Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اگست » عورتوں اور محرم مَردوں کے سامنے عورت کا لباس قسط:۱۳آخری

عورتوں اور محرم مَردوں کے سامنے عورت کا لباس قسط:۱۳آخری

فضیلۃالشیخ عبداللہ ناصررحمانی d قسط:۱۳آخری
امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

قارئین! عزت مآب عرب عالم دین علی بن عبداللہ النمیdنے مسلمان عورت کے حوالے سے ایک اہم ترین عنوان پر کتاب بنام’’الادلۃ الصوارم علی مایجب سترہ من المرأۃ عند النساء والمحارم‘‘یعنی عورتوں اور محرم مَردوں کے سامنے عورت کالباس (ٹھوس دلائل کی روشنی میں) تالیف فرمائی جسے فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانیdنےاردو قالب میں ڈھالا۔افادیت کے پیش نظر کتاب ماہنامہ دعوتِ اہل حدیث میں قسط وار شایع کی جارہی ہے۔کتاب سے جہاں محولہ بالاعنوان پر ٹھوس دلائل معلوم ہوں گے وہاں کتاب کے مطالعہ سے قارئین اردو ادب کی چاشنی بھی محسوس کریں گے۔(ادارہ)

چندگزارشات پر غوروفکر کی دعوت
(۱) کیاآپ بحیثیت والد ہونے کے اپنی بیٹیوں کیلئے خیرخواہ ہیںیا بدخواہ اور دھوکہ باز؟درج ذیل حدیث پـڑھ کر جواب دیجئے:
عن معقل بن یساررضی اللہ عنہ قال: سمعت النبی ﷺ یقول:ما من عبد استرعاہ اللہ رعیۃ، فلم یحطھا بنصیحۃ الا لم یجد رائحۃ الجنۃ.(صحیح بخاری:۷۱۵۰) وفی روایۃ ثم لایجھد لھم وینصح الا لم یدخل معھم الجنۃ. (صحیح مسلم:۱۴۲)وفی روایۃ: مامن عبد یسترعیہ اللہ رعیۃ ،یموت یوم یموت وھوغاش لرعیتہ،إلا حرم اللہ علیہ الجنۃ. (صحیح بخاری:۷۱۵۱، صحیح مسلم:۱۴۲اور یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں)
ترجمہ:معقل بن یسارtسے مروی ہے،فرماتے ہیں:میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:اللہ تعالیٰ جس بندے کی ماتحتی میں کچھ لوگ ڈال دے(اولاد وغیرہ) اور وہ ان کے ساتھ خیرخواہی کامعاملہ نہ کرے،وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا، ایک روایت میں یہ الفاظ بھی وارد ہیں:اگر وہ ان کی خیرخواہی نہ کرے گا اور ان کی بھلائی کیلئے کوشش نہ کرے گا تو ان کے ساتھ جنت میں نہیں جاسکے گا،ایک روایت میں یوں بھی وارد ہے:اللہ تعالیٰ جس بندے کی ماتحتی میں کچھ لوگ ڈال دے،اور وہ بندہ اس حال میں مر جائے کہ اس کے دل میں اپنے ماتحتوں کے بارہ میں دھوکہ اوربے ایمانی ہو،اللہ تعالیٰ اس پر جنت کوحرام کردے گا۔
سو اے والدین!اپنی بیٹیوں کے تعلق سے ہم پرلازم ہے کہ ہم محض ان کے ساتھ رحمدلانہ برتاؤکی رؤمیںنہ بہہ جائیں (اور ان کی ناجائز خواہشات پوری کرناشروع کردیں)ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غورکرناچاہئے:
[وَلَوْلَآ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَيْہِمْ شَـيْــــًٔـا قَلِيْلًا۝۷۴ۤۙ اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوۃِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيْرًا۝۷۵ ] (بنی اسرائیل:۷۴۔۷۵)
ترجمہ:اور اگر تم کو ثابت قدم نہ رہنے دیتے تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے اس وقت ہم تم کو زندگی میں (عذاب کا) دوگنا اور مرنے پر بھی دوگنا مزا چکھاتے پھر تم ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے ۔
تربیت کی اس جولان گاہ میں ضروری ہے کہ ہم اسلام کے عمدہ اور خوبصورت آداب پر قائم رہیں،ٹھوس ارادے اورپختہ عزم کے ساتھ، کسی تھکاوٹ یا اکتاہٹ کے بغیر۔
خبردار!ضروری ہے کہ ہم ان کے ہاتھوںکوتھام لیں اور پوری قوت کےساتھ ان کا رُخ حق کی طرف موڑ دیں،اور ان کاہر معاملہ دینِ حق پر پوری طرح قائم کردیں،انہیں ایسا بے لگام نہ چھوڑ دیں کہ شیطان ان کا شکار کرنے میں کامیاب ہوجائے،یا وہ خود اپنی خواہشات کی اسیر بن جائیں،ناپختہ عقل وشعور کی بناء پر شدید حرص کے ساتھ ان عورتوں کا پیچھا شروع کردیں جنہیں شریعت نے مائلات ممیلات کہاہے۔(یعنی:مائل ہونے والی اور اپنی طرف مائل کرنے والی)
جووالدین اپنے اولاد کے تعلق سے ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائیں وہ ان کے خیرخواہ اور ان کے لباس وغیرہ کے تعلق سے کوشش کرنے والے شمار ہونگے۔ اور جو والدین ایسا نہ کرسکے وہ ان کے بدخواہ اور دھوکہ باز قرارپائیں گے۔نسأل اللہ العافیۃ.
