Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ اگست و ستمبر » المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

عقیدہ نمبر:2کی بحث بھی’’شدرحال‘‘سے متعلق ہے البتہ ’’خلاصہ المہند‘‘میں اسے عقیدہ نمبر 2کے نام سے علیحدہ پیش کیا گیا ہے ،تو شاہ صاحب نے بھی اس کے تحت مختصر سا جواب لکھا، اب آیئے اس عقیدہ اور گھمن صاحب کی دفاعی کاروائی کی طرف:

عقیدہ نمبر:2سفر مدینہ کے وقت آنحضرت ﷺ کی زیارت کی نیت کرے اور ساتھ ہی مسجد نبوی اور دوسری جگہوں کی نیت کرے بلکہ بہتر یہ ہے کہ جیسا کہ علامہ ابن ہمام نے فرمایا کہ خالص قبر مبارک کی نیت کرے اس میں حضور ﷺ کی تعظیم زیادہ ہے۔خلاصہ عقائد علماء دیوبند ص:۶،المہند اور اعتراضات کا علمی جائزہ ،ص:۴۷)

المہند علی المفند اوراس کے خلاصہ میں یہ بات اس طرح لکھی ہے کہ’’سفر کے وقت آپﷺ کی زیارت کی نیت کرے۔(دیکھئے المہند مع خلاصہ مطبوع، ادارہ اسلامیات لاہور، ص:۳۴ وص:۱۵۵ مطبوع ادارۃ الرشید کراچی ،ص:۶۶،واللفظ لہ، ص:۱۶۱،مطبوع اتحاد اہل السنہ والجماعۃ ،ص:۴۱وص:۲۱۶)

تعجب ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپﷺ کی زیارت کیسے ممکن ہے جو اس نیت سے سفر کا حکم دیاجارہا ہے؟؟؟

دوسری بات یہ ہے کہ سفر مدینہ کے وقت ابن ہمام کے قول کے مطابق بہتر اس بات کو قرار دیا گیا ہے کہ ’’خالص قبر مبارک کی نیت کرے‘‘

جب یہ عقیدہ ہے اور عقیدہ قائم کرنے کےلئے دلیل قطعی کی ضرورت ہے، دیوبندیہ کے رئیس المحدثین والمتکلمین مولانا’’محمد منظور نعمانی صاحب‘‘ نے فیصلہ کن مناظرہ میں اصول بیان کرتے ہوئے لکھا:

’’عقیدہ قائم کرنے کے لئے دلیل قطعی کی ضرورت ہے اورنفی کےلئے صرف عدم دلیل ثبوت کافی ہے،اسی لئے قرآن عزیز میں جابجا مشرکین کے خیالات باطلہ اور عقائد فاسدہ کی تردید میں فرمایاگیا ہے کہ یہ ان کےذاتی خیالات اور شیطانی وساوس ہیں، خدا کی طرف سے ان پرکوئی دلیل وبرہان نہیں‘‘(فتوحاتِ نعمانیہ :۳۵۵)

اب اس قاعدہ کے مطابق گھمن صاحب ودیگر دیوبندیوں پر لازم ہے کہ یہ عقیدہ جو وہ قائم کرچکے ہیں کہ ’’سفرمدینہ کےوقت خالص قبر مبارک کی نیت کر ے‘‘اس عقیدہ کی دلیل قطعی پیش کریں رہا معاملہ نفی کا تو اس کے لئے ہم پر سرے سے کوئی دلیل پیش کرنا لازم نہیں بلکہ اس کےلئے ’’عدم ثبوت دلیل‘‘ کافی ہے۔ اس کے باوجود بھی ہم شد رحال والی حدیث بھی پیش کرتےہیں اور اس کا مساجدثلاثہ کے علاوہ دیگر تمام مساجد ومقامات متبرکہ کےلئے عام ہونا بھی۔ جیسا کہ صفحات گزشتہ میں تفصیل سے عرض کیا، لیکن علماء دیوبند اپنے اصول کے مطابق اپنے ان عقائد کی دلیل قطعی پیش نہیں کرتے اور نہ ہی کرسکتے ہیں اگر ان کے خیال سے ہماری یہ بات درست نہیں تو درج ذیل دو باتوں کی دلیل قطعی پیش کردیں:

1رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سفر مدینہ کے وقت آپ ﷺ کی زیارت کی نیت کرے ۔

