Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جون » بدیع التفاسیرکے علمی وادبی محاسن پر ایک نظر قسطـ:۲(آخری)

بدیع التفاسیرکے علمی وادبی محاسن پر ایک نظر قسطـ:۲(آخری)

تفسیری محاسن کے بعد اب ایک نگاہ نفس تفسیر پر ڈالتے جائیں تو مزید معلومات حاصل ہوںگی۔ مقدمہ بیان بے نظیر بدیع التفاسیر، ص: ۴۳۳ پر مشتمل بڑی سائز مطبوعہ ۱۳۹۷ءکے ابتدائیہ میں جناب ڈاکٹر ابوالعطاء سید محمد صالح شاہ لکھتےہیں کہ اردو یا دیگرزبانوں میں قرآن حکیم واحادیث رسول کے تراجم وتفاسیر موجود ہیں تاہم ان پر بھی عموما صحت وسقم کےسلسلے میں خیال کم ہی رکھاجاتاہے سندھی زبان میں ایسی کوئی بھی جامع ومستند تفسیر نہ تھی جس میں دورجدید کے حالات کومدنظر رکھ کر خالص دین حنیف کی روشنی میں تعلیمات اسلامیہ پیش کی گئی ہوں لہذا مشہور محدث علامہ سید ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی المکی السندی نے شدت سے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے۔ تفسیر قرآن لکھناشروع کی جس کی یہ جلد اول ’’مقدمہ‘‘ بدیع التفاسیر ہدیہ قارئین ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق بخشے کہ باقی تفسیر کی تکمیل کےمنصوبہ پر عمل درآمد کرسکیں۔ آمین مقدمۃ التفسیر کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دس ابواب ہیں جن کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے۔
1باب اول: قرآن حکیم کےفضائل اور آداب ، تلاوت وغیرہ یہ پانچ فصول پر مشتمل ہے۔
2باب دوم: قرآن حکیم کا نزول، اور اس کے متعلقات کے بیان میں یہ تین فصول پر مشتمل ہے۔
3باب سوم: قرآن حکیم کی جمع وترتیب کے بیان میں۔ یہ بھی تین فصول پر مشتمل ہے۔
4باب چہارم: قرآن حکیم کا سات حروف یا سات قرأت پر نزول ہونا۔
5باب پنجم: قرآن حکیم کی سورتیں، رکوع،آیات، کلمات، حروف، پارے اور اعراب یہ باب آٹھ فصول پر مشتمل ہے۔
6باب ششم: یہ باب اوقاف قرآن کے متعلق ہے۔
7باب ہفتم: متواتر قرأت کے بیان میں۔
8باب ہشتم: علم تجوید کے بیان میں یہ باب چارفصلوں پر مشتمل ہے۔
9باب نہم: قرآن حکیم کلام الٰہی اورغیرمخلوق ہونے کے بیان میں یہ باب بھی تین فصول پر مشتمل ہے۔
0باب دہم: قرآن حکیم کی تفسیر اور اس کے جمیع احکامات کا ذکر یہ باب طویل وعریض اکیس فصول پر مشتمل ہے۔
!باب یازدھم: کاطبع جدید میں اضافہ کرکے طبقات مفسرین بڑی تفسیر سے بیان کیے گئے ہیں۔ اسی تفسیر کے ایڈیشن دوم مطبوعہ ۱۹۹۷ءکی ابتداء میں مشہور محقق اور صاحب قلم جناب پروفیسر محمد جمن نے ۳۶ صفحات پر مشتمل شاہ صاحب کے ’’فکر وفلسفہ‘‘ پربڑاجامع بصیرت افروز مضمون تحریرفرمایاہے، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیرعطافرمائے۔
آمین
پروفیسر کی تحریرپُرتاثیرسےایک اقتباس قارئین کرام کے سامنے عرض خدمت ہے۔ پروفیسر صاحب فرماتے ہیںکہ سلف صالحین، متقدمین(ومتاخرین) کے انداز بیان کو سامنے رکھتے ہوئے۔ علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدیaنے یہ مقدمہ تفسیر(محنت شاقہ) سے قلمبند فرمایا۔ سندھی زبان وادب میں اس سے پہلے اس قسم کی کہیں بھی مستند، نادر اورعلمی مخزن کا ملنا ناممکن تھا۔ یہ مقدمہ پہلی بار۱۹۷۶ءمیں ۴۳۳صفحات پر مشتمل اشاعت پذیر ہواتھا۔ جسے اصحاب علم وادب، اہل علم احباب نے ہاتھوں ہاتھ لے لیا جس کے پیش نظر اب اس کا یہ دوسرا ایڈیشن تشتگان علوم ومعارف تک پہچانے کا اہتمام کیاگیا ہے۔
اس مقدمہ نے علماء وفضلاء میں بےپناہ مقبولیت اورپذیرائی حاصل کی۔ فاضل مصنف نے جومحنت شاقہ فرمائی ہے خصوصا کتاب کی ابتدا میں’’خطبۃالکتاب‘‘ جو فاضلانہ انداز علم وادب کابحرپیکراں پیش کیا اس سے شاہ صاحب کی بلاغت کااندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس ایک کتاب میں آپ نے تفسیر وعلوم تفسیر کے سارے مضامین کوبڑے احسن انداز سے یکجا کردیاہے۔
بدیع التفاسیر جلداول بنام’’أحسن الخطاب فی تفسیر أم الکتاب‘‘ جو بڑی سائز کے۵۰۰ صضحات پر صرف بسم اللہ، تعوذ، اور فاتحۃ الکتاب کی تفسیر ہے۔ جس کاتعارف کرواتے ہوئے مکرم پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز نہڑیوصاحب جو کہ اس تفسیر کے کاتب اور پروف ریڈرہونے کےساتھ ’’المکتبۃ الراشدیہ‘‘ کے منتظم بھی ہیں۔وہ تحریر فرماتے ہیں کہ یہ تفسیر انتہائی سہل، دلنشیں، مستند اور مدلل انداز میں لکھی گئی ہے۔ سورۃ فاتحہ کے متعلق جمیع احکامات ومسائل (علوم ومعارف) نہایت اختصار اور جامعیت سے کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں۔ مزیدیہ کہ اَعداءِ اسلام ،منکرین وملحدین کے قرآن حکیم پر اٹھائے گئے اعتراضات کا ایک ایک کرکے مسکت اور دندان شکن جوابات دیا ہے۔مختصرا یہ تفسیر تین ابواب میں تقسیم کی گئی ہے جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے باب اول میںبڑے بڑے گناہوں پرمفصل نگاہ ڈالی گئی ہے۔ جن میں الحاد،انکارخدا،شرک،بدعات،سیئات، تقلیدجامد عشق،ظلم وستم، قومی عصبیت، تکبر وغلو، پیری مریدی، اخلاق سیئہ، فرقہ بندی جیسے مہلکات کاخوب قرآن وسنت اور عقلا ونقلا رد پیش کیا گیا ہے۔
دوسرے باب میں فرقہ ہائے باطلہ مثلاً: قادیانیت، انکارحدیث ، البھابیہ، البھائیہ، ذکریہ، یہودیت وعیسائیت، ہنددھرم، اشتراکیت اور فری میسن جیسی تحریکوں کا دلائل وبراہین سے خوب بطلان کیا گیا ہے۔
تیسرے باب میں سورہ بقرہ سے الناس تک پورے قرآن حکیم کا فاتحہ الکتاب سے براہ راست تعلق ثابت کیا گیا ہے اور دلائل کی روشنی میں مدلل انداز میں یہ ثابت کیاگیا ہے کہ ’’سبع مثانی‘‘ فاتحہ الکتاب کا پورے قرآن حکیم سے نہ صرف تعلق ہے بلکہ پورے قرآن مجید کا لب لباب اورخلاصہ بھی ہے۔
