Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جون » ’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ کاصحیح مفہوم قسط:5

’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ کاصحیح مفہوم قسط:5

 قسط:5

اب بعض بریلوی مفسرین سےان آیات کی تفسیر ملاحظہ کیجئے جس سے یہ بات بالکل ظاہر ہوجاتی ہے کہ انبیاءoاور اولیاء کرام بھی’’من دون اللہ‘‘ میں داخل وشامل ہیں۔
۱: ان کے پیرکرم شاہ بھیروی نےلکھا:
’’علامہ آلوسی لکھتے ہیں کہ بت تو اس لئے جواب نہیں دیں گے کہ وہ بے جان نہ سن سکتےہیں نہ بول سکتے ہیں لیکن جو کم بخت فرشتوں کو یااللہ کے مقربین کو پکارتے ہیں وہ اس لئے جواب نہیں دیں گے کہ ان گمراہوں نے انہیں خدا سمجھ رکھاتھا حالانکہ وہ خدابننے سے بالکل الگ تھے پس وہ ایسے لوگوںکی فریاد کاجواب کیوں دیں گے جو اتنی بڑی تہمت لگارہے تھے۔‘‘(ضیاء القرآن ۴؍۱۴۹)
تنبیہ: اس آیت اور تفسیر پر ہم قدرے تفصیلی گفتگو اپنے مضمون ’’غیراللہ سےدعا اور چند قرآنی سوالات‘‘میں کرچکے ہیں،جو الحمدللہ مؤقر جریدہ ماہنامہ ’’اشاعۃ الحدیث‘‘ اور ماہنامہ ’’مجلہ دعوت اہل حدیث‘‘ میں شائع ہوچکاہے۔
۲: قاضیثناءاللہ پانی پتی نقشبندی صاحب نے لکھاہے:
’’ای الذین تعبدونھا من الاصنام وغیرھا کائنۃ من دونہ تعالیٰ مایملکون من قطمیر‘‘
یعنی:اللہ کے علاوہ جنہیں تم پوجتے ہوبت یا ان کے علاوہ جو بھی ہیں وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کےبھی مالک نہیں ہیں۔(تفسیر مظہری :۸؍۵۰)
تنبیہ: قاضی پانی پتی صاحب بریلویہ کے معتمد مفسر ہیں۔
۳: سعیدی صاحب نے اس آیت سے اگلی آیت کی تفسیر میں لکھا:
’’قیامت کےدن وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے، یعنی وہ اس سے انکارکردیں گے کہ تم نے ان کی عبادت کی ہے اور تم سے بیزاری کا اظہارکریں گے ،اللہ تعالیٰ ان بتوں کو زندہ کر دے گا اور وہ یہ خبریں دیں گے کہ وہ اس کے اہل نہ تھے کہ ان کی عبادت کی جاتی۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد ان کے وہ معبود ہوں جو ذوی العقول ہیں جیسے حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیراور ملائکہ اور وہ قیامت کے دن مشرکین کی عبادت سے برأت کااظہارکریں گے، قرآن مجید میں ہے…جب اللہ فرمائےگا:اے عیسیٰ بن مریم!کیا تم نے لوگوں سےیہ کہاتھا کہ تم اللہ کوچھوڑ کر مجھے اورمیری ماں کومعبود بنالو، عیسیٰ کہیں گے تو پاک ہے میرے لئے یہ جائز نہ تھا کہ میں وہ بات کہتا جوحق نہیں ہے‘‘(تبیان القرآن ۹؍۶۶۷)
فرضی بتوںکے زندہ کرنے کی صراحت نصوص میں توہمیں نہیں ملی باقی جن حقیقی مقرب بندوں کی پرستش ہوئی ہے ان کے اظہار بیزاری کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ اور یاد رہے کہ سیالوی صاحب کی نقل کردہ آیت پر بات ختم نہیں ہورہی بلکہ اس سے اگلی آیت پر یہ بیان مکمل ہوتا ہے۔ تو بھیروی وسعیدی صاحبان کی تفسیر کے مطابق یہ بات سیدناعیسیٰ وعزیر iکے بارے میں بھی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
[قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيْلًا۝۵۶ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّہِمُ الْوَسِـيْلَۃَ اَيُّہُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَہٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَہٗ۝۰ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا۝۵۷ ] ’’آپ کہہ دیجئے کہ تم پکاروان لوگوں کو جن کو تم نےاللہ کے سوا (مشکل کشا) گمان کررکھاہے، پس وہ تم سے نہ کسی ضرر کودور کرنے کے مالک ہیں اور نہ اس کو بدل دینے کے(مالک ہیں۔) جن لوگوں کو یہ (مشرکین) پکارتے ہیں وہ تو اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں جو ان میں سے زیادہ قریب ہیں اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک تیرے رب کاعذاب وہ ہے جس سے ہمشہ ڈراجاتاہے۔‘‘(بنی اسرائیل:۵۶،۵۷)
اب ان آیات کی تفسیر میں بریلوی مفسرسعیدی صاحب نے لکھا ہے:
’’اس آیت سے مقصود مشرکین کارد ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم خود اس لائق نہیں کہ اللہ کی عبادت کریں بلکہ عبادت کے لائق تو مقربین ہیں یعنی اللہ کے فرشتے پھر انہوں نے فرشتوں کے فرضی مجسمے بنارکھے تھے اور اس تاویل سے بتوں کی عبادت کرتے تھے ،بعض مفسرین نے کہا وہ حضرت عیسیٰ اورحضرت عزیر کی عبادت کرتے تھے اور ان کی عبادت کے در میں یہ آیت نازل ہوئی کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ تم سے کسی ضرر کودورکرسکتے ہیں اور نہ تم کو کوئی نفع پہنچاسکتے ہیں‘‘(تبیان القرآن ۶؍۷۴۵)
سعیدی صاحب کی اس تفسیر سے بھی واضح ہوتا ہے کہ سیدناعیسیٰ، سیدنا عزیراور ملائکہoبھی’’کسی ضرر کودورکرسکتے ہیں اور نہ کوئی نفع پہنچاسکتے ہیں’’قرآن مجید کے الفاظ ہیں:
[فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيْلًا۝۵۶] کہ’’نہ وہ تم سے تکلیف دور کردینے کااختیار رکھتے ہیں نہ اس تکلیف کو پھیردینےکا۔‘‘پھر اس سے اگلی آیت سے واضح ہےکہ یہ بات مقرب اورصالح بندوں کے بارے میں کہی گئی ہے۔سیالوی صاحب انبیاءoاور صالحین کو’’من دون اللہ‘‘ ماننے سے انکاری ہیں، لیکن قرآن مجید کی نصوص کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے مسلک لوگ بھی داخل مانتے ہیں۔
چوتھاسیالوی مغالطہ: لکھاہے:
’’من دون اللہ‘‘ کی شان تو یہ ہے کہ وہ کھجور کی گٹھلی پر موجود باریک جھلی کے بھی مالک نہیں ہیں اور انبیاء کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:[فَقَدْ اٰتَيْنَآ اٰلَ اِبْرٰہِيْمَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَاٰتَيْنٰھُمْ مُّلْكًا عَظِيْمًا۝۵۴ ](النساء:۵۴) سوہم نے دی ہے ابراھیمuکے خاندان میں کتاب اورعلم اور ان کو دی ہے ہم نے بڑی سلطنت۔
اس آیت کریمہ سے ثابت ہوگیا کہ’’من دون اللہ‘‘ توکسی شے کے مالک نہیں اور انبیاء کرامoملکِ عظیم کےمالک ہیں۔
(ندائے یارسول اللہ ﷺ کی علمی تحقیق ،ص:۱۸۱)
جواب:حسبِ معمول یہاں بھی آیت پرغورکیے بغیرسیالوی صاحب نے یہ تقریر کی ہے۔ ان کے’’مجدد‘‘ صاحب نے آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے:
’’توہم نے ابراھیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطافرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا۔‘‘(کنزالایمان)
حاشیے میں اس کی تفسیر کرتے ہوئے ان کے’’صدر الافاضل‘‘ نعیم الدین مرادآبادی صاحب نے لکھا:’’جیسا کہ حضرت یوسف اور حضرت داؤد اور حضرت سلیمان oکو‘‘‘(خزائن العرفان ،ص:۱۵۶)
سعیدی صاحب نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا:
’’حضرت ابراھیم کی آل میں نبی اور رسول مبعوث کئے گئے جن کو یہ کتاب اور حکمتیں دی گئیں…ملک عظیم، بھی دیاگیا جیسے حضرت یوسف، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کو ملک دیئے گئے۔(تبیان القرآن ۲؍۶۹۶)