2سفر مدینہ کے وقت خالص قبر مبارک کی نیت کرے۔

معروف حنفی بزرگ ابن الھمام کا قول سرے سے دلیل نہیں چہ جائیکہ وہ دلیل قطعی ہو ،رہا ان کا یہ قیاس کہ اس نیت میں ’’رسول اللہ ﷺ کی تعظیم زیادہ ہے ‘‘تو عرضیکہ آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق مسجد نبوی کے لئے سفر کرنا آپ کی اطاعت وفرمانبرداری ہے اور آپ ﷺ کی تعظیم اسی میں ہے کہ آپ ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کی جائے، عقائد قیاس سے ثابت نہیں ہوتے، جیسا کہ بیان ہوا، اب آیئے آگے بڑھتے ہیں:

محترم شیخ نصیب شاہ صاحب نے اس عقیدہ کے جواب میں لکھا:

لعن اللہ الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیائھم مساجد وفی لفظ الافلاتتخذوا القبور مساجد فانی انھاکم من ذلک وفی روایۃ اللھم لاتجعل قبری وثنا یعبد.

مذکورہ احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو انبیاء کی قبروں کو عبادت خانہ بناتے ہیں اور وہاں عبادت کی نیت سے سفر اور دیگر کام کرتے ہیں وہ یہود ونصاری جیسے ملعون ہیں نیز جو روایتیں اس عقیدہ کے خلاف ہیں وہ سب جھوٹ وبناوٹ پر مبنی ہیں وقال الشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فکل ہذہ الاحادیث مکذوبۃ موضوعۃ .(فتاویٰ ۱۴؍۹) (موازنہ کیجے ص:۳،۴)

گھن جواب:اس اعتراض میں شاہ صاحب نے حدیث: لعن اللہ الیھود والنصاری… ذکر کی ہے ،اس حدیث میں شاہ صاحب کا مدعا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس حدیث میں قبر یا صاحب قبر کی خاطر قبر کے اوپر یا قبر کی طرف نماز پڑھنے، قبر پر سجدہ کرنے اور ان پر مساجد تعمیر کرنے سے منع کیا گیا ہے نہ کہ زیارت قبر النبی ﷺ کی نیت سے سفر کرنے سے۔

مذکورہ حدیث علامہ ناصر الدین البانی کی نظر میں:

غیرمقلدین کےمشہور ومعروف عالم علامہ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کے وہی معنی مراد لیے ہیں جو اوپر مذکور ہیں۔۔۔(احکام الجنائز ،ص:۲۵۴تا۲۵۸)

علامہ نووی  رحمہ اللہ کی رائے :

علامہ نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یوں باب باندھا ہے: باب النھی عن بناء المساجد علی القبور ‘‘

(المہند اور اعتراضات ،ص:۴۷تا۴۹))

جواب: گھمن صاحب ایسے طفل مکتب تو نہیں کہ بات ہی سمجھ نہ سکتے، اگر واقعی نہیں سمجھ سکےتو سن لیں آپ لوگوں کا یہ ’’عقیدہ نمبر2‘‘شد رحال ہی کے ضمن میں آتا ہے ،اس پر عقیدہ نمبر 1کے تحت شیخ محترم نصیب شاہ صاحب حدیث ’’لاتشدالرحال‘‘ پیش کرچکے تھے مزید دلائل تو انہوں نے ان امور شنیعہ کی تردید میں پیش کیے ہیں جن کا انہوں نے مختصرا اور آپ نے تفصیلا ذکر کیا، حدیث لاتشدالرحال سے تین مساجد کے علادہ دیگر تمام مقامات متبرکہ کی طرف سفر کرنا ممنوع ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ اس حدیث کو روایت کرنے والے صحابہ  رضی اللہ عنہ نے بھی یہی مفہوم سمجھا حتی کہ علماء دیوبند کے بعض اکابر نے بھی یہی مطلب بیان فرمایا، یہ تفصیلات گزر چکی ہیں تکرار کی احتیاج نہیں۔ پھر یہ بات بھی یاد رہے کہ مسلمہ اصول کے مطابق مسئلہ ممانعت کے ثبوت کا نہیں بلکہ اس عقیدہ کے ثبوت کے لئے ’’دلیل قطعی‘‘ کے وجود کا ہے ،اور یہ بات تو روزِروشن کی طرح واضح ہے کہ دیوبندی حضرات کےپاس ان کے اس عقیدہ کے لئے ’’دلیل قطعی‘‘ موجود نہیں۔