اے نیک باپ! اور اے نیک والدہ!اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر خوب تدبر کرلو:
[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَاَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْہُمْ۝۰ۚ ] (التغابن:۱۴)
ترجمہ:مومنو! تمہاری عورتیں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن (بھی) ہیں سو ان سے بچتے رہو۔
ابن زیدفرماتے ہیں:اس دشمنی سے دین کی دشمنی مراد ہے۔
(۲)یہ کوئی عذر نہیں ہے
vبعض والدین کے ذہنوں پر ایک بدترین سوچ یلغار کیے ہوئے ہے ،وہ کہتے ہیں کہ بچی کولباس کے معاملے میں آزاد چھوڑ دیاجائے ،اس پر کسی قسم کی تنگی یاپیچیدگی مسلط نہ کی جائے،وہ خود اپنی سوچ سے اس قسم کالباس چھوڑے گی توبہترہوگا،کچھ والدین یوں کہتے ہیں کہ بچی کو چھوٹی عمر میں، چھوٹے کپڑے پہنادیئے جائیں،بڑاہونےپر موقع کہاں ملے گا۔
یہ لوگ اپنی جہالت کی بناء پر اس قسم کے افکار کو حکمت،ذہانت اور عمدہ سیاست تصور کرتے ہیں،ان بیچاروں کوکیامعلوم کہ یہی تو بربادی اور اخلاقی گراوٹ کا نکتۂ آغاز ہے، یہ انتہائی گری ہوئی اندر کی آواز شیطان کی اطاعت کے کھاتے میں ہے،جبکہ رحمٰن کی اطاعت سے اس قسم کی سوچ کا دور کابھی واسطہ نہیں ہے۔
فنِ تربیت میں حکمت کاتقاضہ یہ ہے کہ اسی عمر سے بچوں کے ہاتھوں کو پکڑا جائے، اور انہیں اس شیطانی،ماسونی ،علمانی اور مغربیت کے سانچے میں ڈھالنے والی دلدل سے نکالاجائے،تربیت کی کوشش والدین کی ذمہ داری ہے،جبکہ کامیابی منجانب اللہ ہے، تربیت میں صحیح اسلوب اور بہترین طریقہ کار وہ شمارہوتاہے جس میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کاعنصرہو۔
ایک اور تعجب خیزعذر
vاس عذر پر جتنا تعجب کریں کم ہے،کچھ مائیں یہ سمجھتی ہیں کہ پورے جسم کیلئے ساتر خوبصورت لباس بازار میں میسر ہی نہیں ہیں،لہذا اپنی بچیوں کو مجبوراً عریاں قسم کے لباس پہنانے پڑتے ہیں۔
اس کاجواب یہ ہے کہ یہ سوچ اگر واقعۃ درست بھی تصور کرلی جائے، پھر بھی یہ عریاں لباس پہنانے کیلئے قابل قبول عذر نہیں بن سکتی،جبکہ امرِ واقع یہ ہے کہ بازاروں میں عمدہ قسم کے ساتر لباس بکثرت موجود ہیں،ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ایسے ہی لباس تلاش کرنے اور خریدنے کا ارادہ کرلیاجائے،پھر اگر عریاں قسم کے لباس ہی میسر ہوں تو انہیں خریدنے کے بعد اچھی ڈیزائیننگ کے ساتھ ساتر بنایا جاسکتا ہے، اور یہ بھی تو ممکن ہے کہ بازار سے کھلاکپڑا لیکر اپنی مطلوبہ مواصفات کے مطابق سلوالیاجائے۔
افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جو حرام عریاں لباسوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں،اگر ہم خود اس قسم کے لباس کی خریداری بند کردیں تودکانداربھی رکھنا بند کردیں ؛کیونکہ ان کامقصود تو مال کی سیل اور نفع کاحصول ہوتاہے۔
(۳)ماں اور باپ کوفکروتأمل کی دعوت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى، كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ، كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا»(صحیح مسلم:۲۶۷۴)
