سے پہلے علماء کرام کے خطابات سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:

فضیلۃ الشیخ عبدالرحمٰن چیمہ صاحب

خطبہ مسونہ کے بعد فرمایا:
آج جس تقریب میں ہم جمع ہیں یہ تقریب امام بخاری کی الجامع الصحیح کےنام سے موسوم ہے جوکہ دراصل فقہ الحدیث کی کتاب ہے، آج علماء کرام آپ کو اس کتاب اورصاحبِ کتاب سے متعارف کرائیں گےمیںچاہتاہوں کہ میں امام بخاری کی مقبولیت کے حوالے سے گفتگو کروں۔
سامعین حضرات! جس طرح سیدنا ابراھیم  کی مقبولیت کی وجہ سے یہود ابراھیم کو یہودی او ر نصاریٰ عیسائی باور کرانے کی کوشش کرتے ،حالانکہ ابراھیم یکطرفہ مسلمان تھے جیسا کہ اللہ نے فرمایا: [مَا كَانَ اِبْرٰہِيْمُ يَہُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا۝۰ۭ ](آل عمران:۶۷)بالکل اسی طرح کا معاملہ سیدناامام بخاری کا ہے کہ جولوگ امام بخاری سے حسد، بغض، کینہ ،عناد رکھتے اور آپ پر کئی طرح کی الزام تراشی کرتے ،حکام سے امام بخاری کی شکایات کرتے، احادیث کی اسناد ومتون تبدیل کرکے امام بخاری سے استفسار کرتے تاکہ امام بخاری لاجواب ہوکر خجلت کا شکار ہوں،آج ان ہی لوگوں کے نظریاتی وارث امام بخاری کا کمایا ہواکھارہےہیں، ان کے نام کی تقریبات منعقد کراتے ہیں اور باور کراتے ہیں کہ امام بخاری امام ابوحنیفہ کے مقلد تھے، امام بخاری کے متعلق اس طرح کا دعویٰ شوافع، حنابلہ اور ما لکیہ نے بھی کیاہے کہ آپ ان کے امام کے مقلد تھے۔ یہ امام بخاری کی مقبولیت کا مقام ہے کہ ہر فرقہ آپ کو اپنے اندر شامل کرناچاہتا ہے تاکہ اپنی عزت بڑھاسکے۔
لیکن جب ہم صحیح بخاری پڑھتے ہیں تو ہمیں اندازہی کچھ اور ملتاہے،امام بخاری نے صحیح بخاری میں یہ انداز اختیار کیا کہ قرآن وحدیث کے الفاظ، کلمات اورحروف سےجوجومسائل واحکام معلوم ہوئے وہ ایک عنوان کے تحت بیان فرمادیئے اور اس بات کی کوئی پروا نہیں کی کہ یہ بات کس کے مخالف ہے اور کس کے موافق،مثلاً:
