Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مئی » فتنۂ غامدیت قسط:۲۲

فتنۂ غامدیت قسط:۲۲

 قسط:۲۲

۱۔سوال(۹۸۹)زید مقر ہے کہ میں نےاپنے بیٹے کی عورت کو شہوت سے مس کیاہے،آیازید کے بیٹے پر اس کی عورت حرام ہوگئی یانہیں؟
الجواب: زیدکاکہنابیٹے پر حجت نہیں ہوسکتا۔ لیکن اگر بیٹابھی اس کی تصدیق کرتا ہے اور گواہوں سے ایسا مس ثابت ہے جس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے توبیٹے پر وہ عورت ممسوسہ پدرباشہوہ( شہوت سے باپ کی چھوئی ہوئی) حرام ہوگئی۔(ص:۸۸)
عزیز الفتاویٰ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند)جلداول، ص۵۳۶، دار الاشاعت کراچی)
مفتی کفایت اللہ صاحب مفتی اعظم ہند کافتویٰ
۲۔سوال:زید سے بحالت شہوت غلطی سے مساسِ بنت واقع ہوا، معلوم ہوتے ہی تائب ونادم ہوا……غلطی اورغیرغلطی کا بھی کچھ فرق ہے یانہیں؟ برتقدیر حرام ہونے ام ممسوسہ اس مسئلے میں احناف کےنزدیک کوئی حیلہ شرعی معتبر ہے یانہیں؟
(۳۰۱)جواب مس بالشہوۃ میں غلطی اور قصور اور سہو کا کوئی فرق نہیں ہے، ثم لافرق فی ثبوت الحرمۃ بالمس بین کون عامدا او ناسیا اور مکرھا اور مخطئا، کذا فی فتح القدیر (عالمگیری)…..
(کفایت المفتی ۵؍۱۸۱،۱۸۲،باب حرمت مصاہرت)
۳۔سوال:ایک شخص نے بعمرتقریباً۶۵سال بطور محبت بلاارادہ صحبت اپنے لڑکے کی بیوی کوپیارکیایعنی بوسہ لے لیا، قصدبالکل کوئی دوسرا نہیں اور نہ ارتکاب کیاگیا۔ اس کے لئے شرع کیا حکم دیتی ہے اور اگر اس کی عورت اس پرحرام ہوگئی تو اس کانان ونفقہ اور رہائش کاکیا حکم ہے؟
(۳۱۱)جواب: اگرلڑکے کی بیوی کابوسہ لیتے وقت اس شخص کو شہوت نہ تھی اور دل میں بھی شہوت کاخیال نہ تھا تو یہ عورت اپنے شوہر پر حرام نہیں ہوئی لیکن اگر یہ بوسہ شہوت سے لیا گیا تو یہ عورت اپنے شوہر پرحرام ہوگئی۔ اگر یہ شخص قسم کے ساتھ کہہ دے کہ شہوت نہ تھی تو اس کا اعتبار کرلیاجائے گا۔(کفایت المفتی ۵؍۱۸۹)
۳۔سوال:بہشتی زیورکاحصہ چہارم،ص:۷ پرمسئلہ:
’’رات کو اپنی بی بی کو جگانے کے لئے اٹھا مگرغلطی سے لڑکی پر ہاتھ پڑگیا یا ساس پر ہاتھ پڑ گیا اور بی بی سمجھ کر جوانی کی خواہش کے ساتھ اس کوہاتھ لگایا تو اب وہ مرد اپنی بی بی پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوگیا،اب کوئی صورت جائز ہونے کی نہیں ہے اور لازم ہے کہ یہ مرد اس عورت کو طلاق دے دے‘‘تو اب سوال یہ ہے کہ جب دونوں اس میں بے قصور ہیں تو طلاق دینے کی کیاوجہ ہے؟
(۳۱۶)جواب:بہشتی زیور سے جو مسئلہ آپ نے نقل کیا یہ مسئلہ حنفیہ کے نزدیک اسی طرح ہے کہ اگر غلطی سے یا قصداً کوئی شخص اپنی لڑکی یا اپنی ساس کے بدن کوبغیرحائل ہاتھ لگادے اور اس کو خواہش (شہوت)ہوتو اس کی لڑکی کی ماں یا ساس کی بیٹی (یعنی ہاتھ لگانے والے کی بیوی)اس پرحرام ہوجاتی ہے۔ اس میں اگرچہ بیوی کاقصور نہیں اور غلطی ہوجانے کی صورت میں مرد کا بھی قصور نہیں مگر حرمت کی وجہ دوسری ہے جس میں قصور ہونے نہ ہونے کودخل نہیں ہے،’’حیلۂ ناجزہ‘‘ میں بھی مولانا تھانوی نےمذکورہ صورتوں میں حرمت مصاہرت کا اثبات کیا ہے جو اکابر علماء دیوبند کی مصدقہ ہے۔حنفیہ کامذہب یہی ہے۔واللہ اعلم (کفایت المفتی ۵؍۱۹۳)
محولہ مسئلے(یاحیلے) کی بابت دواورمستند حوالے
امام شافعیaنے مسئلہ زیربحث پر عقلی دلائل کی روشنی میں بڑی مفصل بحث کی ہے جو کئی بڑے صفحات پر مشتمل ہے اور یہ بحث مکالمے کی صورت میں ہے اور دسیوں قسم کے عقلی ونقلی دلائل سے احناف کے مسئلہ حرمت مصاہرت کاردکیا ہے۔ یہاں اس کی صرف ایک دلیل جو بطور مکالمہ ہی ہے ،پیش کی جاتی ہے۔
’’امام شافعی فرماتے ہیں میں نے اس( فریق مخالف) کو کہا:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

