Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اگست » فتنۂ غامدیت قسط:۱۳

فتنۂ غامدیت قسط:۱۳

 قسط:۱۳

سورۂ نساء کی آیات۱۵اور۱۶کی غلط تفسیر اور اس کاصحیح مفہوم
عمارصاحب نے سورۂ نساء کی محولہ آیات کاجومفہوم بیان کیاہے۔ محترم معترض کے الزام،صحابۂ کرام پر طعن وتشنیع،کی بنیاد اسی مفہوم اور تفسیر پر ہے۔ اور یہ غامدی وفراہی گروہ کی وہ تفسیر ہے جو امت مسلمہ میں پہلی مرتبہ اختیار کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اس کی بنیاد بھی احادیث صحیحہ وصریحہ اور قویہ کے انکار پر ہے۔ نیز غامدی صاحب کا اپنا اعتراف بھی ہےکہ وہ اس رائے میں چودہ صد سالہ امت مسلمہ کی پوری تاریخ میں منفرد ہیں، حتی کہ اپنے’’استاذامام‘‘ امین اصلاحی سے بھی مختلف ۔یہ بات انہوں نے شرعی عدالت میں مسئلہ شہادت نسواں پر بحث کرتے ہوئے بڑے فخرسے راقم کی موجودگی میں کہی تھی۔ گوبعد میں انہوں نے اپنی تحریر میں اس کوبیان کرنے سے گریز کیا ہے۔
عمار صاحب کی رائے دراصل وہی ہےجو غامدی صاحب نے اختیار کی ہے،جو ؎
انہی کی محفل سنوارتاہوں، چراغ میرا ہے رات ان کی
انہی کی مطلب کی کہہ رہاہوں، زبان میر ی ہے بات ان کی
کی مصداق ہے، اللہ تعالیٰ من شذ،شذ…کامصداق بننے سے محفوظ رکھے۔
اب ہم پہلے صحابہ کرام اور مفسرین امت کی تفسیر کی روشنی میں ان دوآیات کا وہ مفہوم بیان کرتے ہیں جو حضرت عبداللہ بن عباسw سمیت تمام ائمہ ٔتفاسیر نے تھوڑے سے جزوی اختلاف کے ساتھ بیان کیا ہے اس کے بعدوہ چار گھپلے یاانحراف بیان کریں گے جن کا ارتکاب عمار صاحب نے غامدی صاحب کی اندھی تقلید میں کیا ہے۔
۱۔سب سے پہلی بات تو یہ ہےکہ ’الفاحشۃ‘ سےمراد زنا ہے۔
۲۔اس کی مرتکب عورت کے لئے سزاکابیان ہے۔
۳۔یہ ابتدائے اسلام میں جرم زنا کی عبوری سزاہے۔
۴۔اس کی مستقل سزا کاوعدہ ہے۔
۵۔مطلق زناکی سزا ہے، اس کا ارتکاب کسی نے ایک دفعہ کیا ہے یا زیادہ مرتبہ، اس کا نہ آیت میں ذکر ہے اور نہ اس کی وجہ سے زناکاروں کی دوقسموں اور ان کی الگ الگ سزاؤںکاذکر ہے۔
۶۔ثبوت جرم کے لئے چار مسلمان مردوں کی گواہی ضروری ہے۔
دوسری آیت ۱۶میں تثنیہ مذکر کے صیغے میں اس ’الفاحشہ‘ کےمرتکبین کی سزا کا ذکر ہے کیونکہ ’يَاْتِيٰنِھَا‘میں خبر مونث کا مرجع الفاحشہ ہی ہے۔ اس لئے اس سے مراد زنا کارمرد ہے۔اگرچہ بعض نے ان دوسے وہ دومرد مراد لئے ہیں جو اغلام بازی (قوم لوط والی بے حیائی) کرتے ہیں۔ او ربعض نے اس سے باکرہ مرد وعورت مراد لئے ہیں اور پہلی آیت سے محصنات(شادی شدہ عورتیں) ۔لیکن راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے زنا کار مرد مراد ہے۔ تثنیہ کاصیغہ مرد اور عورت کے اعتبار سے ہے اور عربی میں عورت اور مردد ونوں کے لئے تثنیہ مذکر کے صیغے کا استعمال جائز ہے۔گویاپہلی آیت میں عورت کی سزا کا ذکرہے کہ ثبوت جرم کی صورت میں اس کو گھر میں محبوس رکھو، گھر سے باہر نہ جانے دو،یہاں تک کہ اس کی موت آجائے،یا اللہ کی طرف سے کسی اور سزا کاحکم نازل ہوجائے۔ اور دوسری آیت میں زنا کار مرد کی سزاکاذکر ہے کہ اس کو زدوکوب اورزجرتوبیخ کے ذریعے سے اس کی حوصلہ شکنی کرو، کیونکہ مرد کے لئے محنت اور کسب معاش کی سرگرمیوں کے لئے گھر سے نکلنا ناگزیر ہے، اس کو گھر کی چار دیواری کےاندر طویل عرصے تک نہیں رکھاجاسکتا۔ اور’ حتی یجعل اللہ لھن سبیلا‘سے واضح کہ مرد وعورت کی یہ دونوں سزائیں عارضی اور عبوری دور کے لئے ہیں،مستقل سزا کے حکم کےبعد یہ دونوں سزائیں ختم اور دوسری نافذ ہوجائے گی۔
چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں زنا کی مستقل سزا نازل فرمائی تو نبی ﷺ نے فرمایا:’’مجھ سے لےلو، مجھ سے لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راستہ بنادیا ہے اور وہ ہے کنوارے (غیر شادی شدہ ) مرد وعورت کے لئے سوسوکوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی۔ اور شادی شدہ مرد وعورت کو سوسوکوڑے اور سنگساری کے ذریعے سے ماردینا۔
(صحیح مسلم،الحدود،حدیث:۱۶۹۰)
پھرآپﷺ نے شادی شدہ زانیوں کو عملاً صرف سزائے رجم دی اور سوکوڑے(جوچھوٹی سزا ہے) بڑی سزا میں مدغم ہوگئے اور اب شادی شدہ کے لئے صرف رجم ہے۔عہدرسالت مآب ﷺ کےبعد خلفائے راشدین اور عہدصحابہ میں بھی یہی سزا دی گئی،اور بعد میں تمام امت کے فقہاء،علماء اور محدثین بھی اس کے قائل رہے اور آج تک قائل ہیں۔
غامدی گروہ کاانحراف اور آیت کے مفہوم میں گھپلے
عمارصاحب نے،جودراصل غامدی وفراہی فکر کے نقیب اور وکیل ہیں،مذکورہ دونوں آیات کے ۱۴سوسالہ مفہوم سے انحراف کرکے کہا ہے کہ
’’داخلی قرائن کی روشنی میں (پہلی آیت میں) زناکااتفاقیہ ارتکاب کرنے والے عام مجرم نہیں ہیں، بلکہ اس کوپیشہ اور عادت کے طور پر اختیار کرلینے والے مجرم زیربحث ہیں۔ اور اس میں ان پیشہ وربدکار عورتوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کی تدبیر بیان کی، جب کہ دوسری آیت میں یاری آشنائی کا مستقل تعلق قائم کرلینے والے جوڑوں کی تادیب وتنبیہ کاطریقہ بیان فرمایا ہے۔
(الشریعہ،خصوصی اشاعت،ص:۱۸۷)
یہ ’داخلی قرائن‘کیاہیں،جن کی بنیاد پر استاذ،شاگرددونوں نے آیات کے صحیح اور متفقہ مفہوم سے انحراف کیا ہے؟
یہ مخترعہ مفہوم اس وقت تک صحیح قرار نہیں پاسکتا جب تک اس میں استمرار اور دوام کے دلائل یاداخلی قرائن کی وضاحت سامنے نہیں آتی۔ یہ کوئی انتہائی مخصوص قسم کی خردبین ہے جوعلم لدنی کی طرح ،صرف غامدی گروہ ہی کے پاس ہے۔اس لئے اس گروہ پہلے سب نے اسے عبوری سزا اور ہرزانی کے لئے عام سمجھا اور آج بھی پوری امت،اس شرذمۂ کے سوا،یہی سمجھ رہی ہے۔
اس خردبینی تفسیر کی روسے حسب ذیل گھپلے ان آیات کے مفہوم میں واقع ہوتے ہیں:
cیہ عبوری سزا نہیں ،مستقل سزا ہے(جب کہ ایسا نہیں ہے)
cاسے عبوری سزاقرار دینے والی روایات غیرصحیح ہیں۔(جب کہ پوری امت ان کومانتی ہے)
cسورۂ نور کی آیت’الزانیۃ والزانی….‘کاان آیات سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ وہ زنا کے عام مجرموں کےلئے ہے،چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا کنوارے(جب کہ امت اس کوخاص مانتی ہے صرف کنوارے زانیوں کےلئے)
cپیشہ وربدکارمرد وعورت یایاری آشنائی کو مستقل معمول بنانے والوں کو اگرحکومت یا عدالت چاہے تو ایسے غنڈوں ،بدمعاشوں کوتعزیر کے طور پر رجم کی سزا دے سکتی ہے(جب کہ امت کےنزدیک عادی زناکاروں کی،عام زانیوں سے الگ، کسی مستقل سزا یا تعزیری سزا کا قرآن وحدیث میں کوئی وجود نہیں ہے)
cعہدرسالت میں ایسے صحابہ اور صحابیات موجود تھیں جنہوں نے قحبہ گری کو پیشہ بنایاہواتھا،یایاری آشنائی (چھپی بدکاری)ان کا معمول تھا۔انہی کو اس غندہ گردی اور بدمعاشی کی وجہ سے رجم کی سزا دی گئی تھی۔یہ محض زنا کی سزا نہیں تھی بلکہ یہ محاربہ ہے۔(امت مسلمہ کے نزدیک آیت محاربہ کا یہ انطباق ایک طر ف قرآن کی معنوی تحریف ہے، دوسرے صحابہ کرام کے خلاف ژاژ خائی اور عہد رسالت کے صالح ترین معاشرے کے خلاف ہزیان گوئی ہے۔نعوذباللہ من ذلک الف الف مرۃ)
غبار آلود چہرے پرغازہ پاشی
عمارصاحب کے مذکورہ اقتباس اور اس گروہ کی دیگر توضیحات کی روشنی میں جن مولاناصاحب نے عمارصاحب پر صحابہ کرام پر طعن وتشنیع کا الزام عائد کیا ہے جو ان کے الفاظ میں پہلے گزرچکا ہے، وہ سوفیصد درست ہے اور سورۂ نساء کی آیات میں جن گھپلوں یاانحراف کی ہم نے نشاندہی کی ہے، آخری گھپلے سے وہ الزام روز روشن کی طرح واضح ہوکر ایک حقیقت ثابتہ بن کر سامنے آجاتا ہے۔ لیکن اللہ بچائے ایسی ضد اور انانیت سے کہ گمراہی کے واضح ہوجانے کے باوجود بھی اپنے دھڑے کی حمایت میں غلطی کاارتکاب جاری رکھاجائے بلکہ اس کو صحیح ثابت کرنے کے لئے اپنے منہ پر مزید کالک مل لی جائے اور اپنے غبار آلود چہرے کو صاف کرنے کے بجائے اسی پر غازہ پوشی کرکے اس کو مزید بدنما بنالیاجائے۔ عمار صاحب نے بھی اپنے گمراہ کن نظریے کے عارض وخسار کو سنوارنےکے لئے ایسی ہی بھونڈی کوشش کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’تاہم مولانا محترم نے یہ سامنے کی بات نظر انداز کردی کہ عہدنبوی کے معاشرے نے اخلاقی تزکیہ وتطہیر کے سارے مراحل ایک ہی جست میں طے نہیں کرلئے تھے اور اس معاشرے میں آپ کے تربیت یافتہ اور بلندکردار صحابہ کے علاوہ منافقین اور تربیت سےمحروم کمزور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو مختلف اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں میں مبتلاتھی اور ان کی اصلاح وتطہیر کا عمل ،جتنا بھی ممکن تھا، ایک تدریج ہی کے ساتھ ممکن تھا۔ اس طرح کے گروہوں میں نہ صرف پیشہ ورانہ بدکاری اور یاری آشنائی کے تعلقات کی مثالیں پائی جاتی تھیں، بلکہ اپنی مملوکہ لونڈیوں کوزناپرمجبور کرکے ان کے ذریعے سےکسب معاش کا سلسلہ بھی جاری وساری تھا، چنانچہ قرآن مجید کو اس تناظر میں اس بات کی باقاعدہ وضاحت کرناپڑی کہ جن لونڈیوں کو اپنی مرضی کےخلاف مجبوراً اس دھندے میں ملوث ہوناپڑتاہے، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی مؤاخذہ نہیں کرےگا‘‘
(الشریعہ، خصوصی اشاعت،ج۲۰۱۴،ص:۱۸۸)
یہ پورااقتباس اس غلطیہائے مضامین کاآئینہ دار ہے، صحابہ کرام کا مقدس ترین اور پاکباز ترین گروہ بھی کتنا مظلوم ہے کہ جس کی پاکیزگی وطہارت کردار کی گواہی خود اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ اس کے کردار ہی کو ہر’’علم وتحقیق‘‘کا مدعی داغ دار ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے۔ اور ایسا دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے خودساختہ نظریات کے اثبات کے لئے اپنے مفروضات کی بنیاد پر کرتا ہے۔
اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام امت میں خلفائے ثلاثہ بالترتیب افضل ترین ہیں اور چوتھے نمبر پر حضرت علی ہیںy۔لیکن تینوں خلفائے راشدین کو مسلمانی کا دعویٰ کرنے والاایک گروہ،منافق، مرتد اورظالم وغاصب سمجھتا اور باورکراتاہے۔کیوں؟ کیا اس کے پاس اللہ کے نازل کردہ قرآن سے بھی بڑھ کر کوئی دلیل ہے؟ اس سے بڑھ کو تو کیا، سرے سےکوئی دلیل ہی نہیں ہے۔ پھر وہ کیوں اس ظلم اورہٹ دھرمی کامظاہرہ کرتاہے؟ صرف اس لئے کہ اس نے اپنی طرف سےایک مفروضہ گھڑا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کو اپنا’’وصی‘‘ بنایاتھا،اس لئے آپ کی وفات کےبعد خلافت کے حق دار حضرت علی تھے،خلفائے ثلاثہ نےیہ حق غصب کرکے نہ صرف ظلم کیا، بلکہ اپنےکفر ونفاق کا بھی اظہار کردیا۔ نعوذباللہ من ذلک الحفوات.
شاید کوئی شخص کہے کہ شیعہ تو مسلمان ہی نہیں۔ کسی مسلمان کی مثال پیش کریں۔تولیجئے! ایک مسلمان مفکرکی مثال سن لیجئے!
مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی مرحوم نے جب’’رسوائے زمانہ‘‘ کتاب ’’خلافت وملوکیت‘‘لکھی توحضرت عثمان tکوہدف طعن بنانے کے لئے کئی مفروضے قائم کیے، مثلاً: انہوںنے ’’طلقا‘‘ کو بڑے برے عہدوں پرفائز کردیا،ان کا سیکرٹری مروان بن حکم جیسا شخص تھا، انہوں نے بیت المال سے بڑی بڑی رقمیں اپنے خاندان کےلوگوں کو بطور عطیہ دیں، ان کے مقررکردہ گورنر بدکردار تھے ۔ وغیرہ،وغیرہ۔
ان باتوں کےان کے پاس کیادلائل تھے؟کوئی ایک بھی صحیح روایت نہیں تھی اور نہ ہے، بلکہ تاریخ ہی کی دوسری روایات سے ان کی تردید ہوتی ہے۔ لیکن انہوںنے جو مفروضات ومزعومات قائم کیے تھے، ان کااثبات ان ہی کذاب راویوں کی بیان کردہ روایات سے ہوسکتا تھا؟ اس لئے انہوںنے دونوں قسموں کی روایات میں سے’’حسن انتخاب‘‘ کی یہ مثال پیش کی کہ وہ روایت توقبول کرلی جس سے ان کی یہ ’’ضرورت‘‘پوری ہوجائے کہ حضرت عثمان کی شخصیت داغ دار ہوجائے اور اس کے برعکس دوسری صحیح روایات کوجوصحابہ کے مجموعی کردار کے عین مطابق تھیں، نظرانداز کردیں۔ گویاع پسلی پھڑک اٹھی نگرِ انتخاب کی۔
اس کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو،راقم کی کتاب ’’خلافت وملوکیت کی تاریخی وشرعی حیثیت‘‘جومولانا مودودی کی محولہ کتاب کامفصل رد ہے۔
فراہی گروہ کامفروضہ
فراہی گروہ(حمیدالدین فراہی،مولانا اصلاحی،جاوید احمد غامدی اور عمارخان سمیت دیگر ہم نوا ومتأثرین)اور دیگرمنکرین حدیث نے مفروضہ گھڑا کہ اسلام میں زنا کی سزا صرف ایک ہی ہے،سوکوڑے۔ اب مشکل یہ پیش آئی کہ نبیﷺ نے زنا کے مجرموں کو رجم کی سزا دی ہے، آپ کے بعدخلفائے راشدین نے بھی دی ہے۔تو وہ کیا ہے؟ اور کس بنیاد پر دی ہے؟ تو اس کے لئے ایک دوسرامفروضہ قائم کیا کہ یہ عام زانی کی سزا نہیں ہے۔بلکہ پیشہ ور زانیوں،بدمعاشوں اور غنڈوں کےلئے ہے،یعنی یہ سزا زنا کی نہیں ،غنڈہ گردی اور بدمعاشی کی ہے۔
اس کی دلیل کیا ہے؟ تو ایک تیسرا مفروضہ قائم کیا،یا’’دلیل‘‘ تراشی کہ وہ آیت محاربہ کے لفظ ’’ان یقتلوہ‘‘ میںداخل ہے۔ حالانکہ محاربہ کی سزا میں ’’رجم‘‘ کسی طرح بھی نہیں آسکتا۔یہ قرآن کریم کی معنوی تحریف ہے۔ علاوہ ازیں اس گروہ کے بقول رجم کی احادیث ’’آحاد‘‘ ہیں۔ اور قرآن کی ’’عظمت‘‘ کامفہوم اس گروہ کے نزدیک یہ ہے کہ اخبارآحاد سے قرآن کے کسی حکم میں اضافہ نہیں کیاجاسکتا۔ رجم کا بطور حد شرعی افکار کی بنیادی بھی ان لوگوں کے زعم باطل میں یہی ہے کہ اس کو حد مان لینے سے قرآن کے حکم -فاجلدوا-میں اضافہ ہوجاتا ہے جس کاحق رسول اللہ ﷺ سمیت کسی کوبھی حاصل نہیں ہے۔
اگر اس گروہ کا یہ’’زعم باطل‘ ‘فاسدخیال اور’’ذہنی مفروضہ‘‘ درست ہے تو کیاآیت محاربہ سے بطور تعزیر’’رجم‘‘ کااستخراج اوراضافہ قرآن کی عظمت کے منافی نہیں ہے؟
اگررسول،قرآن کے عموم کی تخصیص کرے تو وہ قرآن میں اضافہ اور قرآن کی’’ عظمت ‘‘ کے خلاف ہے،حالانکہ یہ حق اپنے رسول کو خوداللہ نے دیا ہے۔ اور آپ کی سزائے محاربہ میں رجم کااضافہ کریں، تو وہ عین حق وصواب بلکہ ’’عظیم کارنامہ‘‘ ہے جس کا شرف چودہ سو سال کے بعد فراہی گروہ کوحاصل ہوا ہے۔ گویا آپ کاتبیین قرآنی کا حق، رسول کے حق سے بھی بڑھ کر ہے اور آپ کامنصب شریعت سازی، منصب رسالت سے بھی فزوں تر ہے-سبحان اللہ-مااعظم شان ھذہ الطائفۃ….
عمار صاحب کی نہایت شوخ چشمانہ جسارت
عمار صاحب نے بھی اپنے گروہ کے مفروضات کو سہارا دینے کے لئے (جیسا کہ ان کے مذکورہ اقتباس سے واضح ہے) ایک تو: منافقین اور مسلمانوں کو ایک ہی سطح پر رکھا ہے۔ اور دونوں کا کردار یکساں باور کرانے کی مذموم سعی کی ہے، حالانکہ منافقین کا کردار، ان کے دلوں میں مستور کفرونفاق کا نتیجہ تھا،اس کی کسی عملی کوتاہی کا مظہر نہیں تھا۔جب کہ مسلمانوں (صحابہ) سے کردار کی کسی کمزوری کا اظہار ہوا ہے (جس سے کسی کو انکار نہیں ہے) تو وہ ایمانی کمزوری کے نتیجے میں نہیں، بلکہ بشری تقاضوں کی وجہ سے ہوا ہےکیونکہ معصومیت کامقام، سوائے انبیاء کے،کسی کوحاصل نہیں ہے ۔صحابۂ کرام کاا صل شرف یہ نہیں ہے کہ ان سے غلطی یا کسی کمزوری کاصدور نہیں ہوسکتا تھا یانہیں ہوا ۔ بلکہ ان کااصل شرف یہ ہے کہ وہ سب ایمان کےنہایت اعلیٰ درجے پر فائز تھے، فرق مراتب بھی ان کے اندریقیناً تھا لیکن فرق مراتب کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے کہ وہ مرتکب گناہ ہی نہیں ہوئےبلکہ کسی کبیرہ گناہ کےکاارتکاب کو انہوں نے بطور پیشہ ،بطور عادت اپنائے رکھا ہو۔ تربیتی مدارج کے نام پر کسی ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی یا صحابیہ کی بابت بھی ہم یہ تصور نہیں کرسکتے(جیسا کہ عمار صاحب کے اقتباس کا اقتضاء ہے) یہ سراسر صحابہ کی توہین اور ان پر بلاجواز طعن وتشنیع ہے جس کامرتکب اہل علم عمارصاحب سمیت تمام فکرفراہی کے حاملین کو قرار دےر ہے ہیں۔ ہم ان صحابہ پر اس قسم کی اتہام بازی پر یہی کہیں گے:
سبحانک ھذا بھتان عظیم.
اور اس مضمون کے پڑھنے والوں سے بھی ہم عرض کریں گے کہ وہ حضرت ماعز اور غامدیہ جہنیہ(صحابیہ) wکی بابت غامدی گروہ کی ژاژخائی پر قرآن کی یہ آیت پڑھ کر ان کی طہارت کردار کا اعلان کریں۔
[لَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَيْرًا۝۰ۙ وَّقَالُوْا ھٰذَآ اِفْكٌ مُّبِيْنٌ۝۱۲ ](النور:۱۲)
عمار صاحب سے گزارش
بنابریں بعض صحابہ کی بعض بشری کمزوریوں کی فلسفہ آرائی سے مذکورہ صحابہ وصحابیہ کا پیشہ ور زانی اور زانیہ ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ آپ ان کی غنڈہ گردی اور قحبہ گری کو کسی دلیل سے ثابت کریں، اس کے بغیر یہ پاک باز صحابہ صرف ایک مرتبہ غلطی کرلینے کی وجہ سے نہ پیشہ ور بدمعاش اور چکلے چلانے والے ثابت ہوسکتے ہیں اور نہ اس سے آپ کے خود ساختہ نظریۂ جرم کا اثبات ممکن ہے۔ اس سے کم از کم آپ فوری اظہار براءت کرکے اس ضالّ اور مضلّ گروہ کے دام ہم رنگ زمین سے نکل آئیں تو اس سے آپ کا دنیوی وقار بھی بلند ہوگا اور آخرت میں بھی سرخ روئی آپ کا مقدر ہوگی، بصورت دیگر خسرالدنیا والآخرۃ کا مصداق .
ہماری خواہش، آرزو اور دعا ہے کہ آپ پہلی صورت اختیار کرکے دوسری صورت کے خطرناک انجام سے اپنےآپ کو بچالیں ؎
من نہ گویم آن مکن وایں کن
مصلحت بیں وکارِ آساں کن

(جاری ہے)

About حافظ صلاح الدین یوسف

Check Also

فتنۂ غامدیت قسط:25(آخری)

حافظ صلاح الدین یوسف قسط:25 (آخری) مشیر:وفاقی شرعی عدالت پاکستان فتنۂ غامدیت جوپیرہن اس کاہے وہ …

جواب دیجئے