احناف کے ہاں اعتکاف کیلئے روزہ شرط ہے ان کی فقہ کا مسئلہ ہے کہ :ومن شرط الاعتکاف الصوم عندنا .یعنی ہمارے نزدیک روزہ اعتکاف کی شروط میں سے ہے، جبکہ امام بخاری نے باب قائم کیا کہ ـ’’باب من لم یر ی الصوم علی المعتکف‘‘یعنی: معتکف پر روزہ ضروری نہیں ہے۔اور دلیل ذکر کی کہ ایک صحابی نے دور جاہلیت میں نذرمانی تھی کہ بیت المقدس میں ایک رات کا اعتکاف کریں گے، رسول اکرم ﷺ سے استفسار کیا، آپ نے اجازت دے دی،امام بخاری کا استدلال یہ ہے کہ رات کا اعتکاف ہوسکتا ہے جبکہ رات کو روزہ نہیں رکھاجاتا،لہذا اعتکاف کیلئے روزہ شرط نہیں۔
مقام غور ہے کہ اگرامام بخاری امام ابوحنیفہ کے مقلد ہوتے تواس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کی مخالفت کرتے؟
بعض کا دعویٰ ہے کہ امام بخاری امام شافعی کے مقلد تھے۔ یہ دعویٰ بھی غلط ہے، مثال کے طور پر:
امام شافعی کا مؤقف ہے کہ پانچ بار دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے، جبکہ امام بخاری نے باب قائم کیا کہ’’باب من قال لارضاع بعد حولین ‘‘یعنی مدت رضاعت دوسال ہے لہذا دوسال کے اندر ایک بار بھی دودھ پی لیا تو رضاعت ثابت ہوجائے گی اور دلیل کے طور پر قرآن کریم کی یہ آیت لائے ہیں:[وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَۃَ۝۰ۭ ] (البقرۃ:۲۳۳)
مقام غور ہے کہ اگر امام بخاری امام شافعی کے مقلد ہوتے تو اس مسئلہ میں اپنے امام کی مخالفت کرتے؟
بعض کاد عویٰ ہے کہ امام بخاری امام احمد بن حنبل کے مقلد تھے ،جب ہم صحیح بخاری کو دیکھتے ہیں تو اس بات کی بھی نفی ہوجاتی ہے، مثلاً :
امام احمد بن حنبل کا مؤقف ہےکہ جمعہ، زوال سے پہلے بھی اداکیاجاسکتا ہے، جبکہ امام بخاری نے صحیح بخاری میں باب قائم کیا کہ:
’’وقت الجمعۃ اذا زالت الشمس‘‘یعنی سورج ڈھلنے کے بعد جمعہ کا وقت ہوتا ہے، اور انس کی حدیث بطور دلیل پیش کی کہ آپ ﷺ کے جمعہ ادا کرنے کاوقت:حین تمیل الشمس. اس وقت ہوتا جب سورج ڈھل جاتا،اور سیدہ عائشہ کی حدیث ذکر کی جس میں (راحوا) کا لفظ ہے اور یہ لفظ سورج ڈھلنے کے بعد کے وقت پر بولاجاتاہے۔
مقام غور ہے کہ اگر امام بخاری،امام احمد بن حنبل aکے مقلد ہوتے تو اس مسئلہ میں اپنے امام کی مخالفت کرتے؟