بدیع التفاسیر جلد دوم بنام’’بشری البررہ فی تفسیر سورۃ البقرۃ‘‘ مطبوعہ طبع اول ۱۹۸۸ء کے ابتدایئے میں مولانا پروفیسر عبدالغفار جونیجو صاحب جنہیں شاہ صاحب کےساتھ مدت مدید تک سفروحضر میں ساتھ رہنے اور علوم ومعارف حاصل کرنے کااعزاز نصیب ہوا۔ رقمطراز ہیں کہ دنیائے اسلام کے مشہور ومعروف عظیم اسکالر باب الاسلام سندھ کے مایہ ناز عالم دین سید ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی کی معرکہ آراء تفسیر بدیع التفاسیر کی یہ دوسری جلدہدیہ قارئین ہے۔ جو قرآن عظیم کی بابرکت سورۃ البقرۃ کے حرف ابتدائی سےدس رکوع پر مشتمل ہے۔ ان شاء اللہ العزیز اسی سورہ بابرکت پر(اتنی ضخیم) دوجلدوں میں صرف سورۃ بقرہ کی تفسیر تکمیل تک پہنچے گی۔ مزیدتحریرفرماتےہیں کہ یہ سورہ شریف مطالب ومضامین کے لحاظ سے قرآن حکیم کی سب سے مفصل سورہ شریف ہے۔
جس میں احکام رب العالمین بڑے جامع انداز میں بیان فرمائے گئے ہیں۔ اساسیات اسلام ومبادیات اسلام بلکہ انفرادی اور اجتماعی پوری زندگی پرمحیط احکام ومسائل پر بڑے بصیرت افروز مباحث لائے گئے ہیں۔ اسی سورہ میں’’احکام وفرائض‘‘ کو بھی واضح انداز میں بیان کیاگیا ہے۔ (جن کا جاننا علماء وعوام کے لئے بے انتہا ضروری ہے۔)
اس غرض سے سیدنا عبداللہ بن عمرtجیسی جلیل القدر علمی شخصیت کو بھی اس کے تہہ تک جانے کیلئے آٹھ سال کی مدت صرف کرنی پڑی۔
نیزسیدنا فاروق اعظم tجیسی دنیا کی ذہین وذکی شخصیت کو بھی بارہ سال تک اس بابرکت سورہ میں غور وخوض کرناپڑا۔ مختصراً یہ سورہ شریف احکام ومسائل کابحرپیکراں ہے۔ لہذا فاضل مفسر قرآن نے بڑے احسن اور علمی انداز میں احکام ومسائل سمجھائے ہیں فاضل مفسر کے قلم کی روانی اپنی مثال آپ ہے۔(بدیع التفاسیر جلددوم:ص:۸)
جناب پروفیسر محمد جمن کنبھر بدیع التفاسیر جلدنہم، الانوال فی تفسیر سورۃ الانفال طبع اول کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ کی عنایات بے پایاں سےسرزمین سندھ کے انتہائی علمی قابل قدرراشدی خاندان کے بلندپایہ محدث دوراں، مفسر قرآن سیدابومحمد بدیع الدین شاہ راشدیaنے سندھی زبان میں ایک ایسی گرانقدر جامع مستند مدلل ومفصل تفسیر تحریرفرمائی جس نے تفاسیر کی دنیا میں چار چاند لگادیئے۔ اس تفسیر سے قبل مختلف زبانوں مثلاً:عربی،اردو، فارسی میں لکھی گئی تفاسیر میں اس تفسیر کو ایک انفرادی مقام حاصل ہوا ہے۔ شاہ صاحب نے اس تفسیر میں قرآن کی تفسیر قرآن سے احادیث صحیحہ۔آثار صحابہ سے فرمائی اور اسرائیلی روایات، بے بنیاد قصص وواقعات سے اپنی تفسیر کو پاک رکھا۔ فن رجال کی کسوٹی پر روایات کوپرکھا۔ اب اجمالاً پوری تفسیر پرایک نظر ڈالی جاتی ہےتاکہ اردو خواندہ بھائی بھی معلومات حاصل کرسکیں۔