خیانت ،کذب بیانی اور عقل کی تعطیلات

گھمن :الزامی جواب:غیرمقلدین کے نزدیک نبی کریم ﷺ کے روضۂ اقدس کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا تو ناجائز ہے لیکن قبروں کے پاس سجدہ کرنا ،رکوع وطواف کرنا شرک نہیں بلکہ جائز ہے، ملاحظہ فرمائیں علامہ وحید الزمان لکھتے ہیں:

 قبروں کے پاس سجدہ کرنا یا رکوع اور طواف کرنا جبکہ مقصود ان افعال سے صرف علماء اور شعائر کی تعظیم ہو ان کی عبادت کا ارادہ نہ ہوتو ایسے کرنے والادیانتاً مشرک نہ ہوگا۔(ہدایۃ المھدی ،ص:۱۳،۱۴)

انہی علامہ صاحب نے دوسرے مقام پر لکھا:

کسی نبی یا ولی کی قبر کے پاس سجدہ کرنا یا رکوع کرنا یا اس کو بوسہ دینا اور مقصد صرف قبر والے کو سلام کرناہو اس کی عبادت کرنا مقصود نہ ہو تو ایسا شخص گناہ گار تو ضرور ہے البتہ اس کومشرک نہیںکہہ سکتے۔

(المہند پر اعتراضات کا علمی جائزہ :۴۹)

جواب: گھمن صاحب کی تحریر کردہ ان سطور کے لئے ’’الزامی جواب‘‘ کے بجائے ’’اتہامی جواب‘‘ کا عنوان زیادہ بہتر ومناسب ہے چونکہ ان سطور میں جناب نے اہل حق، اہل حدیث پر بہتان بھی لگایا اور کذب بیانی بھی کی۔ اب یہ اللہ کی پکڑ ہے کہ ان کی عقل ایسے سلب ہوگئی کہ خود ہی وہ بات نقل کر گئے جس سے ان کا بہتان وکذب خوب ظاہر ہوگا۔

گھمن صاحب کی صریح کذب بیانی اور بہتان یہ ہے کہ ’’غیر مقلدین کےنزدیک …قبروں کے پاس سجدہ کرنا، رکوع وطواف کرنا شرک نہیں بلکہ جائز ہے۔ اس کذب بیانی وبہتان کا ثبوت گھمن صاحب نے بزعم خود ہدیۃ المھدی ،ص:۱۳،۱۴کی عبارت پیش کی جس میں گھمن صاحب کے اپنے ترجمے کے مطابق یہ تو لکھا ہے کہ

’’قبروں کے پاس سجدہ کرنا یا رکوع اور طواف کرنا…تو ایسا کرنے والادیانتا مشرک نہ ہوگا۔ ‘‘

مشرک نہ ہوگا۔کا یہ مطلب قطعا نہیں کہ یہ امور وحیدالزمان صاحب کے نزدیک جائز ہیں۔ جی ہاں معمولی سی عقل وخرد رکھنے والاکوئی بھی فرد اس عبارت سے ایسا باطل نتیجہ اخذ نہیں کرسکتا جو مقلدین دیوبند کے اس ’’متکلم اسلام‘‘ نےد روغ گوئی سے کام لیتے ہوئے وحیدالزمان صاحب کی یہ عبارت نقل کردی کہ

’’کسی نبی یاولی کی قبر کے پاس سجدہ کرنا رکوع کرنا…تو ایسا شخص گناہ گار تو ضرور ہے البتہ اس کو مشرک نہیں کہہ سکتے۔‘‘

جب وحیدالزمان صاحب بھی قبروں کے پاس سجدہ ،رکوع اور طواف کرنے والے کو ضرور گناہ گار مان رہے ہیں تو بتائیں ان کی طرف اس کے جائز قرار دینےکا بیان صریح بہتان ہوا کہ نہیں؟ یقینا یہ صریح بہتان وکذب بیانی ہے۔ گھمن صاحب کی ان حرکات کو دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنی عقل وفہم کو تعطیلات پر بھیج کر یہ کتاب لکھنے بیٹھے تھے۔ اگرذرا عقل وفہم سے کام لیتے تو ایسی بے سروپاوبے بنیاد اور کمزور ترین باتیں ان کے قلم سے نہ نکلتیںکہ ایک طرف بہتان لگارہے ہیں دوسری طرف عین اسی جگہ اس کے واضح بہتان ہونے کاثبوت فراہم کررہے ہیں۔

گھمن صاحب کی دوسری خیانت:

پھر گھمن صاحب کی اس کتاب میں دوسری خیانت یہ ہے کہ وحیدالزمان صاحب کی بات مکمل نقل نہیں کی جیسا کہ ان سے پہلے ان کے ’’مفکر اسلام‘‘ ابوبکر غازی پوری صاحب نے بھی یہی خیانت بکی تھی۔ تفصیل کے لئے دیکھیں ماہنامہ ’’الحدیث ‘‘وحیدالزمان صاحب نے لکھا ہے :

وقیل یصیر مشرکا وکافر لان ہذہ الافعال عند القبور من شعائر عباد القبور فتقبیل القبر کتقبیل الصنم والثانی کفر بالاتفاق فکذا الأول وفیہ مافیہ

اور یہ بھی کہا گیا کہ (ان امور کا مرتکب) مشرک وکافر ہوجائے گا چونکہ قبروں کے پاس یہ افعال قبروں کے پجاریوں کے شعائر میں سے ہیں پس قبر کا چومنا بت چومنے کی طرح ہے اور دوسرا عمل(یعنی بت کا چومنا اس کی تعظیم) بالاتفاق کفر ہے پس اس طرح پہلا عمل (قبر کو چومنا) ہے اور اس میں (بھی وہی قباحت) ہے جو اس (بت کی پوجا) میں ہے۔ (ھدیۃ المھدی ،ص:۱۵)

گھمن نے’’ھدیۃ المھدی‘‘ سے عبارت نقل کرتے ہوئے یہ بات چھوڑ دی ،کسی کی ادھوری بات نقل کرکے اس سے باطل نتائج اخذ کرنا اور ان کی طرف ایسا موقف منسوب کرنا جس کے وہ قائل ہی نہ ہوں یقینا قباحت ہے، ایسے خیانت کے مرتکب گھمن صاحب اٹھ کر اہل حدیث پر ناحق خیانت کا بہتان لگاتے پھرتے ہیں کاش کہ اپنی اصلاح پر بھی توجہ دیں۔

گھمن :قارئین کرام!ہدیۃ المھدی اہل حدیث مذہب کی معتبر کتاب ہے اس کتاب کے ٹائیٹل پر لکھا ہوا ہے۔’’ مشتمل بر عقائد اہل حدیث‘‘ نیز اس کتاب کے دیباچہ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس کا مؤلف اہل حدیث عالم ہے، چنانچہ ص :۳پر لکھتا ہے :ثم رأیت…’’پھر میں نے دیکھا کہ بحمدللہ حدیث کے ساتھ اشاعت عمل اور اس پر بطور خاص ہندوستان کےلوگ کوشش کرتے ہیں اور بیشک ان پر دین کی وجوہ اور بدعتی مقلدین کی ذلت کھل گئی …اور عاملین بالحدیث کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے …اور صفحہ ۵پر لکھتے ہیں :وقد قسمت ہذا الکتاب…:یعنی میں نے اس کتاب کودوجزؤں پر تقسیم کیا ہے پہلا جزء اصول ایمان میں ہے اور اس میں میں نے اہل حدیث اور جماعت کے عقائد صحیحہ کو بیان کیا ہے،اور صفحہ :۹ پر لکھا ہے: لایزال طائفۃ…یعنی:اور اس امت سے ایک گروہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کےامر کے ساتھ قائم رہے گا اس کی رسوائی سے اس کا نقصان نہیں ہوگا یہاں تک کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا امر آجائے اور یہی گروہ اصحاب حدیث کا ہے،اللہ تعالیٰ ان کو زیادہ کرے اور قائم رکھے اور یہی نصرت دیا گیا ناجی فرقہ ہے جیسا کہ اس کی تفسیر فرماتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس پر میں اور میرے صحابہ  رضی اللہ عنہ ہیں اور دوسری روایت میں ہے کہ وہ میری سنت سے لوگوں کے فساد کی اصلاح کرتے ہیں اور حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ حنفی تھے نہ شافعی بلکہ کتاب وسنت کے عامل تھے۔

یہ چند حوالے آپ کے سامنے بطور نمونہ کے ذکر کیے ہیں ورنہ اس کتاب میں اور بہت سے حوالے موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ اہل حدیث حضرات کی بڑی معتبر اور مضبوط کتاب ہے۔(المہند اوراعتراضات …ص:۴۹تا۵۱)