فضیلۃ الشیخ محمد رفیق اثری

اس کے بعد درسِ حدیث کے آغاز کا لمحہ آیا، درجہ ثامنہ کے طالب علم عطاء اللہ نے سند حدیث پڑھی، شیخ الحدیث محمد رفیق اثری نے فرمایا:
عزیز طالبِ علم نے آپ کے سامنے سند پڑھی ہے، آپ احباب میں بہت سے جانتے ہوں گے اور شاید بعض نہ جانتے ہوں،دراصل یہ اخذ حدیث کا طریق بتایاگیا ہے، اس طریقہ سے آپﷺ کی ۲۳سالہ نبوی حیات کو محفوظ کرلیاگیا ہے، سنددراصل امتِ محمدیہ کی خاصیت میں سے ہے یعنی رسولِ اکرم ﷺ کے ایک ایک کلمے اور جملے کی سند موجود ہے، اور یہ بات آپﷺ کی امت کیلئے باعثِ شرف ہے اس لئےکہ پہلی اقوام میںسلسلۂ سند نہیں تھا، امت محمدیہ کو یہ شرف اس لئے حاصل ہوا کہ چونکہ اس دین نے تاقیامت رہنا تھالہذا سند کے ذریعہ اس دین کومحفوظ کرلیاگیا ۔
یہ دین جسے تاقیامت محفوظ کیا گیا ہے، خیر کثیر کاباعث ہے،اللہ کافرمان ہے:
[اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ۝۱ۭ ](الکوثر)
الکوثر سے ایک مراد توحوضِ کوثر ہے، اور دوسری مراد خیرکثیر ہے اور خیرکثیر یہی دین ہے، یعنی قرآن وحدیث۔
صحابہ کرام اس پر عمل پیرا تھے اور اسی کے سامنےسرتسلیم خم کیے ہوئے تھے،مثلاً:
رسولِ اکرم ﷺ کی وفات کے بعد انصار نے انصاری خلیفہ کا مطالبہ کیا توابوبکر صدیق نے اس حدیث کے ذریعہ حل بیان فرمایا کہ:الائمۃ من قریش.حدیث سنتے ہی انصار نےسر تسلیم خم کرلیا۔
ایک بدوی نے سیدنا امیرعمر سے کہہ دیا کہ آپ عدل سے کام نہیں لیتے، سیدناعمر سخت غصہ میں آگئے، قریب کھڑے ایک شخص نے آیت پڑھی: [خُذِ الْعَفْوَوَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِيْنَ۝۱۹۹](الاعراف:۱۹۹)
جس میں درگزری کاحکم دیا گیا ہے ،آیت سنتے ہی سیدناعمر سرتسلیم خم کرلیتے ہیں اور ان کاغصہ کافور ہوجاتاہے۔
وہ دین (قرآن وحدیث) جس پر صحابہ کرام گامزن رہے، ایک مکمل نظامِ حیات ہے ،معیشت،معاشرت، عبادت، معاملات کے مکمل احکامات بالتفصیل بیان کرنے والاہے، اور اس تفصیل کوکورس کی صورت میں امام بخاری نے صحیح بخاری میں بیان فرمادیا ہے۔
صحیح بخاری کی احادیث میں واقع چھوٹے چھوٹے جملوںپرغور کریں آپ کو زندگی کے ہر شعبہ کے حوالے سے تعلیم ملے گی اور آپ کی تربیت ہوگی،مثلاً:
(۱) المسلمون علی شروطھم.یعنی تمام مسلمانوں کو آپس کی طئے ہونے والی شروط کی پابندی کرنی چاہئے، اس جملے میں مسلمانوں کے تمام معاملات آگئےجو وہ آپس میں طے کرتےہیں اگر ان میں شروط ہوں گی تو تمام مسلمان ان کی پابندی کریں گے۔
(۲)لاضرر ولاضرار فی الاسلام .یعنی اسلام کسی کو ضرر ؍نقصان وتکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔
یہ بڑا جامع ومانع حکم ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی اسپیکر پرقرآن پڑھ رہا ہے اور اس کی آواز سےلوگوں کو تکلیف ہورہی ہے تو اس کا اسپیکر پر قرآن پڑھنا ناجائز ہے۔
اسی طرح ایک شخص اپنی عمارت کو اتنا بلند لے جائے کہ دوسروں کی بے پردگی ہوتی ہو اور اس شخص کو اس کی پروا نہ ہوتو حدیث کے اس جملے کے تحت اس کا یہ طرز عمل غلط ہے۔