(۱) بیان بے نظیر مقدمۃ التفسیر ،اشاعت اول ۱۹۷۷ء اشاعت ثانی ۱۹۹۹۷ء ،۳۰۶ صفحات دیباچہ طبع اول ڈاکٹر سید محمد صالح شاہ جیسی ماہر علوم شخصیت تھے۔ طبع ثانی میں پروفیسر محمد جمن کنبھر نے مفصل گرانقدر مقدمہ لکھا ہے۔
۱۔ جلد اول نام’’احسن الخطاب فی تفسیر ام الکتاب‘‘ اشاعت ۱۹۸۶ء، ۵۰۰صفحات ہیں سورہ فاتحہ کی انتہائی مدلل اور مفصل تفسیر جس میں بسم اللہ اور تعوذ پر بھی مباحث ہیں اس کی ابتداء میں  پروفیسر عبدالعزیز نہڑیو صاحب نے تعارفی ’’دوالفاظ‘‘ بڑے جاندار تحریر فرمائے ہیں۔
۲۔جلد دوم: ’’بشری البررۃ فی تفسیر سورۃ البقرۃ (۱)‘‘ اشاعت ۱۹۸۸ء ۵۵۸صفحات ہیں سورۃ بقرۃ کے صرف ابتدائی ۱۰ رکوع پر یہ بڑای بصیرت افروز اور جامع ومانع تفسیر قرآن ،تفسیر کی ابتداء میں چند تعارفی صفحات ’’اپنی طرف سے‘‘ کے عنوان سے پروفیسر عبدالغفار جونیجو نے قلمبند فرمائے ہیں۔
(۳)جلد سوم:’’بشری البررۃ فی تفسیر سورۃ البقرۃ (۲)‘‘ اشاعت ۱۹۹۰ء ۷۸۶ صفحات اس کے ابتداء میں’’مہاگ‘‘ کے عنوان سے جناب عبدالرحمٰن منگوصاحب نے سندھی میں تفاسیر وتراجم کی تاریخ پر خوبصورت عکاسی فرمائی ہے۔
(۴)جلد چہارم: ’’بشری البررۃ فی تفسیر سورۃ البقرۃ (۳)‘‘ اشاعت ۱۹۹۲ء ۵۵۰صفحات اس جلد میں مہاگ کے عنوان سے سندھ کے مایہ ناز ادیب بقیۃ السلف بزرگ شخصیت منصور ویراگی صاحب نے انتہائی جامع وتفاسیر وتراجم پر نگاہ عمیق ڈالی ہے۔
(۵)جلد پنجم: ’’آلاء الرحمٰن فی تفسیر آل عمران‘‘ اشاعت ۱۹۹۴ء۵۱۴ صفحات اس جلد کی ابتداء میں خود علامہ راشدی aنے انتہائی رقت انگیز انداز میں دعائیہ الفاظ سے آل عمران کی تفسیر کاآغاز فرمایا ہے۔ یہ دعائیہ الفاظ باربارپڑھنے کے لائق ہیں۔
(۶)جلد ششم: ’’النداء الدعاء فی تفسیر سورۃ النساء‘‘ اشاعت ۱۹۹۵ء ۵۴۲صفحات اس بابرکت جلد کا ابتدائیہ ناچیزراقم الحروف (مولابخش محمدی)کے اعزاز میں آیا ہے۔
(۷)جلد ہفتم: ’’الماھدۃ فی تفسیرالمائدۃ‘‘ اشاعت ۱۹۹۸ء ۳۸۸ صفحات اس جلد کا پیش لفظ پروفیسر حافظ محمد کھٹی صاحب نے بڑے خوبصورت انداز میں تحریر فرمایا ہے۔
(۸)جلد ہشتم:’’الاحکام فی سورۃ الانعام‘‘والفاف فی تفسیر سورۃ الاعراف‘‘ ۶۳۳صفحات ۱۹۹۹ء اشاعت، اس جلد کی ابتداء میں تعارفی صفحات مولانا عبدالرحمٰن اوٹھوصاحب نے قلمبند فرمائے ہیں۔
(۹)جلدنہم:’’الانوال فی تفسیر سورۃ الانفال‘‘ والبراعۃ فی تفسیر البراءۃ‘‘ اشاعت ۲۰۰۱ء صفحات ۶۰۹،اس کی ابتداء بھی فاضل نوجوان پروفیسر محمدجمن کنبھر کے جاندار قلم سے ہوئی ہے جس میں آپ نے کیا خوبصورت بات کہی ہے کہ باب الاسلام سندھ میں ’’یہ تفسیر شب ظلمت میں منارہ نورسے کم نہیں‘‘
(۱۰)جلد دہم: ’’بدیع التفاسیر کی یہ آخری جلد ہے جس کی ابتداء سورۃ یونس سے ہوکر سورۃ حجر پرتمام ہوتی ہے۔ صفحات ۶۶۱ اشاعت ۲۰۰۴ء اس کے تعارفی الفاظ محترم محمد اسلم سندھی اورقدرے تفصیل سے مقدمہ مولانا حافظ عبدالرزاق ابراھیمی صاحب نہڑیو کی جانب سے لکھاگیاہے۔ جس میں شاہ صاحب کی وفات حسرت پر بات خوب المیاتی صدمہ کااظہار کیا گیا ہے۔ اور تفسیر وعلوم تفسیر پربصیرت افروز مواد پیش کیا گیا ۔اس طرح دسویں جلد پر یہ تفسیر اختتام پذیر ہوئی۔
