احکام ومسائل

مفتی حافظ محمد سلیم
مفتی جمعیت اہل حدیث سندھ

جناب مفتی صاحب السلام علیکم
عرض یہ ہے کہ میں نےاپنی بیوی کو نشے کی حالت میں طلاق دیدی میں نشے میں دھت تھا،مجھے کچھ پتہ نہیں تھا جب مجھے پتہ چلا کہ میں نے طلاق دیدی ہے تومیں نے عدم علمی کااظہار کیا اور اس پر میں حلف بھی اٹھا چکاہوںجبکہ میری والدہ ،بھابھی اور میری دوسری بیوی اس بات پر حلف اٹھا چکی ہیں کہ میں نے طلاق دی ہے۔ ہمارے درمیان۳سال قبل اس معاملے کی وجہ سے علیحدگی ہوگئی تھی۔ اورہم اب تک علیحدہ ہیں۔آپ سے گزارش ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ہم رجوع کیسے کریں۔
(سائل:زین الدین)
J
الجواب بعون الوہاب
صورت مسئولہ برصحت سؤال
سائل نے اپنی اہلیہ کو حالت نشہ میں تین طلاقیں دی تھیں، اور سائل اس قدر نشہ میں دھت تھا کہ اس کو یہ بات یادبھی نہیں کہ اس نے طلاق دی تھی۔
یہ سائل کاحلفیہ بیان ہے جبکہ اس موقع پر موجود گواہان کابھی حلفیہ بیان یہی ہے کہ وہ نشہ کے سبب اپنےہوش وحواس میں نہیں تھا۔
حلفیہ بیان اور گواہیوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فتویٰ تحریر کیا جاتا ہے کہ مذکورہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:[رفع القلم عن ثلاثۃ عن النائم حتی یستیقظ وعن الصبی حتی یحتلم وعن المجنون حتی یعقل] کتب سنن میں یہ روایت مروی ہے کہ تین قسم کے افراد سے قلم اٹھالی گئی ہے :سونے والےسے جب تک کہ بیدار نہ ہوجائے۔معنی یہ ہے کہ نیند میں اگر کسی نے کوئی بات کہی ہے معاذاللہ کوئی کلمہ کفربھی کہا تو گناہگار نہیں ہوگاکیونکہ وہ نیند میں ہے اگر اس نےنیند میں طلاق بھی دی تو وہ بھی واقع نہیں ہوگی اسی طرح نابالغ بچہ بھی شرعا مکلف نہیں ہے کہ اس پر عاقل بالغ والے احکامات جاری کئے جائیں،اسی طرح مجنون جس کی عقل میں فتور آگیاہو چاہے وہ مستقل پیدائشی اسی حالت میں ہو یاعارضی اور وقتی طور پر اس کی عقل کسی بیماری یانشہ کے سبب سے چلی گئی ہو اور وہ اس حالت میں الٹی سیدھی حرکتیں کرتاہو۔ تو جب تک اس کی جنونی اور عقل کے فتور والی کیفیت درست نہیں ہوجاتی وہ شرعااس بات کا مکلف نہیں ہےکہ ایسی حالت میں دی جانے والی طلاق اس پرنافذ کردی جائے۔ اس روایت کے مفہوم کو امام بخاریaنے صحیح بخاری میں کتاب الطلاق میں جناب علیtسے ذکر کیا ہے اورثابت کیا ہے کہ ایسی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔جناب علیtکا فتویٰ بھی یہی ہے وہ فرماتے ہیں:کل الطلاق جائز الا الطلاق المعتوہ.یعنی ہر طلاق واقع ہو جائے گی سوائے اس شخص کی طلاق کے جس کی عقل میں فتور آگیا ہو۔ یہی فتویٰ جناب عثمانtکا ہے وہ فرماتے ہیں:لیس لمجنون ولالسکران طلاق.یعنی مجنون کی اور نشہ میں دھت شخص کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ نیز ابن عباسtکا فتویٰ بھی یہی ہے کہ :
طلاق السکران والمستکرہ لیس بجائز.یعنی: نشے میں مست آدمی کی طلاق اور جس سے زبردستی طلاق دلوائی گئی ہو وہ طلاق واقع نہیں ہوگی۔(بحوالہ صحیح بخاری کتاب الطلاق )
اگر مذکورہ مسئلہ پراللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی روشنی میں بھی غور کیا جائےکہ [لایکلف اللہ نفسا الاوسعھا] (سورۂ بقرۃ) یعنی اللہ تعالیٰ کسی بھی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف ’’شرعی احکام کا پابند‘‘ نہیں کرتا۔اور ظاہر ہےکہ نشہ میں مست انسان اپنے وجود پر، اپنی زبان پر اختیار نہیں رکھتالہذا اسی کیفیت میں منہ سے نکلنے والے الفاظ طلاق واقع نہیں ہونگے اور اگر یہ طلاق اس پرلاگو کردی جائے تو یہ ایک ایسا حکم ہے کہ جس کا وہ اس وقت مکلف نہیں تھا۔
البتہ سائل کو اپنے اس فعل پر سچی توبہ کرنی چاہئے ،آئندہ زندگی میں اس ام الخبائث(تمام برائیوں کی جڑ) کے قریب بھی نہیں جانا چاہئے اور اپنے سابقہ فعل پر ہمیشہ توبہ واستغفار کرنا چاہئے۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذکورہ طلاق واقع نہیں ہوئی لہذا سائل کی اہلیہ اب بھی ان کی بیوی ہیں ان کے نکاح میں ہیں ،اہلیہ کے وارثین کو چاہئے کہ وہ شریعت کے فرمان کے آگے جھک جائیں اس میں خیر وعافیت ہے اوردنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔
اللہ تعالیٰ جمیع معاملات میں قرآن وسنت پر عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

About admin

Check Also

تفسیر القرآن۔ سورۃ فاتحہ کے فضائل . دوسری نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: بروج انسٹیٹیوٹ معین الدین روڈ،بلوچ کالونی، کراچی تاریخ: …

جواب دیجئے