[اذا نکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن]

’’جب تم مومنہ عورتوں سےنکاح کرو پھر ان کوطلاق دے دو‘‘
اور فرمایا:[فان طلقھا]’’پھر اگر وہ مرد اس کو طلاق دے دے‘‘
اس میں اللہ تعالیٰ نے طلاق کا مالک مرد کوبنایا ہے اور عورتوں کو عدت گزارنے کاحکم دیا ہے۔ فریق مخالف نے کہا:ہاں۔ میں نے کہا: عورت کی بابت بتلاؤ،اگر وہ اپنے خاوند کو طلاق دینے کاارادہ کر ے، تو کیا وہ طلاق دے سکتی ہے؟ فریق مخالف نے کہا:نہیں۔میں نے کہا: تم نے تو اس عورت کو طلاق کاحق دے رکھاہے؟ اس نے کہا: کیسے؟ میں نے کہا: تمہاراخیال ہے کہ اگر عورت اپنے خاوند کو ناپسند کرے (اور اس سے چھٹکارا حاصل کرناچاہے) تو اس کے بیٹے کا شہوت کےساتھ بوسہ لے لے، اس طرح اس کے بیٹے کا بوسہ لینے سے وہ اپنے خاوند پرحرام ہوجائے گی۔ پس تم نے اس عورت کو(طلاق دینے کا) وہ حق دے دیا ہے جواللہ نے اسے نہیں دیا اور یوں یہاں تم نے اللہ کے اس حکم کی خلاف ورزی کی جوحکم اس آیت اور اسے ماقبل آیات میں ہے‘‘(کتاب الام۳؍۱۵۴،طبع ۱۹۷۳)
کتاب الام میں امام شافعیaنے ۱۵۳سے ۱۵۷ تک اس موضوع پر گفتگو کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ احناف کا یہ مسئلہ ائمہ متقدمین کا ہے، متاخرین کا نہیں، بلکہ امام صاحب نے قال، اقول (قلت) کےانداز میں جوگفتگو کی ہے، قال سے مراد بظاہرامام محمدa اور قلت سے امام شافعیaہیں۔کیونکہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس مسئلے میں امام محمد اور امام شافعی کی گفتگو کومناظرے سے تعبیر کیا ہے۔ اس کی اصل عربی عبارت ملاحظہ ہوجس میں ناپسندیدہ خاوند سے نجات حاصل کرنے کا بعینہ وہی طریقہ بتلایاگیا ہے جو صحیح بخاری کی شرح کے حوالے سے راقم نےاپنے مضمون میں نقل کیا ہے۔ جس کے متعلق شاید یہ کہاجائے کہ کوئی حنفی ایسی بات نہیں کہہ سکتا،ملاحظہ فرمائیے:

وذکر الشافعی انہ ناظر محمدا فی امرأۃ کرھت زوجھا وامتنع من فراقھا فمکنت ابن زوجھا من نفسھا فانھا تحرم عندھم علی زوجھا علی قولھم ان
حرمۃ المصاہرۃ تثبت بالزنا.

(ترجمہ)’’امام شافعی نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے امام محمد سے ایسی عورت کی بابت مناظرہ کیا جو اپنے خاوند کو ناپسند کرتی ہے لیکن خاوند اس کو اپنے سے علیحدہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا تو وہ عورت اپنے خاوند کے بیٹے کو اپنے نفس پر اختیار دے دیتی ہے (یعنی اس سے بدکاری کرلیتی ہے) تو وہ عورت (اس حیلے سے) ان کے نزدیک اپنے خاوند پرحرام ہوجائے گی، ان کے اس قول کی بنیاد پر کہ حرمت مصاہرت زنا سے بھی ثابت ہوجاتی ہے۔(فتح الباری ۱۲؍۴۱۵، طبع دار السلام )
علمائے احناف کے مذکورہ فتووں اور امام شافعی اور حافظ ابن حجرaکے حوالوں کے بعد تو اس مسئلے میں نہ ابہام رہناچاہئے اور نہ اس بات کی گنجائش کہ فقہائے احناف ایسی بات نہیں کہہ سکتے۔
(جاری ہے)

About حافظ صلاح الدین یوسف

Check Also

فتنۂ غامدیت قسط:25(آخری)

حافظ صلاح الدین یوسف قسط:25 (آخری) مشیر:وفاقی شرعی عدالت پاکستان فتنۂ غامدیت جوپیرہن اس کاہے وہ …

جواب دیجئے