(۳)لااکراہ فی الدین.کوئی شخص زبردستی کرتے ہوئے کسی اور سے کوئی بھی کام کروالیتا ہے، اس جملے کے تحت اس شخص کا زبردستی کرنا حرام ہے،مثلاً: زبردستی کرتے ہوئے کسی کے مکان، پلاٹ، زمین پر قبضہ کرلیا تو اس کا وہ قبضہ حرام ہے اسی طرح زبردستی کرتے ہوئے کسی سے اس کی بیوی کو طلاق دلادی تو اس جملے کے تحت طلاق واقع نہیں ہوگی۔
(۴)انما الاعمال بالنیات.یعنی تمام احکام کا دارومدار نیت پر ہے، کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہے نیت میں اخلاص نہیں، ریاکاری ہے تو نماز نہیں ہوگی۔
کوئی شخص کسی عورت سے غیرمعروف زبان میں جملہ ادا کروالے کہ’’میںقبول کرتی ہوں‘‘ تو نکاح واقع نہیں ہوگا ،اس لئے کہ اس عورت کی یہ نیت ہی نہیں تھی۔
(۵)قرآن کریم کی آیت کا جملہ ہے:[وامسحوا برؤوسکم]یعنی اپنے سروں کامسح کرو، اب سر کے مسح کے حوالے سے فقہاء کا اختلاف ہے کسی کے نزدیک سرکے چند بالوں کامسح کافی ہے، کسی کے نزدیک ربع رأس کا، کسی کے نزدیک پورے سر کا لیکن امام بخاری نے حدیث کے ذریعہ تعین کیا کہ سر کےمسح میں اقبال وادبار دونوں شرط ہیں یعنی دونوں ہاتھوں کو سر کے آگے سے گدی تک لےجانا اور گدی سے آگے تک لے آنا۔
(۶)اسی طرح مفقود الخبر شخص کے متعلق امام بخاری کی تبویب ملاحظہ ہو:
حکم المفقود باھلہ ومالہ.
(الف) اہل یعنی بیوی امن کےد ور میں ایک سال انتظار کرے گی پھر اس کے شوہر کو مردہ تصور کیاجائے گا ،پھر وہ چار ماہ دس دن عدت گذار کر نکاح کرسکتی ہے۔اور جنگ کے دور میں اس بیوی کاکیاحکم ہے اس کیلئے امام بخاری کے سامنے مؤطا مالک میں موجود امیر عمر کا قول تھا یعنی 4سال انتظار کرے گی پھر اس کے شوہر کو مردہ تصور کیاجائے گا اب وہ 4ماہ دس روز عدت کرکے کسی اور جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
(ب)جبکہ مفقود الخبر کے مال کے متعلق امام بخاری نے حدیث لقطہ پیش کی ہے یعنی اس کامال، لقطہ کے حکم میں ہے یعنی لقطہ کے طور پر ورثاء میں تقسیم ہوگا اور اگر کسی موقع پر وہ شخص واپس آجاتا ہے تو اس کامال اس کو واپس کردیاجائے گا۔
امام بخاری نےصحیح بخاری میں افہام انسانی کے تمام طرق استعمال کیے ہیں، اور یہ پیغام دیا ہےکہ اللہ کے رسول ﷺ کا ایماءِ کلام بھی غلط نہیں ہوسکتا اس لئے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے عصمت حاصل ہے۔
کچھ لوگ امام بخاری کے اس منہج کو تسلیم نہیں کرتے اور تابیر النخل کی مثال دیتے ہیں،حالانکہ ان بعض الناس کا اس حوالے سے تابیر النخل کی مثال دینا غلط ہے اس لئے کہ آپﷺ کا صحابہ کرام کو تابیر النخل سے منع کرنا دراصل انہیں تجربہ سے سمجھانا تھا کہ یہ بھی طریقۂ افہام ہے۔
ایسے معترضین امام بخاری کے تفقہ کو سمجھنے سے نابلد ہیں ذراسا فہم رکھنے والاشخص امام بخاری کی تبویب دیکھ کر آپ کے تفقہ کے حوالے سے دنگ رہ جاتا ہے ،مثال کےطور پر امام بخاری نےباب قائم کیا:’’نماز فجر جماعت سے پڑھنا افضل ہے‘‘ اور حدیث ذکر کی کہ ’’جوشخص نمازِ عشاء جماعت سے پڑھتا ہے وہ اس شخص سے افضل ہے جو عشاء فرداً پڑھ کر سوجاتاہے‘‘
اب سوچیں اس حدیث کا باب کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ جی ہاں۔ تعلق اس طرح ہےکہ جو شخص عشاء جماعت کے ساتھ پڑھنے کیلئے جاگ رہا ہے وہ نیند کی قربانی دے رہا ہے اس لئے وہ افضل ہے اسی طرح جو شخص فجر جماعت کے ساتھ پڑھنے آیا ہے تو وہ بھی نیند کی قربانی دیکر کر آیا ہے لہذا وہ بھی افضل ہے۔
تبویبِ بخاری کی ایک اور حیرت انگیز مثال ملاحظ ہو:
کتاب الصید میں کستوری کے متعلق باب قائم کیا اور حدیث ذکر کی کہ جو شخص اللہ کی راہ میں شہید ہوجاتاہے وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہاہوگا اور اس کے خون کا رنگ تو خون والاہوگا لیکن اس سے کستوری کی خوشبوآرہی ہوگی۔
اس حدیث سے ایک مسئلہ تو یہ معلوم ہوا کہ کستوری پاک ہےتبھی تو شہید کے خون سے اس کی خوشبوآرہی ہوگی، اور دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ جب یہ پتہ چل گیا کہ کستوری پاک ہے جبکہ کستوری ہرن کے ناف میں بنتی ہے لہذا ہرن بھی حلال ہے، جب ہرن حلال ہے تو اس کا شکار کرنا بھی جائز ہے۔اس لئے امام بخاری اس حدیث کو کتاب الصید میں لا ئے۔
۔تمام ائمہ سے زیادہ امام بخاری کو عالی سند حاصل ہے، ثلاثیات جتنی امام بخاری کے پاس ہیں کسی اور کےپاس نہیںہیں۔
۔امام بخاری نے صحیح بخاری میں مبتدعین کا رد ان کا نام لیکر نہیں کیا، اس میں امام بخاری کا ورع نظر آتا ہے۔
۔صحیح بخاری کی پہلی اور آخری حدیث فرد مطلق ہے، پہلی سیدناعمربن خطاب سے اورآخری سیدناابوھریرہ سے۔
۔میں طلباء سے کہوںگاکہ جس راوی خصوصاً صحابی کی کنیت آئے تو آپ کو اس کانام معلوم ہوناچاہئے،میں نے ایک طالب علم کو کہا کہ الاصابۃ میں ابوبکرtکا تذکرہ دکھاؤ،وہ تلاش کرنے لگا پھر کہنے لگا نہیں ہے۔ میں نے کہا یہ کیسے ہوسکتاہے کہ اتنے جلیل القدر صحابی کاتذکرہ الاصابۃ میں نہ ہو؟ تب میں نےکہا عبداللہ بن عثمان کاتذکرہ دیکھو جو کہ ابوبکرصدیق کااصل نام ہے۔ اب اس طالب علم کو ابوبکر صدیق کا تذکرہ فوراً مل گیا۔
۔میںتمام سامعین سے عرض کروں گا کہ صحیح بخاری کی آخری حدیث میں موجودذکرالٰہی کاکثرت سےورد کریں یعنی :سبحان اللہ وبحمدہ سبحان العظیم.
۔اسم اللہ سے جس لفظ کو بھی ہٹائیںاس میں ’’اللہ‘‘ کی معنویت باقی رہتی ہے،مثلاً: الف کوہٹادیں، تو ’’للہ‘‘ ۔ ل کو ہٹادیںتو’’ لہ‘‘، لہ مافی السموات والارض. الف اور دونوں لام کوہٹادیں تو’’ہ‘‘، عبدہ ورسولہ.
درس حدیث کے اختتام پر شیخ الحدیث محمدرفیق اثری اور فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی نے فراغت حاصل کرنے والے طلبہ کی دستار بندی کرائی اور فضیلۃ الشیخ محمدابراھیم بھٹی نے انہیں اسناد دیں۔
سندفراغت حاصل کرنے والے طلبہ کے نام یہ ہیں:
محمدعمران بن علی مراد سنجھوروسانگھڑ۔ عطاء اللہ بن محمد شفیع شہداد پور سانگھڑ۔ شہباز الحق بن محمد یوسف مظفر گڑھ۔ محمد یعقوب بن واحد بخش مظفر گڑھ۔ عبدالرؤف بن محمد قاسم اوچ بہاولپور۔ محمد ابراھیم بن میووبدین۔ عبدالجبار بن ولی محمد تھرپارکر۔ محمد طارق بن عبداللطیف خیرپور۔ محمد شعیب بن محمد یونس کراچی۔محمد اسلم بن عاشق علی لاڑکانہ۔

فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر ر حمانی

خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا:
میں دل کی گہرائیوں سے استاذ الاساتذہ ،محدث العصر شیخ محمد رفیق اثری کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے ہمار ے ادارے کیلئے اپنے قیمتی اوقات میں سے وقت نکالااور دعاگوہوں کہ اللہ پاک آپ کوصحتِ کاملہ وعاجلہ عطافرمائے۔
ہم نے شیخ محترم سے انتہائی قیمتی درسِ حدیث سماعت کیا، صحیح بخاری کے متعلق بڑے حیرت انگیز نکات معلوم ہوئے، یوں ہمارے دلوں میں صحیح بخاری کی قدرومنزلت اور زیادہ بڑھ گئی۔
سامعین حضرات! آپ خوش نصیب ہیں کہ آج اس تقریب میں آپ نے بھی ان طلبہ کے ساتھ صحیح بخاری کی آخری حدیث پڑھی، یہ طلبہ پورا سال اسی طرح احادیث پڑھتے ہیں۔ان طلبہ کیلئے دعا کیجئے کہ اللہ انہیں دعوتِ دین میں اخلاص عطافرمائے اور استقامت عطافرمائے، ان کے قدم کبھی متزلزل نہ ہوں، اللہ انہیں ہمیشہ کیلئے سداد اور درستگی عطافرمائے۔
میں سب سے پہلے اپنے آپ کو اور پھر طلبہ کو عمل کی نصیحت کروں گا کہ عمل ہی علم کی منزل ہے، علم تو محض ایک راہ ہے، اس کی منزل عمل ہے، جو شخص علم حاصل نہیں کرتا اس کی مثال جانور جیسی ہے اور جو علم حاصل کرلے وہ جانور سے ممتاز ہوجاتا ہے، اور جو علم حاصل کرے اور اس پر عمل نہ کرے تو وہ جانور سے بدتر ہوجاتاہے، اس لئے کہ علم کے ذریعہ اس پر حجت قائم ہوگئی ہے۔
میرے عزیز طلبہ! آپ لوگ اللہ کے چنیدہ بندے ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:[ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا۝۰ۚ ] (فاطر:۳۲)یعنی ہم نے کتاب کاوارث اپنے چنے ہوئے بندوں کوبنایا۔
اصطفیٰ کالفظ،تین چار میں سے کسی ایک کو چننے پر بولاجاتا ہے، یہاں اللہ نے یہی انداز اختیار فرمایا ہے،یعنی علماء وہ ٹیم ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب کی وراثت کیلئے چنا۔یہ بڑے شرف کی بات ہے اور یہ شرف صرف عمل کی وجہ سے ہے۔
آپ نے بحمدللہ صحاح ستہ پڑھا، تفسیر پڑھی، عقیدہ پڑھا، اگر عمل ہے تو یہ بڑے رتبے کی بات ہے ورنہ سب بیکار ہے۔
میں اس موقع پر آپ طلبہ کو دونصیحتیں کروںگا:
1ہمیشہ مدارس سے تعلق قائم رکھیں، مدارس سے کبھی تعلق ٹوٹنے نہ پائے، اپنے اس منصب کو کبھی کم تر نہ سمجھیں ،کبھی احساس کمتری کا شکار نہ ہوں، آپ نے صحیح بخاری پڑھی ہے اور جس نے صحیح بخاری پڑھی ہو اس کاصحیح منصب مدرسہ کی تدریس ہے نہ کہ دنیا کے اداروں کا کوئی عہدہ۔
2یہ بات نوٹ کرلوکہ ہم اہل حدیث تھے،اہل حدیث ہیں اور اہل حدیث رہیں گے، یہ لقب ہماری پہچان وشناخت ہے، اس کو چھپانے کی ضرورت نہیں،کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ لقب اہل حدیث دعوتِ دین میں رکاوٹ ہے، یہ بات بڑی فرسودہ ہے، صحابہ کے دور اور محدثین کے ادوار میں اس لقب کا استعمال عام تھا، کسی نے اسے دعوت وتبلیغ میں رکاوٹ نہیں سمجھا۔
اگر کفن وقبر پر لکھنا جائز ہوتا تو میں اپنےبچوں کووصیت کرجاتا کہ وہ لکھ دیں کہ یہ جنازہ اہل حدیث کا ہے اور یہ قبر اہل حدیث کی ہے۔

فضیلۃ الشیخ محمدابراھیم بھٹی

خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا:
غالباً 84,83کی بات ہے کہ جماعت کی دینی درسگاہ جامعہ ابی بکر میں ایک پروگرام تھا، اسٹیج پر ایک طرف شیخ العرب والعجم، قاطع شرک وبدعت سیدابومحمد بدیع الدین شاہ الراشدی  تشریف فرما تھے دوسری طرف سلطان المحققین استاذ الاساتذہ والعلماء محدث العصر شیخ سلطان محمود تشریف فرما تھے، اسٹیج سیکٹری مدیر تعلیم محمد عبدالجواد مصری کہہ رہے تھے کہ آج تک چشم فلک نے ایسا اسٹیج نہیں دیکھا جہاں دنیا کی ایسی دوعظیم علمی شخصیتیںموجود ہوں، ان دونوں شخصیتوں کی مثال انسانی جسم میں موجود دوآنکھوں کی سی ہے جو خوبصورتی میں تو ایک جیسی ہوتی ہیں، بس اتنافرق ہوتا ہےکہ ایک دائیں ہوتی ہے اور دوسری بائیں۔
آج مغرب کے بعد سے اب تک جودوخطاب ہوئے ہیںان سے اکابرین کی یاد تازہ ہوگئی ہے، میں دیکھ رہاہوں مولانا سلطان محمود کے علمی جانشین شیخ محمدرفیق اثری بھی موجود ہیں اور سید ابومحمد بدیع الدین شاہ کے منہجی وارث شیخ عبداللہ ناصر رحمانی بھی موجود ہیں ، دونوں نے عظیم نصائح فرمائیں، سلف کی یاد تازہ ہوگئی، منہج کاخلاصہ ہم نے سن لیا۔
سن لیں!جس دینی درسگاہ میں آج آپ موجود ہیں ،اس کاایک طرۂ امتیاز ہے کہ یہ درسگاہ جب سے وجود میںآئی ہے تب سے آج تک اس کا کوئی ایک پروگرام بھی منہج سے ہٹا ہوا منعقد نہیں ہوا ورنہ تو کچھ ادارے مقلدین کو بطور ناصح اپنے اداروں میں مدعوکرتے ہیں۔
آپ احباب کا اتنا وقت بیٹھے رہنا ثابت کرتا ہے کہ آپ باذوق ہیں، علماء سے رابطہ میں رہیں، تاکہ منہج باقی رہے ،عقیدہ کی سلامتی کیلئے علماء سے وابستگی انتہائی ضروری ہے۔
تقریب بخاری کے اسٹیج سیکٹری شیخ محمد داؤد شاکر نائب مدیر المعہد تھے۔
تلاوت،تقاریر وغیرہ کی تفصیل حسب ذیل ہے:
تلاوت: محمد قاسم بن طارق کریم، عبدالصمد بن عبدالقیوم، عبدالقیوم بن محمد صدیق ،ابرار احمد بن مشتاق احمد، حمزہ بن عمران۔
تقاریر: نبیل کاشف، علی آفتاب، مغیث الرحمٰن، حافظ محمد عمر بن حافظ محمد سلیم، حافظ طارق، فہد بشیر۔
نظم: قاری حبیب اللہ
اجمالی رزلٹ کلاس کی ترتیب سے:
درجہ ثامنہ: طارق بن عبداللطیف اول۔ عبدالجبار ولی محمد دوم۔ عمران علی مراد سوم۔
درجہ سابعہ: بدیع الدین بن عبداللہ ناصر رحمانی اول۔ مغیث الرحمٰن بن مجیب دوم۔ فیصل یاسین سوم۔
درجہ سادسہ: بلال مشتاق اول۔ یونس دامن علی دوم۔ نعمان خالد کریم سوم۔
درجہ خامسہ: سمیع اللہ عثمان غنی اول۔ عمران راہب دو م۔ اسد اللہ منورسوم۔
درجہ رابعہ: اظہر عرض محمد اول۔ صفی الرحمٰن بن عبدالرزاق دوم۔ سلمان زکریاسوم۔
درجہ ثالثہ: عابد شفقت اول۔ عادل نفیس دوم۔ نعمت اللہ بن عبدالواحدسوم۔
درجہ ثانیہ: زبیر احمد علی اول۔ فرمان جمال دوم۔ علی اختر اکرم سوم۔
درجہ اولیٰ: معاویہ حنیف اول۔ عثمان نصیر دوم۔ خلیق ذوالفقار سوم۔
درجہ ادنیٰ: سیف اللہ یونس اول۔ عبدالواجد منظور دوم۔علی محمد لیاقت علی سوم۔
حفظِ حدیث میں اول: عمران راہب۔ راشد سکندر، عبدالرؤف قاسم۔
عقیدہ میں اول: طارق عبداللطیف۔ عبدالجبار ولی محمد
حدیث میں اول: بلال مشتاق۔
حفظ المتون میں اول: عمران راہب۔ سمیع اللہ عبدالغنی۔ عبداللہ ساجد۔
پورے معہد میں اول: معاویہ حنیف ۔دوم: بدیع الدین بن عبداللہ ناصررحمانی۔ سوم: عثمان نصیر
مثالی ترین طالب علم: عثمان نصیر
حسن کارکردگی: عمران ہارون، انس کاکا، فیصل یاسین، حنظلہ ،زبیرذوالفقار، نبیل، عبدالقدیر، علی اختر، کاشف، نعمان۔