سورہ حجر کی ابتدائی آیات سے ہی یہ باب رحمت بند ہوا۔
تفسیر بدیع التفاسیر کی آخری جلد ۱۰کے اختتام پر پروفیسر عبدالغفار جونیجو صاحب جو شاہ صاحب کے تفسیر کے کاتب، پروف ریڈر تھے انہوں نے اختتامی صفحہ انتہائی درد والم سے بھرے قلب سے تحریر کیا ہے۔
انہوں نے شاہ صاحب کے داغ مفارقت کو کچھ اس انداز سےبیان فرمایا ہے۔
آہ شاہ صاحب کی تفسیر تکمیل تک پہنچانے کا ارادہ مصمم دل ہی میں رہ گیا ۔ہم کتابت کرنے والے (پروفیسر عبدالغفار پروفیسر عبدالعزیز) کو یقین تھا کہ اتنافاضل ،جلیل، عالم باعمل، انتہائی عاجزی وانکساری سے اپنے رب کبریا کے آگے بانہیں پھیلائے آنکھوں میں آنسو سجائے، جو تفسیر کے تکمیل کی دعائیں مانگ رہا ہے۔ وہ یقیناً بارگاہ ایزدی میں شرف قبولیت عطاکریں گے مگر مالک الملک، حی وقیوم ساری کائنات سے بے نیاز جوچاہے وہ کرے اس کی قضائے قدرت غالب آئی۔ (شاہ صاحب جوسائبان تھے، وہ ہمیں چلچلاتی دھوپ میں تنہا چھوڑ کر) داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ مورخہ ۱۹دسمبر ۱۹۹۵ء کو آپ نے چودھویں پارے کی پہلی آیت کی تفسیر مرقومہ بالاالفاظ تک پہنچائی اور دو برس سے جو ہماری پنپ رہی تھی اس کی وجہ سے آخری ایام آن پہنچے اور یہ تفسیر کا مبارک سلسلہ ہمیشہ کے لئے بندہوگیا۔
سورہ حجر کی ابتدائی دو آیات کی تفسیر کے بعد ہمیں داغ جدائی ملا۔ کاش اس کےکسی تلمیذ رشید کو یہ سعادت عظمی نصیب ہو کہ یہ علمی ارمغان پایہ تکمیل تک پہنچاسکے(اور موجودہ تفسیر کاانڈکس(اشاریہ) مرتب کرسکے)
آخر میں محمد عبدالہادی العمری کے ماہنامہ صراط مستقیم برمنگھم فروری ۱۹۹۶ء کے یہ الفاظ نقل کرنے کو جی چاہتا ہے جس میںآپ لکھتے ہیں کہ شاہ صاحب کی یہ بڑی آروزتھی کہ سندھی زبان میں جس کو بولنے والوں کی برصغیر میں بہت بڑی تعداد ہے اس میں ایک مستند اور معتبر تفسیر ہونی چاہئے۔
چنانچہ آپ نے خود اس کابیڑا اٹھایاتھا چونکہ سندھی زبان آپ کی مادری زبان تھی۔ اس لئے اس میں تیزی سے کام بڑھتا گیا۔ اور کئی جلدیں تیار ہوگئیں ۔لیکن موت اس سے زیادہ تیز ثابت ہوئی اور اس عظیم تفسیر کے تکملہ کی آپ کو مہلت نہ مل سکی۔ اس طرح یہ اہم کام ادھورا ہی رہ گیا۔ کاش کوئی اسے مکمل کردے۔(رموزراشدیہ،ص:۷)
یہاں پر یہ وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ شاہ صاحب aنے عربی دان دوستوں اور شاگردوں کے شدید اصرار پر خود ہی تفسیر بدیع التفاسیر کا عربی ترجمہ شروع کیا تھا،مقدمہ تفسیر کا عربی ترجمہ مکمل ہوگیا تھا اور سورۃ فاتحہ کی تفسیر کاعربی ترجمہ دوتہائی حصہ تک کرلیا تھا۔آخری ایام میں علالت کی وجہ سے کام رکارہا اور یہ کام بھی ادھوا رہ گیا۔