سیالوی صاحب کی پیش کردہ آیت بلکہ کسی بھی آیت یاحدیث میں اس بات کا ثبوت نہیں کہ تمام انبیاءoکو ملک یعنی بادشاہت عطا ہوئی۔ سیدنا داؤدuطالوت کے بعد بادشاہ بنے۔بقرہ:۲۴۸۔۲۵۱)
اسی طرح سیدنا داودuکی موجودگی میں سیدناسلیمانuبادشاہ نہ تھے، ان کے بعد بنے۔دیکھئے (النمل:۱۶)
اسی طرح دیگر نصوص کوسامنے رکھاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ فاطر میں وہ اختیارات مراد ہیں جو اسباب کے علاوہ ہیں۔ اسی طرح یہ جو فرمایا کہ ’’وہ تمہاری دعائیں نہیں سنتے اگر سن بھی لیں تو تمہاری دعائیں قبول نہیں کرسکتے۔‘‘ سے معلوم ہوا کہ فوت شدہ اور بعید لوگ مرادہیں۔ وگرنہ زندہ اور قریب یا کچھ فاصلہ پر سن لینا توامور عادیہ وطبعیہ میں سے ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ قریب اور زندہ لوگوں سےد عائیں مانگی جائیں، چونکہ دعا عبادت ہے جو اللہ ہی کاحق ہے۔ باہمی معاونت اور چیز ہے اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔
پانچواںسیالوی مغالطہ: لکھاہے:
اللہ تعالیٰ حضرت یوسفuکے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: [وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ۝۰ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْہَا حَيْثُ يَشَاۗءُ۝۰]یوں قدرت دی ہم نے یوسف uکو اس زمین میں جگہ پکڑتے تھے جہاں چاہتے۔اس کی تفسیر میں مولوی شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں کہ حضرت یوسفuجہاں چاہتے اترتے اور جہاں چاہتے تصرف کرتے‘‘
اس آیت سے بھی ثابت ہوگیا کہ’’من دون اللہ‘‘ میںانبیاء واولیاء شامل نہیں۔(ندائے …ص۱۸۱)
جواب:بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی ارشاد فرمایا،لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ اس ’’تمکنت‘‘سے مراد جمیع اختیارات ہیں، خواہ وہ اسباب سے بالاترہی کیوں نہ ہوں؟ سیالوی صاحب کے اس استدلال کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جناب نے قرآن مجید تو درکنار شاید سورۂ یوسف کو بھی بغور نہیں پڑھا، چونکہ اسی سورت میں کچھ آگے یہ بھی ہے:
[كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ۝۰ۭ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاہُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللہُ۝۰ۭ ](یوسف:۷۶)
اس آیت کا ترجمہ وتفسیر بھی بریلوی پیر بھیروی صاحب سے ملاحظہ کیجئے، لکھاہے:
’’یوں تدبیر کی ہم نے یوسف کے لئے نہیں رکھ سکتے تھے یوسف اپنے بھائی کو بادشاہ مصر کے قانون میں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے‘‘(ضیاء القرآن ۲؍۴۴۶)
پھر تفسیر کرتے ہوئے لکھا:
’’اللہ کی تائید اگر…حاصل نہ ہوتی توحضرت یوسف کے لئے اپنے ملکی قانون کے مطابق بھائی کو رکھ لینا ممکن نہ تھا‘‘(۲؍۴۴۷)
لیجے سیالوی صاحب یہ آپ لوگوں کے ایک پیرصاحب کی تفسیر ہے۔ قرآن مجید کی اس آیت اور اس تفسیر سے یہ بات روزِ روشن کی طرح ثابت ہوجاتی ہے کہ سیدنایوسفuکو ملک مصر جہاں اللہ تعالیٰ نےان کو تمکنت عطافرمائی وہاں بھی جمیع اختیارات حاصل نہ تھے توپوری کرّہ ارض پر اور بعد از وفات بھی کس طرح جمیع اختیارات حاصل ہوسکتے ہیں؟ اس آیت سے یہ توقطعاً ثابت نہیں ہوتا کہ انبیاءo’’من دون اللہ‘‘ مطلب’’اللہ کے علاوہ ‘‘ نہیں ہیں ۔پھراولیاء کا تو سرے سے کوئی تذکرہ اس آیت میں نہیں۔ معلوم نہیں سیالوی صاحب کس بناپر ہر جگہ ’’اولیاء‘‘ بھی ساتھ ساتھ لکھتے گئے؟؟!!