عزت مآب عبدالشکور صاحب کا سانحہ ارتحال

9مئی 2017ء بروز منگل بوقت شام پی آئی بی کالونی کراچی کے جماعتی عبدالشکور صاحب انتقال کرگئے ، اگلے روز بعد نمازظہر محمدی مسجد میں الشیخ عبداللہ ناصررحمانی حفثہ اللہ کی اقتداء میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ عبدالشکور صاحب پی آئی بی کالونی کے بزرگ جماعتی عمر فاروق صاحب فروٹ والے کے بڑے بھائی تھے، آپ نے سالہاسال راشدی مسجد موسیٰ لین لیاری میں جمعہ کی خطابت کی۔
دریں اثناء فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصررحمانی امیر جمعیت اہل حدیث سندھ نے جناب عبدالشکور کی وفات پر گہرے دکھ وافسوس کااظہار فرمایا ہے اور کہا ہے کہ جماعت ایک سنجیدہ اورمخلص داعی ومبلغ سے محروم ہوگئی ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں جواررحمت میں جگہ عطافرمائے اور لواحقین کو صبرجمیل کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین

About شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ

.سابق ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ ٣ جنوری ٢٠١٨ کو ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے ‏اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله داراً خيراً من داره، وأهلاً خيراً من أهله، وزوجاً خيراً من زوجه، وأدخله الجنة، وأعذه من عذاب القبر، ومن عذاب النار

Check Also

رمضان المبارک اور ابلیس کی چالیں

خطبہ مسنونہ کے بعد: اللہ تبارک وتعالیٰ کا اپنے بندوں پر یہ خصوصی فضل وکرم …

جواب دیجئے