بدیع التفاسیر کی علمی اہمیت وافادیت کے متعلق مشہور عالم و ادیب، مقالہ نویس ڈاکٹر وفاراشدی رقمطراز ہیں کہ
علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی کی’’بدیع التفاسیر‘‘ کی خصوصیات میں ہر سورت کے شان نزول ،اس کاخلاصہ، عظمت وفضیلت، الفاظ مطالب معانی، کی تحقیق وتشریح ،ربط آیات، وغیرہ کو احادیث صحیحہ کی روشنی میں اجاگرکیا گیا ہے۔ خدائے بزرگ وبرتر بدیع التفاسیر کے مفسر عالی مراتب علامہ بدیع الدین شاہ کو جزائے خیر عطافرمائے کہ انہوں نے علمی ودینی معلومات سے بھرپور، فکرانگیز، بصیرت افروز، اور ایمان پرورتفسیر نہایت خوش اسلوبی سے تحریر فرمائی ہے۔ان کے فاضلانہ تراجم وتفاسیر ،شرح ومطالب اور عالمانہ ومحققانہ تحریریں پڑھتے وقت یوں لگتا ہے کہ شاہ صاحب راسخ العقیدہ مؤمن ہونے کے ساتھ قلم کے بادشاہ علم وفضل کے دَھنی بھی ہیں۔ ان کی زبان کی لطافت میں بلا کی روانی وبرجستگی سلاست، فصاحت طرز بیان کی دلکشی ،قرآن کی عظمت کو دل پر ثبت کردیتی ہے اور ایمان کی حرارت بھی موجزن نظر آتی ہے جس کے نتیجہ میں عمل صالحہ کی ترغیب ہوتی ہے اور فکرآخرت کاجذبہ بیدارہوتا ہے….علامہ بدیع الدین شاہ راشدی نے بدیع التفاسیر جس شرح وبسط وضاحت وبلاغت کے ساتھ تحریر فرمائی ہے،اس کی مثال سندھی زبان تو کیا کسی دوسری زبان میں بھی مشکل سے ملتی ہے۔(مخلص مؤقر مجلہ ’’آگہی‘‘ کراچی)
الحمدللہ بدیع التفاسیر ایک سو اٹھاسی اقساط تک اردو میں ترجمہ ہوکر مؤقر ’’دعوت اہل حدیث حیدرآباد کی زینت بن رہی ہے شنید ہے کہ اس کے علاوہ بھی بدیع التفاسیر کا بڑا حصہ اردو ترجمہ ہوچکا ہے جس سے قارئین کرام استفادہ کرسکیں گے۔
اللہ تعالیٰ شیخ العرب والعجم علامہ بدیع الدین شاہ راشدی a، جمعیت اہل حدیث سندھ کے زعماء کرام خصوصا حضرت الامیر فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی ،بدیع التفاسیر کے مترجمین ،مبارک تفسیر کی کتابت کرنے والے محترم پروفیسر ڈاکٹرعبدالعزیز نہڑیو، پروفیسر محمد جمن کنبھر، پروفیسر عبدالغفار جونیجو،مولانا محمد سلیم، کے علاوہ ان کے مقدمات تحریر کرنے والے مواد کے پروف ریڈر،مصحح، اور اس تفسیر کی طباعت واشاعت کے سلسلہ میں مالی مدد ومعاونت کرنے والے مخیر احباب کو بھی دنیاوعقبی میں فوزوفلاح سے سرفراز کرے اور مایہ ناز تفسیر کو شرف قبولیت عطافرمائے اور مرحوم مؤلف کے لئے صدقہ جاریہ بنا کر ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہم سب کو قرآن وسنت کا عامل بنائے۔(آمین)

About پروفیسر مولابخش محمدی

پروفیسر مولابخش محمدی،مٹھی تھرپارکر

Check Also

شائستہ،  پُروقار اندازِ گُفتگو 

معزز قارئین  کرام! ہمیں آپس میں دھیمیں ،پرُوقار اور شائستہ لہجہ میں بات کرنی چاہیے،چونکہ …

جواب دیجئے