ترجمہ:ابوھریرہtسے مروی ہے،رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص نیکی اور ہدایت کی دعوت دیتا ہےاسے ان لوگوں کااجر بھی ملتا رہے گا جو اس نیکی پر اس کی پیروی کریں گے،اس طرح کہ پیروی کرنے والوں کے اجر سے کوئی کمی نہیں کی جائےگی،اور جوشخص کسی گناہ یاگمراہی کی دعوت دیتاہےاس پر ان لوگوں کے گناہ بھی ڈال دیئے جائیں گے جو ان گناہوں پر اس کی پیروی کرتے ہیں، اس طرح کہ پیروی کرنے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔
اس حدیث سے بڑی صراحت کے ساتھ یہ نکتہ حاصل ہوتا ہے کہ بچی کاسرپرست اگر ساتر قسم کے لباس پر ا س کی تربیت کرتا ہے،تو اسے اس نیکی کااجر ملے گا اور جوجولوگ اس لباس کو اپنائیں گے ان کااجربھی۔
اور اگر وہ حرام قسم کے لباسوں مثلاً:چھوٹے،باریک اور تنگ لباسوں پر اس کی تربیت کرتا ہے تو وہ اس کاگناہ پائے گا اور جوجولوگ ان لباسوں کو اپنائیں گے ان کے گناہ میں بھی شامل ہوگا۔
(۴)ماں باپ کی ایک انتہائی اہم ذمہ داری
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَہْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَيْہَا مَلٰۗىِٕكَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ۝۶ ] ترجمہ:مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو آتش (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر) ہیں جو ارشاداللہ ان کو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں ۔(التحریم:۶)
امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبtاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:اہل وعیال کو آگ سے بچانے کامعنی یہ ہے کہ انہیں ادب اور علم سکھاؤ۔
امام ہیتمیaاس آیت کی تفسیر میں فرماتےہیں:انہیں علم وادب،اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے حکم اور اس کی نافرمانی سے منع کے ساتھ آگ سے بچاؤ۔
لہذا تمام والدین،بھائیوں اور شوہروں پر فرض ہے کہ وہ اپنی ماتحت عورتوں کے ہاتھوں کوتھامیں،انہیں ایسے لباس پہننے سے روکیں جو شرعاً حرام ہیں اور مرو ءت کے منافی ہیں،انہیں خیرخواہی پر مبنی نصیحت دیتے رہاکریں اور علماءِ کرام کے وہ فتاویٰ جات جن کا تعلق لباس اور زینت سے ہے انہیں پڑھ پڑھ کر سناتے رہاکریں۔یہی مسئولیت نبھانے اور امانت کاحق اداکرنے کا مستحسن راستہ ہے۔
عن عبداللہ بن عمررضی اللہ عنھما أنہ سمع رسول اللہ ﷺ یقول:« كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا،فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»
( صحیح بخاری:۲۴۰۹،صحیح مسلم:۱۸۲۹)
ترجمہ:عبداللہ بن عمرwسے مروی ہے،انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:تم سب نگران ہواور اپنے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیے جاؤگے،چنانچہ وقت کاحاکم اپنی رعیت کا نگران ہےاور اپنی رعیت کی بابت سوال کیاجائے گا،آدمی اپنے اہل کا نگران ہے اور ان کے بارہ میں اس سے باس پرس کی جائے گی،عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کی بابت پوچھاجائے گا،لہذا تم میں سے ہرشخص نگران ہے اور اپنے ماتحتوں کے تعلق سے مسئول بھی۔
سیدہ عائشہ صدیقہ rکی خدمت میں ایک عورت آتی ہے،جس نے ایک باریک دوپٹہ اوڑھ رکھاتھا،جس کے نیچے سے اس کی پیشانی جھلک رہی تھی،ام المؤمنین نے وہ دوپٹہ لیکر پھاڑ دیا اور فرمایا:کیا تم نہیں جانتی اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں کیافرمایاہے؟پھر انہوں نے ایک دبیز دوپٹہ منگوایا او ر اسے پہنادیا۔
(الدر المنثور للسیوطی: ۶؍۷۸۲ امام سیوطیaنے اس اثر کو سعید بن منصور اور ابن مردویہ کی طرف منسوب فرمایا ہے۔)
ہرشوہر کوخوف کی حد تک احتیاط کامظاہرہ کرناپڑے گا کہ وہ اپنی بیوی کےچھوٹے، باریک یاتنگ لباس پہننے کی خواہش کی رؤ میںنہ بہہ جائے، وہ اسے سختی سے روکے، بلکہ اپنی بچیوں کوبھی ایسا لباس پہنانے کی اجازت نہ دے جو شرعاً وعقلاً قبیح شمار ہوتا ہے۔
حسن بصری aفرمایاکرتے تھے:اللہ کی قسم! آج جو مرد اپنی بیوی کی ہرخواہش پوری کرنے کی کوشش میں لگارہے گا،اللہ تعالیٰ اسے اوندھا کرکے جہنم میں ڈال دے گا۔
ابن تیمیہaفرماتے ہیں:وہ کپڑے جو عورت کے جسم کے نشیب وفراز نمایاں کرتے ہیں،یاباریک ہونے کی وجہ سے اس کے جسم کیلئے ساتر نہیں بن پاتے،عورت کیلئے پہننا حرام ہے،اور عورت کاجوبھی سرپرست ہو مثلاً:باپ یاشوہر،اسے اس قسم کا لباس پہننے سے منع کرے۔(فتاویٰ ابن تیمیہ:۲۲؍۱۵۶)
(۵)دین تو صرف خیرخواہی کانام ہے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ](التوبۃ:۷۱)
ترجمہ:اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں۔
اے نیک بہن!ہماری پہلی خیرخواہانہ نصیحت یہ ہے کہ تو امورِ فضیلت اور بلنداخلاق کی طرف،سبقت لیجانے کی کوشش کر،اس پرندے کی طرح جو اپنے بچوں سمیت علی الصبح گھونسلے سے نکلنے کا عادی ہوتا ہے، چنانچہ اسے چشمے کا صاف پانی پینے کاموقع ملتا ہے، (یعنی اس سے پہلے کہ دوسرے جانور واردہوکر اس کے پانی کو گدلاکردیں)(یہ پرندہ قطاۃ یا یمامۃ کہلاتاہے اور کبوتر کے مشابہ ہوتاہے)
دوسری نصیحت یہ ہے کہ اگر تو کسی بھی لڑکی کوایسا لباس پہنے دیکھے جوایک مسلم خاتون کے شایانِ شان نہیں ہوتا تو خیرخواہی کاتقاضا پوراکرتے ہوئے،نرمی اور حکمت کے ساتھ اس کی رہنمائی کر،اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف بلانے کیلئے حکمت اور اچھی نصیحت ہی ایک امرِمطلوب ہے۔
یاپھر کم ازکم اسے ہماری یہ متواضع سی کتاب پیش کردے،یا ایسی تحریر جو کسی عالم کے فتویٰ پر مشتمل ہو ،اس تک پہنچادے،ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی ہدایت وعافیت کا سامان تمہارے ہاتھوں لکھاہواور تم اجرعظیم کے بہترین تحفہ کے ساتھ محظوظ ہوتی رہو۔
(۶)ایک مثالی عورت
صرف وہ عورت ایک مثالی عورت قرار پاتی ہے،جس کی شخصیت، احکامِ شرعیہ اور آدابِ اسلامیہ کے رنگ میں رنگی ہو،اور وہ خوبصورت، کامل واکمل اور افضل ترین اخلاق کے زیور سے آراستہ ہو،یہی چیزیں عفت وحیاء کاعنوان ہیں،اور پردہ ووقار کا بہترین نمونہ۔
مثالی عورت وہ ہے جو اپنے نبی ﷺ کی اتباع کو اپنی عزت کا راستہ قراردے،اور اپنے دین کے شعائر اور پروردگار کی عبادت پر قائم رہے،اپنے اوپر اپنے رب کے حقوق پہنچانتی ہواور اس کی حدود سے تجاوز اختیار نہ کرتی ہو، نہ اللہ تعالیٰ کے فرائض ضائع کرنے والی ہو اور نہ اس کی حرام کردہ اشیاء کا ارتکاب کرنے والی ہو،اپنی بلندکرداری اور دینی قوت کے سامنے ہراس عورت کو مکھی کی طرح حقیر سمجھے جو دورِ حاضر کے عریاں اور فیشن زدہ لباس کے فتنے میں گرفتا ر ہو۔
مثالی عورت وہ ہے جو اپنے کاندھوں پر یہ ذمہ داری ڈالے رکھے کہ اپنے دین اور اپنی فکر کو عصرحاضرکی ملعون دعوتوںسے محفوظ رکھنا ہے،یہ وہ عظیم عورت ہے جو فکری نجاستوں اور مغرب سے اٹھنے والے پرفتن جھونکوں سے مسلسل عافیت میں رہتی ہے،یہ ایک بہادرخاتون ہے ،جسے بُری سوچ کی حامل خواتین نہ تو اپنی طرف مائل کرسکتی ہیں نہ کسی صورت اس پر مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں، ان بُری خواتین کے ہروسوسے اور طعنےجنہیں ان کی قے ہی کہاجاسکتا ہے کواپنے قدموں تلے روندڈالتی ہے۔
مثالی عورت وہ ہے جو فضائل پر ایک بلندوبالا پہاڑ کی طرح ڈٹی رہتی ہے،اور زمانے کے فتنوں سے کبھی بھی شکست خوردہ ہوکر رذائل کی طرف مائل نہیں ہوتی،وہ سراپایقین و عزت واعتماد ہوتی ہےاور دین ومروءت سے محروم،فیشن کی ماری ہوئی خواتین کے سامنے فتح کے ایک احساس کے ساتھ قائم رہتی ہے۔
(۷)دوعظیم حدیثیں
اے نیک بہن!آخر میں ان دوحدیثوں پر غورکرلےاور ان کے معنی ومفہوم کو قلب ودماغ میں اچھی طرح بٹھالے:
(۱)عن أسامۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال: قُمْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَاءُ»
(صحیح بخاری:۵۱۹۶،صحیح مسلم:۲۷۳۶)
ترجمہ:اسامہ بن زیدtسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں جہنم کے دروازے پر کھڑاہوا،(تومیں نے دیکھا)جہنم میں زیادہ تر عورتیں داخل ہورہی ہیں۔
(۲) عن عمران عن النبی قال:وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ. (صحیح بخاری:۵۱۹۷)وفی روایۃ(إن أقل ساکنی الجنۃ النساء)(صحیح ملسم:۶۷۳۸)
ترجمہ:عمران بن حصینtسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا:میں نے جہنم میں جھانکاتودیکھا کہ اس میں زیادہ تعداد عورتوں کی ہے،اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:جنت میں سب سے کم عورتیں ہونگی۔
ان دونوں حدیثوں میں اس اہم نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ عورتیں،حرام کاموں میں زیادہ اور جلد ملوث ہوجاتی ہیں۔
(والعیاذ باللہ)
vvvvvvvvvvvv
بقیہ
احکام ومسائل

طلاق السکران والمستکرہ لیس بجائز.یعنی: نشے میں مست آدمی کی طلاق اور جس سے زبردستی طلاق دلوائی گئی ہو وہ طلاق واقع نہیں ہوگی۔(بحوالہ صحیح بخاری کتاب الطلاق )
اگر مذکورہ مسئلہ پراللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی روشنی میں بھی غور کیا جائےکہ [لایکلف اللہ نفسا الاوسعھا] (سورۂ بقرۃ) یعنی اللہ تعالیٰ کسی بھی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف ’’شرعی احکام کا پابند‘‘ نہیں کرتا۔اور ظاہر ہےکہ نشہ میں مست انسان اپنے وجود پر، اپنی زبان پر اختیار نہیں رکھتالہذا اسی کیفیت میں منہ سے نکلنے والے الفاظ طلاق واقع نہیں ہونگے اور اگر یہ طلاق اس پرلاگو کردی جائے تو یہ ایک ایسا حکم ہے کہ جس کا وہ اس وقت مکلف نہیں تھا۔
البتہ سائل کو اپنے اس فعل پر سچی توبہ کرنی چاہئے ،آئندہ زندگی میں اس ام الخبائث(تمام برائیوں کی جڑ) کے قریب بھی نہیں جانا چاہئے اور اپنے سابقہ فعل پر ہمیشہ توبہ واستغفار کرنا چاہئے۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذکورہ طلاق واقع نہیں ہوئی لہذا سائل کی اہلیہ اب بھی ان کی بیوی ہیں ان کے نکاح میں ہیں ،اہلیہ کے وارثین کو چاہئے کہ وہ شریعت کے فرمان کے آگے جھک جائیں اس میں خیر وعافیت ہے اوردنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔
اللہ تعالیٰ جمیع معاملات میں قرآن وسنت پر عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے