Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ نومبر » جن سے اللہ محبت نہیں کرتا

جن سے اللہ محبت نہیں کرتا

جس طرح ایسے خوش نصیب لوگ موجود ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے، اسی طرح ایسے بدنصیب لوگ بھی موجود ہیں جو اس سعادتِ عظمیٰ سے محروم ہیں بلکہ اپنی سرکشی وبغاوت سے ان کا شمار اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ بندوں میں ہوتا ہے اور یہ انتہائی درجے کی بدبختی وبدنصیبی ہے، ذیل میں قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسے ہی بدنصیبوں کا تذکرہ کیاجاتاہے،مقصود اس تذکرہ سے یہ ہے کہ ایسے تمام امورسے احتراز کیاجائے جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے محرومی کا باعث ہیں۔
nاللہ تبارک وتعالیٰ کافرمان ہے:
[اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ۝۱۹۰ ](البقرۃ:۱۹۰)
ترجمہ: اورزیادتی نہ کرو بیشک اللہ زیادتی کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
یہ حکم قتال فی سبیل اللہ کے حوالے سے دیاجارہا ہے، مصنف ابن ابی شیبہ میں سیدنا انسtسے مروی ہے کہ:
کنا اذا استنفرنا نظرنا بظھر المدینۃ حتی یخرج الینا رسول اللہ ﷺ فیقول: انطلقوا بسم اللہ وفی سبیل اللہ تقاتلون اعداء اللہ لاتقتلوا شیخا فانیا ولاطفلا صغیرا ولا امرأۃ ولاتغلوا.
یعنی جب ہمیں کسی لڑائی کیلئے بھیجاجاتاتوہم مدینہ کے باہر ایک مقام پر جمع ہوتے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لاتے اور فرماتے:اللہ کا نام لیکر نکلو کہ تم اللہ کی راہ میں اس کے دشمنوں سے لڑتے ہو کسی بوڑھے ،چھوٹے بچے اور عورت کو قتل نہ کرنا اور مالِ غنیمت میں خیانت نہ کرنا۔
جبکہ بدیع التفاسیر 660/3میں سیدنا ابن عباس tکے قول میں یہ الفاظ مستزاد ہیں کہ کہ:
ولامن القی السلم وکف یدہ فان فعلتم فقد اعتدیتم.
یعنی اس کو بھی قتل مت کرنا جو تمہیں صلح کی پیشکش کرے اورلڑائی سے ہاتھ کھینچ لے۔ اگر تم نے ان امور کاارتکاب کیاتوتم نے زیادتی کی۔
مقام غور ہے کہ دورانِ قتال، اللہ کے دشمنوں پر بھی زیادتی سے روکاجارہا ہے اور کہاجارہاہے کہ ایسے کرنے والوں سے اللہ محبت نہیں کرتا تو پھر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو کسی بھی حوالے سے زیادتی کا نشانہ کیسے بناسکتاہے؟
یقینا ایسے زیادتی کرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہیں۔
nاللہ تبارک وتعالیٰ کافرمان ہے:
[وَاللہُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ۝۲۷۶ ](البقرۃ:۲۷۶)
ترجمہ: اوراللہ نہیں محبت کرتا ہرناشکرے گناہگار سے۔
دراصل یہ جس آیت کاحصہ ہے اس میں صدقہ کے فوائد اور سود کے نقصانات کی طرف شارہ کیاگیاہے مکمل آیت یوں ہے:
[يَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ۝۰ۭ وَاللہُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ۝۲۷۶ ] یعنی: اللہ سود میں کمی کرتارہتا ہے اور صدقات کوبڑھاتارہتا ہے اور اللہ ہرناشکرے گناہگار سے محبت نہیں کرتا۔
محدث دیارسندھ علامہ سید ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدیa فرماتے ہیں کہ:
اس آخری جملے کی سود کی صفت کے ساتھ لازمی مناسبت ہے، وہ اس طرح کہ سود خور اللہ کی تقسیم پرراضی نہیں رہتا اور اس کیلئے جو رزقِ حلال، کسبِ جائز اور معاش مقرر کیاگیا ہے، اسے کافی نہیں جانتا، بلکہ لوگوں کامال ناحق کھانے اور ناپاک ذرائع آمدن کے ذریعے مال حاصل کرنے کی کوشش میں لگارہتاہے، لہذا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے اوپر کی ہوئی نعمتوں کا ناشکرا،ظالم وگنہگار ہے جو لوگوں کا ناحق مال کھاتا ہے۔(بدیع التفاسیر473/4)
معلوم ہوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی اطاعت سے باہر نکل جانا،حقوق العباد کاخیال نہ رکھنابھی شکرگذاری کے خلاف اور گناہ کاکام ہےاور یقینا ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہیں۔
nاللہ تبارک وتعالیٰ کافرمان ہے:
[وَاللہُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِـمِيْنَ۝۵۷ ](آل عمران:۵۷)
ترجمہ: اوراللہ نہیں محبت کرتا ظالموں سے۔
ظلم کامفہوم بڑا وسیع ہے ظلم کی تعریف یوں کی گئی ہے:
وضع الشیٔ علی غیر محلہ.
کسی بھی چیز کو اس کے لائق مقام کے علاوہ کسی اور مقام پر رکھنا۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں شرک کوظلم عظیم کہاگیا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا مقام ومرتبہ یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایاگیا تو یہ ظلم ہے۔
بہرحال:
اللہ کے ساتھ شرک کرناظلم ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا مقام کسی اور شخصیت کو دیناظلم ہے،قرآن کریم کی تعظیم کی طرح کسی اور کتاب کی تعظیم کرنا ظلم ہے،حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کامقام کسی اور شخصیت کی بات کو دینا ظلم ہے۔ کسی بھی مسلمان ،غیرمسلم ،جانور،درندے،پرندے،کیڑے مکوڑے کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جس کا وہ مستحق نہ تھا، ظلم ہے۔
ظلم کتنا سنگین گناہ ہے، اس کا اندازہ ذیل میں مذکور دواحادیثِ رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے۔
«مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ، فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ اليَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لاَ يَكُونَ [ص:130] دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ»(صحیح بخاری،الرقم:2449)
سیدناابوھریرہ tسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کا اپنے کسی بھائی پرظلم(کیاہوا)ہواس کی عزت یا کسی اور حوالے سے تو اسے چاہئے کہ وہ آج ہی اس سے اپنے آپ کو (معافی مانگ کر) آزاد کرالے، اس دن سے قبل جب درہم ودینار(نہیں چلیں گےبلکہ)اگر اس کے پاس نیکیاں ہوں گی تو اس کے ظلم کی بقدر لے لی جائیں گی اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہیں ہوں گی تومظلوم کے گناہ اس پرڈال دیئے جائیں گے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟» قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: «إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ»(صحیح مسلم،الرقم:2581)
ابوھریرہtسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہوکہ مفلس کون ہے؟صحابہ کرام نے جواب دیاکہ ہمارے اندرمفلس وہ ہے جس کے پاس درہم ہوں نہ دیگر سامان۔ آپ نے فرمایا:میری امت میں سے مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن اعمال لیکر آئے گا جن میں نماز،روزے،زکوٰۃ ہوگی لیکن اس پر فریاد کرنے والے بھی ہوں گے، کسی کو گالی دی ہوگی ،کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایاہوگا، کسی کا قتل کیاہوگا، کسی کو سزا دی ہوگی، تب ان مظلوموں میں اس کی نیکیاں (جرم کی مقدار کے مطابق) تقسیم کی جائیں گی یہاں تک کہ اس کی نیکیاں تمام ہوجائیں گی، پھر بھی لوگوں کے مطالبے باقی ہوں گے تب ان مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے اور اسے جہنم میں پھینک دیاجائے گا۔
یقینا ایسے ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہوں گے۔
nاللہ تبارک وتعالیٰ کافرمان ہے:
[قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ ](آل عمران:۳۲)
اس آیت کا ترجمہ وتفسیر ازمولانا عبدالرحمٰن کیلانیaملاحظہ ہو!
ترجمہ:آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو،پھر اگروہ یہ دعوت قبول نہ کریں تو اللہ ایسے کافروں کوپسند نہیں کرتا۔
تفسیر:اس آیت سے معلوم ہوا کہ جولوگ اللہ کی محبت کا دم بھرتے ہیں مگر اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتے وہ سب کافر ہیں۔ اس آیت کے مخاطب اہل کتاب اور کفارومشرکین ہی نہیں بلکہ مسلما ن بھی ہیں کیونکہ مسلمانوں میں بھی ایک فرقہ ایسا پیداہوچکاہے جو صرف قرآن ہی کو ہدایت کیلئے کافی سمجھتا ہے ۔رہاقرآن پر عمل کرکے دکھانے کا وہ طریقہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو دکھایاتھا۔یہ لوگ اس سے مستغنی ہیں۔ ان کادعویٰ یہ ہے کہ قرآن پر ہردور کے تقاضوں کے مطابق عمل کیاجاناچاہئے اور کیاجاسکتا ہے۔ یہ لوگ بھی اس آیت کی روسے کافر ہیں۔ خواہ وہ خود کو مسلمان کہلوانے پر کتنے ہی مصرہوں۔ اسی طرح جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ساتھ کسی نئے نبی کی اطاعت بھی ضروری سمجھتے ہیں وہ بھی کافر ہیں خواہ وہ خود کو مسلمان کہلوانے پر کتنے ہی مصرہوں،کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔
(تیسیر القرآن :558,59/1)
معلوم ہوا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ،سنت اور ختم نبوت کے منکر بھی اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہیں۔
nاللہ تبارک وتعالیٰ کافرمان ہے:
[اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨا۝۳۶ۙ ] (النساء:۳۶)
ترجمہ: بیشک اللہ نہیں محبت کرتا ،جوہے غرورفخرکرنے والا(سے)
ایک اور مقام پر فرمایا:
[اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ۝۲۳ ](النحل:ـ۲۳)
ترجمہ:بیشک وہ نہیں محبت کرتا تکبر کرنے والوں سے۔
غرور،فخراور تکبر اللہ تعالیٰ کوسخت ناپسند ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:
لایدخل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ من کبر.(مسلم مع منۃ المنعم :102/1)
یعنی وہ شخص جس کے دل میں رائی کے برابر تکبر ہے ،جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اورحدیث میں تکبر کی وضاحت یوں فرماتے ہیں:
الکبر بطرالحق وغمط الناس.
(مسلم مع منۃ المنعم :101/1)
یعنی تکبر ،حق کے انکار اور لوگوں کو حقیرجاننے کانام ہے۔
سورۃ النساء کی مذ کورہ بالاآیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنی مخلوقات کے حقوق کا تذکرہ فرمایا ہے، ساتھ میںتکبر کی مذمت کی ہے، اس مقام پر مذمتِ تکبر سے مقصود یہ ہے کہ متکبر آدمی اللہ تعالیٰ کے حقوق کا لحاظ رکھ سکتا ہے نہ اللہ کی مخلوق کے حقوق کا،لہذادونوں کے حقوق کی ادائیگی کیلئے ضروری ہے کہ تکبر جیسے قبیح عمل سے احتراز کیاجائے۔
بلاشبہ ایسے قبیح عمل کے مرتکب محبت الٰہی کے مستحق نہیں ہیں۔
nاللہ تبارک وتعالیٰ کافرمان ہے:
[اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِــيْمًا۝۱۰۷ۚۙ ] ترجمہ: بیشک اللہ نہیں محبت کرتا (ا س سے) جو ہے خیانت کرنے والامجرم۔(النساء:۱۰۷)
اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
[اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ۝۵۸ۧ ](الانفال:۵۸)
ترجمہ: بیشک اللہ نہیں محبت کرتا خیانت کرنے والوں سے۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
[اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۝۳۸ۧ](الحج:۳۸)
ترجمہ: بیشک اللہ نہیں محبت کرتا ہرخائن ناشکرے سے۔
خیانت ایک قبیح جرم ہے، جس سے قرآن وحدیث میں متعدد مقامات پر منع کیاگیاہے اور وعید سنائی گئی ہے،ملاحظہ ہو:
(الف)[وَلَا تَكُنْ لِّلْخَاۗىِٕنِيْنَ خَصِيْمًا۝۱۰۵ۙ] (النساء:۱۰۵)
(اے نبیﷺ) آپ خیانت کاارتکاب کرنے والوں کے حمایتی نہ بنیں۔
(ب)[يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِكُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۲۷ ](الانفال:۲۷)
اےایمان والو!تم اللہ اور رسول کے(حقوق میں)خیانت نہ کرو اور نہ ہی اپنی امانتوں میں، اور تم جانتے ہو۔
(ج)حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبوں میں یہ ضرور ارشاد فرماتے:
لاایمان لمن لاامانۃ لہ ولادین لمن لاعھد لہ.(مسنداحمد 135/3وقال الالبانی حدیث جید تعلیقات الالبانی علی المشکوٰۃ :17/1)
یعنی اس کاایمان نہیں جس میںامانت کی پاسداری نہیں، اوراس کا دین نہیں جس میں عہد(وعدے) کی پابندی کا احساس نہیں۔
(د)کتب احادیث میں یہ واقعہ موجود ہے کہ سیدنا معاویہ tاور اہل روم کے مابین معاہدہ تھا، معاہدے کی مدت قریب الختم ہوئی توسیدنا معاویہ نے روم کی سرزمین کے قریب فوجیں جمع کرنا شروع کردیں تاکہ مدت ختم ہوتے ہی اہل روم پر حملہ کردیاجائے سیدنا عمرو بن عبسہtکے علم میں جب یہ بات آئی تو انہوں نے اسے غدر؍ خیانت سے تعبیر کیا اورمعاویہ tکو اس سے منع کیا اور حدیثِ رسول سنائی، جس پر سیدنا معاویہtنے فوراً اپنی فوجیں واپس بلالیں۔(مسند احمد :111/4وسنن ابی داؤد ،الرقم:2759وجامع الترمذی، الرقم:1580)
تمام دلائل سے الم نشرح ہواکہ خائن اللہ کی محبت کاحقدار نہیں ہوسکتا۔
nاللہ تبارک وتعالیٰ کافرمان ہے:
[وَاللہُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ۝۶۴ ] (المائدۃ:۶۴)
ترجمہ: اور اللہ نہیں محبت کرتا فسادکرنے والوں سے۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
[وَاللہُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ۝۲۰۵ ](البقرہ:۲۰۵)
ترجمہ: اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
مفسرقرآن حافظ صلاح الدین یوسفdفساد کی وضاحت میں رقمطراز ہیں:فساد سےمراد ہر وہ بگاڑ ہے جس سے انسانوں کے معاشرے اورآبادیوں میں امن وسکون تہہ وبالااور ان کے عیش وآرام میںخلل واقع ہو۔(احسن البیان :1181)
قرآن کریم میں کچھ فساد یوں کاتذکرہ ہے،ملاحظہ ہو:
منافقین: [وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ۝۰ۙ] (البقرہ:۱۱)
اور جب کہاجاتاہے انہیں کہ نہ فساد کروزمین میں…..
قارون:[وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ۝۰ۭ ](القصص:۷۷)
اور زمین میں فساد کا متلاشی نہ بن….
فرعون:[وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ۝۹۱ ](یونس:۹۱)
اور تھا تو فسادیوں میں سے۔
قوم صالح(علیہ السلام)کے۹باغی وسرکش سردار:
[وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَۃِ تِسْعَۃُ رَہْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ](النمل:۴۸)
اور تھے شہر میں ۹سردار فسادپھیلاتے زمین میں۔
اخنس بن شریق منافق:[وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِي الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْہَا](البقرہ:۲۰۵)
اور جب پلٹ کرجاتا تو زمین میں فسادپھیلانے کی کوشش کرتا۔
معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے باغیوں کاپسندیدہ مشغلہ زمین پر فساد پھیلاناتھا، لہذا ہمیں ایسے تمام امور سے اجتناب برتنا ہوگا جو فساد کاذریعہ بن سکتے ہیں اور اس لئے بھی کہ ایسے بدنصیبوں کے نصیب میں محبت الٰہی نہیں۔
nاللہ تبارک وتعالیٰ کافرمان ہے:
[اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ۝۳۱ۧ ] (الاعراف:۳۱)
ترجمہ: بیشک وہ(اللہ تعالیٰ) نہیں محبت کرتا اسراف کرنے والوں سے۔
اسراف (حد سے نکل جانا) کسی بھی چیز میں، حتی کہ کھانے پینے میں بھی ناپسندیدہ ہے۔ ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جوچاہو کھاؤ۔ جوچاہوپہنو!البتہ دو باتوں سے گریز کرو۔ اسراف اور تکبر سے۔(صحیح بخاری،قبل حدیث :5783)
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ:
وقولہ تعالیٰ: کلوا واشربواولا تسرفوا الآیۃ قال بعض السلف: جمع اللہ الطب کلہ فی نصف آیۃ وکلوا واشربوا ولاتسرفوا.
ىعنی اللہ کے اس فرمان : وکلوا واشربوا ولاتسرفوا. کے بارے میں بعض سلف کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وکلوا واشربوا ولاتسرفوا.اس آدھی آیت میں ساری طب جمع فرمادی ہے یعنی کھاؤاور پیو اور حد سے نہ بڑھو۔
امورحیات میں سے کسی میں بھی حدسے تجاوز نہیں کرناچاہئے۔
ورنہ محبت الٰہی سے محرومی مقدر ہے۔
nاللہ تبارک وتعالیٰ کافرمان ہے:
[اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ۝۷۶ ] (القصص:۷۶)
ترجمہ: بیشک اللہ نہیں محبت کرتا اترانے والوں سے۔
مال پر اترانے کی وجہ سے قارون کوزمین میں دھنسادیاگیا۔
ٍ[فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَ۝۰ۣ ](القصص:۸۱)
پس ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسادیا۔
اور لباس پر اترانے کی وجہ سے ایک شخص کو زمین میں دھنسا دیا گیا۔
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال :بینما رجل یتبختر ، یمشی فی بردیہ، قد اعجبتہ نفسہ، فخسف اللہ بہ الارض ، فھو یتجلجل فیھا الی یوم القیامۃ .(صحیح مسلم مع منۃ المنعم 5467/3ص:400)
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص اپنے لباس کی وجہ سے اتراکرچل رہا تھا اور اس کو اپنا آپ بڑا بھارہاتھا،تب اللہ نے اس کو زمین میں دھنسادیا اور وہ قیامت تک دھنستا چلاجارہا ہے۔
تمام نعمتیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی عنایت کردہ ہیں، اس کی کسی بھی عطا کی ہوئی نعمت پر اترانا اور تکبر کرنا بندے کو زیب نہیں دیتا، یہ عادتِ بد اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے اسی وجہ سے ایسا بندہ اللہ کی محبت کا حقدار نہیں بن سکتا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت سے محرومی بہت بڑا گھاٹے وخسارے کا سودا اور بہت بڑی بدنصیبی ہے لہذا ایسے تمام امور سے احتراز کیاجائے جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے محرومی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں دنیا وآخرت کی تمام سعادتیں عطافرمائے اور ہر قسم کی محرومیوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔آمین

About شیخ ذوالفقارعلی طاہر

ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ

Check Also

ٹرمپ دھمکی روشن پہلو تلاش کیجئے

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم وبعد! قارئین کرام! السلام …

جواب دیجئے