آئینہ کتب

تبصرہ نگار:ذوالفقار علی طاہر

نام کتاب
رمضان جی فضیلت(سندھی)
مؤلف
مولانا حزب اللہ بلوچ
رابطہ
0342-2743199
0345-3658433
0307-3099930
فاضل مؤلف شیخ ابوعمیر حزب اللہ بلوچ کسی تعارف کے محتاج نہیں، صوبہ سندھ کے دینی حلقوں میں آپ کی علمی حیثیت مشہور ومعروف اور تسلیم شدہ ہے۔ آپ نے ابتدائی دینی تعلیم (یعنی قاعدہ وناظرہ قرآن) اپنے والدمحترم اور بڑے چاچا سے حاصل کی۔ اور سند فراغت جامعہ دارالحدیث رحمانیہ سولجربازار کراچی سے حاصل کی، یہ غالباً1998ء کی بات ہے۔ آپ کے اساتذہ میں شیخ عبداللہ ناصر رحمانی، شیخ محمد یوسف قصوری، شیخ حافظ محمد سلیم ،شیخ محمد داؤد شاکراور راقم شامل ہیں۔
سندفراغت حاصل کرنے کے بعد آپ نے مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث حیدرآباد میں تدریس کاآغاز کیا اور تدریسی منازل طے کرتے ہوئے آج آپ مدرسہ مذکورہ کے سینئرترین استاذ ہیں اور کافی سالوں سے صحیح مسلم پڑھارہےہیں۔
آپ نے کئی سالوںتک ماہنامہ دعوت اہل حدیث سندھی کی مکمل ذمہ داریاں نبھائیں اور رسالے کو خوب سے خوب تر بنانے کیلئے کوشاں رہے۔ آپ ایک بہترین لکھاری بھی ہیں ،ماہنامہ دعوت اہل حدیث اردو؍سندھی میں مختلف عنوانات پر تحریر کیے گئے آپ کے مضامین اس بات پر شاہد عدل ہیں اور سندھی زبان میں آ پ کی تازہ تالیف’’رمضان المبارک جی فضیلت‘‘ اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔
قارئین کرام! رمضان المبارک رحمتوں، مغفرتوں، برکتوں بھرا مہینہ ہے، یہ وہ ماہ مبارک ہے جس کے حصول کیلئے ہمارے اسلاف، رب ذی الجلال کے حضور گڑگڑاکر بعاجزی وانکساری دعائیں مانگا کرتے تھے کہ اللھم بلغنا رمضان.(یا اللہ! ہمیں آنے والے رمضان تک پہنچادے)اور یہ دعائیں ایک رمضان کے اختتام پذیر ہوتے ہی شروع ہوجایا کرتی تھیں، اسلاف کی رمضان المبارک کیلئے اس قدر تڑپ ولگن سے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ وہ بجاطور پر رمضان المبارک کی خیر وبھلائی کا ادراک وفہم رکھتے تھے۔
اس ماہ مبارک کی رحمتوں وبخششوں کا صحیح معنوں میں اندازہ لگانے کیلئے مندرجہ ذیل فرامین رسول ﷺ ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں:
سیدناابوھریرہ tفرماتےہیں کہ رمضان المبارک کی آمد پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے پاس ماہ رمضان آچکا ہے جو بابرکت ماہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کیےہیں اس میں جنت کے دروازے کھول اورجہنم کے بندکردیئے جاتے ہیں اور سرکش شیطان جکڑ دیئے جاتےہیں اور اس میں اللہ کی ایک رات ہے جو ہزار ماہ سے افضل ہے جو شخص اس کی خیر سے محروم رہ جائے وہی دراصل محروم ہوتا ہے۔
(النسائی:2106صحیح الجامع الصغیر للالبانی:55)
سیدناابوسعیدالخدریtفرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ (رمضان المبارک میں) ہر دن اور ہر رات بہت سے لوگوں کوجہنم سے آزاد کرتا ہے اور ہر دن، ہررات ہر مسلمان کی ایک دعا قبول کی جاتی ہے۔
(البزار، صحیح الترغیب والترھیب للالبانی:1002)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے حالتِ ایمان میں حصولِ اجر کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جاتےہیں۔(متفق علیہ)
جب رمضان المبارک، ابن آدم کیلئے اس قدر سود مند ہے توپھر اس کا ازلی دشمن ابلیس کیسے برداشت کرسکتا ہے کہ ابن آدم اس ماہ سے بہرہ ورہو،لہذا ابلیس ،ابن آدم کو اس ماہ مبارک کی برکات سے محروم کرنے کیلئے، اس طریق سے حملہ آور ہوا کہ ابن آدم مطمئن بھی رہا اور اجروثواب سے محروم بھی ہوگیا۔
مطمئن اس طرح کہ معمولاتِ رمضان ،سحری، افطاری، تراویح، تلاوت وغیرہ کی پابندی کرتا رہا اور محروم یوں کہ ابلیس نے اسے رمضان المبارک ہی کے حوالہ سے مختلف بدعات کاعادی بنادیا۔ جبکہ بدعت ان اعمال میں سرفہرست ہے جو انسان کیلئے اعمالِ صالحہ کے اجروثواب سے محرومی کاباعث ہیں، چنانچہ صحیح مسلم میں اللہ کے نبی ﷺ کی حدیث ہے:من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد.
یعنی: جس نے ہمارے اس دین میں(کوئی) ایسی چیز شامل کی جو اس میںنہیں ) تو وہ مردود ہے۔
ابلیس نے ابن آدم کو رمضان المبارک کے اجروثواب سے محروم کرنے کیلئے جو بدعات جاری کیں ان میں سے چند ایک کاتذکرہ کرتے ہیں:
1روزانہ سحری کے وقت بذریعہ وضع کردہ الفاظ، روزہ کی نیت کرنا، یعنی :وبصوم غدم نویت من شھر رمضان.
2عوام الناس کو سحری کیلئے بیدار کرنے کیلئے مساجد سے سائرن بجانا اور ڈھو لچیوں کاگلی محلہ میں ڈھول اور بانسری بجانا حالانکہ اس کا نبوی طریقہ اذان تھی۔
3سحری نہ کھانا۔ رات بھرفٹبال، کرکٹ،تاش کھیلتے رہنا، اور مختلف اشیاء کھاتے پینے رہنا اور عین سحری کے وقت سوجانا۔
4افطار میں تاخیر اور سحری میں جلدبازی۔ اس کیلئے باقاعدہ میڈیا پرزور دیاجاتاہے کہ افطار ؍وقت مقررہ سے تین منٹ بعد کرنی چاہئے اور سحری تین منٹ قبل ختم کردینی چاہئے اور اسے احتیاط کا نام دیا جاتاہے۔
5رمضان کے مختلف اوقات میں ادعیہ غیرمسنونہ کا اہتمام کرنا مثلاہر دو رکعت تروایح کے بعد جو دعا پڑھی جاتی ہے ،صحیح احادیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں، اسی طرح افطار کے وقت :اللھم لک صمت وعلی رزقک افطرت.دعاپڑھی جاتی ہے جوکہ سنداً ضعیف ہے۔
یہ اور ان جیسے کئی امور ابلیس نے رائج کردیئے تاکہ ان بدعات کا ارتکاب کرکے ابن آدم رمضان المبارک کی خیر وبھلائی سے محروم ہوجائے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ جزائے خیر عطافرمائے فاضل مؤلف الشیخ حزب اللہ بلوچ dکو جنہوں نے عین رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر ایک ایسی تالیف فرمائی، جس کامطالعہ کرکے اور جس کے مندرجات پر عمل پیرا ہوکر آدمی رمضان المبارک کی برکات سمیٹ سکتا ہے، اس لئے کہ فاضل مؤلف نے کتاب کی تمام مندرجات کو وحی الٰہی سے ثابت کیا ہے، ہر حکم ومسئلہ کاثبوت قرآن وحدیث سے پیش کیا ہے۔
اور کتاب رمضان المبارک کے تمام احکام ومسائل کو محیط ہے، رمضان المبارک کا چاند دیکھنے سے لیکر شوال کے روزوں تک، مکمل تفصیل بیان کردی گئی ہے۔
چند عنوانات ملاحظہ ہوں:
(۱)رمضان اور الصوم کا لغوی وشرعی معنی (۲) رمضان کے روزوں کی فرضیت (۳) رمضان اور روزے کی فضیلت واہمیت (۴) رمضان کا استقبال (۵)چاند دیکھنے کے مسائل (۶)نیت روزہ (۷)مسنون سحری (۸) وہ امور جن سے روزہ ٹوٹ جاتاہے (۹) حالتِ روزہ کے ناجائز،مکروہ وممنوع امور(۱۰)حاملہ ومرضعہ کا روزہ (۱۱) رمضان کا آخری عشرہ واعتکاف(۱۲)مسنون افطاری (۱۳)تراویح
کے مسائل(۱۴) رمضان کا آخری عشرہ واعتکاف اور شب قدر (۱۵)تلاوت،صدقہ وفطرانہ (۱۶)زکوٰۃ کے مسائل (۱۷ )عید کے مسائل (۱۸)شوال کے روزے(۱۹)نفلی روزے(۲۰)ممنوعہ روزے۔
مذکورہ عنوانات سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ یہ تالیف رمضان المبارک کے حوالے سے کس قدر اہمیت کی حامل ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ کتاب’’رمضان المبار ک جی فضیلت‘‘ رمضان المبارک کو مسنون طریقہ سے گذارنے کیلئے مؤلف کی طرف سے سندھی دان طبقہ کیلئے انمول تحفہ ہے ،اللہ تعالیٰ استفادہ کی توفیق عطافرمائے۔
(آمین)
رابطہ کیلئے مذکور نمبرز پر کال کرکے کتاب مفت حاصل کی جاسکتی ہے۔

About شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ

.سابق ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ ٣ جنوری ٢٠١٨ کو ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے ‏اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله داراً خيراً من داره، وأهلاً خيراً من أهله، وزوجاً خيراً من زوجه، وأدخله الجنة، وأعذه من عذاب القبر، ومن عذاب النار

Check Also

رمضان المبارک اور ابلیس کی چالیں

خطبہ مسنونہ کے بعد: اللہ تبارک وتعالیٰ کا اپنے بندوں پر یہ خصوصی فضل وکرم …

جواب دیجئے