چھٹاسیالوی مغالطہ:سیالوی نے لکھاہے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:[وَيَسْـــَٔـلُوْنَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ۝۰ۭ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَيْكُمْ مِّنْہُ ذِكْرًا۝۸۳ۭ اِنَّا مَكَّنَّا لَہٗ فِي الْاَرْضِ وَاٰتَيْنٰہُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا۝۸۴ۙ ](الکھف:۸۴،۸۳)
اور جب وہ تجھ سے پوچھتے ہیں ذوالقرنین کو کہہ اب پڑھتاہوں تمہارے آگے اس کا کچھ احوال ہم نے اس کوجمایا تھا ملک میں اور دیا تھا ہم نے اس کوہر چیز کاسامان۔(ترجمہ محمود الحسن) (ندائے …ص۱۸۱)
جواب:بلاشبہ ذوالقرنین ایک نیک اورعادل بادشاہ تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کوعظیم بادشاہت عطافرمائی، لیکن قرآن مجید میں خارقِ عادات چیزوں کے عطا کیے جانے کا ذکر نہیں ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں بریلویہ کے علامہ غلام رسول سعیدی صاحب نے لکھا ہے:
’’ذوالقرنین کاتصرف اور اس کااقتدار…اس آیت کامعنی ہم نے اس کوملک عظیم عطاکیا تھا اور ایک بادشاہ کو اپنی سلطنت قائم کرنے کیلئے جس قدرچیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ہم نے وہ چیزیں اس کو عطا کی تھیں اور ہم نے اس کو تمام اطراف مملکت میں تصرف کرنے کی قدرت عطا کی تھی اور ہم نے اس کو ہر قسم کے آلات حرب اسباب اور وسائل عطا کیے تھے جن کی وجہ سے وہ تمام مشارق ومغارب کاحکمران ہوگیا تھا اور تمام ممالک اس کے تابع ہوگئے تھے اور عرب و عجم کے تمام بادشاہ اس کےاطاعت گزار ہوگئے تھے ۔‘‘(تبیان القرآن ۷؍۲۰۳)
اس تفسیر سے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس کاسارا تصرف ظاہری اور امور سلطنت سے متعلق تھا۔ اور اس کی ضروریات کا ہرسامان اسے ملاہواتھا۔ لہذا اس آیت سے یہ بات قطعا ثابت نہیں کہ وہ مافوق الاسباب امور پر قدرت رکھتا تھا، اور لوگوں کی دعائیں سننے کی طاقت رکھتا تھا۔ نہ اس سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ’’من دون اللہ‘‘ مطلب’’اللہ کے علاوہ‘‘ یا’’اللہ کے سوا‘‘ نہ تھا۔
ساتواںسیالوی مغالطہ:سیالوی صاحب نے لکھاہے:
(الانبیاء:۱۰۵) اور ہم نے لکھ دیا ہے زبور میں نصیحت کے پیچھے کہ آخر زمین پر مالک ہوں گے میرے نیک بندے‘‘(ترجمہ محمود الحسن) اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ انبیاء کرامoاور اولیاء کرام علیھم الرضوان من دون اللہ میں داخل نہیں کیونکہ من دون اللہ کی شان تو یہ ہے کہ کھجور کی گٹھلی پر موجود جھلی کے بھی مالک نہیں ہیں اور یہاں اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ میرے نیک بندے زمین کے وارث بنیں گے۔
(ندائے …ص۱۸۲)
آٹھواںسیالوی مغالطہ: لکھاہے:
ارشا د باری تعالیٰ ہے:[اِنَّ الْاَرْضَ لِلہِ۝۰ۣۙ يُوْرِثُہَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ۝۰ۭ ](الاعراف:۱۲۸)
زمین صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کوچاہتاہے وارث بنادیتا ہے۔
اس آیت کریمہ سے بھی ثابت ہوا کہ انبیاء کرامoاور اولیاء کرام علیھم الرضوان من دون اللہ میں داخل نہیں….کہ من دون اللہ کسی ذرہ بھر کے بھی مالک نہیں ہیں اور انبیاء کرام oاس کی عطا سے پوری زمین کے وارث ہیں۔(ص:۱۸۳،۱۸۲)
جواب:زمین کاوارث بنانے سے کیا مراد ہے۔ یہ بات خود واضح ہے لیکن معلوم نہیں کیوں سیالوی صاحب ان آیات کو پیش کرکے اس سے اتنا بڑا دعویٰ کررہے ہیں کہ انبیاء oاور اولیاء کرام’’من دون اللہ‘‘ میں داخل نہیں۔ پہلے فریق ثانی کے مفسر سعیدی صاحب کی تفسیر سے ان آیات کی وضاحت ملاحظہ کیجئے،لکھا ہے:
’’بعض مفسرین نے کہا اس سے مراد دنیا کی زمین ہے اور اللہ تعالیٰ نے نیک مسلمانوں سے حکومت اور اقتدارکا وعدہ فرمایا ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے:
[وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۝۰۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِيْنَہُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَہُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا۝۰ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا۝۰ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ۝۵۵ ](النور:۵۵)
تم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ہیں اور اعمالِ صالحہ کرچکے ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کرلیا ہے وہ ان کو ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایاتھا اور یقینا ان کے لئے اس دین کومضبوط کردے جس کو وہ ان کے لئے پسند کرچکا ہے اور ضرور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، جو لوگ میری عبادت کرتے ہیں اور میرے ساتھ بالکل شرک نہیں کرتے اور جن لوگوں نے اس کے بعد ناشکری کی سو وہی لوگ فاسق ہیں۔
اسی طرح حضرت موسیٰuنے اپنی قوم سے فرمایاتھا:
[قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِہِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللہِ وَاصْبِرُوْا۝۰ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلہِ۝۰ۣۙ يُوْرِثُہَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ۝۰ۭ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِيْنَ۝۱۲۸ ](الاعراف:۱۲۸)
’’موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد طلب کرو اور (جنگ کی مشکلات پر)صبر کرو۔ بے شک زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کوچاہتا ہے اس زمین کاوارث کرتا ہے۔‘‘
ان آیات کا محمل یہ ہے کہ جب نیک مسلمان اللہ کے دین کے نظام کو قائم کرنے کی کوشش اور جدوجہد کریں گے تو اللہ ان کی مدد کرے گا اور اپنے فضل سے ان کو زمین پراقتدار عطافرمائے گا۔(التبیان ۷؍۶۸۱)
یہ آیات اور بریلوی مفسر سے ان کی وضاحت آپ کے سامنے ہیں، ان میں اہل ایمان کو اقتدار دینے کی جوبات ہوئی اس سے مراد اس زمین پر حکومت ،حکمرانی عطا کرنا ہے۔ اور یہ اقتدار مافوق الاسباب امور میں تونہیں ہوتی۔ پھر ان آیات سے یہ کیسے ثابت ہوگیا کہ انبیاءoاو ر اولیاء کرام’’من دون اللہ ‘‘ یعنی اللہ کے سوانہیں؟
اگرسیالوی صاحب اس بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں اللہ نے اپنے بندوں ،مطلب مومن صالح بندوں کو زمین پرحکومت دینے کی بات کی جب کہ مولوی صاحب کے زعم کے مطابق’’من دون اللہ‘‘ کو ذرہ برابر اختیار نہیں، لہذا انبیاء oاور اولیاء کرام’’من دون اللہ‘‘کےمصداق نہیں۔ تو سیالوی صاحب کو چاہیے کہ وہ یہ بھی کہہ دیں کہ تمام کے تمام اہل ایمان نیک صالح بندے’’من دون اللہ‘‘ میں داخل نہیں۔ (نعوذباللہ ) بلکہ یہ تک فرمادیں کہ کفار بھی’’من دون اللہ‘‘ میں داخل نہیں جب کہ یہ کفار بڑی بڑی حکومتوں کے مالک ہیں،خواہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ حکومتیں کسی بھی غرض سے عطاکی ہیں۔مگر کی تو یقینا ہیں، بلکہ سیالوی صاحب کو یہ تک کہہ دیناچاہئے کہ دنیا کا کوئی انسان بھی’’من دون اللہ‘‘ میں شامل نہیں، چونکہ دنیاکا ہر انسان کسی نہ کسی چیز کامالک تو ہےہی اور سیالوی صاحب کے استدلال کی بنیاد بھی یہی بات ہے کہ گٹھلی کے چھلکے اور ذرہ بھر کے مالک نہیں،جبکہ اہل ایمان ہیں۔ تو ان پر لازم ہے کہ اپنی اس سوچ کے مطابق ہرکھجور وذرہ کے مالک کو’’من دون اللہ‘‘ میںشامل نہ سمجھیں۔ کم از کم ہر مومن کو خواہ وہ فاسق ہی کیوں نہ ہوں۔اگر وہ ایسا نہیں سمجھتے تو اولیاء کی تخصیص کی دلیل ضرور پیش فرمائیں۔
ھاتوبرھانکم ان کنتم صدقین!
نواںسیالوی مغالطہ: سیالوی نےلکھاہے:
ارشا د باری تعالیٰ ہے:[يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَۃً فِي الْاَرْضِ ](صٓ:۲۶)
اے داؤد! ہم نے کیا تم کو نائب ملک میں۔
یہ آیت کریمہ اس امر پر واضح دلیل ہے کہ انبیاءoمن دون اللہ میں داخل نہیں کیونکہ ان کو ذرہ بھر کااختیارہے اور داؤد uکو تو اللہ تعالیٰ نے زمین میں نیابت بخشی جو کسی بادشاہ کانائب ہو وہ اس ملک کے سیاہ وسفید کا مالک ہوتا ہےتو جو اللہ تعالیٰ کانائب ہے وہ معاذاللہ کسی پتھر کا نائب ہے کہ اس کوکوئی اختیار نہ ہو؟(ص:۱۸۳)
جواب:زمین میں خلافت جو بخشی ،خلیفہ بنایاتو اس سے مراد اس زمین میں اللہ کانازل فرمودہ نظام قائم کرنے والابنایا۔چنانچہ جتنا حصہ سیالوی صاحب نے نقل کیا اسی کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی موجود ہے:
[فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ۝۰ۭ ] ’’سوآپ لوگوں کےد رمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیجئے اورخواہش کی پیروی نہ کیجئے، ورنہ وہ (پیروی) آپ کو اللہ کی راہ سے بہکادے گی‘‘
(ص:۲۶ترجمہ از تبیان القرآن ۱۰؍۴۹)
اور یہاں زمین میں خلافت سے مراد پوری زمین کی خلافت بھی نہیں، آیات و احادیث سے ثابت ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے علاوہ تمام انبیاء کی نبوت مخصوص وقت اور علاقے کے لیے ہوتی تھی۔ اس حقیقت کو اپنے مفسر غلام رسول سعیدی صاحب کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے:
’’سیدنا محمدﷺ کی بعثت سے پہلے جو نبی اور رسول بھیجے جاتے ہیں وہ ایک مخصوص علاقے مخصوص زمانے اور مخصوص قوم کے رسول ہوتے تھے تو ان پر ان کی عبادات اور معاملات کے لئے جو احکام نازل کئے جاتے تھے وہ احکام بھی ایک مخصوص وقت تک کے لئے ہوتے تھے۔‘‘(تبیان۱۰؍۷۸)
اگرسیالوی صاحب اس خلافت عطاکیے جانے سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ انبیاء o’’من دون اللہ‘‘میں شامل نہیں ہیں تو سورۂ نور:۵۵ پیش کر کے وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ خلافتِ راشدہ سے لے کر خلافتِ عثمانیہ تک جتنے بھی خلیفہ ہوئے وہ بالعموم اور عادل خلفاء راشدین yوغیرھم بالخصوص’’من دون اللہ‘‘میںشامل نہیں کہ اہل ایمان کو خلافت اللہ ہی نےعطافرمائی اور خلیفہ بنایا۔اسی طرح کفار میں سے جن جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت ہی سے بادشاہت عطا کی،نعوذباللہ وہ بھی ’’من دون اللہ‘‘میں نہیں ہیں؟ جس قسم کے دلائل سے سیالوی صاحب معارضہ پیش کررہے ہیں اس قسم کے دلائل سے تو دنیا کے تمام افراد’’من دون اللہ‘‘سےثابت ہوتے ہیں۔(نعوذباللہ)

About ابوالاسجد محمد صدیق رضا

Check Also

المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

قسط نمبر: 5 عقیدہ نمبر:1 مسئلہ شد رحال یعنی زیارت قبور کےلئے دوردراز کاسفرطے کرنا …

جواب دیجئے