جواب: قارئین کرام! ایک بار پھر آپ کو توجہ دلادیں کہ کتاب لکھتے ہوئے گھمن صاحب اپنی عقل وفہم کو عام تعطیلات پر بھیجے ہوئے تھے، ذرا غور فرمائیں کہ ان کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وحیدالزمان صاحب کی یہ کتاب ’’ھدیۃ المھدی‘‘ اہل حدیث حضرات کی بڑی معتبر اور مضبوط کتاب ہے لیکن دیباچہ سمیت اس کتاب کی انہوں نے جتنی بھی عبارات پیش کی ہیں ان میں سے کسی ایک میں بھی یہ بات نہیں لکھی ہوئی کہ یہ اہل حدیث حضرات کی بڑی معتبر اور مضبوط کتاب ہے، بلکہ اس بات کا اشارہ تک نہیں ملتا۔ ٹائیٹل پر یہ لکھ دینے سے کہ’’مشتمل برعقائد اہل حدیث‘‘ یہ قطعا ثابت نہیں ہوتا کہ اہل حدیث حضرات بھی اس کے مندرجات کو اپنے عقائد تسلیم کرتے ہیں ،نہ ہی کتاب کے بہت سے مقامات پر اہل حدیث کی تعریفوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے، اور نہ ہی آج تک کسی اہل حدیث عالم نےیہ بات لکھی ہےکہ ’’ھدیۃ المھدی‘‘ میں مذکور تمام عقائد صحیح اور متفقہ ہیں، گھمن صاحب اور ان کے قبیل کے لوگ یہ بات کبھی بھی ثابت نہیں کرسکتے۔

البتہ ہم خود ان کے اکابر سے یہ بات بارہا ثابت کرچکے ہیں کہ اہل حدیث اس کتاب کو کو پسند نہیں کرتے بطور ثبوت ومثال ان کے ایک ’’المحدث الکبیر‘‘ عبدالحلیم چشتی صاحب کی گواہی ملاحظہ کیجئے ،آپ ھدیۃ المھدی کا تعارف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’مولانا کی تالیفات میں بس یہی ایک کتاب ایسی ہے کہ جب چھپ کرمنظر عام پر آئی توطبقۂ اہل حدیث ہی میں وہ شورش ہوئی کہ تمام لوگ آپ کے سخت مخالف ہوگئے، کیونکہ اس کتاب میں ان لوگوں کی رائے میں بھی بعض ایسی باتیں لکھ دی تھیں جن کا لکھنا روا نہ تھا، خود فرماتے ہیں: ’’اس کتاب پر ہمارے زمانے کے مسلمانوں کو بڑا غصہ ہے وجہ یہ ہے کہ یہ کتاب کل مسائل میں کسی فریق کے موافق نہیں ہے بلکہ خذ ما صفا ودع ماکدر پر عمل کیا ہے، نہ اہل حدیث ہمارے زمانے کے اس کو پسند کرتے ہیں نہ مقلدین نہ امامیہ نہ نام کے سنی۔

(حیات وحیدالزمان ،ص:۱۴۲،۱۴۳،مطبوع نورمحمد …)

یہ لیجئے!دیوبندی محدث کی گواہی کے مطابق اہل حدیث کے تمام لوگ اس کتاب’’ھدیۃ المھدی‘‘ کی وجہ سے وحیدالزمان صاحب کے سخت مخالف ہوگئے تھے ، کیونکہ اس میں ایسی باتیں لکھ دی تھیں جن کا لکھنا اہل حدیث کے نزدیک بھی روانہ تھا۔ پھر چشتی صاحب نے خود وحید الزمان صاحب کی عبارت ان کی کتاب ’’لغات الحدیث‘‘ ج۴ص۱۲ سے نقل کردی جس میں صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ وحیدالزمان صاحب کے زمانے کے اہل حدیث بھی ان کی اس کتاب ’’ھدیۃ المھدی‘‘ کو پسند نہیں کرتے تھے۔ نیز یہ کتاب کل مسائل میں کسی فریق کے موافق نہیں۔

الغرض کہ خود مؤلف کی وضاحت اور دیوبندی ’’محدث کبیر‘‘ چشتی صاحب کی شہادت کے بعد یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ گھمن صاحب کا یہ دعویٰ کہ ’’ھدیۃ المھدی‘‘ اہل حدیث کی معتبر ومضبوط کتاب ہے سراسرباطل وغلط بیانی پر مشتمل ہے۔

(جاری ہے)

About ابوالاسجد محمد صدیق رضا

Check Also

المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

گھمن:عقیدہ نمبر:2 مرزائیو ںکی تعزیت اور شادی کی دعوت وغیرہ میں جانا جائز ہے ملاحظہ فرمائیں: مشہور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے